ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 801
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
وطنیت یا قبائلیت کیا ہے؟
قومیت (Nationalism) یا قبائلیت (Tribalism) کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنی وابستگی اور وفاداری کو کسی خاص قوم، نسل، یا علاقے کی بنیاد پر ترجیح دے، اسلام میں یہ نظریہ سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرتا ہے اور انسانوں کو نسلی، لسانی یا جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے۔
اسلام میں اس کو "عصبیة“ (عصبیت) کہا جاتا ہے، اور اس کی مذمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں کی ہے۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے، اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑے، اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرے۔“ (مسند احمد : 9049)
عصبیت کی مختلف اقسام ہیں:
1ـ نسلی عصبیت
2ـ قومی عصبیت
3ـ علاقائی عصبیت
پہلی قسم: (نسلی عصبیت)
نسلی عصبیت اس کو کہتے ہے جس میں کسی قوم یا نسل کو باقی انسانوں پر برتر سمجھا جائے۔ یہ ہر قسم کے نسلی امتیاز کو شامل کرتا ہے، بشمول کسی کی نسل یا جلد کے رنگ کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنا، اللہ کی طرف سے طے شدہ معیار یعنی تقویٰ اور ایمان کی بجائے کسی گروہ کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرنا، جو کہ مشترکہ نسل اور جلد کے رنگ کی بنیاد پر ہو، اس میں خاص کسی نسلی یا قومی گروہ کو نشانہ بنانا اور ان کے خلاف عداوت رکھنا بھی شامل ہے، صرف اس وجہ سے کہ وہ کسی مختلف نسلی یا قومی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس لیے یہ انتہائی مذموم ہے کہ لوگ دوسروں کا فیصلہ ان کی نسل یا قومیت کی بنیاد پر کرتے ہیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان کی نسل باقی تمام نسلوں سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ ہے، اس قسم کے عقیدے کی ایک مناسب مثال عرب ہیں، جب وہ اسلام کے ظہور سے پہلے جہالت کے دور میں تھے، عرب، خاص طور پر قریش نے اپنی اعلی نسل کی بنیاد پر خود کو ممتاز سمجھا، انہوں نے دوسری قبائل اور نسلوں کو کم تر سمجھا، کالے رنگ والے لوگ، خاص طور پر افریقی لوگ اپنی رنگت کی وجہ سے غلامی کا شکار بنے، جبکہ دوسرے عرب قبائل کے ساتھ بھی نا انصافی کی گئی، لیکن اسلام کے ظہور اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے ساتھ یہ ذہنیت ختم ہو گئی، ایک نمایاں مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبے سے ہے، جو "حجۃ الوداع" کے دوران دیا گیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لَا فَضْلَ لِعَرَبِيّ عَلَى أَعْجَمِي، وَلَا لِأَعْجَمِي عَلَى عَرَبِي، وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَض إِلَّا بِالتَّقْوَى) مسند احمد، ۲۲۳۹۱
ترجمہ: کسی عربی کو عجمی پر اور نا کسی عجمی کو عربی پر اور نا کسی کالے کو گورے پر اور نا کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے۔ مگر تقوی کے ساتھ۔
یہ حدیث واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ اسلام کے سائے تلے اور اللہ کی نظر میں نسل یا قومیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اللہ نے ایک درست معیار مقرر کیا ہے، جو ایسے نظریات پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ”تقوی“ کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ ایک مومن اللہ کے رسول کے قول کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟ وہ اپنے رب کی طرف سے طے کردہ معیار پر کیسے بحث کر سکتا ہے؟ نظریہ اس قدر قابل نفرت ہے کہ تنازعے کے دوران، ایک مسلمان اپنی نسلی گروہ کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ درست ہو یا غلط، یہ ایک قسم کا قبائلی نظام ہے۔ مثلاً، اگر کوئی شخص اپنی قوم کو دوسری قوم پر اس کے مشترک ورثے یا رنگ کی بنیاد پر ترجیح دیتا ہے، یہاں تک کہ انصاف کی قربانی دی جائے، تو یہ ایک طرح کی عصبیت ہے، جو اندھی پیروی کی وجہ سے ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ("مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عمِّيَّةٍ، يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً، فَقُتِلَ، فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ) صحیح مسلم، حدیث ۱۸۵۰
