عابدالرحمٰن
سینئر رکن
- شمولیت
- اکتوبر 18، 2012
- پیغامات
- 1,124
- ری ایکشن اسکور
- 3,234
- پوائنٹ
- 240
پیش کردہ: عابدالرحمٰن مظاہری بجنوری
بغیر وضو قرآن پاک چھونا جائز نہیں
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۳۲
اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری
وَاِنَّہٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۹۲ۭ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۱۹۳ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۱۹۴ۙ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۳۲
اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری
اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے ،اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے ،(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ لَّا يَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَتَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ،(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے) ،اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں،پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے ۔
اور سورہ طٰہ مین اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یوں خطاب فرماتے ہیں:
اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ۰ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى۱۲ۭ
میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دو۔ تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طویٰ میں ہو
محترم قارئین کرام مجھے ان آیات کریمہ کے ذیل میں اپنے موقف کوآپ حضرات کےسامنے پیش کرنا ہے قبل اس کے کہ کچھ عرض کروں میری آپ حضرات سے گزارش ہے کہ پہلے میرے اس مضمون کو بنظر تحسین دیکھئے اور پھر تنقید کیجئے ، یعنی پہلے حسن دیکھیں پھر نقص ۔اگر تنقید کی نگاہ سے دیکھا جائے گا تو میری بات میں ہر جگہ ہر جملہ میں اور ہرہر لفظ میں کوتاہی اور نقص ہی نقص نظر آئے گا۔ اس مضمون کولکھتے ہوئے کئی پہلوؤں پر میری نگاہ ہے ۔ اس لیے ان شاء اللہ (انشاءاللہ ) کوئی نہ کوئی بات مفید اور کار آمد مل جائے گی،فائدہ سے خالی نہیں۔
جہاں تک قرآن پاک کی تلاوت کا معاملہ ہے تو اتنا تو طے شدہ ہے کہ جنابت اور حیض و نفاس ِ کے علاوہ بغیر وضو قرآن پاک کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔جس طرح کہ حفاظ کرام یا وہ حضرات جن کو قرآن پاک کی کچھ آئتیں یاسورتیں یاد ہوتی ہیں یا کسی چیز کی مدد سے قرآن کوچھوئے بنا اوراق کو بدلنا یا کھولنابغیر وضو کے جائز ہے ، اس لیے چھونے میں اور تلاوت کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے جیسا کہ کچھ حضرات نے چھونے اور تلاوت کرنے کو یک ہی تسلیم کرتے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کو جائز سمجھ لیا ہے اور خلط مبحث کردیا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔
اور یہ سمجھ کر کہ مومن پاک ہوتا ہے اس لیے اس کو بغیر وضو قرآن پاک چھونا جائز ہے ۔ ان کا یہ فیصلہ اور ایسا سمجھنا مناسب نہیں بلکہ محل نظر ہے۔
بغیر وضو کے جواز کے قائلین فرماتے ہیں ،کہ’’ مطھرون‘‘ کی نسبت فرشتوں کی طرف ہے ،جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت بھی اس طرف گئی ہے ، جہاں تک فرشتوں کے طاہر ہونے اور معصوم ہونے کا معاملہ ہے تو ہمیں یہ تسلیم ہے فرشتے طاہر ہیں اور معصوم ہیں ، لیکن ان کی تطہیر اور معصومیت کا باعث فرشتوں کا بشری تقاضوں سے مبرّا ہونا ہے اور چونکہ ان کی خلقت بھی نور سے ہوئی ہے اور نور خود پاک ہوتا ہے ، اس لیے ان کو مزید کسی طہارت کی ضرورت نہیں جب کہ انسان کی تخلیق گندی مٹی اور ایک ناپاک قطرے سے ہوتی ہے اور بشری تقاضے بھی لاحق ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناپاک بھی ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا فرشتوں کو ’’من حیث التطہیر‘‘ انسان پر فوقیت حاصل ہے۔ لیکن مرتبہ کے اعتبار سے انسان کو ہی تما م مخلوق پر اشرف ہونے کا شرف حاصل ہے ۔کیوں کہ خلیفۃ الرب ہے اور حامل امانت الٰہی ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