اُمِ حیا
مبتدی
- شمولیت
- جون 14، 2025
- پیغامات
- 9
- ری ایکشن اسکور
- 2
- پوائنٹ
- 2
وہ جنہوں نے خون دے کر جنت خریدی۔
از: ام حیا
یہ کوئی عام سودا نہیں تھا۔
جان دے کر ، جنت خریدنے کا سودا تھا!
✦ان کے سروں پہ ہر دم برپا رہی قیامت
✦ہنس کر گلے لگاتے ہر ہر ستم صحابہؓ
✦مدینے کی گلیوں سے خندق کے میدان تک…
احد کے دامن سے خیبر کے قلعے تک…
ہر جگہ کسی نہ کسی صحابیؓ کا خون گواہی دے رہا تھا ، کہ انہوں نے صرف ایمان نہیں لایا ، ایمان پر جان بھی وار دی۔
✦بدر میں جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کون ہے جو آگے بڑھے؟"
تو عوفؓ ، معوذؓ ، اور عمیرؓ جیسے نو عمر لڑکے
تلواریں تھام کر آگے آ گئے…
نہ ماں کی فکر ، نہ جوانی کا لالچ…
صرف ایک تمنا: "ہم نبی ﷺ کے لیے لڑیں گے!"
اور احد میں…
جب لوگ پیچھے ہٹنے لگے…
انس بن نضرؓ نے للکار کر کہا:
"اے اللہ! میں تیرے نبی ﷺ سے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا!"
پھر دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے…
ستر سے زائد زخموں کے ساتھ شہید ہو گئے!
کوئی پہچان نہ سکا ، صرف بہن نے انگلیوں سے پہچانا۔
✦یہی وہ لوگ تھے ، جن کے بارے میں قرآن نے کہا:
"اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ"(التوبہ: 111)
"اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔"
خبیبؓ بن عدی کو سولی پر چڑھایا گیا ، تو فرمایا:
"مجھے یہ پسند نہیں کہ میں سلامت رہوں ، اور نبی ﷺ کے قدموں میں کانٹا چبھ جائے!"
یہ تھی محبت… یہ تھا سودا!
✦جان دے کر جنت خریدنے کا سودا!
✦اور پھر یاسرؓ ، سمیہؓ ، خبابؓ ، مصعبؓ ، زیدؓ ، جعفرؓ…
ہر ایک نے اپنی جان نچھاور کی…
مگر دینِ محمد ﷺ کی شمع کو بجھنے نہ دیا۔
آخری پیغام:
آج ہم نعت پڑھتے ہیں ، محبت کے دعوے کرتے ہیں۔
لیکن جب دین کے لیے کچھ چھوڑنے کا وقت آتا ہے۔
تو قدم پیچھے کیوں ہٹتے ہیں؟
محبت خون مانگے… صرف نعرے نہیں!
اور صحابہؓ نے یہ حق ادا کر دیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین
از: ام حیا
جان دے کر ، جنت خریدنے کا سودا تھا!
✦ان کے سروں پہ ہر دم برپا رہی قیامت
✦ہنس کر گلے لگاتے ہر ہر ستم صحابہؓ
✦مدینے کی گلیوں سے خندق کے میدان تک…
احد کے دامن سے خیبر کے قلعے تک…
ہر جگہ کسی نہ کسی صحابیؓ کا خون گواہی دے رہا تھا ، کہ انہوں نے صرف ایمان نہیں لایا ، ایمان پر جان بھی وار دی۔
✦بدر میں جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کون ہے جو آگے بڑھے؟"
تو عوفؓ ، معوذؓ ، اور عمیرؓ جیسے نو عمر لڑکے
تلواریں تھام کر آگے آ گئے…
نہ ماں کی فکر ، نہ جوانی کا لالچ…
صرف ایک تمنا: "ہم نبی ﷺ کے لیے لڑیں گے!"
جب لوگ پیچھے ہٹنے لگے…
انس بن نضرؓ نے للکار کر کہا:
"اے اللہ! میں تیرے نبی ﷺ سے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا!"
پھر دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے…
ستر سے زائد زخموں کے ساتھ شہید ہو گئے!
کوئی پہچان نہ سکا ، صرف بہن نے انگلیوں سے پہچانا۔
✦یہی وہ لوگ تھے ، جن کے بارے میں قرآن نے کہا:
"اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ"(التوبہ: 111)
"اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔"
"مجھے یہ پسند نہیں کہ میں سلامت رہوں ، اور نبی ﷺ کے قدموں میں کانٹا چبھ جائے!"
یہ تھی محبت… یہ تھا سودا!
✦جان دے کر جنت خریدنے کا سودا!
✦اور پھر یاسرؓ ، سمیہؓ ، خبابؓ ، مصعبؓ ، زیدؓ ، جعفرؓ…
ہر ایک نے اپنی جان نچھاور کی…
مگر دینِ محمد ﷺ کی شمع کو بجھنے نہ دیا۔
آج ہم نعت پڑھتے ہیں ، محبت کے دعوے کرتے ہیں۔
لیکن جب دین کے لیے کچھ چھوڑنے کا وقت آتا ہے۔
تو قدم پیچھے کیوں ہٹتے ہیں؟
محبت خون مانگے… صرف نعرے نہیں!
اور صحابہؓ نے یہ حق ادا کر دیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین