کلیم حیدر
ناظم خاص
- شمولیت
- فروری 14، 2011
- پیغامات
- 9,747
- ری ایکشن اسکور
- 26,385
- پوائنٹ
- 995
ناموسِ رسالت ﷺپر ایک اور وار!
ڈاکٹر حافظ حسن مدنی
الله تعالیٰ نے رحمت للعالمین، سیدالمرسلین اور شافع المذنبین محمد کریمﷺ کے ذریعے انسانیّت پر اپنے احسان کومکمل فرمایا، بلاشبہ بنی نوع انسانیت پر یہ احسان اللہ کا دین ’اسلام‘ ہے اور جس ہستی کے ذریعے نازل ہوا، اس کی بعثت کو بھی اللہ عزوجلّ نے انسانیت کے لئے ’احسانِ عظیم‘قرار دیا۔ اس احسانِ عظیم کی قدرومنزلت اور حقیقت و کیفیت کا اندازہ انہی پاکیزہ نفوس کو ہےجنہیں اسلام کی اس رحمت وبرکت سے فیض اُٹھانے کا موقع ملا ہے۔ محمدﷺ اللہ کے محبُوب پیغمبر ہیں، اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں آپ کی صفات بیان کرتے اور آپ پر طنز واستہزا کے تیر چلانے والوں کو اپنی ناراضی کی وعید دیتے ہیں۔ کبھی محبوبِِ کریم کو اس اذیّت پر دلاسہ دیتے، کبھی اُن کے غم واندوہ کو اپنے تکذیب قرار دیتے، کبھی دریدہ دہن لوگوں سے آپ کو بچانے کی ذمہ داری لیتے اور کبھی نبی کریمﷺ کو یومِ حشر کے انتظار کی تلقین کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درجنوں بار نبی کریؐم کا تذکرہ اپنی ذاتِ جلّ جلالہ کےساتھ کیا ہے، آپ کو رفعتِ ذکر کا وعدہ دیا ہے جس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ نبی کی شان اور یہ فضیلت اسی بنا پر ہے کہ آپؐ کی ذات ستودہ صفات پیامِ الٰہی کی مبین ومحافظ ہے۔ اپنے کلام میں اللہ عزوجلّ کس انداز میں دنیا کے ظالم لوگوں کی شقاوت کا تذکرہ کرتےہیں:
نبی کی شان میں گستاخی کرنا بدترین گناہ اور بدترین وعیدکا مصداق بننا ہے، جس طرح روزِ قیامت وہ لوگ جو نبیﷺ کے ہاتھ سے واصل جہنم ہوں گے، بدترین عذاب کا صلہ پائیں گے، اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے انبیا جیسی مقدس ہستیوں کی ذات وشان میں زیادتی کی ہوگی، بدترین انجام کے مستحق ہوں گے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہمیں نہیں بھولنا چاہئے جس میں آپﷺ نے غزوۂ اُحد میں الم ناک لہجے میں فرمایا کہيٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠
’’ان بندوں پر حسرت ہو! ان کے پاس کوئی بھی رسول نہیں آتا، لیکن اُس کا مذاق اُڑانے سے نہیں چوکتے۔‘‘
نبی کریمﷺ کی شانِ اقدس میں زیادتی کا ارتکاب بدترین گناہ ہی نہیں، سنگین ترین جرم بھی ہے۔ جولوگ اسے ماں باپ کی نافرمانی اور قطع رحمی کی طرح محض ایک گناہ سمجھتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اسلام کی رو سے اہانتِ رسول بدترین جرم ہے، جس کی سزا دینا خلافتِ اسلامیہ کا فرض ہے۔ نبی کریمﷺ کی ذات پر طعن وتشنیع آپ پر ایک بہتانِ عظیم بھی ہے۔ جس طرح کسی جرم کے ارتکاب پر محض توبہ اور رجوع کافی نہیں ہوتے، بلکہ چوری یا زنا کی طرح عوام میں ظاہر ہوجانے کے بعد اس کی سزا دینا مسلم حکمرانوں کے لئے واجب ہوجاتا ہے، اسی طرح اہانتِ رسول کا سنگین جرم بھی مستوجبِ سزا ہے۔ اگر مسلمان حکمران اس کی سزا دینے سے احتراز کرتے ہیں ، تو وہ اپنے شرعی فریضہ سے واضح انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔«كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى الله» (جامع ترمذی: 2928)
’’وہ لوگ کیسے فلاح یافتہ ہوں گے جنہوں نے اپنے نبی کے چہرے کو زخم آلود کردیا۔‘‘