• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Ahmad Ashraf

مبتدی
شمولیت
اپریل 30، 2026
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
اعمال کی قبولیت کے بنیادی شرائطِ کیا ہیں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
اسلام میں کسی بھی نیک عمل کے بارگاہِ الٰہی میں قبول ہونے کی بنیادی شرائط میں ایمان، اخلاص اور موافقتِ سنت شامل ہیں۔ جب تک یہ تینوں شرائط پوری نہ ہوں، کوئی عمل قبولیت کے درجے پر نہیں پہنچتا۔
قبولیتِ اعمال کی شرائط کا جاننا اہم کیوں ہے؟
نیک اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرائط کا جاننا اس لیے اہم ہے کہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔ اگر انسان دن رات محنت کرے، لیکن اسے یہ علم ہی نہ ہو کہ اس کی محنت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو بھی رہی ہے یا نہیں، تو اس کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جو دنیا میں بہت عمل کرتے ہیں لیکن ان کے اعمال قبول نہیں ہوتے:
"کہہ دیجیے! کیا ہم تمہیں بتائیں کہ باللحاظِ عمل سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں ضائع ہو گئیں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔" (سورۃ الکہف: 103-104)
نیک اعمال کی قبولیت کی شرائط کا جاننا دراصل اس "کامیابی کی چابی" کو حاصل کرنے جیسا ہے جس سے انسان کی تمام عبادات، صدقات اور نیکیاں اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت پا سکیں۔
قبولیتِ عمل کی شرائط
1- ایمان (توحید):
اللہ تعالی پر پکا ایمان اور درست عقیدہ ہونا پہلی شرط ہے۔ شرک یا غلط عقیدے کے ساتھ کیا گیا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
"جو ایمان سے انکار کرے، تو یقینا اس کا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا" (المائدة: 5)
"اور اگر یہ بھی شرک کرتے تو یقینا ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے" (الانعام: 88)
"یقینا آپ اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف وحی کی گئی ہے کہ اگرتو نے بھی شرک کیا تو یقینا تیرا عمل ضائع ہوجائے گا اور تو یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائے گا" (الزمر:65)
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

عاص بن وائل نے جاہلیت میں 100 اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، لیکن وہ پوری کیے بغیر مر گیا۔ اس کے ایک بیٹے ہشام نے اپنے حصے کے 50 اونٹ ذبح کر دیے، جبکہ دوسرے بیٹے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اس بابت پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہارے باپ نے توحید قبول کی ہوتی، پھر تم اس کی طرف سے صدقہ یا روزہ رکھتے تو اسے فائدہ پہنچتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 21]
2- اخلاص (نیت):

عمل صرف اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہو۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ:
"آپ فرما دیجیے کہ یقیناً میری نماز، میری قربانی (اور تمام عبادات)، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔" (سورۃ الانعام آیت 162)
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
ترجمہ:
"خبردار! خالص اطاعت و بندگی صرف اللہ ہی کا حق ہے۔" (سورۃ الزمر آیت ۳)
وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ ؕ﴿۵﴾
ترجمہ:
"اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میںکہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔" (سورۃ البینہ آیت 5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”بے شک اللہ فرماتا ہے: لوگو! اللہ تعالی کے لئے خالص عمل کرو، کیونکہ اللہ تعالی وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لئے کیا گیا ہو۔ یہ نہ کہا کرو: یہ اللہ تعالی کے لئے ہے اور یہ رشتہ و قرابت کے لئے ہے، ایسی (تقسیم) میں سے اللہ تعالی کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 145]
3- موافقتِ سنت (طریقہ):

قبولیت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ عمل نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، وہ مردود (ناقابلِ قبول) ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 4493]
 
Top