محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
میت کا جنازہ ادا کرنا فرض کفایہ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کسی (ایسے) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپﷺ پوچھتے: ’’کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ اگر بتایا جاتا کہ اس نے قرض چکانے کے بقدر مال چھوڑا ہے تو آپﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے ورنہ فرماتے:
((صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ)) ’’اپنے ساتھی کی نماز پڑھو۔‘‘
جب اللہ نے آپﷺ پر فتوحات کے دروازے کھولے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں مومنوں کے، خود ان کی اپنی نسبت بھی زیادہ قریب ہوں، توجو شخص فوت ہوجائے اور اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے۔‘‘ (صحيح مسلم: 1619)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کسی (ایسے) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپﷺ پوچھتے: ’’کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ اگر بتایا جاتا کہ اس نے قرض چکانے کے بقدر مال چھوڑا ہے تو آپﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے ورنہ فرماتے:
((صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ)) ’’اپنے ساتھی کی نماز پڑھو۔‘‘
جب اللہ نے آپﷺ پر فتوحات کے دروازے کھولے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں مومنوں کے، خود ان کی اپنی نسبت بھی زیادہ قریب ہوں، توجو شخص فوت ہوجائے اور اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے۔‘‘ (صحيح مسلم: 1619)