• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وطن سے محبت کے نام پر وطن پرستی اور جدید نیشنلزم کا شرعی جائزہ شیخ ابن باز کے فتویٰ کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
860
ری ایکشن اسکور
228
پوائنٹ
111
وطن سے محبت کے نام پر وطن پرستی اور جدید نیشنلزم کا شرعی جائزہ شیخ ابن باز کے فتویٰ کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد!

اسلام نے انسان کو یہ نہیں سکھایا کہ وہ اپنی قوم، نسل، زبان، وطن یا سرحد کو حق و باطل کا معیار بنا لے؛ بلکہ اسلام نے دلوں کا قبلہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرار دیا، دوستی اور دشمنی کا مدار ایمان و اطاعت کو بنایا، اور مسلمانوں کو ایک ایسی امت بنایا جس کی دوستی، وفاداری و محبت کی بنیاد وطنیت نہیں بلکہ عقیدہ توحید ہے۔

شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز سے سوال ہوا :

س: يبالغ البعض بالقول أن كلمة الولاء للوطن من التوثين في بلد إسلامي يدين أهله بالولاء لله، فما ترون سماحتكم في ذلك؟

بعض لوگ یہ بات کہتے ہوئے حد سے بڑھ جاتے ہیں کہ کسی اسلامی ملک میں، جہاں کے باشندے اللہ تعالیٰ کے لئے ولاء کے پابند ہیں، وطن سے ولاء کا لفظ استعمال کرنا وطن پرستی اور اسے معبود بنانے کے مفہوم میں داخل ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟


اس کے جواب میں شیخ ابن باز نے فرمایا :

ج: الواجب الولاء لله ولرسوله، بمعنى أن يوالي العبد في الله ويعادي في الله، وقد يكون وطنه ليس بإسلامي، فكيف يوالي وطنه؟

واجب یہ ہے کہ ولاء صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہو۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ اللہ ہی کے لیے دوستی رکھے اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھے۔ بسا اوقات کسی شخص کا وطن اسلامی نہیں ہوتا، تو پھر وہ اپنے وطن کے ساتھ کس طرح ایسی وفاداری کر سکتا ہے؟

أما إن كان وطنه إسلاميا فعليه أن يحب له الخير ويسعى إليه، لكن الولاء لله، لأن من كان من المسلمين مطيعا لله فهو وليه، ومن كان مخالفا لدين الله فهو عدوه وإن كان من أهل وطنه وإن كان أخاه أو عمه أو أباه أو نحو ذلك، فالموالاة في الله والمعاداة في الله.

لیکن اگر اس کا وطن اسلامی ہو تو وہ اپنے وطن کے لیے خیر چاہے اور اس خیر کے حصول کے لیے کوشش کرے۔ تاہم اصل ولاء اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے؛ کیونکہ مسلمانوں میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہے، وہ اس کا ولی اور دوست ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت کرتا ہے، وہ اس کا دشمن ہے، خواہ وہ اس کے اپنے وطن ہی کا باشندہ ہو، بلکہ خواہ وہ اس کا بھائی، چچا، باپ یا کوئی اور قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ پس اصل اصول یہی ہے کہ ولاء اللہ کے لیے اور عداوت بھی اللہ کے لیے ہو۔


[مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز، ج : ٩، ص : ٣١٧]

10457.jpg

10455.jpg

شیخ عبدالعزیز بن باز نے «الولاء للوطن» کے مسئلے پر واضح اور اصولی جواب دیا ہے کہ «الواجب الولاء لله ولرسوله، بمعنى أن يوالي العبد في الله ويعادي في الله» یعنی واجب یہ ہے کہ ولاء اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ ہی کے لیے دوستی رکھے اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھے۔

یہی وہ اصل ہے جسے آج نیشنلزم نے دھندلا دیا ہے۔ وطن پرست مشرکین کہتے ہیں کہ پہلے وطن، پہلے قوم، پہلے قومی مفاد؛ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ سب سے پہلے اللہ اور اس کے دین کی وفاداری ہے۔ وطن سے محبت کے نام پر نیشنلزم کو عقیدہ الولاء والبراء اور حق و باطل کا معیار بنانا کفر ہے۔

شیخ ابن باز نے کس قدر صراحت کے ساتھ فرمایا: «فالموالاة في الله والمعاداة في الله» یعنی ولاء اللہ کے لیے ہے اور عداوت بھی اللہ ہی کے لیے ہے۔ پس جس شخص نے وطن کی محبت کے نام پر یہ اصول بنا لیا کہ جو میرے وطن، میری قوم یا میری قومی شناخت سے تعلق رکھتا ہے وہ لازما میرا اپنا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر و مشرک، تو اس نے اسلامی معیار کو چھوڑ کر ایک کفریہ جاہلی معیار اختیار کیا۔

