1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں رفع الیدین کی اختلافی احادیث کی کثرت کیوں؟

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از بھائی جان, ‏دسمبر 04، 2019۔

  1. ‏دسمبر 04، 2019 #1
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    نماز میں رفع الیدین کی اختلافی احادیث کی کثرت کیوں؟

    ذخیرہ احادیث میں ہر جھکنے اور اٹھنے سے لے کر صرف تکبیر تحریمہ تک محدود رفع الیدین کی احادیث موجود ہیں۔

    ذخیرہ احادیث میں اس کا عندیہ بھی ملتا ہے کہ کچھ جگہوں کی رفع الیدین چھوڑی گئی۔

    صحیح مسلم کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نماز میں رفع الیدین منع کر دی گئی۔


    دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا رفع الیدین میں بتدریج اضافہ ہؤا یا کمی۔

    یا کہ کبھی کم کبھی زیادہ ہوتے ہوتے ایک خاص مقدار پر قرار پکڑا۔

    اسلاف میں خیر القرون سے متصل اہلسنت کے صرف چار طبقات (حنفی مالکی شافعی اور حنبلی) پائے جاتے تھے۔

    ان چار میں سے حنفی اور مالکی سوائے تکبیر تحریمہ کے دیگر جگہوں کی رفع الیدین کے ترک کے قائل ہیں ۔
    شافعی اور حنبلی تکبیر تحریمہ کے علاوہ رکوع کی رفع الیدین کے قائل ہیں باقی کسی جگہ کی رفع الیدین کے قائل نہیں۔

    تیسری رکعت کو اٹھتے وقت کی رفع الیدین چاروں اہلسنت حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی نہیں کرتے۔

    اب اس تیسری رکعت کو اٹھتے وقت کی رفع الیدین کو بجا لانا سبیل المؤمنین کے خلاف ہونے کے سبب قرآنی وعید کا موجب ہوگا۔
     
  2. ‏دسمبر 04، 2019 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,617
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276


    دلیل پیش کریں ۔ ایسا بھی ھو سکتا ہیکہ یہ محض آپکا قیاس ھو !
     
  3. ‏دسمبر 04، 2019 #3
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ یہ جناب کی دھوکہ دہی کا ایک اچھوتا انداز ہو!!!
    ثبوت
    مالک:
    المدونة :
    وَقَالَ مَالِكٌ: لَا أَعْرِفُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي شَيْءٍ مِنْ تَكْبِيرِ الصَّلَاةِ لَا فِي خَفْضٍ وَلَا فِي رَفْعٍ إلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ


    شافعی:
    الأم للشافعي :
    (قَالَ الشَّافِعِيُّ) : وَبِهَذَا نَقُولُ فَنَأْمُرُ كُلَّ مُصَلٍّ إمَامًا، أَوْ مَأْمُومًا، أَوْ مُنْفَرِدًا؛ رَجُلًا، أَوْ امْرَأَةً؛ أَنْ يَرْفَعَ يَدَيْهِ إذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ؛ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ؛ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ وَيَكُونُ رَفْعُهُ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْ هَذِهِ الثَّلَاثِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ؛ وَيُثَبِّتُ يَدَيْهِ مَرْفُوعَتَيْنِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ التَّكْبِيرِ كُلِّهِ وَيَكُونُ مَعَ افْتِتَاحِ التَّكْبِيرِ، وَرَدُّ يَدَيْهِ عَنْ الرَّفْعِ مَعَ انْقِضَائِهِ.
    وَلَا نَأْمُرُهُ أَنْ يَرْفَعَ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ الذِّكْرِ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي لَهَا رُكُوعٌ وَسُجُودٌ إلَّا فِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثِ فَإِنْ كَانَ بِإِحْدَى يَدَيْ الْمُصَلِّي


