• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت

Hasan

مبتدی
شمولیت
جون 02، 2012
پیغامات
103
ری ایکشن اسکور
427
پوائنٹ
0
حسن بھائی میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا پھر کر دیتا ہوں ،بندہ نے وحدت الوجود کی جو حقیقت تھی آپ کے سامنے پیش کر دی رہا مسلئہ کے فلاں نے کیا کہا اور فلاں نے کیا کہا،اور دوسروں پر فتوی لگانے پر بھی عرض کر چکا ہوں ، باقی مجھے فلاں سے اس طرح کی عبارت لکال کر دے ،بندہ کبھی عیب جوئی کیلئے مطالعہ نہیں کرتا ،اگر آپ نے یہ باتیں دیکھنی ہیں تو دونوں مسالک کے متشددین حضرات کی کتب دیکھ لیں۔جزاک اللہ خیراً

ابن تیمیہؒ کا تصوف پر ایک ارشاد گرامی ان لوگوں کے نام پر جو افراط وتفریط کا شکار ہیں

اس دھاگے میں آپ نے فتاوٰی ابن تیمیہ کا حوالہ جس کتاب سے دیا اس کے مؤلف کو آپ معتدل سمجھتے ہیں ؟

دوسری بات یہ کہ آپ کے نزدیک تو اماداللہ کی عبارت ذیادہ سے ذیادہ ایک غلط 'صوفیانہ اجتھاد' ہونا چاہیئے- ایسی باتیں تلاش کرنا کوئی عیب جوئی تو نہ تھی-
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
74
اس دھاگے میں آپ نے فتاوٰی ابن تیمیہ کا حوالہ جس کتاب سے دیا اس کے مؤلف کو آپ معتدل سمجھتے ہیں ؟
میرے بھائی میں نے ابن تیمیہؒ کا صرف حوالہ دیا ہے ۔کیونکہ یہاں پر پروپگنڈہ ہوتا ہے کہ ابن تیمیہؒ مطلق تصوف کے مخالف تھے ،رہا باقی کتاب کا مصنف تو مجھے اس سےکچھ خاص غرض نہیں،البتہ مولف کا دعوی یہ ہے کہ وہ جوابی طور پر لکھ رہا ہوں۔باقی حال ہی جانتا ہے۔
آپ سے تیسری بار گزاش کررہا ہوں کہ اہلحدیث سے امداداللہ جیسی عبارات پیش کریں- ورنہ آپ کے موازنے بے فائدہ ہیں-
تصرف وتوجہ کے موضعوں پر امام العصر مولانا ابراھیم میرؒ شاہ ولی اللہ ؒصاحب کی نسبت کرکے فرماتے ہیں ( سراجا منیرا ص35)
کہ اصحاب تصرف کئی قسم پر ہیں ۔بعضے ماذون و مختار ہیں کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کے اذن اور اپنے اختیار سے جب چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں اور اس (طالب ) کو مقام فنا اور بیخودی پر پہنچادیتے ہیں اور بعض دوسرے اس قسم کے ہیں کی باوجود قوت تصرف کے سوائے امر غیبی کے تصرف نہیں کرتے ۔جب تک درگاہ الہی سے مامور نہ ہو ں کسی کو توجہ نہیں دیتے اوربعض دیگر اس طرح کے ہیں کہ ان پر کبھی کبھی کوئی صفت یا کوئی حالت غالب ہو جاتی ہے ۔تو اس غلبہ حال کے وقت مرید کے باطن میں تصرف کرتے ہیں اور انکو اپنے حال سے متاثر کر دیتے ہیں ۔جو شخص نہ مختار ہو اور نہ ماذون ہو اور نہ مغلوب ہو اس سے تصرف کی امید نہیں رکھنی چاہیی۔‘
(نوٹ اگر آپ کے پاس "سراجا منیرا " نہیں تو خاکسار آپ کی مدد کیلئے تیار ہے یہ وہ ایک نایاب کتاب ہے )
 
Top