قال الله تعالی:(ان الصلوة تنهی عن الفحشاء والمنكر) العنكبوت
اللہ تعالی نے فرمایا، بے شک نماز بے حیائ اور منکر کاموں سےروکتی ہے ۔
((فائدۃ )) نمازکا یہ فائدۃ اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو نماز کو اسکے آداب کے ساتھ ادا کرتاہے،یعنی سنت نبوی کے مطابق اور خشوع خضوع کے ساتھ ۔ ٹھونگوں والی اور (توچل میں ) کے اندازمیں پڑھنی جانے والی نماز،نمازہی نہیں ، اس سے انسان کے اندر کوئ تبدیلی بھی نہیں آتی ۔ اس لے ضروری ہٰ کہ نماز کونماز سمجھ کر ہی پڑھا جاے۔
حدیث
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوے سنا،بھلا بتلاؤ، اگر تم میں سے کسی شخص کے دروازے پرنہر ہو جس سے وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کےجسم پرکوئ میل کچیل باقی رہےگی؟ صحابہ نے عرض کیا ،اس کے جسم پرکوئ میل باقی نہیں رہے گی ۔آپ نے فرمایا ،پس یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے ، اللہ تعالی ان کے ذریعےسےگناہوں کومٹادیتا ہے ۔ ((بخاری ومسلم ))