• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا

نسیم احمد

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
747
ری ایکشن اسکور
128
پوائنٹ
108
@عمر اثری بھائی
حدیث کےالفاظ ہیں
“ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں ۔ “


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تم ایسے نہیں ہو جو تکبر سے ایسا کرتے ہیں یہی بتا رہا ہے کہ اس کی تخصیص تکبر کے ساتھ ہے۔لاجک تو یہی بنتی ہے کہ اس کو تکبر کے ساتھ ہی ہونا چاہیے ۔ کیا رب العالمین صرف اس لئے اپنے بندوں کو دوزخ میں ڈالے گا کہ ان لباس بغیر تکبر کے بھی ٹخنوں سے نیچے ہوگا۔ چاہے وہ کتنے ہی نمازی پرہیز گار کیوں نہ ہوں۔



 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,128
پوائنٹ
412
@عمر اثری بھائی
حدیث کےالفاظ ہیں
“ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں ۔ “


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تم ایسے نہیں ہو جو تکبر سے ایسا کرتے ہیں یہی بتا رہا ہے کہ اس کی تخصیص تکبر کے ساتھ ہے۔لاجک تو یہی بنتی ہے کہ اس کو تکبر کے ساتھ ہی ہونا چاہیے ۔ کیا رب العالمین صرف اس لئے اپنے بندوں کو دوزخ میں ڈالے گا کہ ان لباس بغیر تکبر کے بھی ٹخنوں سے نیچے ہوگا۔ چاہے وہ کتنے ہی نمازی پرہیز گار کیوں نہ ہوں۔



مجھے لگا تھا کہ کوئی نئی بات ہوگی۔ ان سب پر پہلے ہی گفتگو ہو چکی ہے:
http://forum.mohaddis.com/threads/مرد-کا-قابل-ستر-حصہ.36438/page-4#post-289804
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,473
پوائنٹ
964
جس دور میں ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا جہالت تصور کیا جائے وہاں اس کی کیا تشریح ہوگی۔
لاعلم بندہ تو معذور ہے۔ لیکن ایسی جہالتیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
جو جہالت کی وجہ سے نیچے رکھتے ہیں، انہیں احادیث پڑھ کے سنائیں۔
جو کہتے ہیں کہ ہم تکبر نہیں کرتے، تو انہیں سمجھائیں کہ علم ہونے کے بعد بھی حیل و حجت کرنے کے پیچھے بھی تکبر ہوسکتا ہے۔
 

نسیم احمد

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
747
ری ایکشن اسکور
128
پوائنٹ
108
محتر م خضرحیات صاحب
میں صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کپڑا ٹخنہ سے نیچے ہونا ہی تکبر ہے تو یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کے مختلف انداز کے کپڑوں کا رواج ہوتا ہے ۔
اگر ایسا زمانے آجائے کہ کپڑا اوپر کر کے چلنا فخر و تکبر کی علامت ہو تو کیا کپڑا نیچے کر نے کا حکم آئے گا؟
جو جہالت کی وجہ سے نیچے رکھتے ہیں، انہیں احادیث پڑھ کے سنائیں۔
جہالت کی وجہ سے نیچے نہیں کرتے بلکہ جو لوگ ایسے کپڑے پہنتے ہیں جو نیچے لٹکیں یا زمین تک پہنچ جائیں ان کو جاہل کہا جاتا ہے کہ کیسا شخص ہے اپنے لباس کو کنڑول نہیں کر سکتا ۔

گاوں کے چوہدری بوسکی کے کپڑے پہن کر تکبر انہ انداز میں چلتے ہیں۔ تو کیا بوسکی کپڑا پہننا یہ غلط قرار پائے گا۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,128
پوائنٹ
412
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کپڑا ٹخنہ سے نیچے ہونا ہی تکبر ہے تو یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔
دخل اندازی کے لئے معذرت لیکن خدارا حدیث کے لئے ایسے الفاظ استعمال نہ کریں۔ ہمیں تو بالکل سمجھ میں آ رہا ہے۔
 

