قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے دعوت میں نرمی پہ زور دیا ہے.
موسی و ہارون علیہما السلام کو فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا:
اس سے نرم بات کرو
اصحاب کہف جب بیدار ہوئے توجس شخص کو کھانا لینے بھیجا اسے کہا :
وہ نرمی برتے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی حکم دیا :
اچھے انداز سے کفار سے مناظرہ کیجئے
اسی نرمی کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرمایا :
اللہ کی رحمت کی بنا پر آپ انکے لئے نرم ہیں، اگر آپ تند خو، سخت دل ہوتے تو یہ آپکے پاس سے چلے جاتے.
دعوت دین میں سختی سے منع کرتے ہوئے فرمایا :
دین میں کوئی زبردستی نہیں.
شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