• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان، امارت، ٹی ٹی پی اور موجودہ صورتحال - ایک جائزہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
پاکستان، امارت، ٹی ٹی پی اور موجودہ صورتحال - ایک جائزہ

از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ

(پہلی قسط)​

پشتو میں کہتے ہیں کہ چالاک چڑیا نہیں پھستی لیکن جب پھنستی ہے تو دونوں ٹانگوں سے پھنستی ہے، یہ ضرب المثل پاکستان پر بلکل سو فیصد صادق آئی ہے کہ افغانستان اور انڈیا میں شدت ہسندی ایکسپورٹ کرتے کرتے یہ خود اسی شدت پسندی کے ہاتھوں ایسی صورتحال سے دوچار ہوگیا کہ حیران و پریشان ہے کہ اس سے نکلوں تو کیسے نکلوں اور اس کا حل نکالوں تو کیا حل نکالوں، اس کشمکش میں ہاتھ پاوں مارنے کے باوجود وہ بدامنی کی دلدل میں یہ ملک آہستہ آہستہ دھنستا چلا جارہا ہے۔

بی ایل اے، بی ایل ایف یا آئی ایم پی وغیرہ تو بعد کی بات ہے فی الحال صرف ٹی ٹی پی کی بات کریں جو افغانستان میں مستحکم ہوکر اب پاکستان کےلئے ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر رہی ہے۔

ٹی ٹی پی پاکستان کی ناک کے نیچے بلکہ خود پاکستان کی ہی مدد اور اجازت سے کیسے وجود میں آئی اور کیسے مضبوط ہوئی یہ الگ کہانی ہے جس کو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اصل موضوع اس کے زوال اور زوال کے بعد حالیہ عروج پر گفتگو کرتے ہیں کہ کیسے یہ دن توڑنے کی حالت تک پہنچ کر دوبارہ زندہ ہوئی۔

ٹی ٹی پی کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب اس کا بانی اور پہلا امیر بیت اللہ محسود مارا گیا بیت اللہ کے دور میں تنظیم انتہائی منظم طاقتور اور متحد تھی کسی کو اختلاف یا دھڑے بندی کی جرات نہیں تھی لیکن بیت اللہ کے مارے جانے کے ساتھ ہی قیادت پر اختلاف سامنے آگیا جو کہ دراصل دو نظریات (اعتدال پسند جمیعتی حیاتی دھڑا) اور (انتہا پسند سلفی و اشاعتی دھڑا) کا تصادم تھا، جمیعتی دھڑے کی قیادت ولی الرحمن کر رہا تھا اس کو امارت اور حقانی کی پشت پناہی میسر تھی جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت حکیم اللہ کر رہا تھا جس کو سعید خان اس کے ساتھیوں کرم اورکزئی اور خیبر وغیرہ سے حمایت حاصل تھی۔

بہرحال اختلاف اور اونچ نیچ ہوئی لیکن حکیم اللہ محسود بلآخر امیر بن تو گیا لیکن تحریک میں شامل جمیعت کے ٹولے (محسود ارکان) نے حکیم اللہ کو پنج پیری وہابی اور شدت پسند قاتل وغیرہ قرار دے کر اس کی قیادت قبول کرنے سے انکار کر دیا بظاہر وہ اس کا اعلان نہیں کرتے تھے لیکن در پردہ وہ مکمل طور پر الگ تھے اور اس کشمکش کی وجہ سے تنظیم 4 سال تک مفلوج رہی اوپر سے تنظیم کے خودکش یونٹ کے قائد اور سب سے خطرناک رہنما قاری حسین کے مارے جانے سے اس کے خودکش یونٹ اور قبائل سے باہر موجود نیٹ ورک کا بھی دھڑن تختہ ہوگیا اور وہ قبائل سے باہر حملوں کی صلاحیت مکمل طور پر کھو بیٹھے۔

ایسے میں کچھ عرصے بعد حکیم اللہ بھی مارا گیا اور قیادت فضل اللہ جیسے نکمے نالائق آدمی کے ہاتھ آئی تو تنظیم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی
محسود (جمیعتی) دھڑے نے خالد محسود سجنا کی قیادت میں تحریک کو علماء کا دشمن غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار کہہ کر راستے جدا کئے اور کہا کہ ہم صرف امارت کو مانتے ہیں
اورکزئی اور کرم او بعض خیبر کے ارکان نے حافظ سعید خان کی قیادت میں دولہ کی بیعت کر لی
مھمند پہلے ہی جماعت الاحرار کے نام پر دھڑے بندی کئے ہوئے تھے اور محسود سے جمیعت گروپ کے باغی ایک بڑے دھڑے نے پاکستانی فوج کے آگے سرینڈر کرلیا تھا اوپر سے اس انتہائی سخت ماحول میں اپریشن ضرب عضب نے ان کو بھگا بھی دیا اور یہ اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوکر افغانستان بھاگ گئے۔

