• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نواقض الاسلام کے مرتکبین کی تکفیر سے پہلے قیام حجت والے مسئلے پر شیخ صالح الفوزان کا جواب

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
823
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
نواقض الاسلام کے مرتکبین کی تکفیر سے پہلے قیام حجت والے مسئلے پر شیخ صالح الفوزان کا جواب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد:

یہ مرجئہ کا نہایت فاسد شبہ ہے کہ جب کوئی شخص کھلے عام شرک اکبر یا نواقض الاسلام کا ارتکاب کرے خواہ وہ غیر اللہ سے فریاد کرنا ہو، مردوں کو پکارنا، قبروں پر سجدہ کرنا، اللہ کے سوا دوسروں کے لیے نذر و ذبح کرنا ہو یا پھر اللہ کے نازل کردہ قانون کے بغیر فیصلے کرنا اور طاغوتی دستوروں کو جائز و بہتر سمجھنا ہو! اسے مشرک و کافر نہ کہا جائے، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم اس کے دل میں کیا ہے۔ شاید اس کی نیت کفر کی نہ ہو، شاید وہ جاہل ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ یہ عمل شرک یا کفر ہے، اس لیے پہلے اس پر حجت قائم کی جائے، اسے سمجھایا جائے نہ کہ فورا اس کی تکفیر کر دی جائے۔

یہی وہ ارجائی منہج ہے جس نے امت میں توحید کی حقیقت کو کمزور کر دیا۔ اہل السنۃ والجماعۃ کا اصول یہ ہے کہ جو شخص ظاہری کفر و شرک کا ارتکاب کرے اس پر ظاہر کے مطابق حکم لگایا جائے گا، جبکہ اس کے باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ اسی حقیقت کو شیخ صالح الفوزان نے نہایت صراحت کے ساتھ بیان فرمایا اور مرجئہ کے باطل شبہات کا رد کیا ہے۔

چناچہ شیخ صالح الفوزان سے سوال کیا گیا: "ما هو الضابط في تبديع الشخص وتكفيره ؟" یعنی کسی شخص کو بدعتی قرار دینے اور اس کی تکفیر کرنے کا ضابطہ کیا ہے؟

شیخ صالح الفوزان نے جواب دیا: "إذا ارتكب ناقضًا من نواقض الإسلام فإنه يحكم بكفره، إلا إن كان مكرها على ذلك" یعنی اگر کوئی شخص نواقض الاسلام میں سے کسی ناقض کا ارتکاب کرے تو اس کے کفر کا حکم لگایا جائے گا، سوائے اس کے کہ وہ اکراہ کی حالت میں ہو۔

غور فرمائیں! شیخ نے ناقض الاسلام کے ارتکاب پر اصل حکم کفر بیان فرمایا اور صرف اکراہ کو استثناء بنایا نواقض الاسلام کو عام رکھا۔ اس میں ہر وہ ناقض شامل ہے جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دے اس کے مرتکب پر ظاہر کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔

اسی طرح شیخ صالح الفوزان سے یہ بھی سوال کیا گیا: "هل يُحتاج لإقامة الحجة على مرتكب الناقض من نواقض الإسلام بتكفيره أو نكفره مباشرة؟" کیا نواقض الاسلام میں سے کسی ناقض کا ارتکاب کرنے والے پر تکفیر سے پہلے حجت قائم کرنا ضروری ہے، یا ہم اس کی فوراً تکفیر کریں؟

تو شیخ صالح الفوزان نے جواب دیا: "نقول: من قال الكفر غير مكره، من تلفظ بالكفر غير مكره أو فعل الكفر؛ فإنه يحكم عليه بما ظهر منه، ولا علينا من خفايا الأمور، هذه إلى الله، فنحن نحكم بما يظهر من القول أو من الفعل نحكم عليهم بذلك، ولم يُوكل إلينا التفتيش عن القلوب وعن ما فيها، هذا إلى الله سبحانهوتعالى، الحكم على الظاهر الحكم على الباطن هذا عند الله سبحانه وتعالى"

ہم کہتے ہیں کہ جو شخص اکراہ کے بغیر کفر کی بات کہے یا کفر کا ارتکاب کرے تو اس پر اسی ظاہر کے مطابق حکم لگایا جائے گا جو اس سے ظاہر ہوا ہے۔ اور باطنی امور ہمارے ذمہ نہیں ہیں، وہ اللہ کے سپرد ہیں۔ پس ہم ظاہر قول یا ظاہر فعل کے مطابق حکم لگائیں گے۔ ہمیں لوگوں کے دلوں کی تفتیش کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ ظاہر کے مطابق حکم لگانا ہمارا کام ہے، اور باطن کا فیصلہ اللہ کے پاس ہے۔

[أجوبة الشيخ صالح الفوزان عن مسائل الكفر والإيمان، ص : ٢٨]

6610.jpg

7189.jpg

شیخ نے واضح کیا کہ حکم ظاہر پر ہوگا کیونکہ شریعت مطہرہ کا اصول یہی ہے، اگر کسی کے ظاہر اسلام پر اسے مسلمان سمجھا جاتا ہے تو اسی طرح ظاہر کفر و شرک پر اسے کافر و مشرک کہا جائے گا۔

پس جب کوئی شخص یا رسول اللہ مدد، یا علی مدد، یا غوث اعظم فریاد پکارے، قبروں پر سجدے کرے یا پارلیمنٹوں میں بیٹھ کر اللہ کے نازل کردہ احکام کے خلاف قوانین بنائے، جمہوری دساتیر کو شریعت پر مقدم کرے، تو یہ کفر ظاہری ہے۔ لیکن مرجئہ کہتے ہیں انہیں کافر نہ کہو، شاید ان کی نیت اچھی ہو! شاید وہ مصلحتا ایسا کر رہا ہو! وہ جاہل ہو! گویا کھلا کفر بھی ان کے نزدیک اس وقت تک کفر نہیں بنتا جب تک وہ خود دل چیر کر نہ دیکھ لیں!

حالانکہ شیخ صالح الفوزان نے صاف فرمایا: "ولم يُوكل إلينا التفتيش عن القلوب وعن ما فيها، هذا إلى الله" یعنی ہمیں لوگوں کے دلوں کی تفتیش کا مکلف نہیں بنایا گیا، یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔

مرجئہ کا یہ منہج کہ نواقض الاسلام کے مرتکب کی تکفیر سے پہلے حجت قائم کی جائے، جب تک اس پر حجت قائم نہ ہو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے! یہ دراصل ایمان و کفر کے باب میں شدید انحراف ہے اور یہ ارتداد کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو قیام حجت کے نام پر مشرکین کے ظاہر شرک کے باوجود ان کی تکفیر سے بھاگتے ہیں اور شبہات کے پیچھے چھپتے ہیں، وہ درحقیقت مرجئہ کے فاسد اصولوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص توحید پر ثابت قدم رکھے، شرک و اہل شرک سے براءت عطا فرمائے، مرجئہ کے شبہات سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اہل السنۃ والجماعۃ کے صاف و واضح منہج پر زندہ رکھے اور اسی پر موت عطا فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أنِ الحمد لله ربِّ العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top