ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 928
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
وطنیت ایک غلاظت
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
پاکستان کے علماء نے ہندوستان کے خلاف فتوے دئے، بددعائیں کیں اور پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر ہندوستان کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ہندوستان میں ظاہر ہے، وہاں کے 20 کروڑ سے زائد مسلمان، علماء، مدارس، مساجد بھی آتے ہیں، اس لیے گویا پاکستانی مسلمانوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔
اگلے دن ہندوستانی علماء نے پاکستان کے خلاف فتوے دئے، بددعائیں کیں اور ہندوستانی فوج کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ گویا انہوں نے بھی پاکستان کے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں، علماء، طلباء، مدارس، مساجد کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔
دونوں ممالک کے تمام فرقے اور مسلکیں آمنے سامنے ہو گئیں، یعنی دیوبندی دیوبندی کے خلاف، بریلوی بریلوی کے خلاف، اہلحدیث اہلحدیث کے خلاف صف آراء ہو گئے، محض ایک لکیر کے فرق سے جس کو برطانیہ نے کھینچ کر ایک ہی سرزمین کو ایک طرف ہندوستان، دوسری طرف پاکستان قرار دیا تھا۔
وہاں افغانستان پر حکمران لمبی داڑھیوں اور بڑی پگڑیوں والے طالبان دیوث کہتے ہیں کہ ہماری سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ہم بس اپنے ملک کی ترقی چاہتے ہیں۔ عافیہ صدیقی پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ان بے غیرتوں کے چاروں طرف پاکستان، ایران، چین میں مسلمان شدید مصیبتوں، بدترین مظالم، قید، قتل اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن یہ اس سے لاتعلق ہیں۔
وہاں چین کے ایغور مسلمان تین اسلامی کہلوانے والی قوموں — تاجک، افغان اور پاکستان — کے بیچ میں چینی ملحدین کی بربریت کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن تینوں ممالک — پاکستان، تاجکستان اور افغانستان — کا کہنا ہے کہ یہ چین کا اندرونی معاملہ ہے۔
شامی مسلمانوں کو ترکی میں سخت تعصب اور مسائل کا سامنا ہے کیونکہ وہ ترکی کے شہری نہیں ہیں۔ اور بلوچ مسلمان تین ممالک میں تقسیم ہیں، اور ایک نسل، ایک زبان، ایک مذہب ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے الگ ہیں، کیونکہ ایرانی بلوچ، پاکستان و افغانستان، افغانستان کے بلوچ، پاکستان و ایران کے، اور پاکستانی بلوچ، ایران و افغانستان کے شناختی کارڈ نہیں رکھتے۔
کشمیری مسلمانوں کے مابین چند فٹ کا دریا بہتا ہے، لیکن اس کو لائن آف کنٹرول قرار دے کر دونوں کا ایک دوسرے سے ملنا حرام کر دیا گیا ہے۔
ماوراء النہر کی عظیم مسلمان اقوام گویا امت سے الگ تھلگ پڑی ہوئی ہیں اور کسی کو ازبکستان، کسی کو تاجکستان، کسی کو آذربائیجان قرار دے کر الگ الگ بند کر دیا گیا ہے۔
فلپائن کے مسلمان، انڈونیشیا کے کروڑوں مسلمانوں کے پڑوس میں عیسائیوں کا ظلم سہتے ہیں، اور انڈونیشیا کے کروڑوں مسلمان اس بارے میں کچھ کرنے کی اجازت نہیں رکھتے، کیونکہ یہ فلپائن کا مسئلہ ہے اور وہ فلپائنی نہیں۔
پھر ملیشیا کے مسلمان پڑوس میں کروڑوں انڈونیشی مسلمانوں سے الگ ہیں، اور یہ تینوں مسلمان آبادیاں بالکل پڑوس میں ہو کر ایک دوسرے سے بالکل اجنبی ہیں۔
وطنیت کا بُت جب سے برطانیہ اور مغرب نے تراشا ہے، اس کے بعد سے کسی خطے کے مسلمان نے امن، سکون اور چین کے دن نہیں دیکھے۔ کہیں دین کی تباہی، کہیں دنیا کی تباہی، اور اکثر دونوں کی تباہی کا سامنا ہے۔
معیشت کی تباہی الگ عذاب ہے کیونکہ تجارت کے لیے سینکڑوں رکاوٹیں، سرحدیں، کاغذات، اجازت نامے اور دیگر مسائل ہیں، جبکہ امت کے تصور کا رشتہ الگ سے ناپید ہو گیا۔
یہ وطنیت ایک خنجر ہے جو اس امت کی پیٹھ میں پیوست کیا گیا، اور اس خنجر نے امت کو گھٹنوں کے بل گرا دیا، جس کے بعد سے امت اُٹھ نہیں سکی۔
اس خنجر کو نہ صرف امت کے جسم میں اتارا گیا بلکہ اس پر پہرہ بھی دیا جا رہا ہے کہ کوئی اس کو نکال نہ پائے، اور اس کو نکالنے والے ہاتھ خلافت کے ہاتھ ہی ہو سکتے ہیں، جس کا نام لینا بھی ممنوع کر دیا گیا، اور اس کے نام لیواؤں کو اتنے فتاویٰ اور اس قدر پروپیگنڈہ کا نشانہ بنایا گیا کہ خود خنجر کھانے والے ان کے دشمن ہو گئے — کہ خبردار! ہمارے جسم سے خنجر نکالنے کی کوشش مت کرنا۔
یہ وطنیت ایک جادو ہے جس سے امت کو سحر زدہ کر کے بندروں کی طرح رنگ برنگے پرچم تھامے ناچنے پر مجبور کیا گیا۔
یہ وطنیت ایک پنجرہ ہے، امت کو چھوٹے چھوٹے پنجروں میں تقسیم کر کے ہر پنجرے کو ایک نام، ایک پرچم، اور ایک ترانہ دیا گیا کہ اپنے اپنے پنجرے میں اپنے پنجرے کی عظمت کے گیت گاؤ، اس پنجرے کو اللہ کی نعمت قرار دو، اس پر اللہ کے حضور شکر کے سجدے ادا کرو، اور مل کر گاؤ:
"ہمارا پنجرہ — یہ پیارا پنجرہ!
یہ پنجروں میں عظیم پنجرہ،
عطائے ربِ کریم پنجرہ!
ہمارا پنجرہ، یہ پیارا پنجرہ!"
یہ پنجروں میں عظیم پنجرہ،
عطائے ربِ کریم پنجرہ!
ہمارا پنجرہ، یہ پیارا پنجرہ!"