نسیم احمد

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
747
ری ایکشن اسکور
128
پوائنٹ
108
@عمر اثری بھائی
میں نے اس معاملے میں بڑی شدت دیکھی ہے ۔ اس کا التزام بہت زیادہ نظر آتا ہے ۔
صرف لوگوں کو یہ یاد رہ گیا ہے کہ ٹخنوں سے اوپر لباس ہوناچاہیے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی احادیث ہیں جن پر عمل تو کیا صرف نظر بھی نہیں ہوتی ۔
"جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں " ۔ "جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ نہیں وہ مسلمان ہی نہیں " ۔
میرا علم تو محدود ہے آپ علم والے ہیں ۔ میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے مجھے دین میں عبادات سے زیادہ اخلاقیات پرزور نظر آیا ہے۔ کسی عبادت کے بارے میں نہیں فرمایا کہ آخرت میں میرے قریب ہوگا صرف اچھے اخلاق کا ذکر کیا ہے۔ اور یہ ارشاد کہ "میں اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا ہوں۔"۔
اس لمبی تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ کپڑا نیچے کرنا دوزخ میں جانے کا باعث بننا اس لئے میری سمجھ میں نہیں آرہا۔

میں حدیث پر اعتراض نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ جو مفہوم اخذ کر رہے ہیں وہ سمجھنے سے قاصر ہوں ۔
نوٹ :میں نے حدیثوں کا مفہوم بیان کیا ہے۔
 

ابو حسن

رکن
شمولیت
اپریل 09، 2018
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
90
اس لمبی تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ کپڑا نیچے کرنا دوزخ میں جانے کا باعث بننا اس لئے میری سمجھ میں نہیں آرہا
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے رب سے جو بيان كيا ہے اس پر ايمان ركھنا واجب ہے، چاہے ہم اس كا معنى جانتے ہوں يا نہ جانيں

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم صادق المصدوق ہيں، اس ليے جو بھى كتاب و سنت ميں آيا ہے ہر مومن شخص كے ليے اس پر ايمان ركھنا واجب ہے، چاہے وہ اس كا معنى نہ بھى سمجھتا ہو " انتہى
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 3 / 41 )
 

ابو حسن

رکن
شمولیت
اپریل 09، 2018
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
90
کپڑے کو ٹخنوں سے نيچے ركھنے كا حكم كيا ہے ؟
محترم بھائى آپ يہ بھى علم ميں ركھيں كہ جب معاملہ كسى ايسى چيز سے تعلق ركھتا ہو جو اللہ كا حكم اور واجب ہو، يا پھر حرام سے تعلق ركھے جس سے اللہ نے منع كيا اور روكا ہو تو پھر اس ميں لوگوں اور عادات و عرف كا خيال نہيں كرنا چاہيے بلكہ يہ مسلمان كے شايان شان ہى نہيں كہ اللہ كو ناراض كر كے لوگوں كا خيال كرتا پھرے.

جى ہاں مستحبات اور مباح اور مكروہات ميں لوگوں كے حالات اور عرف كا خيال ركھنا ممكن ہے، ليكن واجبات اور حرام ميں بالكل كسى بھى طور پر لوگوں كى بنا پر ان كو نہيں چھوڑا جا سكتا كہ واجب كو چھوڑ ديا جائے، اور حرام كا مرتكب ہوا جائے.

بعض لوگ غلطى سے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى اس حديث سے استدلال كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كعبہ كو گرا كر ابراہيم عليہ السلام كى بنيادوں پر دوبارہ تعمير كرنے كو ترك كر ديا تھا "

وہ اس سے واجب كو ترك كرنے كى دليل ليتے ہيں جو كہ صحيح نہيں بلكہ غلط ہے، اگر يہ واجب ہوتا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كبھى بھى اسے تاليف قلب كے ليے ترك نہ كرتے، بلكہ يہ جائز تھا، ہم ذيل ميں مكمل حديث اور اس پر اہل علم كى كلام پيش كرتے ہيں:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے كہنے لگے:

" اے عائشہ اگر تيرى قوم جاہليت كے دور كے قريب نہ ہوتى تو ميں بيت اللہ كو گرانے كا حكم دوں اور پھر ميں اس ميں وہ حصہ بھى شامل كر دوں جو اس سے نكال ديا گيا ہے، اور اسے زمين كے ساتھ ملا دوں اور اس كے دو دروازے بنا دوں ايك مشرقى جانب اور ايك مغربى جانب تو اس طرح وہ ابراہيم عليہ السلام كى بنيادوں پر آ جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1509 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1333 ).

اور ايك روايت كے الفاظ يہ ہيں:

" مجھے خدشہ ہے كہ ان كے دل اسے ناپسند سمجھيں گے "

شيخ الاسلام ابن تيميہ كہتے ہيں:

" يہ معلوم ہے كہ روئے زمين پر سب سے بہتر جگہ كعبہ ہے، اور اگر اسے اس طريقہ ميں بدلنا اور تبديل كرنا واجب ہوتا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كبھى بھى اسے ترك نہ كرتے، اس سے يہ معلوم ہوا كہ يہ جائز تھا، اور يہ كہ زيادہ صحيح يہى تھا اگر قريش نئے نئے مسلمان نہ ہوتے، اور اس ميں كعبہ كى تعمير كو پہلى تعمير سے تبديل كرنا پايا جاتا ہے، تو يہ معلوم ہوا كہ بالجملہ يہ جائز تھا، اور ايك تاليف كو دوسرى تاليف سے تبديل كرنا تبديل كرنے كى ايك قسم ہے "

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 31 / 244 ).

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ ايك جگہ يہ كہتے ہيں:

چنانچہ اس وقت افضل كو ترك كرنا تا كہ لوگ متنفر نہ ہوں، اور اسى طرح اگر آدمى بسم اللہ اونچى آواز سے پڑھنے كى رائے ركھتا ہو اور كسى ايسى قوم كى امامت كرائے جو بسم اللہ اونچى آواز سے پڑھنا مستحب سمجھتے ہوں، يا اس كے برعكس اور وہ ان كى موافقت كرے تو اس نے بہتر كام كيا "

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 22 / 268 - 269 ).

اور ايك جگہ كہتے ہيں:

" اور بعض اوقات وہ ـ يعنى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ـ افضل كام سے مفضول كى جانب منتقل ہو جاتے؛ كيونكہ ايسا كرنے ميں موافقت اور تاليف قلب ہوتى، جيسا كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو فرمايا تھا:

" اگر تيرى قوم عہد جاہليت كے قريب نہ ہوتى تو ميں كعبہ كو گرا كر اس كے دو دروازے بنا ديتا "

تو يہاں موافقت اور تاليف قلب كے ليے ترك اولى ہے، جو كہ اس اولى اور افضل سے بہتر ہے "

ديكھيں: مجموع الفتاوى الكبرى ( 26 / 91 ).

سوم:

عمومى طور پر لباس اور خاص كر سلوار ٹخنوں سے نيچے ركھنے كے متعلق چند ايك امور پر تنبيہ كرنا ضرورى ہے:

1 - كپڑے اتنے نيچے ركھنا حتى كہ وہ ٹخنوں سے چھونے لگيں تو يہ كبيرہ گناہ ہے، اور پھر ٹخنوں سے نيچے كپڑا ركھنے كى حرمت غرور اور تكبر كے ساتھ مقيد نہيں، بلكہ يہ بذاتہ حرام ہے، اور يہ چيز بنفسہ تكبر كى علامت ہے، اس ليے اگر اس كے ساتھ دل كا غرور اور تكبر بھى مل جائے تو اور بھى زيادہ گناہ كا باعث ہوگا.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ابن عربى رحمہ اللہ كا كہنا ہے: مرد كے ليے كپڑا ٹخنوں سے نيچے ركھنا جائز نہيں، اور اس كا يہ كہنا كہ: " ميں تكبر اور غرور سے تو كپڑا ٹخنوں سے نيچے نہيں ركھتا " جائز نہيں، كيونكہ بعض اوقات نہى الفاظ كو حاصل ہوتى ہے، اور جسے لفظا حكم حاصل ہو اس كے ليے يہ كہنا جائز نہيں " ميں اس ميں شامل نہيں ہوتا " كيونكہ يہ علت مجھ ميں نہيں ہے " اس ليے كہ يہ دعوى غير مسلم ہے، بلكہ اس كا كپڑا ٹخنوں سے نيچے ركھنا ہى تكبر پر دلالت كرتا ہے " اھـ مخلص.

