• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کے تعدیلِ ارکان: اہمیت اور فضیلت حدیث کی روشنی میں

Ahmad Ashraf

مبتدی
شمولیت
اپریل 30، 2026
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
آج ہم جس موضوع پر بات کرنے جا رہے ہیں وہ ہے نماز کے تعدیل ارکان اس کی اہمیت اور فضیلت حدیث کی روشنی میں۔ عقیدہ توحید کے بعد نماز دین اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ اسی طرح تعدیلِ ارکان نماز کا بنیادی اوراہم جز ہے۔ ہم اپنے موضوع کی طرف بڑھنے سے پہلے اس چیز کو سمجھتے ہیں کہ نماز کے تعدیل ارکان کیا ہے۔
تعدیلِ ارکان کیا ہے؟
نماز میں تعدیلِ ارکان کا مطلب رکوع، سجدہ، قومہ (رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا) اور جلسہ (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا) کو اطمینان اور سکون سے ادا کرنا ہے، جس میں ہر عضو اپنی جگہ ٹھہر جائے۔ بغیر تعدیل ارکان کے نماز ناقص ہوتی ہے اور قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں تعدیلِ ارکان کی اہمیت و فضیلت
حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس کی اہمیت درج ذیل ہے:
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہو گی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1425] قال الشيخ الألباني: صحيح
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز کے بعد اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار اسی طرح ہوا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا۔ میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لیے آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (پہلے) تکبیر کہہ پھر قرآن مجید سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا۔ پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا۔ پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا۔ پھر (سجدہ سے) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا۔ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر۔ یہی طریقہ نماز کے تمام (رکعتوں میں) اختیار کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 793]
یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ تعدیلِ ارکان نماز کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 801]
یہ حدیث اس بات پر صریحاً دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا ایک ایسا رکن ہے جسے کسی بھی حال میں چھوڑنا صحیح نہیں-
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔ “ صحابہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! وہ اپنی نماز کی چوری کیسے کرتا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کا رکوع و سجود مکمل نہیں کرتا۔ “ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 885] قال الشيخ زبير على زئي:حسن
یہ حدیث اس بات کی شدید تنبیہ ہے کہ رکوع اور سجدے میں جلدی کرنا نماز کی روح کو ختم کر دیتا ہے۔
آثار صحابہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ:" رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، قَالَ: مَا صَلَّيْتَ، وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا".
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ۔ اس لیے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مر گئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 791]
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے اس سے پوچھا: تو کرنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ چالیس برس سے اسی طرح نماز پڑھ رہا ہوں۔ (فتح الباري: 256/2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں رکوع اور سجود کو آرام اور سکون سے ادا کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا فرض ہے۔ اس میں کوتاہی کرنا اپنی نماز کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1701]
وضاحت:
اللہ تعالیٰ کا اس کی نماز کی طرف نہ دیکھنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی نماز کو قبولیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کی نماز کو باطل اورمردود قرار دے کر اس پر لوٹا دی جاتی ہے۔
خلاصہ
لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ نماز کوعادت نہ بنائے بلکہ عبادت بنائے۔ اس کے آداب، خشوع اور تعدیلِ ارکان کا بھی مکمل اہتمام کریں تاکہ ہماری نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے۔
 
Top