محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
نمازِ جمعہ کی رکعات!!!
نوافل:
نمازِ جمعہ سے پہلے دو رکعت نوافل ادا کیے جاتے ہیں،جیسا کہ ارشادِ نبوی صلى الله عليه وسلم ہے:
«إذا جاء أحدکم یوم الجمعة والإمام یخطب فلیرکع رکعتین» (سنن ابوداؤد:٩٨٨)
''جب تم میں کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں ادا کرے''
یہ جمعہ کے کوئی مخصوص نوافل نہیں ہیں بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم کے دو سرے عام حکم :
«إذا دخل أحدکم في المسجد لا یجلس حتی یصلى رکعتین» (صحیح بخاری:١١٦٣)
''جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔''
کے مطابق یہ تحیۃ المسجد کے نوافل ہیں۔
نوٹ:
جمعہ کے فرائض سے پہلے نوافل کی تعداد محدود نہیں ہے۔اِستطاعت کے مطابق جتنے کوئی پڑھ سکے،پڑھ سکتاہے، جس کی دلیل آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان:
«من اغتسل ثم أتىٰ الجمعة فصلى ما قدر له»(صحیح مسلم:٨٥٧)
''جو شخص غسل کرے پھر وہ جمعہ کے لیے آئے تو جتنی اس کے مقدر میں نماز ہو ادا کرے...''
اس سے ثابت ہوا جمعہ سے پہلے نوافل کی مقدار متعین نہیں جتنی توفیق ہو پڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح جمعہ کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم سے زیادہ سے زیادہ ٦ رکعات نوافل ثابت ہیں۔جس سے متعلق اَحادیث درج ذیل ہیں:
1۔ابن عمر کے بارے میں وارد ہے کہ
(سنن ابوداؤد:١١٣٠)
''جب وہ مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کی دو رکعت ادا کرتے۔ پھر چار رکعات ادا کرتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھتے اور گھر جاکر دو رکعت پڑھتے،مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔اُن سے پوچھا گیا تو فرمایا : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔''
2۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
«إذا صلى أحدکم الجمعة فلیصل بعدها أربع رکعات» (صحیح مسلم:٨٨١)
''جب تم میں سے کوئی نمازِ جمعہ ادا کرے تو اس کے بعد چار رکعات اَدا کرے۔''
دوسری حدیث کے تحت سہیل کہتے ہیں کہ
''اگر جلدی ہو تو دو رکعت مسجد میں اور دو گھر میں پڑھ لے۔''
3۔ عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کان یصلى بعد الجمعة رکعتین في بیته (سنن نسائی:١٤٢٩)
''بے شک رسول صلى الله عليه وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔''
فرائض:
جمعہ کے فرائض دو رکعت ہیں۔آپ صلى الله عليه وسلم نےفرمایا:
«من أدرك من الجمعة رکعة فلیصلي إلیها أخری» (سنن ابن ماجہ:١١٢١)
''جو شخص جمعہ سے ایک رکعت پالے تو اسکے ساتھ دوسری آخری رکعت ملا لے۔''
اس حدیث سے ثابت ہو ا کہ نمازِ جمعہ کے فرائض صرف دو رکعات ہیں۔ جو اس دن ظہر کی نماز کے متبادل ہوجائیں گے اور ظہر کی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے
پلیز زیادہ سے زیادہ Share کر کے آپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔
جزاک اللہ خیر —