حاصل يہ ہوا كہ:

اسبال يعنى كپڑا ٹخنوں سے نيچے ركھنا كپڑے كو زمين پر گسٹنے كو مستلزم ہے، اور كپڑا زمين پر رگڑنا اور زمين پر لگنا تكبر كو لازم كرتا ہے، چاہے ايسا لباس پہننے والا تكبر كا ارادہ كرے يا نہ، اس كى تائيد دوسرى سند سے درج ذيل روايت سے ہوتى ہے:

احمد بن منيع ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں انہوں نے اس حديث كو مرفوع بيان كيا ہے كہ:

" تم اپنا تہہ بند گھسٹنے سے اجتناب كرو، كيونكہ تہہ بند گھسيٹنا تكبر ميں سے ہے "

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 264 ).

اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" تم تہہ بند نيچے گھسيٹنے سے اجتناب كرو، كيونكہ يہ تكبر ميں سے ہے "

تو كپڑا ٹخنوں سے نيچے ركھنے كو تكبر ميں شمار كيا ہے؛ كيونكہ غالب طور پر يہ اسى بنا پر ہوتا ہے، اور جو ايسا تكبر سے نہ كرے تو اس كا عمل تكبر كى جانب جانے كا وسيلہ ہے، اور وسائل كو بھى غايات كا حكم حاصل ہے "

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 6 / 383 ).

2 - كسى بھى شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ دين كو چھلكے اور گودے ميں تقيسم كرتا پھرے، اور ايسى تقسم كرنے والے سلوار وغيرہ ٹخنوں سے نيچے ركھنے، اور داڑھى مونڈنے كو چھلكا بنائيں، يہ جائز نہيں! يہ بہت بڑى غلطى ہے، اور اس كا سبب شرعى احكام سے جہالت ہے، اور يہ دونوں فعل كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتے ہيں، ديكھيں كہ اس طرح كى تقسيم كرنے والوں نے اپنے اس برے قول كى بنا پر كبيرہ گناہوں كے ارتكاب كو كتنا آسان كر ليا ہے.

3 - اسبال صرف ثوب ( عربى لباس ) ميں ہى نہيں، بلكہ يہ تہہ بند، اور سلوار اور پائجامہ، اور پتلون، اور جبہ وغيرہ سب اشياء ميں ہے، اور ہر اس لباس ميں جو مسلمان پہنتا ہے، اگر وہ ٹخنوں سےنيچے ہو تو يہ اسبال شمار كيا جائيگا.

4 - ہم يہ تنبيہ كرتے ہيں كہ جو آدھى پنڈلى تك پہنا جاتا ہے وہ تہہ بند ہے، ليكن پتلون يا ثوب اس طرح نہيں، بلكہ يہ ٹخنوں سے اوپر ركھے جائينگے، اور كسى كے ليے بھى جائز نہيں كہ يہ اس كے ٹخنوں كے ساتھ لگيں.

5 - اگر پتلون اور پينٹ يا ٹراؤزر تنگ ہو ـ جيسا كہ ہميں سائل كے قول سلوار سے يہ معلوم ہوا ہے كہ يہى مقصود لے رہا ہے ـ اور ستر كے حجم كو واضح كرے تو اسے زيب تن كرنا حلال نہيں ہے.

اور آخر ميں ہم يہ كہتے ہيں:

6 - پينٹ ٹخنوں سے نيچے ركھنا كبيرہ گناہ ہے، اس ليے اسے چھوٹا كرنے اور ٹخنوں سے اونچا ركھنے ميں لوگوں كے ذوق اور ان كى رائے كا اعتبار نہيں كيا جائيگا، بلكہ اس كے برعكس سنت پر عمل كرتے ہوئے اسے ٹخنوں سے اونچا ہى ركھا جائيگا، جيسا كہ ہم جواب كے شروع ميں بيان كر چكے ہيں.

