• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ناسخ اور منسوخ

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
کسی نے یہ ایک سوال بھیجا ہے. اس کا جواب درکار ہے.

شیخ @اسحاق سلفی حفظہ اللہ

Sent from my SM-G360H using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,568
پوائنٹ
791
کسی نے یہ ایک سوال بھیجا ہے. اس کا جواب درکار ہے.
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا قرآن میں نسخ واقع ہوا ہے یا نہیں ؛
اگر واقع ہے تو اس کی دلیل ؟
باقی متعلقہ سوالات کے جواب خود بخود مل جائیں گے ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
الفتوى رقم (12465)
سوال :
هل النسخ موجود في القرآن، وما تعريفه، وهل يمكن نسخ القرآن بالسنة، وما الفرق بين النسخ والبداء، وما مفهوم قول الزمخشري: (إنما هي أمور يبديها، لا أمور يبتديها) ، وهل كل استثناء نسخ، وهل كل نسخ استثناء؟

ترجمہ :
سوال : کيا قرآن کريم ميں نسخ واقع ہوا ہے؟ اور نسخ کی تعریف کیا ہے ؟ کیا حدیث سے قرآن کریم کی آیت کا منسوخ ہونا ممکن ہے ؟ نسخ اور بداء کے درمیان کیا فرق ہے ؟
اورعلامہ زمخشری کے اس قول : " بیشک یہ وہ امور ہیں، جس کواللہ تعالی ظاہر کرتا ہے، نہ کہ ان امور کی ابھی شروعات کرتا ہے، " کا کیا مطلب ہے ؟ کیا ہر استثناء نسخ کے حکم میں ہے ؟ اور کیا ہر نسخ استثناء ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب :
أولا: النسخ جائز وواقع، قال تعالى: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا} ( سورة البقرة الآية 106) .
ثانيا: يعرف النسخ بأنه: (رفع الحكم الشرعي بدليل شرعي متراخ عنه) .
ثالثا: يجوز نسخ القرآن بالسنة؛ لأن كلا منهما وحي من الله جل وعلا، قال تعالى: {وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى} (1) {إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى} (2) .
رابعا: البداء بمعنى: الظهور بعد الخفاء، أو بمعنى: نشأة رأي جديد لم يكن موجودا، وكلا المعنيين مستحيل على الله جل وعلا؛ لما يلزمهما من سبق الجهل وحدوث العلم، لأن الله جل شأنه قد أحاط بكل شيء علما، قال {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ} (3) ، والله سبحانه حين نسخ بعض أحكامه ببعض، ما ظهر له أمر كان خافيا عليه، ولا نشأ له رأي جديد؛ لأنه يعلم الناسخ والمنسوخ أزلا من قبل أن يشرعهما لعباده.
والجديد في النسخ إنما هو إظهاره تعالى ما علم لعباده لا ظهور ذلك له على حد العبارة: (إنما هي أمور يبديها ولا يبتديها) .
وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
عضو ... نائب الرئيس ... الرئيس
عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

ترجمہ :
جواب :

پہلی بات : نسخ ایک جائز اور واقع شدہ امر ہے، چنانچہ الله تعالى نے فرمايا ہے : ﺟﺲ ﺁﯾﺖ ﻛﻮ ﮨﻢ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﻛﺮﺩﯾﮟ ، ﯾﺎ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﯾﺎ ﺍﺱ ﺟﯿﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

دوسری بات : نسخ کی تعریف یہ ہے : ایک شرعی حکم کو اس کے بعد آنے والی شرعی دلیل سے ختم کردینا ۔