ترجمہ: جو بھی کسی گروہ کی اندھی پیروی کے تحت لڑتا ہے، عصبیت کی دعوت دیتا ہے یا عصبیت کی حمایت کرتا ہے، اور مارا جاتا ہے، تو اس کا مرنا جہالت پر ہے۔
آئیے سلف صالحین کی ایک مثال پر نظر ڈالتے ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بے حد قریب تھے (اللہ ان سب سے راضی ہو)۔ بلال (رضی اللہ عنہ)، جو مکہ میں ایک افریقی غلام تھے۔ انہوں نے اپنی نسل اور حیثیت کی بنا پر بے شمار مشکلات اور مظالم کا سامنا کیا۔ اسلام سے قبل معاشرہ انہیں ان کے کالے رنگ کی وجہ سے ایک حقیر انسان سمجھتا تھا۔ تاہم، اسلام کے سائے میں اور مومنوں کے دلوں میں ان کی قدر ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر طے کی گئی تھی۔ اللہ کی واحدیت پر ایمان لانے کے باعث انہیں سخت اذیتیں جھیلنی بھی پڑیں تھی، لیکن بلال (رضی اللہ عنہ) نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اسلام کے ذریعے انہیں عظیم عزت کا ایک بلند مقام عطا کیا گیا۔ ایک ایسا مقام جس کے لیے ہم سب اپنی جان دینے کو بھی تیار ہوں گے اگر ہمیں موقع ملے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلا موذن منتخب کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے نسلی رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے۔ ابتدائی اسلامی امت میں ان کا کردار اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اسلام لوگوں کی حیثیت کا اندازہ ان کے تقویٰ اور عقیدے کی بنیاد پر لگاتا ہے، نہ کہ نسل، قومیت یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر۔ یہ حدیث کہ کوئی عرب، غیر عرب پر فضیلت نہیں رکھتا، نہ ہی کوئی سفید فام، سیاہ پر ، سوائے تقویٰ کے۔ بلال (رضی اللہ عنہ) کی زندگی اس گہرائی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جن کی ثابت قدمی نے انہیں مسلمانوں میں اعلیٰ احترام اور مقام عطا کیا۔ اور اس سے بھی بڑی بات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے بلال (رضی اللہ عنہ) کی تعریف کرنا اور جنت کی بشارت دینا ایک بہت بڑے عزت کا مقام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال، مجھے اسلام میں اپنے سب سے افضل عمل کے بارے میں بتاو، کیونکہ میں نے تمہارے قدموں کی آواز جنت میں اپنے آگے سنی ہے۔ (صحیح البخاری، ۱۱۴۹)
ایک اور واقعہ یہ ہے کہ جب ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) اور بلال (رضی اللہ عنہ) میں تکرار ہوئی تو کیونکہ بلال (رضی اللہ عنہ) کی والدہ عجمی تھیں۔ ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے کر ان کی توہین کی۔ انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر (رضی اللہ عنہ) کو ان کے نسلی تبصرے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: اے ابوذر، تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ تم ایک ایسے آدمی ہو جس میں ابھی بھی جاہلیت کی کچھ علامات ہیں۔ (صحیح البخاری، حدیث ۳۰، ، صحیح مسلم، حدیث ۱۶۶۱)
یہ حدیث ایک ایسا واقعہ بیان کرتی ہے جہاں ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) نے بلال (رضی اللہ عنہ) کو ان کی والدہ کے رنگ کا حوالہ دے کر توہین کی، جو کہ ان کے نسلی پس منظر کی نشاندہی کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بہت ناراض ہوئے اور ابوذر کو یاد دلایا کہ ایسا سلوک پیش از اسلام کے جاہلیت کے زمانے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگوں کا اندازہ ان کی نسل یا رنگ کی بنیاد پر لگایا جاتا تھا۔ اسلام نے ایسے طرز عمل کو ختم کیا، اور یہ واضح کیا کہ فضیلت صرف تقویٰ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ابوذر (رضی اللہ عنہ) نے اپنی غلطی کو فوراً سمجھ لیا اور بلال (رضی اللہ عنہ) سے معافی مانگی، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق برابری کی حقیقی عاجزی اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتی ہے، وہ اس قدر پریشان ہوئے کہ انہوں نے اپنا سر زمین پر رکھ دیا اور بلال (رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ وہ اس پر پیر رکھیں، لیکن بلال (رضی اللہ عنہ) نے ان کو عفو و در گزر سے معاف کر دیا۔
اللہ ان سے راضی ہو۔ ابو ذر (رضی اللہ عنہ) اس رویے کے بارے میں جان کر کتنے شرمندہ ہوئے، جب انہیں ان بدبخت لوگوں کی یاد دلائی گئی جو اس قسم کے توہین آمیز کلمات لوگوں کے بارے میں ادا کرتے تھے، اور آج کے مسلمانوں کی حالت دیکھیں جو آپس میں ایک دوسرے کی نسل اور جلد کے رنگ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں یہ باتیں کھیل لگتی ہیں، وہ کیسے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بے خبر ہیں۔
لہذا، کسی کی نسل یا قومیت پر فخر کرنا اور دوسرے لوگوں کو اس سے کمتر سمجھنا، آپ کو ان لوگوں کی صف میں لے جاتا ہے جو دور جاہلیت میں زندگی گزارتے تھے اور بغیر مسلمان ہوئے مر گئے۔ وہ کتنے بد قسمت تھے ! کیا اس نے جو نسلی عصیبت کی طرف دعوت دیتا ہے، تاریخ کے صفحات پلٹ کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوا جو اپنی نسل پر فخر کرتے تھے؟ وہ بد بخت فرعون جو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کرتا رہا۔ وہ دریا میں غرق ہو گیا اور تمام جہانوں کے رب کے سامنے لرزتے ہوئے مر گیا، جبکہ بنی اسرائیل کو نجات ملی اور اللہ نے انہیں ظالم سے بچایا۔ تو ان قوموں سے ذرا عبرت حاصل کرو!
افسوس کہ ہم نسلی عصبیت جیسی جاہلیت سوچ کی واپسی کے گواہ ہیں، حالانکہ ہزاروں سال گزر چکے ہیں۔ آج بھی مسلمان ایک دوسرے کو نسل کی بنیاد پر نظر انداز کرتے ہیں۔ مختلف نسلی گروہ جیسے پنجابی، سندھی، پشتون اور بلوچ اکثر اپنی علاقائی اور نسلی شناختوں کو اپنی مسلم شناخت پر ترجیح دیتے ہیں، جہاں پنجابی اپنی حیثیت پر فخر کرتے ہیں اور پشتونوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ پشتون اپنی نسل پر ناز کرتے ہیں اور دوسرے قبائل کو حقیر سمجھتے ہیں۔ جہاں ایک بلوچ صرف اس لیے ایک پنجابی کو مار ڈالتا ہے کہ وہ پنجابی ہے اور ایک پنجابی اسی بلوچ کے ساتھ انتہائی دشمنی برتتا ہے کہ وہ بلوچ ہے۔
یہ فخرانہ تقسیم مزید "عصبیت کے داعیوں“ اور پاکستان کی مرتد حکومت کی جانب سے بڑھائی جاتی ہے، جو مرتدین اور کافروں کی حمایت سے ان مہلک بیانات کو فروغ دیتے ہیں، جس سے مسلم کمیونٹی کے اندر خلیجیں مزید بڑھتی ہیں، اور ان تمام گروہوں کو کافروں کی مکاری اور ان کی بدعنوان سازشیں مزید کمزور بنا دیتی ہیں۔
منظر صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے معاشروں میں پھیل چکا ہے۔ ہم افغانستان کی کفری امارت میں بھی اسی قسم کی علامات کا مشاہدہ کرتے ہیں، جہاں بعض نسلی گروہوں، خاص طور پر پشتونوں کے رہنما اور اراکین تاجک، از بک اور حتی کہ دوسرے ممالک کے مسلمانوں کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ اللہ کی شریعت کے نفاذ کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی باتوں میں اکثر نسلی توہین کے عناصر موجود ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ اپنی نسلی شناخت کو مسلم شناخت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ بار بار تاجکوں کی زمینوں پر زبر دستی قبضہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ پشتونوں کی ملکیت ہے۔
ایسے لوگوں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے جو اپنے دین کو چند ڈالروں کے لئے بیچتے ہیں اور اقوام متحدہ میں ایک نشست حاصل کرنے کے لیے بے قرار ہیں۔ جس کے لیے وہ جان دینے کو بھی تیار ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے لوگوں کو قومی گروہوں میں تقسیم کر چکے ہیں اور انہیں انسانوں کی بنائی ہوئی سرحدوں کے ذریعے تقسیم کرتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