بلكہ ہميں تو ايسے شخص پر بہت زيادہ تعجب ہوتا ہے جو يہ رائے ركھے كہ سنت پر عمل كرتے ہوئے لباس ٹخنوں سے اونچا ركھنے سے مسلمان كا منظر خراب ہو جاتا ہے، اور وہ عورتوں كا آدھى ران تك اپنا لباس ركھنے ميں كوئى قباحت محسوس نہيں كرتا، اور نہ ہى اس كى رائے ميں تنگ پتلون ميں كچھ ہے جو آج كل نوجوان پہن رہے.

اور نہ ہى وہ آج كل كى نئے رواج كى پينٹيں پہننے كو غلط سمجھتا ہے، اور حيوانوں اور جانوروں كے بالوں جيسى كٹنگ بنوانے كو بھى غلط نہيں سمجھتا، جو شير كٹ، اور مرغ كلغى كٹ اور بطخ كٹ اور چوہا كٹنگ كے نام سے معروف ہيں.

ٹخنوں سے اوپر لباس پہننے والے بھائى كو چاہيے كہ وہ اس ميں مبالغہ مت كرے، لباس ٹخنوں سے نيچے ركھنا حرام ہے، اور اس سلسلہ ميں لوگوں كى باتوں پر دھيان نہيں دينا چاہيے، كہ وہ كيا كہينگے، لباس چھوٹا ركھنے ميں مبالغہ نہ كريں، اور جو بھائى اس سنت پر عمل كرتے ہيں انہيں چاہيے كہ وہ اس ميں اپنے آپ كو لوگوں كا مذاق نہ بنائيں، اور نہ ہى وہ اس مسئلہ كو كسى دوسرے كے حساب پر كھوليں، اور اس طرح كے افعال كو جس ميں شريعت نے وسعت ركھى ہے اسے اپنے اور لوگوں كے درميان حائل اور پردہ نہ بنائيں، اور ان افعال ميں انہيں اپنے ملك كے عرف كا خيال كرنا ممكن ہو تو ايسا كر ليں، يعنى اگر اس ميں شريعت كى مخالفت نہ ہوتى ہو تو وہ اس پر عمل كر ليں.

اور اگر وہ اپنا لباس ٹخنوں سے ذرا اونچا ركھ ليں تا كہ لوگ انہيں مذاق كا نشانہ نہ بنائيں، اور نہ ہى وہ اسے اپنے اور لوگوں كے مابين آڑ اور حائل بنائيں، تو ايسا كرنا جائز ہے، اميد ہے كہ انہيں اپنا لباس چھوٹا ركھنے سے اس فعل كا زيادہ اجروثواب حاصل ہو گا.

لہذا پينٹ اور پتلون وغيرہ ٹخنوں سے نيچے ركھنا ان حرام كاموں ميں شمار ہوتا ہے جس ميں لوگوں كے ذوق اور عرف و عادات كا خيال نہيں ركھا جاتا، اور كسى بھى مكلف شخص كے ليے اس معاملہ ميں لوگوں كى وجہ سے مخالفت كرنى جائز نہيں ہے، ليكن لباس چھوٹا ركھنےكى حد ( يعنى ٹخنوں سے اوپر تك ) ميں مكلف شخص اپنے ملك كے لوگوں كى عادات و عرف اور ان كے نظريہ كا خيال ركھے تو يہ افضل اور بہتر ہے، ليكن ٹخنوں سے نيچے نہ ركھے.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

لباس نصف پنڈلى تك ركھنا سنت ہے، اور نصف پنڈلى سے نيچے تك ركھنا بھى سنت ہے، ليكن ٹخنوں سے نيچے ركھنا ممنوع اور حرام ہے، كيونكہ صحابہ كرام جو كہ بعد ميں آنے والوں سے زيادہ قدر كے لائق ہيں، اور بعد ميں آنے والوں سے بھى زيادہ خير و بھلائى سے محبت كرتے تھے، ان كے لباس بھى ٹخنوں تك يا اس سے كچھ اوپر ہوتے تھے، جيسا كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے عرض كيا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے تہہ بند كى سائڈ نيچے چلى جاتى ہے، حالانكہ ميں اس كا بہت خيال بھى ركھتا ہوں "

يہ اس بات كى دليل ہے كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى چادر نصف پنڈلى سے نيچے تھى؛ كيونكہ اگر وہ نصف پنڈلى تك ہوتى اور ڈھيلى ہو كر زمين پر لگ جانے سے تو اوپر كا ستر والا حصہ ننگا ہو جاتا، اور صحابہ كرام كے مابين يہ معروف تھا.

تو مثلا اگر آپ ديكھيں كہ: لوگ نصف پنڈلى يا اس سے ذرا نيچے ركھنا اچھا نہيں سمجھتے، اور اگر بغير كسى اسراف اور تكبر كے لوگوں كى طرح آپ لباس پہنيں تو آپ كى بات زيادہ قبول ہو گى، الحمد للہ آپ تاليف قلب اور كلام كو منوانے كے ليے اسے چھوڑ ديں جسے كرنا چاہتے تھے.

اس ليے جو شخص لوگوں كى عادت كے مطابق لباس پہتا ہے اور وہ حرام نہ ہو تو ميں ديكھتا ہوں كہ نصف پنڈلى يا اس سے زائد اوپر لباس ركھنے والوں كى بنسبت دوسرے شخص كى كلام كو زيادہ قبول كرتے ہيں، اور بعض اوقات انسان مستحب كو اس ليے ترك كرتا ہے تا كہ اس سے بھى افضل كو حاصل كيا جا سكے، اس ليے ميرى رائے يہ ہے كہ اگر اسے اس كا والد نصف پنڈلى سے نيچے لباس ركھنے كا كہتا ہے تو وہ اس ميں ان كى بات مانتے ہوئے اطاعت كر لے؛ كيونكہ يہ سب سنت ہے، اور الحمد للہ صحابہ كرام نے اس سب پر عمل كيا ہے "

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 83 ) سوال نمبر ( 14 ).

واللہ اعلم .
 

ابو حسن

رکن
شمولیت
اپریل 09، 2018
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
90


نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بہت سارى احاديث ميں ٹخنوں سے نيچے كپڑا ركھنے سے منع فرمايا ہے ان احاديث ميں سے چند ايك احاديث درج ذيل ہيں:

صحيح بخارى ميں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" چادر كا جو حصہ ٹخنوں سے نيچے ہے وہ آگ ميں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5787 ).

اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان اس طرح ہے:

" روز قيات اللہ تعالى تين قسم كے افراد كى جانب نہ تو ديكھے گا اور نہ ہى انہيں پاك كريگا، اور انہيں دردناك عذاب ہو گا، ان ميں ايك تو ٹخنوں سے نيچے كپڑا ركھنے والا ہے، اور دوسرا احسان جتلانے والا، اور تيرا اپنا سامان جھوٹى قسم سے فروخت كرنے والا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 106 ).

اور ايك حديث ميں فرمان نبوى اس طرح ہے:

" قميص اور پگڑى اور تہ بند ميں اسبال ہے، جس نے بھى اس سے كچھ بھى تكبر كے ساتھ لٹكا كر كھينچا اللہ تعالى روز قيامت اس كى جانب نہيں ديكھےگا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4085 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 5334 ) صحيح سند كے ساتھ مروى ہے.

اور ايك حديث ميں نبىكريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ٹخنوں سے نيچے چادر لٹكانے والے كى طرف اللہ تعالى نہيں ديكھےگا "

نسائى كتاب الزينۃ باب اسبال الازار حديث نمبر ( 5332 ).

