• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پانچ نعمتوں کو پانچ محرومیوں سے پہلے غنیمت جانو

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
916
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
پانچ نعمتوں کو پانچ محرومیوں سے پہلے غنیمت جانو
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ان نعمتوں کی قدر اس وقت تک نہیں کرتے جب تک وہ ان کے ہاتھ سے نکل نہ جائیں۔ جوانی میں بڑھاپے کا خیال نہیں آتا، صحت کی حالت میں بیماری کی شدت محسوس نہیں ہوتی، مال داری میں محتاجی کا اندیشہ دل پر غالب نہیں ہوتا، فراغت میں مصروفیت کا اندازہ نہیں ہوتا، اور زندگی کی مہلت میں موت کی آمد سے غفلت برتی جاتی ہے۔ یہی انسان کی بڑی کوتاہی ہے کہ وہ حاصل شدہ نعمتوں کو دائمی سمجھ بیٹھتا ہے، حالاں کہ دنیا کی ہر نعمت فانی اور ہر مہلت محدود ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی:

«اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاءَكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»

’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مال داری کو اپنی محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔‘‘

[المستدرك على الصحيحين للحاکم، حدیث: ٧٨٤٦، وسنده حسن]

13285.jpg

13283.jpg

یہ حدیث اپنے مختصر الفاظ کے باوجود ایک مسلمان کی پوری زندگی کے لیے جامع نصیحت اور اس کے اوقات و اعمال کی اصلاح کا عظیم اصول اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان کو فائدہ اٹھانے کا موقع تو حاصل ہوتا ہے، مگر غفلت اور کوتاہی کے سبب وہ ان کے حقیقی نفع سے محروم رہ جاتا ہے۔

پہلی نصیحت: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو

جوانی انسان کی زندگی کا وہ قیمتی دور ہے جس میں جسمانی قوت، ذہنی استعداد، عمل کی صلاحیت اور بہت سے کاموں کے انجام دینے کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ اس عمر میں انسان اگر علم نافع حاصل کرے، قرآن و سنت کا علم سیکھے، عبادت، اطاعت و جہاد کرے، اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح کرے اور نیکی کے کاموں میں آگے بڑھے، تو یہ کوششیں اس کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

لیکن بہت سے لوگ جوانی کو کھیل کود، لہو و لعب، خواہشات کی پیروی اور دنیا کی بے فائدہ مشغولیات میں ضائع کر دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ابھی عمر بہت پڑی ہے، بعد میں توبہ کر لیں گے، بعد میں نمازوں کی پابندی شروع کر دیں گے، بعد میں علم حاصل کریں گے اور بعد میں نیک اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے۔

یہ محض ایک فریب ہے؛ کیوں کہ کسی انسان کو معلوم نہیں کہ اسے بڑھاپا نصیب بھی ہوگا یا نہیں۔ کتنے ہی لوگ جوانی ہی میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور کتنے ہی لوگ بڑھاپے میں اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ وہ بہت سے کام کرنا چاہتے ہوئے بھی نہیں کر پاتے۔

لہٰذا عقلمند وہ نہیں جو جوانی کی قوت پر مغرور ہو، بلکہ عقلمند وہ ہے جو اس قوت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ایسے نیک اعمال میں صرف کرے جو اس کے لیے مرنے کے بعد بھی نفع بخش ہوں۔

جوانی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس لیے اس کے متعلق جواب دہی بھی ہوگی۔ مسلمان کو چاہیے کہ اپنی جوانی میں علم حاصل کرے، فرائض کی پابندی کرے، حرام سے بچے، اللہ کی راہ میں جہاد کرے، حلال روزی کمائے اور اپنی صلاحیتوں کو خیر کے کاموں میں استعمال کرے۔

دوسری نصیحت: صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو

صحت بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ انسان جب تندرست ہوتا ہے تو نماز، روزہ، تلاوت قرآن، حصول علم، کسب معاش، اہل و عیال کی خدمت اور دشمن اسلام کے خلاف قتال آسانی سے انجام دے سکتا ہے۔ لیکن جب بیماری آتی ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ صحت کے زمانے میں اسے کتنی بڑی نعمت حاصل تھی۔

بسا اوقات انسان عبادت کرنا چاہتا ہے لیکن بیماری اس کی طاقت چھین لیتی ہے؛ سفر کرنا چاہتا ہے مگر جسم ساتھ نہیں دیتا؛ قرآن پڑھنے اور علم حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے مگر تکلیف اسے مشغول کر دیتی ہے۔ یوں صحت کے زمانے میں کیے جانے والے بہت سے کام بیماری کے وقت دشوار ہو جاتے ہیں۔

اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ صحت کو غفلت اور نافرمانی میں ضائع نہ کرے، بلکہ اسے عبادت، خدمت خلق، حصول علم اور دین کی سربلندی میں صرف کرے۔

صحت کی قدر کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان اپنے جسم کی حفاظت کرے، بلکہ اس کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے جسمانی اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچائے۔ آنکھوں کو حرام سے، زبان کو جھوٹ اور غیبت سے، کانوں کو ناجائز امور سے اور ہاتھ پاؤں کو گناہوں سے محفوظ رکھے۔

یاد رکھیے! جس جسم کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کی قوت عطا کی ہے، اسے اسی کی نافرمانی میں استعمال کرنا نعمت کی ناقدری ہے۔ لہٰذا تندرستی کے دنوں کو غنیمت سمجھیے، اس سے پہلے کہ بیماری انسان کی قوت اور فرصت کو محدود کر دے۔

تیسری نصیحت: مال داری کو محتاجی سے پہلے غنیمت جانو

مال و دولت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ مال بذات خود نہ قابل مذمت ہے اور نہ ہر حال میں قابل تعریف؛ بلکہ اس کا حکم اس بات کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے کہ اسے کس طرح حاصل کیا گیا اور کہاں خرچ کیا گیا۔

اگر مال حلال طریقے سے حاصل کیا جائے، اس میں سے زکوٰۃ ادا کی جائے، اہل و عیال کے حقوق پورے کیے جائیں، محتاجوں کی مدد کی جائے اور جہاد کے لیے خرچ کیا جائے، تو یہی مال آخرت کے لیے نفع بخش بن سکتا ہے۔ لیکن اگر مال حرام طریقے سے جمع کیا جائے، اس کے حقوق ادا نہ کیے جائیں، یا اسے تکبر اور گناہ کے کاموں میں استعمال کیا جائے، تو یہی مال وبال کا سبب بن سکتا ہے۔

بعض لوگ مال داری کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق سے غافل رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی دولت ہمیشہ باقی رہے گی، ان کا کاروبار ہمیشہ ترقی کرتا رہے گا اور انہیں کبھی محتاجی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ حالاں کہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ آج جو شخص صاحب ثروت ہے، کل وہ محتاج ہو سکتا ہے؛ آج جس کے پاس فراوانی ہے، کل اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پس مال داری کو غنیمت جاننے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی دولت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق استعمال کرے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرے، قرض داروں کے حقوق ادا کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ و خیرات کرے۔

مال کا حقیقی فائدہ صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اسے صحیح طریقے سے حاصل کرنے اور صحیح جگہ خرچ کرنے میں ہے۔ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انسان کی جمع شدہ دولت اس کے پاس نہیں رہتی؛ البتہ اس مال سے کیے گئے نیک اعمال کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں باقی رہ سکتا ہے۔

لہٰذا مال داری کی حالت میں نیکی کے مواقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیجیے، اس سے پہلے کہ محتاجی انسان کو بہت سے کاموں سے عاجز کر دے۔

چوتھی نصیحت: فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو

وقت انسان کی زندگی کا نہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ دنیا کی بہت سی نعمتیں ضائع ہو جانے کے بعد دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن جو وقت گزر گیا، وہ کسی صورت واپس نہیں آتا۔

انسان کبھی فارغ ہوتا ہے، کبھی مصروف؛ کبھی اسے علم حاصل کرنے کا موقع میسر ہوتا ہے، کبھی معاشی ذمہ داریاں اسے گھیر لیتی ہیں؛ کبھی صحت، فرصت اور سکون میسر ہوتے ہیں، اور کبھی اہل و عیال، ملازمت، کاروبار اور دیگر ذمہ داریاں اس کی توجہ تقسیم کر دیتی ہیں۔

افسوس کہ بہت سے لوگ فراغت کے زمانے میں بھی اپنے اوقات کو بے فائدہ مشاغل میں ضائع کرتے رہتے ہیں۔ گھنٹوں موبائل استعمال کرتے ہیں، فضول گفتگو میں وقت گزارتے ہیں، بے مقصد تفریحات میں مصروف رہتے ہیں، لیکن جب علم حاصل کرنے، قرآن پڑھنے، عبادت کرنے یا کسی مفید کام کو انجام دینے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں کہ فرصت نہیں ہے۔

یہ انسان کی بڑی محرومی ہے کہ فرصت میسر ہونے کے باوجود وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اور جب مصروفیات بڑھ جاتی ہیں تو اسے اپنے ضائع کیے ہوئے وقت کا احساس ہوتا ہے۔

فراغت کو غنیمت جاننے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت کسی کام میں مشغول ہی رہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنے وقت کو حکمت اور اعتدال کے ساتھ استعمال کرے۔ عبادت، حصول علم، اہل و عیال کے حقوق، حلال روزگار، جسمانی آرام اور جائز تفریح، ہر ایک کے لیے مناسب وقت مقرر کرے۔

ایک مسلمان کو چاہیے کہ روزانہ اپنے اوقات کا جائزہ لے اور اپنے آپ سے سوال کرے: آج میں نے کیا سیکھا؟ کون سا نیک عمل انجام دیا؟ کس گناہ سے بچا؟ کس انسان کو فائدہ پہنچایا؟

اگر انسان روزانہ اپنے وقت کا کچھ حصہ بھی علم نافع، ذکر و عبادت اور اصلاح نفس کے لیے مختص کر لے تو رفتہ رفتہ اس کی زندگی میں خیر و برکت پیدا ہو سکتی ہے۔

