• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ناجائز اولاد اور عذاب

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ صاحب
اس روایت کی صحت وتخریج کی درخواست ہے۔
جزاک اللہ خیرا۔
"میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک ان میں ناجائز اولاد کی کثرت نہیں ہوجاتی جب ان میں ناجائز اولاد کی کثرت ہوگی تو اللہ تعالی ان پر عام عذاب مسلط کردے گا۔"

f23cea97-1f2d-4e16-9524-af63f25481ff.jpg
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس روایت کی صحت وتخریج کی درخواست ہے۔
جزاک اللہ خیرا۔
یہ حدیث مسند احمد بن حنبل ؒ میں منقول ہے
حدثنا إسحاق بن إبراهيم الرازي، حدثنا سلمة بن الفضل، قال: حدثني محمد بن إسحاق، عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، عن محمد بن عبد الرحمن بن لبيبة عن عبيد الله بن أبي رافع ، عن ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تزال أمتي بخير ما لم يفش فيهم ولد الزنا، فإذا فشا فيهم ولد الزنا، فيوشك أن يعمهم الله عز وجل بعقاب»
(ترجمہ :
"میری امت اس وقت تک بھلائی سے رہے گی جب تک ان میں ناجائز اولاد عام نہیں ہوجاتی ، جب ان میں ناجائز اولاد عام ہوگی تو اللہ تعالی ان پر عام عذاب مسلط کردے گا۔"
(مسند احمد حدیث نمبر 26830 )

اور مسند ابی یعلی میں درج ذیل ہے :
حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرعرة، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا أبي، قال: سمعت محمد بن إسحاق يحدث، عن محمد بن عبد الله، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عبيد الله بن أبي رافع، عن ميمونة قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تزال أمتي بخير متماسك أمرها ما لم يظهر فيهم أولاد الزنى، فإذا ظهروا خفت أن يعمهم الله بعقاب»
اور صحیح الترغیب میں علامہ ناصر الالبانیؒ لکھتے ہیں :
رواه أحمد وإسناده حسن وفيه ابن إسحاق وقد صرح بالسماع ‘‘
یعنی اسکی سند حسن ، اور اگر چہ اس میں ابن اسحاق واقع ہے (جو مدلس ہے ) لیکن یہاں اس نے سماع کی تصریح کی ہے ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:
Top