تيسری بات : حدیث سے قرآن کریم کی آیت کا منسوخ ہونا ممکن ہے ، اسلئے کہ قرآن اور حدیث یہ دونوں اللہ کی طرف سے نازل شدہ وحی ہیں ، چنانچہ الله تعالى نے فرمايا کہ : ﺍﻭﺭﻧﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺳﮯﻛﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔(سورة النجم الآية 3
(3) سورة الحديد الآية 22) ﻭﮦ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔سورة النجم الآية 4
چوتهی بات : بداء کے معنی چھپنے کے بعد ظاہر ہونے کے ہیں ، یا بداء کے معنی ایک نئی ایسی رائے کا پیدا ہونا ہے ، جو کہ پہلے نہیں تھی ، اور ان دونوں معنوں کا اطلاق اللہ کی ذات پر محال ہے ، اس طور پرکہ ان دونوں معنوں کی رو سے اللہ کیلئے پہلےناعلمی ، پھرعلم کا پيدا ہونا لازم صادق آتا ہے، اسلئے کہ اللہ تعالی تو ہر چیز کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے : ﻧﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ( ﺧﺎﺹ ) ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ،ﻣﮕﺮﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﮧ ﮨﻢ ﺍﺱ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﻚ ﺧﺎﺹ ﻛﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻟﻜﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ( کاﻡ ) ﺍللہ ﺗﻌﺎلی ﭘﺮ ( ﺑﺎﻟکل ) ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ۔(سورة الحديد الآية 22 )
اور اللہ تعالی جب بعض احکامات کو بعض دیگر احکامات سے منسوخ کرتا ہے، تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی ہے کہ اللہ کے سامنے ایک نئی چیز کا ظہور ہوا ہے ، اور نہ یہ وجہ ہوتی ہے کہ اللہ نے اپنی ایک نئی رائے قائم کی ہے ، کیونکہ وہ تو ناسخ اور منسوخ دونوں کو اپنے بندوں کے حق میں مشروع کرنے سے پہلے ازل ہی سے جانتا ہے،
اور نسخ میں نئے امور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے ازلی علم کے مطابق اپنے بندوں کیلئے بعض نئی چیزیں ظاہر کی ہیں ، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ خود اللہ کیلئے یہ چیز اب کھل کر سامنے آئی ہے ، جیسے علامہ زمخشری کی يہ عبارت : " إنما هي أمور يبديها ولا يبتديها " [ " بیشک یہ وہ امور ہیں ،جس کواللہ تعالی ظاہر کرتا ہے، نہ کہ ان امور کی ابھی شروعات کرتا ہے، ] کے مفہوم سے واضح ہوتا ہے ۔
وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
یہ فتوی سعودی عرب کے ماضی قریب کے تین انتہائی جید علماء کا جاری کردہ ہے
عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز
 

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
جزاک اللہ خیرا


Sent from my SM-G360H using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,568
پوائنٹ
791
اس ضمن میں متعلقہ سوالات اور وضاحت طلب امور پیش کیئے جا سکتے ہیں ؛
 

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
اصل میں یہ سوال میں ایک رشتہ دار نے کیا تھا. اس سے بات کرکے ان کے جو نظریات مجھے سمجھ آئے وہ مندرجہ ذیل ہیں
1.ان کے نزدیک نسخ پر یقین پر رکھنے کا مطلب یہ ہے ہم اللہ کے علم کو ناقص سمجھتے ہیں. جہاں تک تعلق ہے نسخ کی آیات کا تو وہ اس کو پچھلی شریعتوں کے بارے میں سمجھتے ہیں.
2. ان کا کہنا ہے کہ جن آیات کو دوسری آیات سے منسوخ سمجھا جاتا ہے وہ اصل میں منسوخ نہی ہوتی بلکہ ایک دوسرے کی توثیق کررہی ہوتی ہیں. مثلاً وراثت میں وہ سمجھتے ہیں کہ وصیت وارثوں کو کی جاسکتی ہے کیونکہ وصیت والی آیت میں والدین اور رشتہ داروں کا ذکر ہے اور وراثت تقسیم تب ہوگی جب وصیت پوری ہوگی (وصیت کی کوئی حد نہی)
3. ان کا خیال ہے کہ رسول قرآن کے حکم کو منسوخ نہی کرسکتا کیونکہ رسول کا یہ مقام نہی پھر وہ آیات نقل کرتے ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اپنی طرف سے قرآن میں کوئی اضافہ نہی کرسکتا.