وقت کی قدر کرنے والا شخص اپنی زندگی کو مقصد کے ساتھ گزارتا ہے، جب کہ غفلت میں مبتلا شخص اپنی عمر کے قیمتی لمحات ضائع کرنے کے بعد حسرت کرتا رہ جاتا ہے۔

پانچویں نصیحت: زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو

یہ پانچوں نصیحتوں میں سب سے جامع اور سب سے زیادہ غور و فکر کی دعوت دینے والی نصیحت ہے؛ کیوں کہ پہلی چاروں نعمتیں بھی اسی زندگی کے اندر حاصل ہوتی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی اسی وقت تک رہتا ہے جب تک انسان زندہ ہے۔

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی انسان کو مفر نہیں۔ مال دار ہو یا فقیر، حاکم ہو یا محکوم، عالم ہو یا جاہل، جوان ہو یا بوڑھا، ہر شخص کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے، جب کہ آخرت کی زندگی اصل اور دائمی زندگی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔‘‘ [آل عمران: 185]

یہ آیت ہر انسان کو یاد دلاتی ہے کہ دنیا میں اس کا قیام ہمیشہ کے لیے نہیں۔ جو شخص آج زندہ ہے، اسے کل کی زندگی کی ضمانت حاصل نہیں؛ لہٰذا اسے چاہیے کہ موت سے پہلے اپنی آخرت کی تیاری کر لے۔

زندگی کا حقیقی فائدہ صرف کھانے پینے، مال جمع کرنے، گھر بنانے، کاروبار بڑھانے اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ ان تمام جائز امور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور آخرت کی تیاری میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ [الذاریات: 56]

پس زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، اور عبادت صرف نماز، روزہ اور ذکر ہی کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق انجام دیا جانے والا ہر جائز اور نیک عمل، جب اس میں درست نیت اور شرعی حدود کی پابندی موجود ہو، باعث اجر بن سکتا ہے۔

حلال روزی کمانا، اہل و عیال کی کفالت کرنا، قرض ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، مسلمانوں کے حقوق ادا کرنا، کافروں کو نیست و نابود کرنا بھی نیکی کے کام ہیں۔

موت سے پہلے زندگی کو غنیمت جاننے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے کی اصلاح کرے، توحید کو مضبوطی سے تھامے، شرک و بدعت اور گناہوں سے بچے، فرائض کی پابندی کرے، حقوق العباد ادا کرے اور اگر کسی گناہ میں مبتلا ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے۔

انسان کو اس بات پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بڑھاپے میں توبہ کر لے گا، ریٹائرمنٹ کے بعد عبادت شروع کر دے گا، یا زندگی کے آخری ایام میں نیک اعمال کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ کتنے ہی لوگ اپنے ارادوں کو پورا کرنے سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

لہٰذا جس شخص کو آج زندگی کی مہلت حاصل ہے، اسے چاہیے کہ اس مہلت کو غنیمت سمجھے، نیکی میں جلدی کرے اور موت آنے سے پہلے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

اے مسلمان! اپنے دل سے سوال کر کہ تیری عمر کے قیمتی ایام کہاں صرف ہو رہے ہیں؟ تیری جوانی کس کام میں گزر رہی ہے؟ تیری صحت کن مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے؟ تیرے مال کا بڑا حصہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ تیری فراغت کن مشاغل کی نذر ہو رہی ہے؟ اور تیری زندگی تجھے آخرت کے کس مقام کی طرف لے جا رہی ہے؟

اگر انسان ان سوالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو اسے اپنی زندگی کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہوگی۔ عقل مند وہ نہیں جو صرف دنیاوی کامیابیوں کے حصول میں مصروف رہے، بلکہ عقل مند وہ ہے جو دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھے اور اپنی زندگی کے ہر مرحلے سے حتی المقدور فائدہ اٹھائے۔

ہمیں چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جامع نصیحت کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ جوانی میں علم و عمل کا اہتمام کریں، صحت میں عبادت و خدمت کو بڑھائیں، مال داری میں حقوق ادا کریں، فراغت میں مفید کام انجام دیں اور زندگی کی ہر سانس کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائیں۔

یاد رکھیے! جو وقت گزر گیا، وہ واپس نہیں آئے گا؛ جو جوانی ڈھل گئی، وہ دوبارہ نہیں ملے گی؛ جو صحت رخصت ہو گئی، اس کی واپسی یقینی نہیں؛ جو مال ہاتھ سے نکل گیا، اس کے لوٹ آنے کی ضمانت نہیں؛ اور جو زندگی ختم ہو گئی، اس میں عمل کرنے کا موقع باقی نہیں رہتا۔

اس لیے توبہ میں تاخیر نہ کیجیے، نیکی کو کل پر نہ ٹالیے، فرائض کی ادائیگی میں سستی نہ کیجیے اور اپنی زندگی کو بے مقصد مشاغل میں ضائع نہ ہونے دیجیے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنے، اوقات کو نیکی میں صرف کرنے، کتاب و سنت پر عمل کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور موت سے پہلے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری زندگی کو اپنی اطاعت میں گزارنے اور خاتمہ ایمان پر فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top