حافظ محمد عمر
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 08، 2011
- پیغامات
- 427
- ری ایکشن اسکور
- 1,543
- پوائنٹ
- 109
والدہ کی ایذا رسانی حرام ہے
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضی اللہ عنه أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم قال:
« إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الأُمَّهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ » [متفق علیه]
’’ حضرت مغیرہ بن شعبۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ بے شک اللہ تعالی نے تم پر حرام کر دیا ہے ، ماؤں کو ستانا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینا اور (خود) کچھ نہ دینا اور ( دوسروں سے کہنا) لا مجھے دے اور تمہارے لیے ناپسند کیا (یہ کہنا کہ) یہ کہا گیا اور فلاں نے کہا اور زیادہ سوال کرنا اور مال ضائع کرنا۔ ‘‘
تشریح:
1۔ اس حدیث میں والدہ کے دل دکھانے کا ذکر خاص طور پر کیا ہے، حالانکہ ماں باپ دونوں کے ساتھ ہی احسان کا حکم ہے او روالد کا دل دکھانا بھی حرام ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے ، کیونکہ وہ اولاد کی مشقت زیادہ اٹھاتی ہے:
﴿َوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ﴾[لقمان: 31/ 14]
’’ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے کے متعلق وصیت کی ، اس کی ماں نے کمزوری در کمزوری کی حالت میں اسے اٹھایا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے کہ میرا اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کر، میر ی طرف ہی پلٹ کر آنا ہے۔‘‘
صحیحین کی ایک حدیث میں آپ نے تین دفعہ ماں کے ساتھ حسن سلوک کی تا کید کی چوتھی دفعہ باپ کا ذکر فرمایا۔ ماں کا ذکر خاص طور پر اس لیے بھی کیا کہ کمزور ہونے کی وجہ سے اولاد اسے زیادہ ستاتی ہے۔
2۔ عقوق سے مراد اولاد کا ہر وہ قول یا فعل ہے جس سے ماں باپ کو تکلیف ہوتی ہو بشرطیکہ وہ بھی ضد میں نہ آئے ہوئے ہوں، اگر ایسا ہے تو اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿َبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا﴾[الإسراء: 17/ 25]
’’ تمہارا رب اس چیز کوخوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے، اگر تم صالح ہو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔‘‘
اسی طرح شرک یا اللہ کی نافرمانی سے بچنے میں والدین کی ناراضگی کی پروا نہیں کی جائے گی:
’’ لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِىْ مَعْصِيَةِ الْـخٰلِقِ‘‘
’’ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کا حکم ماننا جائز نہیں۔‘‘ [شرح السنۃ: 6455]
3۔ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ اہل جاہلیت عام طور پر بیٹیوں کو اس لیے زندہ درگور کر دیتے تھے کہ جنگ میں دشمن کے ہاتھ نہ آجائیں اور اس لیے بھی کہ لڑکے تو کمائیں گے، جنگ میں معاون بنیں گے، لڑکیاں تو بوجھ ہی بوجھ ہیں، کئی لوگ فقر کے ڈر سے اولاد کو قتل کر دیتے تھے۔ الل تعالی نے فرمایا:
﴿َلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ﴾
’’ اپنی اولاد کو فقیری کے ڈر سے قتل مت کرو۔‘‘
قدیم جاہلیت میں یہ کام انفرادی طور پر ہوتا تھا، جدید جاہلیت میں حکومتیں منظم طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں مثلا چین کے دہریوں نے دو بچوں سے زائد بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اگر کسی عورت کے ہاں تیسرا بچہ پیدا ہو جائے تو زچہ خانے میں ہی حکومت کی مقرر کردہ نرسیں اور ڈاکٹر اسے زہر کاٹیکہ لگا کر ہلاک کر دیتے ہیں۔ امریکہ اور دوسرے کافر ملک مسلمان ممالک میں بھی یہ قانون نافذ کروانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں، ابھی تک ترغیب وتحریص سے کام لیا جا رہا ہے اگلا قدم جبر کا ہو گا۔ افسوس کہ مسلمان حکمران بھی اللہ تعالی پر بھروسا رکھنے اور اس کو رازق سمجھنے کی بجائے اپنے آپ کو رزق کے ٹھیکے دار سمجھ کر مسلمانوں کی نسل کشی کے درپے ہو چکے ہیں، اللہ تعالی ہدایت عطا فرمائے۔
4۔ وَمَنَعَ وَهَاتِ خود کسی کو کچھ نہ دینا او ردوسروں سے ہر چیز کا تقاضا ہی کرتے چلے جانا ، جس طرح پیروں کا لطیفہ مشہور ہے کہ
’’تم آؤ گے تو کیا لاؤ گے اور ہم آئیں گے تو کیا کھلاؤ گے۔ یہ نہایت خست کی بات ہے۔
5۔ یہ کہا گیا اور فلاں نے کہا۔ اس صورت میں یہ فعل ماضی مجہول او رمعروف کے صیغے ہیں۔ یہ دونوں لفظ اسم کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ قلت قولا وقیلا وقالا میں نے بات کہی بعض اوقات قیل وقال فعل کے لفظ سے استعمال ہوتا ہے، مگر مراد اسم ہوتا ہے۔
6۔ تمہارے لیے قیل وقال کو ناپسند کیا، اس میں کئی چیزیں شامل ہیں:
الف) لوگوں کے متعلق سنی سنائی باتیں بلا تحقیق آگے پہنچانا یا تحقیق کر کے دوسروں کو سناتے رہنا، پہلی صورت میں جھوٹ اور بہتان کا مرتکب ہو گا، دوسری صورت میں غیبت اور چغلی کا ارتکاب کرے گا کیونکہ عموما لوگ پسند نہیں کرتے کہ ان کے متعلق بات کی جائے۔
ب) لوگوں کےعیوب اور کمزوریاں بیان کرتے چلے جانے سے انسان اپنی حالت سے بے پروا ہو جاتا ہے، اس لیے قیل وقال کو ناپسند فرمایا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
« مَنْ قَالَ هَلَكَ النَّاسُ . فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ »
[مسلم:139]
’’ جو کہے کہ لوگ برباد ہو گئے وہ ان سب سے زیادہ برباد ہے۔‘‘
ج) دین کے بارے میں لوگوں کا اختلاف کو بیان کرتے چلے جانا، فلاں امام نے یہ کہا ، فلاں نے یہ ،بعض علماء یوں بیان فرماتے ہیں یا ایک قول یہ بھی ہے وغیرہ وغیرہ اور پختہ اور اصل بات کا فیصلہ نہ کرنا۔ اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے ساتھ دوسروں کے اقوال ذکر کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا خصوصا جب وہ کتاب وسنت کے خلاف ہوں اس سے اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی سب کی ہوتی ہے:
دعو كل قول عند قول محمد
فما آمن فى دينه كمخاطر
’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے ہر بات چھوڑ دو، کیونکہ اپنے دین میں امن والا آدمی اس شخص کی طرح نہیں جو خطرے میں پڑ ا ہوا ہے۔‘‘
ہاں اگر رد کے لئے ایسے اقوال ذکر کیے جائیں تو کوئی حرج نہیں مگر وہ قیل قال نہیں ہو گا ، بلکہ قیل وقال کا رد ہو گا۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ قیل وقال سننے والا پریشان ہو جاتا ہے کہ میں ان اقوال میں سے کون سا قول اختیار کر وں اور آخر کار دین سے ہی منحرف ہو جاتا ہے۔
تیسرا یہ کہ جب انسان زیادہ قیل وقال ذکر کرتا ہے تو بہت سی باتیں بغیر تحقیق کر جاتا ہے، جس سے اس کا شمار جھوٹے لوگوں میں ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
« كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ » [ مقدمه صحيح مسلم]
’’آدمی کو جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ جو کچھ سنے آگے بیان کر دے۔‘‘
چوتھی یہ کہ قیل وقال میں بہت سی باتیں ایسی کرے گا جن کا اسے نہ دین میں کوئی فائدہ ہے نہ دنیا میں، اس لیے زیادہ باتیں کرنا ہے ہی نامناسب۔
فرمان الٰہی ہے:
﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ﴾ [المؤمنون: 23/ 3]
’’ اور (ایمان والے وہ ہیں) جو بے فائدہ باتوں سے رو گرداں رہتے ہیں۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه
’’ یہ بات آدمی کے اسلام کے حسن میں سے ہے کہ وہ بے مقصد چیزیں چھوڑ دے۔‘‘
7۔ وکثرۃ السوال اس میں بھی کئی چیزیں شامل ہیں:
الف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوال کرنا اس لیے منع تھا کہ ایسا نہ ہو کہ کسی سوال کرنے سے مسلمانوں کےلئے وہ چیزیں حرام ہو جائیں جو سکوت کی وجہ سے جائز تھیں:
﴿َلَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ﴾ [المائدة: 5/101]
’’ ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔‘‘
ب) بلا ضرورت لوگوں کے حالات کی جستجو کرنا، ان کے ذاتی معاملات کے متعلق پوچھنا خواہ مخواہ کا تجسس ناپسندیدہ عمل ہے۔
ج) ایسے سوال کرنا جن کا وجود ہی نہیںھ محض فرضی صورتیں ہیں یا ابھی تک وجود میں نہیں آئیں سلف صالحین اسے سخت ناپسند فرماتے تھے، مثلا بعض رائے پرستوں نے سوال پیدا کیا کہ اگر کتے نے بکری سے جفتی کی اور بچہ مشترک پیدا ہوا تو حلال ہے یا حرام؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ دیکھنا چاہیے گوشت اور گھاس سامنے رکھ کر اگر گھاس کھاتا ہے تو حلال ہے ، گوشت کھاتا ہے تو حرام۔ اگر دونوں کھأئے تو اس کو مارا جائے گأ اگر بھونکے تو کتے کے حکم میں ہے ورنہ بکری کے اگر دونوں آوازیں کرتا ہو تو ذبح کیا جائے اگر اوجھری نکلے تو کھایا جائے ورنہ نہیں۔
ان لوگوں کو محض سوال پیدا کرنے اور ان کا جواب گھڑنے سے غرض تھی، یہ نہیں کہ کہیں ایسا ہوا بھی ہے یا ہو سکتا بھی ہے؟ کتے اور بکری کی جفتی سے پیدا ہونے والا جانور کہاں پایا جاتا ہے؟
و) علماء کو پھنسانے اور نیچا دکھانے کے لئے سوال کرنا اکرام مسلم کے خلاف ہے اور اکرام علم کے بھی۔
ھ) لوگوں سے مال یا دوسری چیزیں مانگنا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ سے بیعت لی کہ تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرو گے۔ ان میں سے کئی حضرات نے اس عہد کی اتنی پابندی کی کہ اگر گھوڑے سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی کو پکڑانے کے لئے نہ کہتے بلکہ خود اتر کر پکڑتے اور دوبارہ سوار ہو جاتے۔
[مسلم: 1043]
8۔ وإضاعۃ المال مال ضائع کرنا، ناجائز جگہوں میں خرچ کرنا یا اپنی حیثیت یا موقع کی مناسبت سے بڑھ کر خرچ کرنا مال کو ضائع کرنا ہے۔