السلام علیکم و رحمۃ اللہ
نمازی جلسہ کے بعد زمین پر ہاتھ کیسے رکھے ؟ ہاتھ کھلے ہوں یا مٹھی بند ہو؟
اس بارے میں محدث العصر الشیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ مٹھی یوں بند ہو جیسے آٹا گوندھنے والا بند کرتا ہے ۔ انہوں نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ (۲/۳۹۲) میں ایک حدیث نقل کی ہے ۔ لفظ یہ ہیں :
عن الأزرق بن قیس رَأَیتُ ابنَ عُمَرَ یَعجِنُ فِی الصَّلٰوۃِ یَعتَمِدُ عَلیَ یَدَیہِ اِذَا قَامَ فَقُلتُ لَہُ : فَقَالَ: رَاَیتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَفعَلُہُ
ازرق بن قیس فرماتے ہیں میں نے سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا جب کھڑ ے ہوتے تو ہاتھوں کو ٹیکتے اور آٹا گوندھنے والے کی طرح ہاتھ رکھتے ۔ ازرق کہتے ہیں کہ میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے جواب دیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
اخرج ابو اسحق الحربی فی غریب الحدیث (۵/۹۸/۱)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : نا الْهَيْثَمُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَعْجِنُ فِي الصَّلاةِ يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا قَامَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْجِنُ فِي الصَّلاةِ "
المعجم الاوسط للطبرانی باب العین من اسمہ علی، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 2674
محترم علماء سے درخواست ہے کہ اس حدیث کے متعلق تفصیلی تحقیق پیش کریں۔
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔
نمازی جلسہ کے بعد زمین پر ہاتھ کیسے رکھے ؟ ہاتھ کھلے ہوں یا مٹھی بند ہو؟
اس بارے میں محدث العصر الشیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ مٹھی یوں بند ہو جیسے آٹا گوندھنے والا بند کرتا ہے ۔ انہوں نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ (۲/۳۹۲) میں ایک حدیث نقل کی ہے ۔ لفظ یہ ہیں :
عن الأزرق بن قیس رَأَیتُ ابنَ عُمَرَ یَعجِنُ فِی الصَّلٰوۃِ یَعتَمِدُ عَلیَ یَدَیہِ اِذَا قَامَ فَقُلتُ لَہُ : فَقَالَ: رَاَیتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَفعَلُہُ
ازرق بن قیس فرماتے ہیں میں نے سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا جب کھڑ ے ہوتے تو ہاتھوں کو ٹیکتے اور آٹا گوندھنے والے کی طرح ہاتھ رکھتے ۔ ازرق کہتے ہیں کہ میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے جواب دیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
اخرج ابو اسحق الحربی فی غریب الحدیث (۵/۹۸/۱)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : نا الْهَيْثَمُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَعْجِنُ فِي الصَّلاةِ يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا قَامَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْجِنُ فِي الصَّلاةِ "
المعجم الاوسط للطبرانی باب العین من اسمہ علی، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 2674
محترم علماء سے درخواست ہے کہ اس حدیث کے متعلق تفصیلی تحقیق پیش کریں۔
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