Sent from my SM-G360H using Tapatalk
 

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
جاوید غامدی کے نظریات سے ملتے جلتے نظریات ہیں ان کے

Sent from my SM-G360H using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,568
پوائنٹ
791
اصل میں یہ سوال میں ایک رشتہ دار نے کیا تھا. اس سے بات کرکے ان کے جو نظریات مجھے سمجھ آئے وہ مندرجہ ذیل ہیں
1.ان کے نزدیک نسخ پر یقین پر رکھنے کا مطلب یہ ہے ہم اللہ کے علم کو ناقص سمجھتے ہیں. جہاں تک تعلق ہے نسخ کی آیات کا تو وہ اس کو پچھلی شریعتوں کے بارے میں سمجھتے ہیں.
2. ان کا کہنا ہے کہ جن آیات کو دوسری آیات سے منسوخ سمجھا جاتا ہے وہ اصل میں منسوخ نہی ہوتی بلکہ ایک دوسرے کی توثیق کررہی ہوتی ہیں. مثلاً وراثت میں وہ سمجھتے ہیں کہ وصیت وارثوں کو کی جاسکتی ہے کیونکہ وصیت والی آیت میں والدین اور رشتہ داروں کا ذکر ہے اور وراثت تقسیم تب ہوگی جب وصیت پوری ہوگی (وصیت کی کوئی حد نہی)
3. ان کا خیال ہے کہ رسول قرآن کے حکم کو منسوخ نہی کرسکتا کیونکہ رسول کا یہ مقام نہی پھر وہ آیات نقل کرتے ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اپنی طرف سے قرآن میں کوئی اضافہ نہی کرسکتا.

Sent from my SM-G360H using Tapatalk
اس موضوع پر درج ذیل مضمون ایک بھائی نے فیس بک پر نشر کیا ہے ؛

قرآن اور اس کے مطالعے کے شعبے میں نسخ کا مسئلہ ابتداء ہی سے مسلم روایات میں خاصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس پر امت کا اجماع ہے کہ نسخ ایک حقیقت ہے اور قرآن میں نسخ کے وقوع/وجود سے انکار صرف چند ایک معتزلہ نے ہی کیا ہے۔ جید علماء کی اکثریت کی بحث بنیادی طور پر نسخ کے وقوع کے خصوصی نکات سے متعلق رہی ہے۔ کچھ علماء نے مخصوص آیات کی تفہیم ضرور نسخ کا تصور بیچ میں لائے بغیر کی ہے لیکن اس بات پر بہرحال سب کا اتفاق رہا ہے کہ نسخ قرآن میں واقع ہوا ہے۔ صدیوں تک اس معاملے پر اجماع رہنے کے بعد حالیہ چند دہائیوں میں مغربی فکر سے متاثر تجددد پسندوں نے یہ نکتہ اچھالنا شروع کیا ہے کہ قرآن مجید میں نسخ ہو ہی نہیں سکتا۔ ان کا خیال اس پرانے تصور پر مبنی ہے کہ نسخ کا ہونا غلطی یا کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس مقالے میں ہم نسخ کے معنی،قرآن سے اس کے ثبوت، وقت کے ساتھ ساتھ نسخ کے معنی کی تفہیم میں آنے والے فرق ، قرآن میں منسوخ ہونے والی آیات کی تعداد اور ملحدین و مستشرقین کے پیدا کیے گئے اشکالات اور مغالطوں کو زیر بحث لائیں گے۔ مزید برآں ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کیسے کئی علمائے سنہ نے نسخ کے تصور کو اس خوبی سے واضح کیا ہے کہ نہ صرف اس کو ایک تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر ثابت کر دیا ہے بلکہ ان غلط فہمیوں کی بنیاد کو بھی ختم کیا ہے جن کے زیر اثر کچھ لوگ اس تصور کے ہی انکاری ہوجاتے ہیں
نسخ کا مفہوم:
نسخ" کے لغوی معنی ہیں مٹانا،ازالہ کرنا،اوراصطلاح میں اس کی تعریف یہ ہے :
رَفْعُ الْحُکْمِ الشَّرَعِیِّ بِدَلِیْلٍ شَرَعِیٍّ ۔"کسی حکم شرعی کو کسی شرعی دلیل سے ختم کردینا"(مناہل العرفان:ماھو النسخ۲/۱۷۶)"
مطلب یہ ہے کہ بعض مرتبہ اللہ تعالی کسی زمانے کے حالات کے مناسب ایک شرعی حکم نافذ فرماتا ہے پھر کسی دوسرے زمانے میں اپنی حکمت بالغہ کے پیش نظر اس حکم کو ختم کرکے اس جگہ کوئی نیا حکم عطا فرمادیتا ہے اس عمل کو نسخ کہا جاتا ہے اور اس طرح جو پرانا حکم ختم کیا جاتا ہے اس کومنسوخ اور جو نیا حکم آتا ہے اسے ناسخ کہتے ہیں ۔
قرآن سے ثبوت:
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِها نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْها أَوْ مِثْلِها ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّه عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ القرآن الکریم، سورۃ البقرة 2: 106
﴿جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں،تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے برابر، کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے﴾
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ ۙ وَاللَّه أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَرٍ ۚ بَلْ أَكْثَرُهمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾
﴿اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت،اور اللہ خوب جانتا ہے،جو اتارتا ہے،تو کہتے ہیں،تو،تو بنا لاتا ہے،یہ بات نہیں،پر اکثروں کو ان میں خبر نہیں﴾ سورۃ النحل 16: 101