اور حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميرى يا اپنى پنڈلى كے عضل ( گوشت والا حصہ ) كو پكڑ كر فرمايا:

" چادر كى يہ جگہ ہے، اگر تم انكار كرو تو پھر اس سے نيچے، اور اگر اس سے بھى انكار كرو تو پھر چادر كو ٹخنوں ميں كوئى حق نہيں ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1783 ) ترمذى نے اسے حسن صحيح كہا ہے.

اوپر جتنى بھى احاديث گزرى ہيں وہ ٹخنوں سے كپڑا نيچے ركھنے كى ممانعت ميں عام ہيں، چاہے اس كا مقصد تكبر ہو يا نہ ہو، ليكن اگر مقصد تكبر ہو تو بلا شك گناہ اور جرم زيادہ ہو گا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے اپنى چادر تكبر سے نيچے ركھ كر كھينچى تو اللہ تعالى اس كى جانب نہيں ديكھےگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5788 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2087 ).

اور ايك حديث ميں ہے جابر بن سليم رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے فرمايا:

" تم چادر ٹخنوں سے نيچے ركھنے بچا كرو، كيونكہ يہ چيز تكبر ميں سے ہے، اور اللہ تعالى تكبر كو پسند نہيں كرتا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2722 ) اسے ترمذى نے صحيح قرار ديا ہے.

پھر يہ بھى ہے كہ انسان اپنے آپ كو تكبر سے برى نہيں كر سكتا چاہے وہ اس كا دعوى بھى كرے تو بھى اس سے قبول نہيں كيا جائيگا كيونكہ يہ اس كا خود اپنى جانب سے تزكيہ نفس ہے، ليكن جس كے متعلق اس كى گواہى وحى نے دى تو وہ ٹھيك ہے، جيسا كہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى اپنا كپڑا تكبر سے كھينچا اور لٹكايا تو اللہ تعالى روز قيامت اسے ديكھے گا بھى نہيں "

تو ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: ميرى چادر ڈھيلى ہو جاتى ہے، ليكن ميں اس كا خيال ركھتا ہوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

" يقينا تم ان ميں سے نہيں جو اسے بطور تكبر كرتے ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5784 ).

ٹخنوں سے نيچے كپڑا اور چادر يا سلوار وغيرہ ركھنا چاہے وہ تكبر كى بنا پر نہ بھى ہو يہ بھى منع ہے، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مسلمان كا لباس نصف پنڈلى تك ہے، نصف پنڈلى اور ٹخنوں كے درميان ہونے ميں كوئى حرج نہيں، اور جو ٹخنوں سے نيچے ہو وہ آگ ميں ہے، اور جس نے بھى اپنا كپڑا تكبر سے كھينچا اللہ تعالى اس كى جانب ديكھے گا بھى نہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4093 ) اس كى سند صحيح ہے.

دونوں حديثوں ميں مختلف عمل بيان ہوا ہے، اور اس كى سزا بھى مختلف بيان كى گئى ہے.

اور امام احمد نے عبد الرحمن بن يعقوب سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں ميں نے ابو سعيد رضى اللہ تعالى عنہ سے دريافت كيا: كيا آپ نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے چادر كے متعلق كچھ سنا ہے ؟

تو انہوں نے فرمايا: جى ہاں سنا ہے، تم بھى اسے معلوم كر لو، ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا:

" مومن كا لباس اس كى آدھى پنڈليوں تك ہے، اور اس كے ٹخنوں اور نصف پنڈليوں كے درميان ركھنےميں كوئى حرج نہيں، اور جو ٹخنوں سے نيچے ہو وہ آگ ميں ہے، آپ نے يہ تين بار فرمايا "

اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس سے گزار تو ميرى چادر ڈھيلى ہو كر نيچے ہوئى ہوئى تھى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" اے عبد اللہ اپنى چادر اوپر اٹھاؤ، تو ميں نے اسے اوپر كر ليا، پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اور زيادہ كرو، تو ميں نے اور اوپر كر لى.

اس كے بعد ميں ہميشہ اس كا خيال ركھتا ہوں، لوگوں ميں سے كسى نے دريافت كيا: كہاں تك ؟ تو عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كہنے لگے: آدھى پنڈليوں تك "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2086 ) كتاب الكبائر للذھبى ( 131 - 132 ).

