• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,451
پوائنٹ
964
میں صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کپڑا ٹخنہ سے نیچے ہونا ہی تکبر ہے تو یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کے مختلف انداز کے کپڑوں کا رواج ہوتا ہے ۔
اگر ایسا زمانے آجائے کہ کپڑا اوپر کر کے چلنا فخر و تکبر کی علامت ہو تو کیا کپڑا نیچے کر نے کا حکم آئے گا؟
شریعت نے تکبر سے منع کیاہے، اور اس کی کچھ خاص صورتوں کا ذکر بھی کردیا ہے۔
کوئی جائز کام تکبر کی وجہ سے ناجائز تو ہوجائے گا، لیکن جس چیز سے شریعت نے مطلقا منع کیاہے، اور اسے تکبر قرار دیا ہے، آپ اس حجت سے اسے جائز نہیں کہہ سکتےکہ ہم بلا تکبر یہ کام کرتے ہیں۔
دخل اندازی کے لئے معذرت لیکن خدارا حدیث کے لئے ایسے الفاظ استعمال نہ کریں۔ ہمیں تو بالکل سمجھ میں آ رہا ہے۔
میرے خیال میں درست تنبیہ ہے۔ اس کا خیال رکھیں، اوپر گزر چکا ہے کہ یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا تکبر ہے‘۔
جہالت کی وجہ سے نیچے نہیں کرتے بلکہ جو لوگ ایسے کپڑے پہنتے ہیں جو نیچے لٹکیں یا زمین تک پہنچ جائیں ان کو جاہل کہا جاتا ہے کہ کیسا شخص ہے اپنے لباس کو کنڑول نہیں کر سکتا ۔
عجیب وغریب۔ جہالت بھی نہیں، تکبر بھی نہیں، اور تیسری وجہ کیاہے؟
گاوں کے چوہدری بوسکی کے کپڑے پہن کر تکبر انہ انداز میں چلتے ہیں۔ تو کیا بوسکی کپڑا پہننا یہ غلط قرار پائے گا۔
پھر وہی بات دہرائی ہے آپ نے۔ تکبر منع ہے۔ بوسکی کپڑا پہننا منع نہیں۔ البتہ شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا منع ہے۔
میں نے اس معاملے میں بڑی شدت دیکھی ہے ۔ اس کا التزام بہت زیادہ نظر آتا ہے ۔
صرف لوگوں کو یہ یاد رہ گیا ہے کہ ٹخنوں سے اوپر لباس ہوناچاہیے۔
یہ بڑی شدت آپ نے شاید احادیث کو دیکھ کر محسوس کرلی ہے۔ کیونکہ یہ باتیں احادیث میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بیان کی ہیں۔
رہی ربات ’نظر آنے کی‘ تو معاملہ برعکس ہے۔ آپ خود ابھی کسی پبلک مقام پر جاکر اپنی نظر کو زحمت دیں، اور اندازہ کریں کہ آپ کا بیان درست ہے یا نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی احادیث ہیں جن پر عمل تو کیا صرف نظر بھی نہیں ہوتی ۔
"جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں " ۔ "جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ نہیں وہ مسلمان ہی نہیں " ۔
میرا علم تو محدود ہے آپ علم والے ہیں ۔ میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے مجھے دین میں عبادات سے زیادہ اخلاقیات پرزور نظر آیا ہے۔ کسی عبادت کے بارے میں نہیں فرمایا کہ آخرت میں میرے قریب ہوگا صرف اچھے اخلاق کا ذکر کیا ہے۔ اور یہ ارشاد کہ "میں اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا ہوں۔"۔
بہت ساری احادیث کو نظر انداز کیا جانا یہ ایک خامی اور غلطی اور کبیرہ گناہ سے ہوتے ہوئے کفر کی حد تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس پر توجہ دلاتے رہیں، احتجاج کرتے رہیں۔
لیکن یہ رویہ بالکل غلط اور نامناسب ہے کہ ایک طرف کی غلطی کو سامنے رکھ کر دوسرے طرف کی غلطی کو جواز دے دیا جائے۔
یہ سوچ لوگوں میں بہت عام ہے، اسے بہت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس لمبی تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ کپڑا نیچے کرنا دوزخ میں جانے کا باعث بننا اس لئے میری سمجھ میں نہیں آرہا۔
یہ بات حدیث نبوی میں موجود ہے۔ سمجھ میں نہیں بھی آئے تو سرِ تسلیم خم کرنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ویسے یہ بات عرض کروں کہ صرف شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے ، کوئی شخص (ہمیشہ) جہنم میں رہے گا، اور جہنم میں جانے کا یہ مطلب کہ اس کے دیگر تمام اعمال رائیگاں گئے۔ یہ بات حدیث میں نہیں ہے۔ یہ آپ کا فہم ہے، جس کی وجہ سے آپ کو سمجھنے میں دقت ہورہی ہے۔
اللہ تعالی نے ایمان والوں کے لیے جنت کا وعدہ کیاہے، اور جن سے غلطیاں یا کبیرہ گناہ سرزد ہوئے، انہیں سزا بھی دینی ہے۔ اسے ایک دوسرے کے مخالف سمجھنے کی بجائے، یہ کام اللہ کے سپرد رہنے دیں، وہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے یہ سب کام کیسے کرنے ہیں۔
ایک بات یہ بھی ذہن میں آتی ہوگی کہ اتنے چھوٹے سے گناہ پر اتنی بڑی سزا، تو غلطی اور سزا میں توازن ہے کہ نہیں، کوئی گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ، کوئی سزا بڑی ہے یا چھوٹی، یہ طے کرنے کا حق بھی تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، نصوص سے ماورا عقل پسندی سوائے پریشانی کے کچھ نہیں دے سکتی۔
میں حدیث پر اعتراض نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ جو مفہوم اخذ کر رہے ہیں وہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔
میں نے جیسا عرض کردیا کہ آپ کو دقت ’اپنے فہم‘ کے باعث لاحق ہورہی ہے۔ شاید یہ میری غلط فہمی ہو۔ پھر بھی اس مسئلے کو احادیث کے مطابق ہی سمجھیں، کسی کے فہم وعمل کے پابند نہ رہیں، ہر شخص اپنے عمل کا خود جوابدہ ہے۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
محترم خضرصاھب
آپ کے تفصیلی جواب کا شکریہ

محترم تصویر کے بارے میں بھی تو واضح حدیث موجود ہے کہ "جس گھر میں کتا اور تصویر ہو وہاں فرشتے نہیں آتے"۔ تصویر بنانے والے پر سخت وعیدیں ہیں۔ زمانے کے اعتبار سے فتوی کیوں تبدیل ہوا ہے اور گنجائش کیوں دی گئی ہے ۔؟
شناختی کا رڈ اور نوٹوں کی صورت میں تو تصویر ہر کسی کی جیب میں ہر وقت موجود رہتی ہے یہاں تک کہ مسجد میں بھی لے جاتے ہیں۔
سو
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
محترم@خضر حیات صاحب
"ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری (لکڑی یا کہا : کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح) کوئی چیز نہ ہو تو : کالے کتے ، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی “ میں نے ابوذر سے کہا : لال ، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے ؟ انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا : ” کالا کتا شیطان ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوذر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، حکم بن عمرو بن غفاری ، ابوہریرہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ گدھا ، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کر دیتا ہے ۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں : مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی."

محترم یہاں احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ تذبذب کا شکار ہیں ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,451
پوائنٹ
964
احمد بن حنبل کہتے ہیں : مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی."
محترم یہاں احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ تذبذب کا شکار ہیں ۔
اس قسم کی عبارات بعض کبار محدثین کے ہاں پائی جاتی ہیں، مراد اس سے حدیث کی صحت میں متردد ہونا ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
 
Top