عقلی ونقلی ثبوت:۔
یہودیوں کا خیال یہ ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں ’’ نسخ‘‘ نہیں ہوسکتا ، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق اگر’’ نسخ ‘‘کو تسلیم کرلیا جائے تو اس یہ لازم آتا ہے کہ(معاذ اللہ ) تعالیٰ بھی اپنی رائے میں تبدیلی کرلیتا ہے ، اُن کا یہ کہنا ہے کہ اگر احکام الہی میں ناسخ ومنسوخ کو تسلیم کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک حکم کو مناسب سمجھا تھا بعد میں ( معاذاللہ ) اپنی غلطی واضح ہونے پر اسے واپس لے لیا جسے اصطلاح میں ’’بدا ‘‘ کہتے ہیں ۔ یہودیوں کا یہ اعتراض بہت سطحی نوعیت کا ہے، اورذر ا سابھی غورکیا جائے تواس کی غلطی واضح ہوجاتی ہے، اس لئے کہ’’نسخ ‘‘ کامطلب رائے کی تبدیل نہیں ہوتا ، بلکہ ہر زمانے میں اس دور کے مناسب احکام دینا ہوتاہے،ناسخ کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ منسوخ کو غلط قرار دے، بلکہ اس کاکام یہ ہوتاہے کہ وہ پہلے حکم کی مدت نفاذ متعین کردے ،اور یہ بتا دے کہ حکم جتنے زمانے تک نافذ رہا اس زمانے کے لحاظ سے تووہی مناسب تھا،لیکن اب حالات کی تبدیل کی بنا پر ایک نئے حکم کی ضرورت ہے۔
شریعت اسلامیہ کی تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء اسلام میں صحابہ کرام جب نئے نئے دین اسلام میں داخل ہورہے تھے،ان کی ذھنی وعملی تربیت کے لئے جناب رسول اکرم نے تدریجی طور پر اصلاحی کوششیں کیں،کیوں کہ ظاہر سی بات ہے کہ جن لوگوں کی سابقہ پوری زندگی زمانہ جاہلیت میں شرکیہ اعمال وافعال سے آلودہ ہوچکی تھی،اور وہ اعمال وافعال ان کے دل ودماغ میں رچ بس گئے تھے،ایسے میں ان کو اس قسم کے اعمال وافعال سے ایک دم منع کرنا،دعوت دین کی حکمت ومصلحت اور داعیانہ طریق کار کے بالکل منافی تھا،اسی وجہ سے رسول اکرم نے بھی تدریجی طور پر صحابہ کرام کو ایسے اعمال وافعال کے بارے میں مختلف اوقات میں مختلف احکامات بتلائے،شریعت اسلامیہ میں اسی قسم کی تبدیلیاں نسخ سے عبارت ہے۔جو شخص بھی سلامت فکر کے ساتھ غور کریگا وہ اس نتیجے پرپہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ تبدیلی حکمت الہیہ کے عین مطابق ہے، اور سے کسی بھی اعتبارسے کوئی عیب نہیں کہا جاسکتا ، حکیم وہ نہیں ہے جو ہر قسم کے حالات میں ایک ہی نسخہ پلاتا رہے، بلکہ حکیم وہ ہے جو مریض اورمرض کے بدلتے ہوئے حالات پربالغ نظری کے ساتھ غورکر کے نسخہ میں ان کے مطابق تبدیلیاں کرتارہے۔
اور یہ بات صرف شرعی احکام ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے،کائنات کا سارا کا رخانہ اسی اصول پرچل رہا ہے،اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ سے موسموں میں تبدیلیاں پید اکرتا رہتا ہے ، کبھی سردی کبھی گرمی ،کبھی بہار، کبھی خزان، کبھی برسات، کبھی خشک سالی ،یہ سارے تغیرات اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے عین مطابق ہے، اور اگر معاذ االلہ خدا کی رائے میں تبدیلی لازم آتی ہے کہ اس نے ایک وقت سردی کوپسند کیاتھا،بعدمیں غلطی واضح ہوئی ، اور اس کی جگہ گرمی بھیج دی تواُسے احمق کے سوااور کہاجاسکتاہے،بعینہ یہی معاملہ شرعی احکام کے نسخ کاہے اُسے ’’بدا‘‘ قرار دیکر کوئی عیب سمجھنا انتہائی درجہ کی کوتاہ نظری اورحقائق سے بیگانگی ہے۔