تو اسبال جس طرح مردوں ميں ہے اسى طرح عورتوں ميں بھى ہو گا، جس كى دليل ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى درج ذيل حديث ہے:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى اپنا كپڑا تكبر كے ساتھ كھينچا اللہ تعالى اس كى جانب نہيں ديكھےگا "

تو ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: تو پھر عورتيں اپنے چادروں كا كيا كريں ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" وہ ايك بالشت نيچے لٹكا ليا كريں "

ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں: اس طرح تو عورتوں كے پاؤں نظر آيا كرينگے.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" وہ ايك ہاتھ نيچے لٹكا ليا كريں، اس سے زيادہ نہيں "

سنن نسائى كتاب الزينۃ باب ذيول النساء.

اور ہو سكتا ہے تكبر كرنے والے كو آخرت سے قبل اس كى سزا دنيا ميں بھى مل جائے، جيسا كہ درج ذيل حديث ميں بيان ہوا ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ايك شخص تكبر كے ساتھ اتراتا ہوا اپنى دو چادروں ميں چلا جا رہا تھا اور اسے اپنا آپ بڑا پسند اور اچھا لگا، تو اللہ تعالى نے اسے زمين ميں دھنسا ديا، تو وہ قيامت تك اس ميں دھنستا ہى چلا جائيگا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2088 ).

واللہ اعلم .
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,128
پوائنٹ
412
میں نے اس معاملے میں بڑی شدت دیکھی ہے ۔ اس کا التزام بہت زیادہ نظر آتا ہے ۔
اور میں نے اس تعلق سے بہت سستی دیکھی ہے۔ اولا لوگ اس کا اہتمام نہیں کرتے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ٹخنہ سے اوپر ازار رکھو تو حیلہ کرتے ہیں اس کو تکبر کے ساتھ معلق کرتے ہیں۔
صرف لوگوں کو یہ یاد رہ گیا ہے کہ ٹخنوں سے اوپر لباس ہوناچاہیے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی احادیث ہیں جن پر عمل تو کیا صرف نظر بھی نہیں ہوتی ۔
لوگوں کو سب یاد ہے بس تذکیر کرانے کی ضرورت ہے۔
بے شک نبی ﷺ کی اور بھی احادیث ہیں اور ہمارے اوپر سب پر عمل کرنا واجب ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایک حدیث پر عمل نہیں کر رہا ہے تو سب احادیث کو چھوڑ دے؟؟؟ اگر کوئی کسی ایک مسئلہ میں سستی کا شکار ہے تو اس کو سمجھانا چاہئے نا کہ اس پر طعنہ زنی کرکے اسے دوسری احادیث کے ترک پر ابھارنا چاہئے۔
میرا علم تو محدود ہے آپ علم والے ہیں ۔ میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے مجھے دین میں عبادات سے زیادہ اخلاقیات پرزور نظر آیا ہے۔ کسی عبادت کے بارے میں نہیں فرمایا کہ آخرت میں میرے قریب ہوگا صرف اچھے اخلاق کا ذکر کیا ہے۔ اور یہ ارشاد کہ "میں اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا ہوں۔"۔
کیا آپ نے نماز کے متعلق احادیث نہیں سنیں؟؟؟ کہ کل قیامت کے دن سب سے پہلے صلاۃ کے متعلق سوال ہوگا؟؟؟
دین میں اخلاق کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین صرف اخلاقیات کا نام ہے۔
اس لمبی تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ کپڑا نیچے کرنا دوزخ میں جانے کا باعث بننا اس لئے میری سمجھ میں نہیں آرہا۔

میں حدیث پر اعتراض نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ جو مفہوم اخذ کر رہے ہیں وہ سمجھنے سے قاصر ہوں ۔
میرے بھائی مجھے تو سمجھ میں آرہا ہے! میں بھی احادیث کا مفہوم بیان کر رہا ہوں۔ اور آپ احادیث کو لوگوں کے عمل سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لوگوں کیلے عمل کی بنا پر احادیث کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔
 
Top