• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا "ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتدا کرنا " اس روایت کی تحقیق درکار ہے۔

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
تحقیق حدیث کے سیکشن میں محترم بھائی @mominbachaa نے درج ذیل حدیث کے متعلق سوال کیا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس روایت کی تحقیق درکار ہے

مسند حمیدی ،رقم الحديث: 436
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَبِعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ بَعْدِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ , وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ "
الكتب » مسند الحميدي » أَحَادِيثُ رِجَالِ الأَنْصَارِ » أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب :
سنن الترمذی
باب في مناقب أبي بكر وعمر رضى الله عنهما كليهما
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
حدثنا الحسن بن الصباح البزار حدثنا سفيان بن عيينة عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي وهو ابن حراش عن حذيفة قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " اقتدوا باللذين من بعدي ابي بكر وعمر ". وفي الباب عن ابن مسعود (سنن الترمذی ، حدیث نمبر: 3662 )

سیدنا حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۱ (۹۷) (تحفة الأشراف : ۳۳۱۷) (صحیح)
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے یکے بعد دیگرے ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما دونوں کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں کے لیے فضیلت کی بات ہے۔

اور سنن الترمذی میں اس سے اگلی روایت درج ذیل ہے :

حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي حدثنا وكيع عن سالم ابي العلاء المرادي عن عمرو بن هرم عن ربعي بن حراش عن حذيفة رضي الله عنه قال:‏‏‏‏ كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال:‏‏‏‏ " إني لا ادري ما بقائي فيكم فاقتدوا باللذين من بعدي " ، واشار إلى ابي بكر ، وعمر.
(سنن الترمذی ،حدیث نمبر: 3663 )
جناب حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔

مشہور محقق محدث علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے (صحیح سنن الترمذی میں ) صحیح قرار دیا ہے ،
اور مسند احمد بن حنبل کی تخریج میں علامہ شعیب ارناؤط لکھتے ہیں :
حديث حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "تمسكوا بعهد عمار"کہ یہ حدیث (عہد عمار کو پکڑلو ،والے کے علاوہ ) دیگر طرق اور شواہد کی بنا پر حسن ہے"
یعنی سیدنا عمار کے عہد والا جملہ صحیح نہیں ،جبکہ باقی روایت محفوظ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترمذی کے علاوہ اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں اور فضائل صحابہ میں اور حاکم نے مستدرک میں ،، وابن ماجه (97) ، ، وابن أبي عاصم في "السنة" (1148) ، والبزار في "مسنده" (2829)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:

mominbachaa

مبتدی
شمولیت
جنوری 01، 2016
پیغامات
66
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
18
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ________________

جزاکم اللہ خیرا یا اخی الکریم
بھائی ترمذی و ابن ماجہ اور مسند احمد، الغرض جہاں جہاں یہ روایت جس متن کے ساتھ بھی ہے، وہاں مجہول رواہ موجود ہیں اور سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ کا عنعنہ ھے،

اس روایت کا جو طرق میں نے اوپر مسند حمیدی سے پیش کیا ہے، یہ سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ کے سماع کی صراحت کے ساتھ ہے، اور اس سند میں عبد الملک بن عمیر حسن الحدیث ہیں، اسی لیے یہ روایت حسن ہے واللہ اعلم، اور اس میں بھی سیدنا عمار کی روش پر چلنے کو کہا گیا ہے، تو پھر یہ غیر محفوظ الفاظ کیسے ہوئے مجھے سمجھائیں،

اور بھائی میں طالبعلم ہوں طنز باالکل بھی نہ سمجھیے گا
 
Top