    حنبلی اور حنفی
    المغني لابن قدامة :
    مَسْأَلَةٌ: قَالَ: (وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ كَرَفْعِهِ الْأَوَّلِ) يَعْنِي يَرْفَعُهُمَا إلَى حَذْوِ مَنْكِبَيْهِ، أَوْ إلَى فُرُوعِ أُذُنَيْهِ، كَفِعْلِهِ عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَيَكُونُ ابْتِدَاءُ رَفْعِهِ عِنْدَ ابْتِدَاءِ تَكْبِيرِهِ، وَانْتِهَاؤُهُ عِنْدَ انْتِهَائِهِ. وَبِهَذَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٌ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَنَسٌ، وَالْحَسَنُ وَعَطَاءٌ، وَطَاوُسٌ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَالِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ، وَهُوَ مَذْهَبُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاقَ، وَمَالِكٍ فِي إحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ. وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، وَأَبُو حَنِيفَةَ: لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إلَّا فِي الِافْتِتَاحِ. وَهُوَ قَوْلُ إبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» . قَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَسَنٌ رَوَى يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُودُ» . قَالُوا وَالْعَمَلُ بِهَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ أَوْلَى لِأَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ فَقِيهًا، مُلَازِمًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، عَالِمًا بِأَحْوَالِهِ، وَبَاطِنِ أَمْرِهِ وَظَاهِرِهِ، فَتُقَدَّمُ رِوَايَتُهُ عَلَى رِوَايَةِ مَنْ لَمْ يَكُنْ حَالُهُ كَحَالِهِ.
     
  4. ‏دسمبر 04، 2019 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,617
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ترجم لی یا شیخ اذا سمحتنی !
     
  5. ‏دسمبر 04، 2019 #5
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    ترجمہ کی ضرورت اور فائدہ ؟؟؟
     
  6. ‏دسمبر 05، 2019 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,617
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    وہ اس لیئے :

     
  7. ‏دسمبر 05، 2019 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,617
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    فائدہ تو ھونا ہی ھے ، ترجمہ پیش کریں ۔
     
  8. ‏دسمبر 05، 2019 #8
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    اگر آپ کو عربی نہیں آتی تو تمہارا فقہی ابحاث میں حصہ لینا خود فریبی اور اگر عربی جانتے ہو تو یہ دھوکہ دہی۔
     
  9. ‏دسمبر 05، 2019 #9
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    نماز میں رفع الیدین کے بارے مختلف مقام کی کثیر تعداد میں احادیث وارد ہوئی ہیں۔
    چاروں فقہاء میں سے دو (حنفی اور مالکی) سوائے تکبیر تحریمہ کے کہیں بھی رفع الیدین کے قائل نہیں۔
    ان کے مطابق رفع الیدین میں بتدریج کمی آئی ہے۔
    دو فقہاء (شافعی اور حنبلی) تکبیر تحریمہ کے علاوہ صرف رکوع کی رفع الیدین کے قائل ہیں۔
    ان کا تعلق چونکہ دور دراز کے علاقوں سے تھا اس لئے ممکن ہے کہ ان کو ترک رفع الیدین والی احادیث بوثوق ذرائع سے نا مل سکی ہوں۔
    امام ابوحنفہ رحمہ اللہ کوفہ کے رہنے والے تھے (جو کہ آخری خلیفہ راشد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دار الخلافہ رہا) اور امام مالک رحمہ اللہ مدین منورہ کے۔

    اگر کوئی ان سب سے ہٹ کر کوئی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ سے اعراض کے سبب قرآنی وعید کی زد میں آئے گا۔
     
  10. ‏دسمبر 05، 2019 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,617
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ایک ترجمہ طلب کیا تھا فقط آپ سے عالم سے اور آپ سی عربی عبارات پر فہم عظیم رکھنے والے سے ۔ کوئی سرٹیفکٹ نہیں مانگا تھا ۔ فقہی ابحاث میں حہ نہیں لونگا ، تمھاری فہم عظیم پر سوالات نہ کرونگا تو معمولی سی فہم بھی کس طرح حاصل کر پاؤنگا؟ فورم پر اگر تم پر کوئی روک ٹوک نہیں ھے تو
    جھ پر بھی نہیں ۔ پھر بھی تم سا فہیم کوئی روک لگائے تو اسے ماننا کس نے ھے !؟

    اس لئیے کو بھی سوالات تم سے کیئے جائیں ان جوابات فورا دے دیا کرو ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں