• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ٖقران کی نئی تفسیر کا دعویٰ

شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
و علیکم السلام
جو کچھ قرآن میں بیان نہیں ہوا ، وہ سب ’ پوشیدہ معاملات ‘ ہیں ، نماز ، روزہ ، حج ، زکاۃ کی تفصیلات سب پوشیدہ معاملات ہیں تو پھر دل میں کیوں چھپائے بیٹھے ہیں ، کھل کر کہیں کہ ان چیزوں کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں ، کیونکہ اگر یہ سب اللہ کو مطلوب و مقصود ہوتا ، تو ان کی تفصیلات قرآن مجید میں نازل کرتا ۔ نہیں کیا تو ہم قرآن کے علاوہ کہیں اور تفصیلات لینے کے لیے نہیں جاسکتے ۔
السلام و علیکم!
میرے بھائی خضر حیات صاحب یہ غصہ کرنے والی بات نہیں۔
نماز،روزہ ، حج ، زکاۃ ایک بنیادی معمالات ہیں جن کا جاننا ضروری ہے ایسے معاملات جن کے پیچھے پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کے پیچھے جانا جاہلیت ،گمراہی،کے سوا کچھ نہیں یہ میں نے آپ کی شان میں گستاخی کی ہے میرے بھائی میری آپ سے کوئی لڑائی نہیں۔
حق بات یہ ہے کہ پوشیدہ معاملات جن کی پوچھ نہیں ہونی یہ اور آپ تمام علمائ اس کے پیچھے کیوں لگ جاتے ۔
مثال کے طور پر اگر مجھے معلوم نہ ہو کہ عذاب کہاں اور کب ہوگا تو کیا مجھے جنت سے محروم کردیا جائے گا؟ اس کی دلیل دیں ۔ یعنی اگر میرے ایمان میں شرک نہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ عذاب و راحت قیامت سے پہلے ہے یا نہیں اگر ہے تو کس قسم کا اگر مجھے یہ معلوم نہ ہو تو کیا مجھ پر جنت حرام ہو گئی؟ دلیل سے واضح کر دیں۔۔۔۔اور غوصہ حرام ہے اور علم والے بھی غوصہ کرنے لگ گئے تو کیا بنے گا۔۔۔سوچیں۔۔۔ہدایت تو صرف اللہ واحد کے پاس ہے ۔۔شکریہ۔۔۔
 
شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
و علیکم السلام
آپ کی نفسیاتی بیماری یہ ہے ، آپ نے ذہن میں بٹھا لیا ہوا ہے کہ جب تک آپ کی ’ ہاں میں ہاں ‘ نہ ملی ، تب تک ’ قرآن ‘ پر عمل نہیں ہوسکتا ۔
چودہ صدیوں سے قرآن پر عمل ہورہا ہے ، جب آپ نہیں تھے ، اور جب آپ نہیں ہوں گے ۔ إن شاءاللہ ۔
قرآن پر عمل پیرا ہونا چاہیے ، اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ۔
قرآن پر کس طرح عمل پیرا ہوا جائے گا ؟
ہمارا جواب یہ ہے :
جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام نے عمل پیرا ہو کردکھایا ۔ فإن آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا
آپ کی نفسیاتی الجھن یہ ہے کہ جس طرح مرضی قرآن مجید کے معنی و مفہوم کو توڑ مروڑ لیں ، ، اس کو قرآن پر عمل پیرا ہونا ہی مانا جائے گا۔
حیرانی کی بات ہے ، جن کی قرآن فہمی کا یہ عالم ہے کہ قرآن مجید سے کسی ایک عبادت کا طریقہ ثابت نہیں کرسکتے ، وہ دوسروں کو یہ درس دیتے ہیں کہ قرآن پر غور وفکر اور تدبر کرو ۔
جن علماء سے آپ کو تکلیف ہے ، انہوں نے تو ’ احکام القرآن ‘ کے نام سے درجنوں کتابیں لکھی ہیں ، نام نہاد ’ قرآنیوں ‘ نے کیا لکھا ہے ؟ کچھ بھی نہیں ۔ اور جو لکھا ہے ، وہ ان حضرات کی ’ قرآن فہمی ‘ اور ’ دعوی عمل بالقرآن ‘ دونوں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے ۔
قرآن کی نبوی اور اثری تفسیر کو چھوڑ کر قرآنی آیات کی پزل گیم بناکر کھیلتے رہتے ہیں ۔
السلام علیکم!
آپ نے مجھ پر ایک تہمت لگائی ہے اس کا جواب دیں کہ میں نے اپنی مرضی سے قرآن مجید کے معنی و مفہوم کہا پیش کئے ۔۔۔شکریہ۔۔۔۔اس کا جواب کا کے ذمہ ہے ۔۔قیامت تک قیامت کے بعد بھی شکریہ۔۔۔
 

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
السلام علیکم !
اسحاق صاحب، وجاہت صاحب۔۔!
کچھ ٹائم چاہئے آپ سے بات کرنے کے لئے۔۔۔اگر دیں تو مہربانی نہ دیں تو بھی کوئی بات نہیں۔۔۔اللہ تعالیٰ نیت جانتا ہے ۔ شکریہ
السلام علیکم!

جی بھائی آپ بات کر سکتے ہیں - آپ بات کریں - آپ اسی فورم پر بات کر لیں -
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
نماز،روزہ ، حج ، زکاۃ ایک بنیادی معمالات ہیں جن کا جاننا ضروری ہے ایسے معاملات جن کے پیچھے پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کے پیچھے جانا جاہلیت ،گمراہی،کے سوا کچھ نہیں
کس چیز کا جاننا ضروری ہے ، اور کس کا جاننا ضروری نہیں ، یہ آپ طے کریں گے ؟ اس طرح تو کوئی قرآن کو بھی دو حصوں میں بانٹ سکتا ہے ، کچھ ایسی چیزیں ، جن کا جاننا ضروری ہے ، کچھ ایسی چیزیں ، جنہیں ’ بلا ضرورت ‘ ہی ذکر کردیا گیا ہے ۔
خیر آپ جن کو ضروری جانتے ہیں ، اگر ان کے لیے آپ قرآن سے ہٹ کر کہیں اور جاتے ہیں تو قرآن سے ’ اعراض‘ نہیں ہوتا ، تو اسی طرح دوسروں کو بھی یہ حق دیں کہ وہ قرآن کی تشریح و تفسیر کے لیے کسی اور طرف رخ کرسکیں ۔ یا پھر ہر ہر چیز ۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں ۔۔۔۔ ارکان اسلام میں سے کسی بھی رکن کی تفصیلات قرآن مجید سے بیان کردیں ۔
آپ نے مجھ پر ایک تہمت لگائی ہے اس کا جواب دیں کہ میں نے اپنی مرضی سے قرآن مجید کے معنی و مفہوم کہا پیش کئے
آپ کی پوسٹوں کے اقتباس لینا شروع کروں ، تو ایک کار لاحاصل ہوگا ۔ و لقد یسر القرآن للذکر فھل من مدکر کا معنی آپ کا ہاں یہ ہے کہ قرآن کو کسی تشریح و تفسیر کی ضرورت نہیں ، یہ توڑنا مروڑنا ہی تو ہے ۔
 

زاہدہ خان

مبتدی
شمولیت
جون 04، 2017
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
21
خواتین وحضرات۔
محدث فورم نے میرے بارے میں کہا ہے ۔کہ میں نے قرآن پاک کی نئی تفسیر کی ہے ۔ہر گز نہیں۔ہر گز نہیں ۔میں نے توصرف ہر موضوع پر قرآن پاک سے آیات اکھٹی کیں ہیں ۔ اور ہر موضو ع کو قرآن پاک سے وضاحت سے بیان کیا ہے ۔،تفصیل سے بیان کیا ہے یعنی تفسیر سے بیان کیا ہے ۔اس کو قرآن پاک سے تفسیر کہا ہے ۔ یہ میرا دعویٰ بھی ہے اورمیری کتابیں ثبوت کے طور پر میری ویب سائیٹ www. whatisquranpak.com پر موجود ہیں ۔صرف اتنی سی ہی بات ہے ۔جو فرقہ پرستوں کو بہت ناگوار ہے ۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے قرآن پاک کاسچ لوگوں کو دکھایا ہے ۔تاکہ لوگ قرآن پاک کے زریعے کافر اور مسلم میں فرق کر سکیں ۔ایمان اور کفر میں فرق کر سکیں ۔کیونکہ جب ہم قرآن پاک میں غور کرتے ہیں ۔تو ہم مشرکوں کی گفتگو دیکھتے ہیں ۔ کہ وہ دنیا اور آخرت میں کس طرح جھگڑتے ہیں ۔اور پھر جہنم میں کیسے جھگڑیں گے ۔میں نے قرآن پاک سے مشرک اور کافر کو دکھایا ہے جب لوگ کافر اور مشرک کو قرآن پاک سے جان لیں گے ۔تو ایمان اور کفر ان کی سمجھ مں بڑی آسانی سے آجائے گا۔اور اس طرح فرقہ پرستوں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے آجائے گا۔ کہ یہ قرآن پاک کے کتنے خلاف ہیں ۔اور اپنے فرقوں کے کتنے فرمابردار ہیں ۔
میں نے ہر موضوع پر قرآن پاک سے آیات اکھٹی کر کے کتابیں ترتیب دیں ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو وضاحت سے بیان کیا ہے،تفصیل سے بیان کیا ہے ۔تفسیر سے بیان کیا ہے ۔ مثلاً اسوہ حسنہ کسے کہتے ہیں ۔ اس موضوع پر بھی میری ویب سائیٹ پر میری کتاب موجود ہے ۔ میں نے قرآن پاک سے ساری آیات اکھٹی کر کے ترتیب دی ہے ۔ یہ کتاب آپ میری ویب سائیٹ سے پڑھ سکتے ہیں ۔مگر فرقہ پرست اس اسوہ حسنہ کو نہیں مانتے ۔ اس اسوہ حسنہ سے مرتد ہو چکے ہیں ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو احمق کہتے ہیں۔
) سورۃ البقرہ ۔آیت130۔پارہ نمبر1
اب کون ہے جو ابراہیم ؑ کی ملت سے منہ موڑے سوائے اُس کے جو خود ہی احمق ہو۔اور بے شک ہم نے ابراہیم ؑ کو دنیا میں منتخب کرلیا ہے اورآخرت میں اس کا شمار صالحین میں سے ہوگا۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ اب ایسا کون بیوقوف ہوگا جو حضرت ابراہیم ؑ کی ملت سے منہ موڑے ۔ بے شک ہم نے ابراہیم ؑ کو دنیا میں منتخب کرلیا تھا۔ اور آخرت میں ان کا شمار صالح لوگوں میں سے ہوگا۔
خواتین وحضرات!
کیا آپ اس اسوہ حسنہ کو جانتے ہیں ۔اگر نہیں جانتے تو اس ماہ رمضان میں میری ویب سائیٹ پر جاکران آیات کو قرآن پاک سے چیک کریں ۔اور اسوہ حسنہ کو دیکھ لیں ۔اور کسی فرقہ پرست کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔ورنہ آپ کا شمار بھی احمقوں میں ہوگا۔
خواتین وحضرات!
بس میں نے یہ کام کیا ہے ۔ کہ میری کتابوں کو پڑھنے کے بعد آپ کی زندگی سے آئیں بائیں شائیں نکل جائے گا۔مثلاً کوئی آپ سے اسوہ حسنہ یا کافر یا مشرک یا ایمان کا مطلب پوچھے گا تو آپ آئیں بائیں شائیں نہیں کریں گے ۔بلکہ آپ لوگوں کو بہت ساری آیات دکھا سکتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے۔
خواتین وحضرات!
قرآن پاک میں ہر بات کی وضاحت ہے ۔اور تفصیل ہے ۔مگر فرقہ پرست رسولﷺ کے لائے ہوئے پیغام کوجھٹلاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ۔مگر قیامت والے دن یہ مان جائیں گے ۔ کہ رسولﷺ واقعی سچا قرآن لے کر آئے تھے ۔ جس میں ہر بات کی تفصیل تھی ۔ پھر بہت پچھتائیں گے ۔مگر دنیا میں دوبارہ آنا ناممکن ہے ۔کہ آکر قرآن پر عمل کرسکتے ۔
آئیں اس بات کو قرآن پاک میں دیکھتے ہیں ۔
) سورہ اعراف آیات 51تا 53 پارہ 8
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشہ بنا رکھا تھا۔ اور دنیا کی ز ندگی نے ا نہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ لہذا آج ہم نے انہیں اسطرح بھلا دیں گے۔ جیسے انہوں اس ملاقا ت کے دن کو بھلا رکھا تھا۔ اور ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ اور ہم نے ان لوگو ں کے پاس ایسی کتاب پہنچا دی ہے۔ جسے ہم نے علم کی بنا پر تفصیل سے بنادیا ہے۔یہ کتاب ان لو گوں کے لیے ہدایت اور ر حمت ہے۔ جو ایمان لاتے ہیں۔ یہ لوگ اب اس کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس دن ان کا انجام سامنے آ جائے گا۔تو جن لوگوں نے پہلے کتاب کو بھلا رکھا تھا۔کہیں گے بیشک ہمارے رسول ﷺسچ لے کر آئے تھے ۔پھر کیا اب ہمارے لیے اب کوئی سفارشی ہیں۔ جو ہماری سفارش کر سکیں۔یا ہمیں واپس بھیج دیا جائے تاکہ جو کام ہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے قسم کے کام کریں۔ان لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ با تیں بنایا کر تے تھے۔انہیں کچھ یاد نہ رہیں گی۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں ۔ اور ہم نے ان لوگو ں کے پاس ایسی کتاب پہنچا دی ہے۔ یا لائے ہیں ۔ جسے ہم نے علم کی بنا پر تفصیل سے بنادیا ہے۔یہ کتاب ان لو گوں کے لیے ہدایت اور ر حمت ہے۔ جو ایمان لاتے ہیں۔ یہ لوگ اب اس کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس دن ان کا انجام سامنے آ جائے گا۔تو جن لوگوں نے پہلے کتاب کو بھلا رکھا تھا۔کہیں گے بیشک ہمارے رسول ﷺسچ لے کر آئے تھے ۔پھر کیا اب ہمارے لیے اب کوئی سفارشی ہیں۔ جو ہماری سفارش کر سکیں۔یا ہمیں واپس بھیج دیا جائے تاکہ جو کام ہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے قسم کے کام کریں۔ان لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ با تیں بنایا کر تے تھے۔انہیں کچھ یاد نہ رہیں گی۔
خواتین وحضرات۔
لوگوں نے قرآن پاک کو نظر انداز کر رکھا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر فرقوں کی غلامی اختیار کر رکھی ہے
جو باتیں آپ کو فرقہ پرست یاد کرواتے رہتے ہیں۔ یہ سب قیامت والے دن بھول جائیں گی ۔
۔قرآن پاک ہر بات صاف صاف بتا رہا ہے ۔ انجام سے خبر دار کر رہا ہے ۔ہمیں کب ہوش آئے گا۔
خواتین وحضرات۔
اب آپ کے سامنے جو آیات پیش کرنے والی ہوں ان آیات میں رسولﷺ قیامت والے دن گواہی دیں گے کہ قرآن پاک میں ہر بات کی وضاحت موجود تھی ۔فائدہ صرف اُ ن لوگوں کو ہو گا۔جنہوں نے رسولﷺ کی اس گواہی کو دنیامیں قبول کیا ہوگا۔اور قرآن پاک کو ہدایت سمجھ کر
اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری کی ہو گی ۔
سورہ نحل آیات 89 پارہ 14
اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور ان پر آپ ﷺ کوگواہ لائیں گے۔اور ہم نے آپ ﷺپر ایسی کتاب نازل کی ہے۔جس میں ہر چیزکا بیان وضاحت سے مو جود ہے۔اور ہدایت اور رحمت اور خو شخبری ہے۔ان لوگوں کے لئے جنہو ں نے فر مانبرداری اختیار کر لی ہے۔یعنی مسلم بن گئے ۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھاکہ اللہ تعالی کہہ رہے ہیں کہ قر آن پاک میں ہربات کا و ضا حت سے بیان مو جو د ہے
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھاکہ کہ قر آن پاک میں ہربات کا و ضا حت سے بیان مو جو د ہے۔اور ہدایت اور ر حمت اور خوشخبری ہے۔ ان لوگوں کے لئے جنہو ں نے فر مانبرداری ی اختیار کر لی۔یعنی جو مسلم بن گئے ۔
قیامت والے دن قرآن پاک چھوڑنے والوں کے خلاف رسول ﷺ گواہی دیں گے ۔کیونکہ یہ رسول ﷺ کے مجرم ہوں گے۔
) سورہ فرقان ۔ آیت30تا31۔پارہ 19
رسولﷺ کہیں گے اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن پاک کو چھوڑ رکھا تھا اس طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرموں میں سے دشمن بنا دیے ہیں اور آپ کا رب ر ہنمائی اور مدد کرنے کو کافی ہے
خواتین وحضرات۔
آپ نے رسول ﷺ کے مجرموں کے بارے میں دو ٹوک جواب سنا یعنی فرقہ پرستوں کے بارے میں سنا جنہوں نے خود قرآن چھوڑا ہوا ہے اور لوگوں سے بھی چھڑا رکھا ہے۔ یہ رسولﷺ کے دشمن ہیں ۔ مجرم ہیں ۔اس طرح کے مجرم ہر دور میں رسولوں کے دشمن رہے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور آپ کا رب ر ہنمائی اور مدد کرنے کو کافی ہے۔
خواتین وحضرات۔
میں نے قرآن پاک سے اللہ تعالیٰ کی مدد اور رہنمائی دکھائی ہے ۔جو فرقہ پرستوں کو بہت ناگوار ہے ۔البتہ میں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے بھی نہیں ڈرنا۔ کیونکہ اس قرآن پاک کے زریعے اللہ تعالیٰ نے میری مدد اور رہنمائی کی ہے ۔ اسی مدد اور رہنمائی کو میں نے لوگوں کے سامنے رکھا ہے ۔تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدداور رہنمائی کو جان لیں۔اور میرے لیے اﷲ تعالیٰ کی مدداور ر ہنمائی ہی کافی ہے ۔
ارے فرقہ پرستویعنی اللہ تعالیٰ کی رسی چھوڑ کراپنے فرقون کی غلامی کرنے والو۔
یعنی قرآن پاک سے مرتد ہونے والویعنی پھر جانے والو یعنی پسِ پُشت ڈالنے والو۔ ایک دفعہ میری کتابیں ضرور پڑ ھ لینا۔شاید ایمان کی طرف لوٹ آؤ ۔شائد قرآن کی طرف لوٹ آؤ۔ شائد قیامت والادن تم پر آسان ہو جائے ۔شائد کہ تم اللہ کی رسی قرآن پاک کو تھام لو۔ توفساد ختم ہوجائیں ۔اور ملک فرقہ وایت سے نکل آئے ۔اور دنیا میں ہماری پہچان امن پسند کے نام سے ہو۔
اور ہاں میری ویب سائیٹ پر میرے 26 آڈیوبھی موجود ہے ۔پاک ہونا کسے کہتے ہیں ۔
اگر صرف ان کو ہی سن لو تو تمھیں اپنے بارے میں پتہ چل جائے گا۔کہ تم قرآن پاک کے خلاف تدبیریں یعنی مکرکرنے والے ہو یا قرآن پاک سے اپنی اصلاح کرنے والے۔رسولﷺ کے دشمن ہو یا دوست اللہ تعالیٰ کے دشمن ہو یا دوست۔
جو لوگ قرآن پاک کے علم کے علاوہ کسی اور کے خواہش کی اطاعت کریں گے ۔اُن کو اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔
سور ہ رعد آیت 37 پارہ 13
اور اس طرح ہم نے اس قرآن کو حکم بنا کر عربی میں نازل کیا ہے ۔جب کہ آپکے پاس علم آچکا ہے ۔اگر آپ نے ان کے خواہشات کی اطاعت کی تواللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ کوئی آپ کاولی ہوگااور نہ کوئی بچانے والا۔
محدث فورم
اللہ تعالیٰ تو قرآن پاک کو حکم کہہ رہے ہیں ۔علم کہہ رہے ہیں ۔اور اس کے علاوہ کسی کی بھی اطاعت سے منع کر رہے ہیں ۔ اب قیامت تک آنے والے جولوگ قرآن پاک کے مقابلے میں کسی محدث فورم کی خواہشات کی اطاعت کریں گے ۔تو اُن کو اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی ولی نہیں ملے گا۔
محدث فورم
آپ قرآن پاک کے علم اور حکم کے مقابلے میں لوگوں کو کس فرقے کی طرف بلا رہے ہیں ۔
ہیں۔آپ کو بھی دنیا کا کوئی انسان اللہ تعالیٰ سے نہیں بچا سکے گا۔کیونکہ فرقے بنانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کا تعلق ہی ختم کر دیا ہے ۔
) سورہ انعام آیت 159پارہ 8
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنا لیے ہیں ۔آپ ﷺ کااُن سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے ۔تو اللہ تعالیٰ اُن کو خود بتائے گا ۔کہ وہ کیا کر رہے تھے۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام سن لیا۔چاہے آپ کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو۔رسول ﷺ کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کیونکہ یہ قر آن کا فیصلہ ہے۔قرآن کا فیصلہ کیسا ہوتا ہے۔آئیں دیکھتے ہیں۔
) سورہ طارق آیات 13تا 14پارہ 30
بے شک یہ قرآن ایک فیصلہ کر دینے والا کلام ہے۔اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے فیصلہ کرنے والے قرآن کاپیغام سنا کہ ررسولﷺکا فرقہ بنانے والو ں سے کوئی تعلق نہیں۔تمام فرقہ وا لے اللہ تعالیٰ کاپیغام سن لیں۔کہ اگر وہ کسی فرقے پر ہوں گے تو رسولﷺ اُن کے کچھ نہیں لگتے ۔
قرآن پاک سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والا ہے ۔یعنی فرقان ہے۔
) سورہ البقرہ آیت 158کا پہلاحصہ پارہ 2
رمضان وہ مہینہ ہے ۔جس میں قرآن نازل کیاگیا۔ جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے ۔اور اس میں ہدایت اور فرقان یعنی سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والے واضح دلا ئل ہیں ۔
خواتین وحضرات ۔
آپ نے دیکھا ۔کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں ۔کہ قرآن پاک میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والے واضح دلائل موجود ہیں۔قرآن پاک واضح دلائل کا مجموعد ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو فرقان کہا۔نہ کہ نام نہا دمفسروں کو فرقان کہااور نہ اماموں کو فرقان کہا۔حقییقت تو یہ ہے کہ فرقہ پرستوں نے اللہ تعالی کوجھٹلا رکھا ہے ۔اور اپنے اماموں ااور نام نہادمفسروں اور فرقوں کو فرقان بنالیا ہے۔جبکہ ہمارے امام صرف اور صرف ابراہیم ؑ ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمارا شمارابرا ہیم ؑ کی ملت میں کرے ۔آمین یا ربُ العالمین ۔
خواتین وحضرات ۔
اگر ہم ابراہیم ؑ کی ملت کی اطاعت کرنے والے ہوں گے ۔تو ہم سے بہتر دین کسی کانہیں ہوسکتا۔
) سورۃ النساء۔آیت125۔پارہ نمبر5
اُس سے بہتر اورکس کا دین ہوسکتاہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے آگے فرمابرداری سے اپنا چہرہ جھکادیا ہو۔ اور وہ احسان کرنے والا بھی ہو۔ اورا براہیم ؑ کے ملت کی اطاعت کرے ۔ جو یکسو تھا۔ جس کواللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنا لیا تھا۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھاکہ اس آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کے طرز عمل کی تعریف کی جارہی ہے۔ اوراس انسان کے طرز عمل کی بھی تعریف ہورہی ہے جو ابراہیم ؑ کے ملت کی اطاعت کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا دوست بنا لیں گے ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے فرمابردار ں میں شامل ہوجائے گا ۔ اور اُس سے بہتر دین کسی اور کانہیں ہو سکتا۔ یہ احسان کرنے والا انسان ہے ۔
خواتین وحضرات!
یہی طرز عمل یعنی اسوہ حسنہ نبی کریم ؐ کا تھا ۔ اور ہمیں اس کی اطاعت کاحکم دیا گیاہے۔ جو اس طرز عمل کو اختیار کرے گا۔وہ احسان کرنے والا انسان ہوگا۔
خواتین و حضرآت!
اب آپ کے سامنے جو آیات پیش کر رہی ہوں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کو وحی بھیجی کہ وہ ابراہیم ؑ کی ملت کی اطاعت کریں ۔
) سورہ نحل ۔آیت123۔ پارہ 14
پھر ہم نے آپﷺ کی طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم ؑ کے ملت کی اطاعت کریں۔ جو یک سو تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺکووحی کے ذریعے حکم بھیجا کہ ابراہیم ؑ کے ملت کی اطاعت کریں ان کا طریقہ یہ تھا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہو گئے تھے۔یعنی ایک اللہ تعالیٰ سے رجوع رہتے تھے ۔ اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
خواتین و حضرآت!
اب آپ کے سامنے جو آیت پیش کر رہی ہوں ۔رسولﷺ فرماتے ہیں۔کہ وہ ابراہیم ؑ کی ملت پر ہیں۔اور یہ سیدھے راستے کی ہدایت ہے۔یعنی صراطِ مستقیم کی ہدایت ہے ۔
) سورہ انعام آیت1 16 پارہ8
آپ ﷺکہہ د و۔بے شک میرے رب نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت کردی ہے ۔ وہ ایک درست دین ہے ۔ ابراہیم کی ملت جو یکسو تھے یعنی ایک اللہ تعالیٰ کے ہو گئے تھے ۔ اور مشرکوں میں سے نہ تھے ۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ رسول ﷺ فرما رہے ہیں کہ میرے رب نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت کر دی ہے ۔ یعنی صراطِ مستقیم پر ہوں ۔جوبالکل ٹھیک دین ہے۔ ابراہیم ؑ نے سب کو چھوڑ کر ایک اﷲ تعالیٰ کی طرف رخ کرلیاتھا ۔ ۔یعنی ایک اللہ تعالیٰ سے رجوع رہنے والے تھے ۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے ۔یعنی صرف ایک اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے ۔
خواتین و حضرات!
اگر ہم رسولﷺ کی اطاعت کرنے والے ہوں گے ۔توابراہیم ؑ کی ملت پر ہوں گے۔یہ صراطِ مستقیم کی ہدایت ہے ۔اگر فرقوں پر ہوں گے۔تو رسولﷺ کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔او فرقے بنانا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا ہے۔
) سورۃ البقرہ ۔آیت130۔پارہ نمبر1
اب کون ہے جو ابراہیم ؑ کی ملت سے منہ موڑے سوائے اُس کے جو خود ہی احمق ہو۔اور بے شک ہم نے ابراہیم ؑ کو دنیا میں منتخب کرلیا ہے اورآخرت میں اس کا شمار صالحین میں سے ہوگا۔
خواتین و حضرات!
اگر آپ کا شمار ابراہیم ؑ کی ملت سے منہ موڑنے والے لوگوں میں سے ہے توآپ کا شمار احمقوں میں ہے۔ اگر ابراہیم ؑ کی ملت کی اطاعت کرنے والے ہیں ۔تو یہ سیدھے راستے کی ہدایت ہے۔یعنی صراطِ مستقیم کی ہدایت ہے ۔
اگرآپ کو یاد ہو توآپ یہ دعا روزانہ نماز کی ہر رکعت میں مانگتے ہیں۔اھدِناالصراط المستقیم اگر آپ ابراہیم کی ملت کی اطاعت کرنے والے ہوں گے توسمجھ لیں کہ آپ کی دعا قبول ہو گئی ۔
زاہدہ خان
www. whatisquranpak.com
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
قرآن مجید کی طرف دعوت دینا ، قرآن مجید پر غور و فکر اور تدبر کی دعوت دینا ، شیوہ انبیاء و سلف صالحین رہا ہے ، قرآن سے اعراض کرنا مسلمان کی شان نہیں ۔
لیکن بی بی آپ کی سابقہ تحریر میں قرآن کی من مانی تشریحات ، آپ کے فلسفہ قرآن کو نہ ماننے والوں پر فتوے اور جلی کٹی دیکھ کر آنجہانی مرزا قادیانی یاد آگیا ہے ۔ مرگیا ، اس کے نقش قدم پر چلنے والے بھی مر جائیں گے ۔ قرآن وسنت پر عمل کرنے والے ، صدیوں سے موجود ہیں ، اور جب تک اللہ نے چاہا ، یونہی قرآن وسنت کی روشنی سے سینوں کو منور کرتے رہیں گے ، اور گمراہوں کو جلاتے رہیں گے ۔ إن شاءاللہ ۔
’ محدث فورم ‘ کوئی شخصیت نہیں کہ اس نے کسی پر کسی قسم کی رائے کا اظہار کیا ہے ، مختلف اراکین کا مجموعہ ہے ، جس میں وہ اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں ، محدث فورم کی انتظامیہ کے لیے یہ بہت حوصلہ افزائی اور خوشی کی بات ہے کہ اس پر اراکین کی ایک کثیر تعداد موجود ہے ، جو گمراہ اور مکار لوگوں کے دجل و فریب میں نہ خود آتے ہیں ، نہ کسی عام انسان کو ان نفسیاتی مریضوں کے ہتھے چڑھنے دیتے ہیں ۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,671
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@زاہدہ خان صاحبہ ! آپ کی تحریر پڑھ کر مرزا قادیانی مردود علیہ لعنۃ کا گمان ہوتا ہے!
اس کا بھی اپنی کتب کے بارے میں ایسا ہی گمان تھا! کہ اس دور میں ہدایت اس کی کتابوں پر موقوف ہے، اور آپ کی تحریر میں بھی یہی نظر آتا ہے!
چلیں ! میں دو ٹوک الفاظ میں آپ کی کتب کا انکار کرتا ہو!
کیا اس سے میں ''قرآن کا مرتد'' قرار پاؤں گا؟
اور یہ اعلان بھی پڑھ لیں:
جو قرآن کے علاوہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو اللہ کی طرف سے وحی نہیں مانتا، وہ اسلام سے انکار کرنے والا اور قرآن کا مرتد ہے!
 

زاہدہ خان

مبتدی
شمولیت
جون 04، 2017
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
21
گمراہ کسے کہتے ہیں ۔حضرحیات کو جواب
گمراہ کسے کہتے ہیں ۔اس کا جواب قرآن پاک سے دیکھتے ہیں ۔یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے پوچھتے ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن پاک کے زریعے ہمیں کیا جواب دیتے ہیں ۔
رسولﷺ نے قیامت تک آنے والے لوگوں کو قرآن پاک سکھایا۔اس طرح گمراہی سے نکالا۔
) سورہ آل عمران آیت 164 پارہ 4
یقیناً اللہ تعالیٰ نے مومنو ں پر بڑا احسان کیا ہے ۔کہ جب اُنہیں میں سے ایک رسول ﷺ بھیجا۔جواُنہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔اوران کو پاک کرتا ہے۔اور اُنہیں کتاب اورحکمت سکھاتا ہے۔اگر چہ اس سے پہلے وہ یقیناًواضح گمراہی میں تھے ۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے دیکھا۔کہ قرآن پاک سے پہلے لوگ گمراہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان تھا۔کہ جب اُنہیں میں سے ایک رسول ﷺ کوبھیجا۔اورلوگ قرآن پاک کی تعلیم سیکھنے کی وجہ سے گمراہی سے نکلے۔کیا ہم لوگ گمراہی سے نکلنے کے لیے قرآن کھو لتے ہیں یابغیر سمجھے پڑھ رہے ہیں ۔
اب جو لوگ رسولﷺ کا لایا ہوا قرآن پاک نہیں سیکھیں گے ۔وہ گمراہ رہیں گے اور پاک نہیں ہوں گے اور جو لوگ رسولﷺ کالایا ہوا قرآن پاک سیکھیں گے۔وہ گمراہی سے نکل آئیں گے ۔اورپاک ہوجائیں گے ۔
خواتین وحضرات
اب آپ کو جو آیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔جو لوگ قرآن پاک کے زریعے پرہیزگاری اورنافرمانی سیکھیں گے وہ پاک لوگ ہوں گے اور کامیاب لوگ ہوں گے ۔
) سورہ شمس آیات 7تا 10 پارہ 30
قسم ہے انسان کی اور قسم ہے اُس کی جس نے اس کو درست بنایا۔پھر اس کو نافرمانی اور پرہیزگاری الہام کردی ۔بے شک وہ کامیاب ہو اجس نے خود کو پاک کیااور وہی ناکام رہا۔جس نے خود کو ناپاک رکھا۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ فرمارہے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پرہیزگاری بھی قرآن پاک کے زریعے بتا دی ۔اور نافرمانی بھی قرآن پاک کے زریعے بتا دی ہے ؛بے شک وہ کامیاب ہوگا اجس نے خود کو پاک کیااور وہی محروم رہا۔جس نے خود کو ناپاک کیا۔یعنی جو قرآن پاک کے زریعے گمراہی سے نکلا تو وہ پاک ہوجائے گا ۔ اور کامیاب ہو گا یعنی جنت میں جائیگا اور جو قرآن پاک کے زریعے گمراہی سے نہ نکلا۔اور ناپاک ہی رہا ۔تو وہ جنت سے محروم رہے گا ۔ یعنی پاک کا مطلب پرہیزگاری ہے ۔اسی لیے تو اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ کے اغاز میں فرماتے ہیں یہ ایک کتاب ہے ،اس میں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے ۔ اور ناپاک کامطلب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ۔
خواتین و حضرات!
اب آپ کو جو آیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو ہدایت کہا ہے ۔ اور فرمایا ہے ۔جو لوگ قرآن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں ۔اور گمراہ ہیں ۔ان کے وکیل رسولﷺ نہیں ہیں ۔
) سورہ ذمر ۔آیت41۔پارہ 24
بلا شبہ ہم نے یہ کتاب تمام لوگوں کیلئے آپ ﷺپر سچائی کے ساتھ نازل کی ہے پھر جو ہدایت پر آگیا تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو گمراہ رہا تو اس کے گمراہ رہنے کا نقصان اسی کو ہے اورآپ ﷺ ان کے وکیل نہیں ہیں ۔
خواتین و حضرات!
ان آیات میں اﷲ تعالیٰ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کررہے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔کہ بے شک ہم نے یہ کتاب تمام لوگوں کیلئے آپ ﷺپر سچائی کے ساتھ نازل کی ہے پھر جو ہدایت پر آگیا تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو گمراہ رہا تو اس کے گمراہ رہنے کا نقصان اسی کو ہے اورآپ ﷺ ان کے وکیل نہیں ہیں ۔
آپ نے اللہ تعالیٰ کا جواب سن لیا کہ آپ ﷺ کسی کے وکیل نہیں ہیں اور یہ جواب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تمام لوگوں کے نام ہے کہ نبی ﷺ کسی کے وکیل نہیں ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے لوگوں تک قرآن پاک کاسچ رسولﷺ کے زریعے پہنچادیا ہے ۔ پھر بھی کوئی ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ خود نقصان کا ذمہ دارہے۔اور رسول ﷺکسی کے و کیل نہیں ہیں۔
خواتین وحضرات
اب آپ کو آیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔ان آیات میں رسولﷺْ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں ۔اور قرآن پاک کو ہدایت کہہ رہے ہیں ۔اور جو لوگ قرآن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں ۔ایسے گمراہ لوگوں کے وکیل رسول ﷺ نہیں۔ ہیں ۔
) سورہ یونس۔آیات108تا109۔پارہ 11
آپ ﷺکہہ دو لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سچ آچکا ہے اب جو ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے اگر کوئی گمراہ رہتا ہے توا س کی گمراہی کا نقصان اسی کوہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کریں اور صبر کریں یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
خواتین و حضرات!
ن آیات میں رسول ﷺ کا ایک مکمل خطاب ہے ۔جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے نام ہے ۔رسولﷺ فرماتے ہیں ۔لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سچ آچکا ہے اب جو ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے اگر کوئی گمراہ رہتا ہے توا س کی گمراہی کا نقصان اُسی کوہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔پھر رسولﷺ فرماتے ہیں ۔
آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کریں اور صبر کریں ۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
خواتین وحضرات
آپ لوگوں نے نبی کریمﷺ کا دو ٹوک جواب سن لیا کہ میں تمہارا وکیل نہیں ہوں کیونکہ تمہارے پاس اﷲ تعالیٰ کا سچ پہنچ چکا ہے ۔اب جو ہدایت قرآن پاک سے اختیار کرتا ہے تو وہ اپنا بھلا کرتا ہے اور جو قرآن پاک کی ہدایت اختیار نہیں کرتا ہے اور گمراہ رہتا ہے تو اس کی گمراہی کا نقصان خود ہی اٹھائیں گے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں ۔
خواتین و حضرات!
پھر رسولﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کریں اور صبر کریں یہاں تک کہ قیامت آجائے ۔دراصل یہ رسولﷺکامکمل خطاب ہے۔جو قیامت تک آنے والے لوگوں نام ہے۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے دیکھا۔کہ جو لوگ قر آن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں وہ گمراہ ہیں ۔اور قرآن پاک کی اطاعت کرنے والوں کے لیے صبرکاحکم ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے بہترین فیصلے کے انتظار کا حکم ہے۔
خواتین وحضرات
اب آپ کو جوآیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔ان آیات میں رسولﷺْ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں ۔اور قرآن پاک کو ہدایت کہہ رہے ہیں ۔اور جو لوگ قرآن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں ۔ایسے گمراہ لوگوں سے رسولﷺ کہہ رہے ہیں کہ میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں ۔
) سورہ نمل۔ آیت91کا آخری حصہ تا92۔پارہ20
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار بن کر رہوں۔یعنی مسلم بن کر رہوں ۔ اور یہ قرآن پڑھوں اب جو ہدایت پر آتا ہے تو اپنے بھلے کیلئے آتا ہے اور جو گمراہ رہا تو بس آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ ان آیات میں نبی ﷺ ْ قیامت تک آنے والوں سے کہہ رہے ہیں۔کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بننے کا حکم دیا ہے۔ یعنی مسلم بننے کاحکم دیا گیا ہے ۔ اور قرآن سنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔اب جو ہدایت پر آ تا ہے تو وہ اپنے بھلے کے لئے آتا ہے۔اور جو گمراہ رہتا ہے۔تو آپ ﷺ کہہ دیجیے ۔کہ میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں ۔
خواتین و حضرات!
آپ نے نبی کریم ﷺ کا دوٹوک جواب سن لیا ۔میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں ۔ خودبھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار رھے اور ہمیں بھی قرآن پاک کی ہدایت کی فرمانبرداری کا حکم دے رہے ہیں اور اگر کوئی قرآن پاک کی ہدایت حاصل نہیں کرتا اور گمراہ رہتا ہے ۔تو اُس سے نبی ﷺ کہہ رہے ہیں ۔میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں ۔
) سو رہ بنی اسرائیل آیت 9 پارہ15
یہ قرآن تو وہ ہدایت دیتاہے جو سب سے سیدھی ہے۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دیتا ہے۔جو صالح اعمال کرتے ہیں۔کہ ان کے لیے یقیناًبہت بڑا اجر ہے۔
خو اتین و حضرات
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔اور رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام قیا مت تک آنے والے لوگوں تک پہنچایا کہ یہ قرآن تو سب سے سیدھی ہدایت دیتا ہے۔اور ایما ن والوں کو
خو شخبری دیتا ہے۔ ایمان والے یعنی سورہ محمد کی دو تا تین آیات کے مطابق قرآن پاک کو سچ ماننے والے اور اس کی اطا عت کرنے والے کو خو شخبری دیتا ہے۔ کہ ان کے لیے بلا شبہ بہت بڑا اجر ہے۔
اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ قرآن پاک کو سب سے سیدھی ہدایت بتا رہے ہیں ۔جواس کو سب سے سیدھی ہدایت مانیں گے ۔اُنکے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔
) سورہ یاسین ۔آیات 10تا11۔پارہ نمبر22
ان کے لیے برابر ہے کہ آپ ﷺ انہیں خبر دار کر یں یا نہ کریں ۔ آپ ﷺتو صرف اسے خبردار کر سکتے ہیں جو نصیحت یعنی قرآن پاک کی اطاعت کر ے اور بغیر دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اس کو بخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دے دیجیے ۔
خواتین و حضرات !
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو نصیحت کہہ رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ تو صرف اسے خبردار کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور قرآن پاک کی اطاعت کرے ۔ ایسے انسان کو بخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دے دیجیے ۔
خواتین و حضرات !
آپ نے دیکھا جو لوگ بن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے اور قرآن پاک کی اطاعت کریں گے ۔رسولﷺ نے قرآن پاک کے زریعے اُسے بخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دے دی ہے ۔
خواتین وحضرات ۔
رسولﷺ نے قرآن پاک کی اطاعت کے بدلے میں جوبخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دی ہے ۔کیا ہم اس سے خبردار ہیں یا بہرے بنے ہوئے ہیں ۔
) سو رہ انبیاء آیات 45پارہ 17
آپ ﷺ کہہ دو کہ بے شک میں تمھیں وحی کے زریعے خبردار کررہاہوں ۔ اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب انہیں خبردار کیاجاتا ہے ۔
خو اتین و حضرات
آپ نے دیکھا کہ رسول ﷺ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں۔رسولﷺ فرماتے ہیں ۔ کہ بے شک میں تمھیں وحی کے زریعے خبردار کررہاہوں ۔ اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب انہیں خبردار کیاجاتا ہے ۔رسول ﷺ ہمیں وحی یعنی قرآن پاک کے زریعے خبردار کیا۔اب جو لوگ قرآن پاک کے زریعے خبردار نہیں ہوں گے ۔وہ بہرے ہیں ۔یعنی رسولﷺ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہے ہیں کہ گویا کہ وہ بہرے ہیں ۔
خواتین وحضرات ۔
قرآن پاک قیامت تک آنے والے لوگوں میں اختلاف ختم کرنے والی کتاب ہے ۔اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ پر قرآن پاک اس لیے نازل کیا ہے ۔تاکہ اس کتاب کے زریعے رسول ﷺ
قیامت تک آنے والے لوگوں کے اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دیں ۔جن میں لوگ پڑ جاتے ہیں ۔اور جو لو گ اس کتاب کو مان لیں گے ۔ یعنی اپنے اختلاف قرآن پا ک سے دور کریں گے ۔اُن کے لیے قرآن پاک ہدایت اور رحمت ہے ۔
) سورہ انحل ۔آیات63تا64۔پارہ 14
اللہ کی قسم بیشک آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں۔ پھر شیطان نے اُن کے اعمال انہیں خوبصورت بنا کر دکھا ئے۔ پس وہی شیطان آج بھی لوگوں کا ولی بنا ہوا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور ہم نے آپ ﷺ پر یہ کتاب صرف اس لیے ناذل کی ہے۔ تاکہ آپ ان پر واضح کر دیں۔جس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ اور یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اس پر ایمان لا تے ہیں۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ قرآن پاک کو اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺان لوگوں کے اختلافات قرآن پاک سے واضح کر دیں۔یعنی اُن اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دیں ۔جس میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ کتاب ایمان لا نے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ ایمان کا مطلب سورہ محمد کی دو تا تین آیات کے مطابق محمد ﷺ پر نازل ہونے والے قرآ ن پاک کو سچ ماننا ور اس کی اطاعت کرناکے ہیں ۔ مگر لوگ اس کے سچ پر ایمان لا نے کے لئے تیا ر ہی نہیں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کرشیطان کو اپنا ولی بنا رکھا ہے ۔
کیا یہ انسان کی عادت ہے ۔کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا ولی یعنی دوست بنا لیتا ہے ۔
حالانکہ یہ قرآن پاک لوگوں کے اختلافات دور کرنے کے لئے آیاہے۔مگر لوگوں نے اُن لوگوں کو ہی اپنا ولی بنا لیا ہے ۔جنہوں قرآن پاک سے اختلاف ختم کرنے کے بجائے قرآن پاک کی سچائی میں اختلاف کر کے فرقے بنا لیے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ سے ہی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو ولی بنا یا ہوا ہے اور اس طرح یہ لوگ درد ناک عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
) سورہ انعام ۔ آیت159پارہ 8
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنا لیے اور گروہ بن گئے ہیں آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔بیشک ان کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کا ہے پھر وہ ان کو خود بتائے گا کہ وہ کیا کر رہے تھے ۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرقہ بنانے والے لوگوں سے رسول ﷺکی لا تعلقی کا اعلان کردیا ہے رسولؐ کا ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔یاد رکھیں کہ فرقے بنانے والے لوگ رسولؐ کے کچھ نہیں لگتے یہ اعلان لاتعلقی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلق رسول ﷺ سے قائم ہوتو آج ہی فرقہ چھوڑ کر توبہ کرکے اﷲ تعالیٰ کی رسی قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا۔
خواتین و حضرات!
میں نے جو چندآیات آج آپ کے سامنے رکھی ہیں ۔آپ اس ماہ رمضان میں خود قرآن پاک کھولیں ۔اور قرآن پاک سے یہ آیات چیک کریں ۔ اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ قرآن پاک کے زریعے آپ سے کیا چاہتے ہیں ۔آپ کے سامنے آجائے گا۔
گمراہ کسے کہتے ہیں ۔اور ہدایت کسے کہتے ہیں ۔یہ میری کتابیں آپ میری ویب سائیٹ سے پڑھ سکتے ہیں ۔ان کتابوں میں میں نے قرآن پاک سے ہدایت اور گمراہ والی آیات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
زاہدہ خان
www. whatisquranpak.co
 
شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
گمراہ کسے کہتے ہیں ۔حضرحیات کو جواب
گمراہ کسے کہتے ہیں ۔اس کا جواب قرآن پاک سے دیکھتے ہیں ۔یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے پوچھتے ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن پاک کے زریعے ہمیں کیا جواب دیتے ہیں ۔
رسولﷺ نے قیامت تک آنے والے لوگوں کو قرآن پاک سکھایا۔اس طرح گمراہی سے نکالا۔
) سورہ آل عمران آیت 164 پارہ 4
یقیناً اللہ تعالیٰ نے مومنو ں پر بڑا احسان کیا ہے ۔کہ جب اُنہیں میں سے ایک رسول ﷺ بھیجا۔جواُنہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔اوران کو پاک کرتا ہے۔اور اُنہیں کتاب اورحکمت سکھاتا ہے۔اگر چہ اس سے پہلے وہ یقیناًواضح گمراہی میں تھے ۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے دیکھا۔کہ قرآن پاک سے پہلے لوگ گمراہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان تھا۔کہ جب اُنہیں میں سے ایک رسول ﷺ کوبھیجا۔اورلوگ قرآن پاک کی تعلیم سیکھنے کی وجہ سے گمراہی سے نکلے۔کیا ہم لوگ گمراہی سے نکلنے کے لیے قرآن کھو لتے ہیں یابغیر سمجھے پڑھ رہے ہیں ۔
اب جو لوگ رسولﷺ کا لایا ہوا قرآن پاک نہیں سیکھیں گے ۔وہ گمراہ رہیں گے اور پاک نہیں ہوں گے اور جو لوگ رسولﷺ کالایا ہوا قرآن پاک سیکھیں گے۔وہ گمراہی سے نکل آئیں گے ۔اورپاک ہوجائیں گے ۔
خواتین وحضرات
اب آپ کو جو آیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔جو لوگ قرآن پاک کے زریعے پرہیزگاری اورنافرمانی سیکھیں گے وہ پاک لوگ ہوں گے اور کامیاب لوگ ہوں گے ۔
) سورہ شمس آیات 7تا 10 پارہ 30
قسم ہے انسان کی اور قسم ہے اُس کی جس نے اس کو درست بنایا۔پھر اس کو نافرمانی اور پرہیزگاری الہام کردی ۔بے شک وہ کامیاب ہو اجس نے خود کو پاک کیااور وہی ناکام رہا۔جس نے خود کو ناپاک رکھا۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ فرمارہے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پرہیزگاری بھی قرآن پاک کے زریعے بتا دی ۔اور نافرمانی بھی قرآن پاک کے زریعے بتا دی ہے ؛بے شک وہ کامیاب ہوگا اجس نے خود کو پاک کیااور وہی محروم رہا۔جس نے خود کو ناپاک کیا۔یعنی جو قرآن پاک کے زریعے گمراہی سے نکلا تو وہ پاک ہوجائے گا ۔ اور کامیاب ہو گا یعنی جنت میں جائیگا اور جو قرآن پاک کے زریعے گمراہی سے نہ نکلا۔اور ناپاک ہی رہا ۔تو وہ جنت سے محروم رہے گا ۔ یعنی پاک کا مطلب پرہیزگاری ہے ۔اسی لیے تو اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ کے اغاز میں فرماتے ہیں یہ ایک کتاب ہے ،اس میں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے ۔ اور ناپاک کامطلب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ۔
خواتین و حضرات!
اب آپ کو جو آیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو ہدایت کہا ہے ۔ اور فرمایا ہے ۔جو لوگ قرآن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں ۔اور گمراہ ہیں ۔ان کے وکیل رسولﷺ نہیں ہیں ۔
) سورہ ذمر ۔آیت41۔پارہ 24
بلا شبہ ہم نے یہ کتاب تمام لوگوں کیلئے آپ ﷺپر سچائی کے ساتھ نازل کی ہے پھر جو ہدایت پر آگیا تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو گمراہ رہا تو اس کے گمراہ رہنے کا نقصان اسی کو ہے اورآپ ﷺ ان کے وکیل نہیں ہیں ۔
خواتین و حضرات!
ان آیات میں اﷲ تعالیٰ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کررہے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔کہ بے شک ہم نے یہ کتاب تمام لوگوں کیلئے آپ ﷺپر سچائی کے ساتھ نازل کی ہے پھر جو ہدایت پر آگیا تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو گمراہ رہا تو اس کے گمراہ رہنے کا نقصان اسی کو ہے اورآپ ﷺ ان کے وکیل نہیں ہیں ۔
آپ نے اللہ تعالیٰ کا جواب سن لیا کہ آپ ﷺ کسی کے وکیل نہیں ہیں اور یہ جواب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تمام لوگوں کے نام ہے کہ نبی ﷺ کسی کے وکیل نہیں ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے لوگوں تک قرآن پاک کاسچ رسولﷺ کے زریعے پہنچادیا ہے ۔ پھر بھی کوئی ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ خود نقصان کا ذمہ دارہے۔اور رسول ﷺکسی کے و کیل نہیں ہیں۔
خواتین وحضرات
اب آپ کو آیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔ان آیات میں رسولﷺْ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں ۔اور قرآن پاک کو ہدایت کہہ رہے ہیں ۔اور جو لوگ قرآن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں ۔ایسے گمراہ لوگوں کے وکیل رسول ﷺ نہیں۔ ہیں ۔
) سورہ یونس۔آیات108تا109۔پارہ 11
آپ ﷺکہہ دو لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سچ آچکا ہے اب جو ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے اگر کوئی گمراہ رہتا ہے توا س کی گمراہی کا نقصان اسی کوہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کریں اور صبر کریں یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
خواتین و حضرات!
ن آیات میں رسول ﷺ کا ایک مکمل خطاب ہے ۔جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے نام ہے ۔رسولﷺ فرماتے ہیں ۔لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سچ آچکا ہے اب جو ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے اگر کوئی گمراہ رہتا ہے توا س کی گمراہی کا نقصان اُسی کوہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔پھر رسولﷺ فرماتے ہیں ۔
آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کریں اور صبر کریں ۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
خواتین وحضرات
آپ لوگوں نے نبی کریمﷺ کا دو ٹوک جواب سن لیا کہ میں تمہارا وکیل نہیں ہوں کیونکہ تمہارے پاس اﷲ تعالیٰ کا سچ پہنچ چکا ہے ۔اب جو ہدایت قرآن پاک سے اختیار کرتا ہے تو وہ اپنا بھلا کرتا ہے اور جو قرآن پاک کی ہدایت اختیار نہیں کرتا ہے اور گمراہ رہتا ہے تو اس کی گمراہی کا نقصان خود ہی اٹھائیں گے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں ۔
خواتین و حضرات!
