• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نفاس کا خون بند ہونے کے بعد دوبارہ آنے والے خون کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
938
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
نفاس کا خون بند ہونے کے بعد دوبارہ آنے والے خون کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 29 ))​

السؤال: امرأة في النفاس، وبعد أسبوعين انقطع الدم، ولكن كل ثلاثة أيام تنزل نقطة دم، فما حكم هذا الدم؟

سوال:
ایک عورت نفاس کی حالت میں ہے۔ دو ہفتے بعد اس کا خون بند ہوگیا، لیکن اس کے بعد ہر تین دن کے وقفے سے خون کا ایک قطرہ آ جاتا ہے۔ اس خون کا کیا حکم ہے؟

الجواب: حكمه أنه نفاس، فالمرأة النفساء إذا طهرت قبل الأربعين يوماً ثم عاودها الدم بعد ذلك، فإنه يعتبر من نفاسها على الصحيح؛ لأنه دم في زمن النفاس، فمعاودة هذا الدم قبل تمام الأربعين يعتبر جزءاً من النفاس… والله أعلم.

جواب: اس خون کا حکم یہ ہے کہ وہ نفاس ہی کا خون شمار ہوگا۔ چنانچہ جب نفاس والی عورت چالیس دن مکمل ہونے سے پہلے پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد دوبارہ خون آنے لگے تو صحیح قول کے مطابق وہ بھی نفاس ہی کا خون سمجھا جائے گا؛ کیونکہ یہ خون نفاس کی مدت کے اندر آیا ہے۔ لہٰذا چالیس دن مکمل ہونے سے پہلے دوبارہ آنے والا یہ خون نفاس کا حصہ شمار ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب۔
 
Top