پھر ’’نسخ ‘‘ صرف امت محمدؐ یہ علیٰ صاجہاالسلام کی خصوصیت نہیں ، بلکہ پیچھے انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں بھی ناسخ و منسوخ کا سلسلہ جاری رہاہے، جس کی بہت سی مثالیں موجود بائیل میں بھی ملتی ہیں، مثلاً بائبل میں ہے کہ ’’حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں دو بہنوں کوبیک و قت نکاح میں رکھنا جائز تھا، اور خود حضرت یعقوب علیہ السلام کی دو بیویاں ' لیا' اور 'راحیل' آپس میں بہنیں تھیں (بائبل ، کتا ب پیدائش ۲۹:۲۳تا۳۰،) لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں اسے ناجائز قرار دیاگیا(احبار۱۸: ۱۸؛)، حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں ہر چلتا پھرتا جاندارحلال تھا(پیدائش ۹:۳،) لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بہت جانور حرام کردیئے گئے(احبار ۱۱:۱۷احباراا:۱۷ اور الستثناء ۱۴: ۷)، حضرت موسی علیہ السلام کی شریعت میں طلاق کی عام اجازت تھی(التشناء ۲۴:۲۰)، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں عورت کے زناکار ہونے کے سوا اسے طلاق دینے کی کسی حالت میں اجازت نہیں دی گئی(انجیل متیٰ ۱۹: ۱۵)، غرض بائبل کے عہد نامہ جدید وقایم میں ایسی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں جن میں کسی پرانے حکم کو نئے حکم کے ذریعہ منسوخ کردیاگیا۔
ہرآنے والی نبوت اور ہرنازل ہونے والی کتاب نے پچھلی نبوت اور کتاب کے بہت سے احکام منسوخ کرکے جدید احکام جاری کئے ہیں؛ نیز ایک ہی نبوت وشریعت میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ کچھ عرصہ تک ایک حکم جاری رہا؛ پھربتقاضائے حکمتِ خداوندی اس کوبدل کردوسرا حکم نافذ کردیا گیا، حدیث اس پرصراحتاً وارد ہے:"لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّاتَنَاسَخَتْ "کوئی نبوت نہیں، جس کے احکام منسوخ نہ ہوئے ہوں،"۔(مسلم، كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ، باب،حدیث نمبر:۵۲۶۸، شاملہ، موقع اإسلام)
جن لوگوں نے نسخ کی مشروعیت کا انکار کیا ہے انہوں نے اپنی کوتاہ نظری سے احکام خداوندی کے نسخ کودنیا میں ہونے والی تبدیلی احکام اور تغیر آراء پر قیاس کیا اس لیے وہ غلط فہمی کا شکار ہوئے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے احکام اور ان کی حکمتیں، بندے اور ان کی مصلحتیں اور نواسخ ومنسوخات سب کے سب اللہ تعالی کے علم میں پہلے سے موجود ہیں۔ یہ نسخ احکام (وقت پر) صرف اللہ تعالی کا اپنے بندوں کے سامنے اپنے علم کا اظہار کرنا ہے۔[ مناہل العرفان،2/77]
 

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
118
جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم

Sent from my SM-G360H using Tapatalk
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,424
پوائنٹ
521
السلام علیکم
آپ جو سوال لائے ہیں (سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 180 کو سورۃ النساء کی آیت نمبر 11 نے منسوخ کر دیا) اس پر سوال ناسخ اور منسوخ کے حوالہ سے اسحاق بھائی نے جواب عنایت فرما دئے ہیں، مزید میری نظر میں سوال کرنے والے نے ناسخ اور منسوخ پر جن دو آیات کا سہارہ لیا ہے وہ شائد اس کی کم علمی یا مطالعہ کی کمی کی وجہ ہے یا شائد میری کم عقلی ہے جو مجھے ان دونوں آیات سے منسوخ کا حکم کہیں نہیں مل رہا۔

ہو سکتا ہے پہلے لوگ اپنی جائداد کی تقسیم اپنی اولاد میں ہی تقسم کرتے ہوں اس لئے پہلی آیت میں خاص الرٹ کیا والدین اور قریبی رشتہ دواروں کو، قریبی رشتہ داروں میں مرنے والے کے بہن بھائی اور جو بھی قریبی بنتے ہیں وغیرہ آ گئے۔


مرنے سے پہلے اپنے مال پر وصیت کرنا، اگلی آیت میں ان سب میں تقسیم ہے کہ اولاد، والدین اور قریبی رشتہ داروں میں کس کس کو کیا کیا اور کتنا حصہ ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آ پہنچے اگر اس نے کچھ مال چھوڑا ہو،
تو (اپنے) والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں بھلے طریقے سے وصیت کرے، یہ پرہیزگاروں پر لازم ہے۔
سورۃ بقرہ 2، آیت 180
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے،
پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے،
اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے،
اور مُورِث کے ماں باپ کے لئے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو،
پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)،
پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)،
تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے،
یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے،
بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
سورۃ النساء 4، آیت 11
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں اس میں تمہارا آدھا حصہ ہے بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو

اور اگر ان کی اولاد ہو تو اس میں سے جو چھوڑ جائیں ایک چوتھائی تمہارا ہے اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں یا قرض کے بعد
اور عورتوں کے لیے چوتھائی مال ہے جو تم چھوڑ کر مرو بشرطیکہ تمہاری اولاد نہ ہو
پس اگر تمہاری اولاد ہو تو جو تم نے چھوڑا اس میں ان کا آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کے بعد جو تم کر جاؤ یا قرض کے بعد
اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی یہ میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا
اور اس میت کا ایک بھائی یا بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے
پس اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں وصیت کی بات جو ہو چکی ہو یا قرض کے بعد بشرطیکہ اوروں کا نقصان نہ ہو
یہ الله کا حکم ہے اور الله جاننے والا تحمل کرنے والا ہے
(سورۃ النساء4، آیت 12)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں- کہہ اللہ تمہیں کلالہ ( والدین اور اولاد کے بغیر ) کے متعلق فتویٰ دیتا ہے۔

اگر کوئی مرد مر جائے جسکی اولاد نہ ہو مگر اسکی ایک بہن ہو تو اسے ترکے کا نصف ملے گا،
اور (اگر بہن پہلے مرے تو ) وہ ( مرد ) خود اسکا وارث ہو گا اگر اسکی بہن کی اولاد نہ ہو۔
اور اگر وہ دو عورتیں ہوں تو ان کے لیئے ترکے کا دو تہائ ہو گا۔
اور اگر بھائی بہنوں میں کئی مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کے لیئے دو عورتوں کے حصے کی مانند ہو گا۔
اللہ تم پر واضح کرتا ہے تا کہ تم بھٹک نہ جاؤ، اور اللہ ہر بات کو جانتا ہے۔
سورۃ النساء 4، آیت 176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام
 
Last edited:
Top