پھر رسولﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کریں اور صبر کریں یہاں تک کہ قیامت آجائے ۔دراصل یہ رسولﷺکامکمل خطاب ہے۔جو قیامت تک آنے والے لوگوں نام ہے۔
خواتین وحضرات۔
آپ نے دیکھا۔کہ جو لوگ قر آن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں وہ گمراہ ہیں ۔اور قرآن پاک کی اطاعت کرنے والوں کے لیے صبرکاحکم ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے بہترین فیصلے کے انتظار کا حکم ہے۔
خواتین وحضرات
اب آپ کو جوآیات قرآن پاک سے دکھانے والی ہوں ۔ان آیات میں رسولﷺْ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں ۔اور قرآن پاک کو ہدایت کہہ رہے ہیں ۔اور جو لوگ قرآن پاک کی ہدایت پر نہیں ہیں ۔ایسے گمراہ لوگوں سے رسولﷺ کہہ رہے ہیں کہ میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں ۔
) سورہ نمل۔ آیت91کا آخری حصہ تا92۔پارہ20
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار بن کر رہوں۔یعنی مسلم بن کر رہوں ۔ اور یہ قرآن پڑھوں اب جو ہدایت پر آتا ہے تو اپنے بھلے کیلئے آتا ہے اور جو گمراہ رہا تو بس آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ ان آیات میں نبی ﷺ ْ قیامت تک آنے والوں سے کہہ رہے ہیں۔کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بننے کا حکم دیا ہے۔ یعنی مسلم بننے کاحکم دیا گیا ہے ۔ اور قرآن سنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔اب جو ہدایت پر آ تا ہے تو وہ اپنے بھلے کے لئے آتا ہے۔اور جو گمراہ رہتا ہے۔تو آپ ﷺ کہہ دیجیے ۔کہ میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں ۔
خواتین و حضرات!
آپ نے نبی کریم ﷺ کا دوٹوک جواب سن لیا ۔میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں ۔ خودبھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار رھے اور ہمیں بھی قرآن پاک کی ہدایت کی فرمانبرداری کا حکم دے رہے ہیں اور اگر کوئی قرآن پاک کی ہدایت حاصل نہیں کرتا اور گمراہ رہتا ہے ۔تو اُس سے نبی ﷺ کہہ رہے ہیں ۔میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں ۔
) سو رہ بنی اسرائیل آیت 9 پارہ15
یہ قرآن تو وہ ہدایت دیتاہے جو سب سے سیدھی ہے۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دیتا ہے۔جو صالح اعمال کرتے ہیں۔کہ ان کے لیے یقیناًبہت بڑا اجر ہے۔
خو اتین و حضرات
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔اور رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام قیا مت تک آنے والے لوگوں تک پہنچایا کہ یہ قرآن تو سب سے سیدھی ہدایت دیتا ہے۔اور ایما ن والوں کو
خو شخبری دیتا ہے۔ ایمان والے یعنی سورہ محمد کی دو تا تین آیات کے مطابق قرآن پاک کو سچ ماننے والے اور اس کی اطا عت کرنے والے کو خو شخبری دیتا ہے۔ کہ ان کے لیے بلا شبہ بہت بڑا اجر ہے۔
اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ قرآن پاک کو سب سے سیدھی ہدایت بتا رہے ہیں ۔جواس کو سب سے سیدھی ہدایت مانیں گے ۔اُنکے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔
) سورہ یاسین ۔آیات 10تا11۔پارہ نمبر22
ان کے لیے برابر ہے کہ آپ ﷺ انہیں خبر دار کر یں یا نہ کریں ۔ آپ ﷺتو صرف اسے خبردار کر سکتے ہیں جو نصیحت یعنی قرآن پاک کی اطاعت کر ے اور بغیر دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اس کو بخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دے دیجیے ۔
خواتین و حضرات !
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو نصیحت کہہ رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ تو صرف اسے خبردار کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور قرآن پاک کی اطاعت کرے ۔ ایسے انسان کو بخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دے دیجیے ۔
خواتین و حضرات !
آپ نے دیکھا جو لوگ بن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے اور قرآن پاک کی اطاعت کریں گے ۔رسولﷺ نے قرآن پاک کے زریعے اُسے بخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دے دی ہے ۔
خواتین وحضرات ۔
رسولﷺ نے قرآن پاک کی اطاعت کے بدلے میں جوبخشش اور بہترین اجر کی خوشخبری دی ہے ۔کیا ہم اس سے خبردار ہیں یا بہرے بنے ہوئے ہیں ۔
) سو رہ انبیاء آیات 45پارہ 17
آپ ﷺ کہہ دو کہ بے شک میں تمھیں وحی کے زریعے خبردار کررہاہوں ۔ اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب انہیں خبردار کیاجاتا ہے ۔
خو اتین و حضرات
آپ نے دیکھا کہ رسول ﷺ قیامت تک آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں۔رسولﷺ فرماتے ہیں ۔ کہ بے شک میں تمھیں وحی کے زریعے خبردار کررہاہوں ۔ اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب انہیں خبردار کیاجاتا ہے ۔رسول ﷺ ہمیں وحی یعنی قرآن پاک کے زریعے خبردار کیا۔اب جو لوگ قرآن پاک کے زریعے خبردار نہیں ہوں گے ۔وہ بہرے ہیں ۔یعنی رسولﷺ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہے ہیں کہ گویا کہ وہ بہرے ہیں ۔
خواتین وحضرات ۔
قرآن پاک قیامت تک آنے والے لوگوں میں اختلاف ختم کرنے والی کتاب ہے ۔اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ پر قرآن پاک اس لیے نازل کیا ہے ۔تاکہ اس کتاب کے زریعے رسول ﷺ
قیامت تک آنے والے لوگوں کے اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دیں ۔جن میں لوگ پڑ جاتے ہیں ۔اور جو لو گ اس کتاب کو مان لیں گے ۔ یعنی اپنے اختلاف قرآن پا ک سے دور کریں گے ۔اُن کے لیے قرآن پاک ہدایت اور رحمت ہے ۔
) سورہ انحل ۔آیات63تا64۔پارہ 14
اللہ کی قسم بیشک آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں۔ پھر شیطان نے اُن کے اعمال انہیں خوبصورت بنا کر دکھا ئے۔ پس وہی شیطان آج بھی لوگوں کا ولی بنا ہوا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور ہم نے آپ ﷺ پر یہ کتاب صرف اس لیے ناذل کی ہے۔ تاکہ آپ ان پر واضح کر دیں۔جس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ اور یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اس پر ایمان لا تے ہیں۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ قرآن پاک کو اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺان لوگوں کے اختلافات قرآن پاک سے واضح کر دیں۔یعنی اُن اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دیں ۔جس میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ کتاب ایمان لا نے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ ایمان کا مطلب سورہ محمد کی دو تا تین آیات کے مطابق محمد ﷺ پر نازل ہونے والے قرآ ن پاک کو سچ ماننا ور اس کی اطاعت کرناکے ہیں ۔ مگر لوگ اس کے سچ پر ایمان لا نے کے لئے تیا ر ہی نہیں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کرشیطان کو اپنا ولی بنا رکھا ہے ۔
کیا یہ انسان کی عادت ہے ۔کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا ولی یعنی دوست بنا لیتا ہے ۔
حالانکہ یہ قرآن پاک لوگوں کے اختلافات دور کرنے کے لئے آیاہے۔مگر لوگوں نے اُن لوگوں کو ہی اپنا ولی بنا لیا ہے ۔جنہوں قرآن پاک سے اختلاف ختم کرنے کے بجائے قرآن پاک کی سچائی میں اختلاف کر کے فرقے بنا لیے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ سے ہی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو ولی بنا یا ہوا ہے اور اس طرح یہ لوگ درد ناک عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
) سورہ انعام ۔ آیت159پارہ 8
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنا لیے اور گروہ بن گئے ہیں آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔بیشک ان کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کا ہے پھر وہ ان کو خود بتائے گا کہ وہ کیا کر رہے تھے ۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرقہ بنانے والے لوگوں سے رسول ﷺکی لا تعلقی کا اعلان کردیا ہے رسولؐ کا ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔یاد رکھیں کہ فرقے بنانے والے لوگ رسولؐ کے کچھ نہیں لگتے یہ اعلان لاتعلقی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلق رسول ﷺ سے قائم ہوتو آج ہی فرقہ چھوڑ کر توبہ کرکے اﷲ تعالیٰ کی رسی قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا۔
خواتین و حضرات!
میں نے جو چندآیات آج آپ کے سامنے رکھی ہیں ۔آپ اس ماہ رمضان میں خود قرآن پاک کھولیں ۔اور قرآن پاک سے یہ آیات چیک کریں ۔ اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ قرآن پاک کے زریعے آپ سے کیا چاہتے ہیں ۔آپ کے سامنے آجائے گا۔
گمراہ کسے کہتے ہیں ۔اور ہدایت کسے کہتے ہیں ۔یہ میری کتابیں آپ میری ویب سائیٹ سے پڑھ سکتے ہیں ۔ان کتابوں میں میں نے قرآن پاک سے ہدایت اور گمراہ والی آیات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
زاہدہ خان
www. whatisquranpak.co
السلام علیکم!