اسلام یہ نہیں دیکھتا کہ آدمی کس وطن میں پیدا ہوا؛ اسلام یہ دیکھتا ہے کہ وہ حق کے ساتھ ہے یا باطل کے ساتھ۔ اسی لیے شیخ ابن باز فرماتے ہیں: «فمن كان من المسلمين مطيعاً لله فهو وليه، ومن كان مخالفاً لدين الله فهو عدوه وإن كان من أهل وطنه وإن كان أخاه أو عمه أو أباه أو نحو ذلك»

یعنی مسلمانوں میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہے وہ اس کا ولی ہے، اور جو اللہ کے دین کی مخالفت کرتا ہے وہ اس کا دشمن ہے، خواہ وہ اس کے اپنے وطن کا باشندہ ہو، بلکہ خواہ اس کا بھائی، چچا، باپ یا کوئی دوسرا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ شیخ ابن باز نے مثال کے طور پر باپ، بھائی اور چچا جیسے انتہائی قریبی رشتے ذکر کیے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلام میں نسب، قوم، خاندان اور وطن، اللہ کے دین سے اوپر کوئی معیار نہیں۔

اگر ایک شخص میرا بھائی ہے لیکن دین حق کی مخالفت کرتا ہے تو محض بھائی ہونا اسے حق پر نہیں بنا دیتا، اور اگر ایک مسلمان کسی دوسرے وطن کا باشندہ ہے لیکن اللہ کا مطیع ہے تو محض غیر وطنی ہونا اسے میرے دینی بھائی ہونے سے خارج نہیں کرتا۔

بعض وطن پرست یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے؛ انسان اپنے وطن و سرزمین سے مانوس ہوتا ہے، اسلام اس فطری محبت کو حرام قرار نہیں دیتا وغیرہ۔ اور اسی مغالطہ کو یہ وطن پرستی کے نظریہ کی بنیاد بنا کر وطن کو حق و باطل کا معیار بناتے ہیں، قومی مفاد پر شرعی اصول قربان کرتے ہیں، دوستی و دشمنی توحید و ایمان کے بجائے وطنیت اور قومیت سے متعین کرتے ہیں۔ لہذا وطن کی محبت ہی آج اس فاسد کفریہ نظریاتی تصور کی جڑ ہے۔

شیخ ابن باز فرماتے ہیں: «وقد يكون وطنه ليس بإسلامي، فكيف يوالي وطنه؟» یعنی کسی شخص کا وطن اسلامی نہیں تو پھر وہ اپنے وطن کے ساتھ کس طرح محبت اور وفاداری کر سکتا ہے؟

دیکھیے! یہاں استفہام انکاری ہے۔ شیخ بن باز نے غیر اسلامی وطن سے ولاء کی نفی کی ہے اور آخر میں محبت کو اسلام کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : «أما الوطن فيحب إن كان إسلامياً» یعنی رہا وطن، تو اگر وہ اسلامی ہو تو ہی اس سے محبت کی جائے گی۔

پس کسی وطن کو ولاء و محبت کا مرکز اور معیار نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ مسلمان ہندوستان میں ہو، پاکستان میں ہو، عرب ہو یا عجمی، ان کا تعلق توحید و ایمان کے ذریعے قائم ہے۔ اسی لیے نیشنلزم جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل محض وطنی و قومی شناخت کی بنیاد پر کھڑا کرتا ہے، اسلامی اخوت کی روح کے خلاف ہے۔

وطن کو دین کا بدل بنانا، وطن کو حق و باطل کا معیار بنانا، وطن کے امن و استحکام کو اللہ کے حکم پر ترجیح دینا، اپنے وطن کے کافر ومشرک سے محبت مگر غیر وطنی مسلمان بھائی سے محض سرحد کی بنیاد پر دشمنی کرنا، وطن کی خاطر دین، شریعت اور اسلامی اخوت کو پس پشت ڈال دینا ہی وطن پرستی ہے۔ یہ وطن سے محبت کے نام پر وطن کی پوجا ہے۔

صحیح راستہ وہی ہے جو شیخ ابن باز نے بیان فرمایا: «فالموالاة في الله والمعاداة في الله» یعنی ولاء صرف اللہ کی خاطر اور عداوت بھی صرف اللہ کی خاطر۔ پس وطن پرست مشرکین کی طرح وطن کو معبود نہ بناؤ، اسلام میں وطن پرستی اور نیشنلزم کی فکر مطلقا قابل نفرت ہے۔

مسلمان وطن کا غلام نہیں، وہ اپنے وطن کی حمایت کے لیے اللہ کی شریعت کو قربان نہیں کرتا، وہ اپنے وطن کو ولاء و براء کا معیار نہیں بناتا بلکہ اس کا اصل تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے؛ اس کی اصل وفاداری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اس کی محبت و دشمنی کا معیار اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی اتباع ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وطن پرستی کے ہر باطل تصور سے محفوظ رکھے، ولاء و براء کا معیار وطن اور قوم کے بجائے ایمان و توحید کو بنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اپنے دین کی محبت پر ثابت قدم رکھے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ وسلم وبارک علی نبینا محمد، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
 
Top