• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نفس کا جہاد اور حیات بعد الموت کا عقیدہ۔۔۔

شمولیت
اکتوبر 11، 2011
پیغامات
90
ری ایکشن اسکور
116
پوائنٹ
70
اسلام و علیکم۔

یہ میرا اس فارم پر پہلا دھاگہ ہے۔

میرے کزنز نے مجھے سے یہ سوال کیا اور کہا کہ ہم حیا ت بعد الموت کا عقیدہ یہاں سے لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں اللہ کی راہ میں جہاد کر نے والوں کا زکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہوں بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمھیں شعور نہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاد کی تین اقسام ہیں اور سب سے افضل جہاد نفس سے جہاد کرنا ہے۔

اُن کے عقیدہ کے مطابق اگر لڑنے والے جہاد کا یہ مقام ہے تو نفس کے جہاد کا کیا مقام ہو گا۔ وہ یہاں انبیاہ اور اولیا اللہ کا حیات بعد الموت کا عقیدہ ثابت کر رہے ہیں۔

انہیں میں کیا جواب دوں۔ میں اُن سے کہہ چکا ہوں کے شہید پہلے مرتا ہے اور پھر اسے یہ مقام ملتا ہے اُس سے پہلے نہیں۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر موت کا ثبوت ملتا ہے۔ میں نے اُن سے کہا کے دعوع آپ نے کیا ہے ثبوت بھی آپ دیں کے نفس سے جہاد کرنے والا زندہ رہتا ہے مرتا نہیں مگر وہ ایک بات پر ار گئے ہیں کے آپ ثابت کریں کے یہ غلط ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
حیات چار قسم کی ہے:
1۔ حیات قبل از پیدائش مثلا ماں کے پیٹ میں
2۔ دنیوی حیات، جسم و روح کے اجتماع کے ساتھ
3۔ برزخی حیات یعنی روحانی زندگی جو موت کے بعد حاصل ہوتی ہے اور موت روح کے جسم انسانی سے جدا ہونے کا نام ہے۔ پس موت طاری ہونے کے بعد اللہ تعالی شہداء کی ارواح کو سبز پرندوں کے اجسام میں ڈال کر جنت میں داخل کر دیتے ہیں۔ برزخی حیات دنیاوی جسم کے ساتھ نہیں ہوتی ہے بلکہ اس میں روح تو وہی ہوتی ہے لیکن یہ جسم نہیں ہوتا ہے۔
4۔ اخروی حیات جو حشر و نشر کے بعد جنت و جہنم میں حاصل ہو گی۔

پس شہداء کی زندگی برزخی ہے کہ جس کا ہم شعور نہیں رکھتے ہیں یعنی وہ اس دنیاوی زندگی جیسی نہیں ہے کہ ہم اسے اس زندگی پر قیاس کریں۔ موت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کی روح بھی مر جاتی ہے بلکہ روح زندہ رہتی ہے اور اس روح کی زندگی کو ہی برزخی حیات قرار دیا گیا ہے اور برزخی حیات ہر قسم کے اہل قبر کو حاصل ہے یعنی یہ اولیاء یا انبیاء یا شہداء یا صالحین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اگر برا ہے تو اس پر جہنم کو صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور اگر اچھا ہے تو اس کو جنت کے باغات صبح و شام دکھائے جاتے ہیں۔
 
Top