اصل بات یہ ہے کہ آج کے ہمارے علما صرف اپنے بڑوں کے عقائد کو چھپانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور حق بات سامنے آنے پر اپنے بڑوں کے قول کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ وہ کیا کہہ کر گئے جیسے اس قرآن مجید لاریب کتاب پر ایمان رکھنا چاہئے تھا یہ لوگ اس طرح کا ایمان دوسری کتابوں پر رکھتے ہیں ۔ جبکہ کہا یہ گیا ہے کہ پہلے قرآن مجید پھر احادیث مبارکہ ۔۔۔یہ ہے اصل ایمان ۔۔۔۔جس مسئلہ کا جواب قرآن مجید دے اس کے مقابل ہر قول مردود ہے ۔ کسی کی بنائی ہوئ بات ہے جو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی گئی۔
اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہمارے اصحاب کو معلوم تھا کہ قرآن مجید نبی کریم ﷺ ہی مرتب کر کے گئے لکھوا کر گئے اور زبانی یاد بھی کروا کر گئے اور یہ آیات جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اس کو کمپوز کیا اور روایات کہتی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی امت کو لاوارس چھوڑ گئے تھے اور صحابیوں نے اس قرآن مجید کی تلاش کی اور کتاب کی شکل میں لائے یہ تہمت ہے نبی کریم ﷺ پر۔
قرآن مجید جن باتوں کی تفسیر کرتا ہے تب ہمیں کسی اورتفسیر کی ضرورت نہیں۔ شکریہ
 

زاہدہ خان

مبتدی
شمولیت
جون 04، 2017
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
21
ابنِ داؤد کو جواب
مرتد کسے کہتے ہیں ۔اس کا جواب قرآن پاک سے معلوم کرتے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسولﷺ سے پوچھتے ہیں۔دیکھتے ہیں۔کہ وہ ہمیں قرآن پاک کے زریعے کیاجواب دیتے ہیں۔
سورہ محمد ۔آیات 23تا28۔پارہ 26
پھر کیا تم سے یہ توقع ہے ۔کہ اگر پھر جاؤ ۔توزمین میں فسادکرنے لگو۔اور اپنے رشتوں کو تو ڑ ڈالو۔
یہی لوگ ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ نے لعنت کی اور ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کیا یہ لوگ قرآن پاک میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں بیشک جن لوگوں پر ہدایت یعنی قرآن واضح ہوچکا پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے۔ شیطان نے آسان بنا دیا ہے ان کیلئے یہ کام اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ دراز کررکھا ہے یہ ا س لئے کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ ہم بعض باتوں میں تمہاری اطاعت کریں گے۔ اور اﷲ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو خوب جانتا ہے پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے اورا ن کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ۔یہ اسی لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اس کی اطاعت کی جس نے اﷲ تعالیٰ کو ناراض کردیا ہے اور اس کی رضا کو پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اﷲ تعالیٰ نے ان کے سب اعمال برباد کردیے۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ باپ دادا کے راستے کی اطاعت کرنے والے یعنی فرقہ پرست جو کہتے ہیں کہ ہم قرآن پاک کے ساتھ اپنے فرقے کی بعض باتوں کی اطاعت کریں گے۔یہ فرقہ پرست مرتد ہیں
ا ﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اندھا اور بہرہ کردیا اور ان لوگوں پر لعنت کی جو قرآن پاک میں غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں کو تالے لگ گئے ہیں جو یہ قرآن پاک میں غور نہیں کرتے بیشک جن لوگوں پر ہدایت یعنی قرآن واضح ہوچکا پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے۔ شیطان نے ان کے لئے جھوٹی توقعات کا سلسلہ دراز کررکھا تھا اس لئے انہوں نے قرآن پاک کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ ہم بعض باتوں میں تمہاری اطاعت کریں گے ۔اﷲ تعالیٰ ان کی خفیہ باتوں کو جانتا ہے پھر قرآن پاک کے ساتھ کچھ باتوں میں دوسروں کی مرضی کرنے والوں کی یعنی فرقہ پرستوں کی روحیں جب فرشتے قبض کریں گے تو ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے لے جائیں گے یہ اس لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی اطاعت کی جو اﷲ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی رضا کا طریقہ اختیار نہ کیا اس پر اﷲ تعالیٰ نے ان کے سب اعمال ضائع کردیے۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ جنہوں نے قرآن پاک کی اطاعت کے ساتھ دوسروں کی یعنی اپنے فرقے کی اطاعت کی انہوں نے اﷲ تعالیٰ کو ناراض کردیا اور اس کی رضا کا طریقہ اختیار نہ کیا ۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے ان کے سب اعمال ضائع کردیے۔
خواتین و حضرات!
آئیں دیکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کسے کہتے ہیں سورہ المائدہ آیت 15کا آخری حصہ اور آیت 16پارہ نمبر6میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ بے شک تمہارے پاس اﷲ تعالیٰ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی واضح کتاب جس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کی اطاعت کرتے ہیں۔انہیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتاہے۔ اور اپنی اجازت سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کردیتا ہے ‘‘۔
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ کی رضا قرآن پاک ہے۔جو لوگ قرآن پاک کے زریعے اللہ تعالیٰ کی رضاکی اطاعت کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک کے زریعے انہیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے اور اپنی اجازت سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کردیتا ہے ‘‘۔یعنی یہ لوگ اھدنااصراط المستقیم والے لوگ بن جاتے ہیں ۔
جو لوگ کچھ باتوں میں قرآن پاک کی اطاعت کرتے ہیں اور کچھ باتوں میں لوگوں کی اطاعت کرتے ہیںیعنی نام نہاد مفسروں کی اطاعت کرتے ہیں ۔ تو انہیں مرتد کہا گیا ہے ان پر لعنت کی گئی اور انہیں اندھا اور بہرا کیا گیا ان کے تمام اعمال اﷲ تعالیٰ نے ضائع کردیے۔
خواتین و حضرات!
یہ لوگ فرقہ پرست ہیں ۔جو کہتے ہیں ۔کہ ہم قرآن پاک کے ساتھ اپنے اپنے فرقوں کی دی ہوئی تعلیمات پر بھی عمل کریں گے ۔کیونکہ انہیں قرآن پاک میں کچھ نظر نہیں آتا ۔ایسے ہی لوگوں کے دلوں پر تالے لگ چکے ہیں ۔وہ لوگ قرآن پاک میں غور نہیں کرتے ۔اس لیے انہیں قرآن پاک میں کچھ نظر نہیں آتا۔ایسے لوگ ان آیات میں اپنا حشر دیکھ لیں ۔کہ مرنے سے پہلے ہی ان پر عذاب کا آغاز ہو جائے گا ۔
ان آیات سے ہمیں پتہ چلا کہ قرآن پاک کے ساتھ کسی بھی اور چیزکی اطاعت کرنے والامرتد ہے ۔تمام فرقے اپنے اپنے نام نہاد مفسروں کی اطاعت کرتے ہیں ۔اس طرح تمام فرقے مرتد ہیں
مرتدکا مطلب ہے ۔قرآن پاک کو ہدایت سمجھنے کے باوجود قرآن پاک کے ساتھ کسی اور چیز کی اطاعت کرنے والے کو مرتد کہتے ہیں ۔اس کے لیے مثال دینا چاہوں گی ۔کہ ساری دنیا مختلف قسم کے فرقوں پر تھی ۔ یعنی کافر تھی ۔ رسولﷺ نے جب اعلان نبوت کیا ۔توجو جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائے ۔ یعنی جنہوں نے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا مان لیااور قرآن پاک کوسچ سمجھا اور اس کی اطاعت کی ۔تو وہ ساری دنیا سے جد اہو گئے ۔اور مسلم بن گئے ۔یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمابردار بن گئے ۔ اب اگر یہ مسلم قرآن پاک کے ساتھ کسی اور چیز کی اطاعت کریں گے تو پھر مرتد ہو جائیں گے ۔اور اللہ تعالیٰ کے فرمابردار نہیں رہیں گے۔ یعنی مسلم نہیں رہیں گے ۔ان آیات میں مرتد کو پھر جانے والا کہا گیا۔یعنی جس کسی راستے سے قرآن پاک کی طرف آیا تھا۔قرآن پاک سے پھر کرپھر کسی کی باتوں کی اطاعت کرنے لگا۔ یعنی نام نہاد مفسر کی اطاعت کرنے لگا۔ یہ ان کی خفیہ باتیں ہیں ۔ اور اﷲ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو خوب جانتا ہے پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے اورا ن کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ۔یہ اسی لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اس کی اطاعت کی جس نے اﷲ تعالیٰ کو ناراض کردیا ہے اور اس کی رضا کو پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اﷲ تعالیٰ نے ان کے سب اعمال برباد کردیے۔
مرتد کسے کہتے ہیں ۔ اس کا جواب اور تفصیل کے لیے یہ میری کتاب آپ میری ویب سائیٹ سے پڑھ سکتے ہیں ۔اس کتاب میں میں نے قرآن پاک سے مرتد والی آیات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
زاہدہ خان
www. whatisquranpak.com
 
Top