ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 912
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
نکاح کے بعد شوہر کی شہادت: بیوہ کی عدت اور میراث کا حکم
فتاوى عبر الأثير (( 19 ))
السؤال: أخت تقول أن أخاً عقد عليها ثم ذهب إلى المعركة وقتل هناك، فهل عليها عدة؟ وهل ترث منه؟
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک شخص نے ان سے نکاح کیا، پھر وہ جنگ میں چلا گیا اور وہاں قتل کر دیا گیا۔ کیا اس خاتون پر عدت گزارنا واجب ہے؟ اور کیا وہ اپنے شوہر کی میراث کی حق دار ہوں گی؟
الجواب: ابتداءً نسأل الله سبحانه وتعالى أن يتقبل أخانا في الشهداء ويسكنه الغرفات العليا من الجنة، ونقول للأخت السائلة: اصبري واحتسبي، واعلمي أن العدة عليك واجبة، وأن لك الميراث من زوجك الشهيد، تقبله الله تعالى، وهذا محل إجماع بين العلماء سلفًا وخلفًا.
سب سے پہلے ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس بھائی کو شہداء میں قبول فرمائے اور اسے جنت کے بلند و بالا محلات میں جگہ عطا کرے۔ اس کے بعد ہم سوال کرنے والی خاتون سے کہتے ہیں کہ صبر سے کام لیجیے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھیے۔ یہ بات جان لیجیے کہ آپ پر عدت گزارنا واجب ہے اور آپ اپنے شہید شوہر کی میراث کی بھی حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی شہادت قبول فرمائے۔ یہ مسئلہ سلف و خلف کے علماء کے درمیان اجماعی ہے۔
امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«أجمع أهل العلم على أن عدة الحرة المسلمة غير ذات الحمل من وفاة زوجها أربعة أشهر وعشر، مدخولًا بها أو غير مدخول بها، سواء كانت كبيرة بالغة أو صغيرة لم تبلغ، وذلك لقول الله تعالى: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [البقرة: 234].»
اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ آزاد مسلمان عورت، جو حاملہ نہ ہو، اس کے شوہر کی وفات کے بعد اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے، خواہ شوہر نے اس سے ازدواجی تعلق قائم کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور خواہ وہ بالغ و عمر رسیدہ ہو یا ابھی نابالغ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن انتظار میں رکھیں۔‘‘ [البقرۃ: 234]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» ’’کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے اپنے شوہر کے، جس کے لیے وہ چار ماہ اور دس دن سوگ منائے گی۔‘‘
انتهى كلام ابن قدامة رحمه الله.
وقد روى أحمد في مسنده وأصحاب السنن أن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أوتي في رجل تزوج امرأة فمات عنها ولم يفرض لها أي مهر ولم يدخل بها، فاختلفوا إليه شهرًا
امام احمد نے اپنی مسند میں اور اصحاب سنن نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا، لیکن نہ اس کے لیے مہر مقرر کیا تھا اور نہ اس سے ازدواجی تعلق قائم کیا تھا۔ پھر اس کی وفات ہوگئی۔ لوگ ایک ماہ تک اس مسئلے میں ان سے اختلاف کرتے رہے۔
فقال: «إني أقول فيها: إن لها صداقًا كصداق نسائها، أي مهرًا كمهر مثيلاتها من النساء، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، وأن لها الميراث وعليها العدة، فإن يكن صوابًا فمن الله، وإن يكن خطأ فمني ومن الشيطان، والله ورسوله منه بريئان»
بالآخر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کے لیے اس جیسی عورتوں کے مہر کے مطابق مہر مقرر کیا جائے؛ نہ اس میں کمی ہو اور نہ زیادتی۔ نیز وہ میراث کی حق دار ہے اور اس پر عدت بھی واجب ہے۔ اگر میرا فیصلہ درست ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں۔‘‘
وفي رواية قام معقل بن سنان الأشجعي رضي الله عنه فقال: «يا ابن مسعود، نحن نشهد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضاها فينا في بروع بنت واشق امرأة من قبيلة أشجع كما قضيت». قال: ففرح عبد الله بن مسعود فرحًا شديدًا حين وافق قضاؤه قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم.
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’اے ابن مسعود! ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا، جو قبیلہ اشجع کی ایک خاتون تھیں، کے بارے میں بالکل وہی فیصلہ فرمایا تھا جو آپ نے کیا ہے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہے تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔
واللہ اعلم۔