افغانستان میں یہ سب دھڑے الگ الگ طور پر رہ رہے تھے نہ مالیات کا کوئی سبب تھا نہ نئی بھرتی تھی اور اوپر سے امریکی ڈرون بھی سر پر منڈلا رہے تھے۔ صرف ٹی ٹی پی نہیں حافظ گل بہادر بھی اسی حالت کا شکار تھا اور وہ بھی انتہائی بدتر حالت میں پکتیکا اور خوست کی طرف فرار ہوئے تھے۔

اب یہ ایسا موقع تھا جس میں پاکستان ان پر حتمی ضرب لگا کر ہمیشہ کےلئے اس مسئلے کا خاتمہ کر سکتا تھا۔

کیوں اور کیسے ؟

قبائل اور افغانستان کی فضاوں میں دہشت کی علامت بنے اِنتہائی خطرناک امریکی ڈرونز نے ٹی ٹی پی گل بہادر اور دیگر گروپس کو مفلوج کیا ہوا تھا اور وہ ان کو چن چن کر نشانہ بنا رہا تھا جس سے ان تنظیموں میں قیادت کا بہت بڑا خلاء ہر وقت بنا رہتا۔

افغانستان کی حکومت نے اگرچہ لسانی یکجہتی اور پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے ان گروپس کو پناہ دی تھی اور این ڈی ایس کچھ مدد بھی کر رہی تھی لیکن مجموعی طور پر وہ شدت ہسندی کو پسند نہیں کرتے تھے وہ خود دہائیوں سے اسی سانپ کے ڈسے ہوئے تھے اس لئے وہ اس پر نہ زیادہ اعتبار کرتے تھے نہ زیادہ سر چڑھاتے تھے۔

اس وقت پاکستان کے پاس امارت والے کوئٹہ اور پشاور میں پناہ گزین کی حیثت سے رہ رہے تھے اگر پاکستان افغان حکومت سے کچھ لو اور دو کی بنیاد پر سودے بازی کر لیتا بیشک وہ امارت کے بڑوں کو ان کے حوالے نہ کرتا صرف ان کو امریکہ سے الگ براہ راست افغان حکومت سے مذاکرات پر ہی مجبور کرتا ( یہ افغان حکومت کا بہت مرکزی مطالبہ تھا ) تو افغان حکومت ٹی ٹی پی اور گل بہادر کو پاکستان سے مصالحت پر مجبور کرتی اور اگر اس سخت دور میں ان پر افغان حکومت کا ہلکا سا بھی دباو آتا تو وہ پاکستان کے اگے سرینڈر کو ترجیح دیتے اور سرینڈر کر کے کوئی معاہدہ قبول کر لیتے اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو افغان حکومت افغانستان میں ہی امریکی ڈرون یا کسی اور ذریعے سے کچل دیتی۔

یہ فیصلہ کن وقت تھا لیکن پاکستان نے یہ نازک موقع ضائع کر کے ایسی بھیانک غلطی کر دی جس نے اب اس کا مستقبل ہی داو پر لگا دیا ہے۔

(جاری ہے)
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
(دوسری قسط)​

پاکستان کو اس وقت روایتی کیڑا کاٹ رہا تھا کہ میں افغانستان میں امارت کی حکومت قائم کروں گا تو یہ ملا عمر حکومت کی طرح میری دوست ہوگی اور پھر سب سے پہلے یہ ٹی ٹی پی پھر گل بہادر پھر دیگر پاکستان مخالفین کو ختم کرے گی اور یوں افغانستان کی گلیوں میں آئی ایس آئی والے کھلے گریبان کے ساتھ گھومتے پھرتے کباب کھائیں گے۔

اس موقع پر یہ نالایق اور ڈفر اتنی چیختی چنگاڑتی حقیقیتیں بھول گئے تھے کہ امارت کھبی بھی ہمارے لئے ٹی ٹیپی کو ناراض نہیں کرے گی اور امارت اور ٹی ٹی پی کا اتنا قریبی تعلق ہے جس کو ختم کرنا خود دونوں تنظیموں کے قائدین کےلئے بھی ممکن نہیں کیونکہ نچلے درجے کے ارکان اس قدر ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اگر ان کے قائدین راستے جدا بھی کرنا چاہیں تو اپنے قائدین کے خلاف بھی بغاوت کر دیں گے یہ دونوں تنظییں حنفیت، ماتریدیت، دیوبندیت، پشتون ولی، افغانیت اور لسانی و ثقافتی بھائی چارے میں ایک دوسرے میں ایسے پیوست ہیں کہ ان کو الگ کرنا ممکن نہیں ہے
اس کے ساتھ ساتھ ہر افغان اور خاص کر امارت کے نچلے درجے کے ارکان پاکستان سے شدید نفرت کرتے ہیں اور پختونخوا اور قبائل میں پنجاب کے خلاف موجود نفرت بھی ان دونوں کو ایک کڑی میں جوڑتی ہے۔

خیر پاکستانی ڈفرز نے امارت کی مدد اور افغانستان کی جمہوری حکومت کو کمزور کرنے کی سازش بھرپور انداز میں جاری رکھی ایسے میں اگر کوئی پاکستان کے چمچوں سے کہتا کہ خیال رکھو ایسا نہ ہو کہ امارت کو حکومت ملنے کے بعد تمھاری پتلونیں قبائل کے پہاڑوں میں رہ جائے تو یہ آگے سے قہقہے گا کر اس کو جاہل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔

ان کے چمچے کڑچے پی ٹی ایم اور بلوچوں کو بھی دھمکیاں دیتے تھے کہ بیٹا بس ایک بار افغانستان کی حکومت کو گرنے دو اور وہاں طالبان کو آنے دو پھر ہم تمھیں بتائیں گے آٹے چاول کا بھاو اوپر ہوں گے طالبان نیچے ہوں گے ہم پاکستان اور درمیان میں ہوگا تمھارا بھرکس نکلا ہوا انجام۔

پاکستان ابھی اسی ڈگر پر چل ہی رہا تھا اور وہاں عالمی حالات تیزی سے پلٹا کھا چکی تھی اور عالمی سیاست کا بادشاہ امریکہ ایک بڑا یوٹرن لینے والا تھا اور اس یوٹرن کی وجہ تھی دولہ (داعش) کا ظہور اور مضبوطی۔

جب دولہ نے اچانک شام کے تمام گروپس بشمول کرد و بشار الاسد اور عراق کی مضبوط فوج بشمول شیعہ ملیشات کو تہس نہس کرتے ہوئے عراق و شام کے بڑے حصے پر اپنا پرچم لہرایا اور سرحدوں کو ملیآمیٹ کر دیا اور عراق و شام کے ساتھ ساتھ لیبیا، یمن، افریقہ، فلپائین، افغانستان اور خود یورپ و امریکہ کے اندر دولہ نے امریکہ یورپ اور اس کے اتحادیوں کے سارے طبق روشن کر دئے اور ان کو ایسی جنگوں کا مزاہ چھکایا جو نہ انہوں نے دیکھا تھا نہ سنا تھا نہ کتابوں میں پڑھا تھا تو وہ بوکھلا گئے۔

اوپر سے خلافت کے نام، سونے کی کرنسی کے اجراء اور سرحدوں کے خاتمے نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی اور وہ دولہ پر پوری قوت اور وحشت سے ٹوٹ پڑے۔ یوں تو انہوں نے وحشیانہ فضائی حملوں سے شام و عراق سے ان کے مرکز اور حکومت کا خاتمہ کر دیا لیکن موصل کی 9 ماہ کی جنگ نے ان کو بد حواس کر دیا تھا اور پھر شام کے ایک ایک گاوں کے لئے دولہ کی مزاحمت نے ان کو لوہے کے چنے چبوا دئے انہوں نے اس سے قبل اس قدر خطرناک تربیت یافتہ موت کے حریص اور بلا کے جنگجو کبھی نہیں دیکھے تھے حتی کہ اسامہ بن لادن بھی ان کے مقابلے میں اچھا خاصہ اعتدال پسند نظر آتا تھا اور امریکیوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے جن کو دہشت گرد کہہ کہہ کر کچلا تھا وہ دراصل اتنے برے نہیں تھے لیکن ان کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی اصل دہشتگرد تو یہ ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو ایک اور تجربہ حاصل ہوا اور وہ یہ کہ شام و عراق کی جنگ میں جس طرح شیعہ ملیشیات اور سنی جہادی تنظیمیں دولہ کے خلاف لڑی اور قربانیاں دی اس سے امریکیوں کو ایک بات کا احساس ہوگیا کہ اس عفریت کو اگر کوئی کنٹرول کر سکتا ہے تو وہ کوئی فوج نہیں بلکہ تنظیمیں ہیں، اور تنخواہ پر لڑنے والی فوج کبھی بھی عقیدے پر لڑنے والی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

بس یہی سے امریکیوں نے عقیدے کے مقابلے میں عقیدہ اور نظرئے کے مقابلے میں نظریہ اتارنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے شام میں یہ ماڈل آزمایا گیا اور جب جولانی اور دیگر جہادیوں نے ادلب اور شمالی شام سے دولہ کا صفایا کیا تو امریکیوں کو یقین آگیا کہ یہ کامیاب ترین پالیسی ہے ہھر وہ ہر جگہ دولہ مخالف تنظیموں سے رابطہ کرنے لگے اور یہی سے ان کی نظر ایک مضبوط منظم اور متفق تنظیم پر پڑی یعنی امارت اسلامی افغانستان۔

دراصل امریکہ کو شام و عراق کی مرکزی دولہ کے بعد اگر اس کی کسی ولایت سے سخت خطرہ درپیش تھا تو وہ خراسان کی ولایت تھی جو دن بدن طاقتور ہوتی جارہی تھی۔ زمین پر کنٹرول، پر پیچ پہاڑی درے اور علاقے، وافر اسلحہ اور دنیا بھر سے آنے والے ماہر مہاجر جنگجووں نے اس ولایت کو انتہائی خطرناک اور اہم بنا دیا تھا اسی لئے پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، روس، ازبکستان، چائنہ، تاجکستان اور دیگر ممالک سے بھی جنگجو اب اس کی طرف مسلسل متوجہ ہورہے تھے
امریکہ کو لگا کہ اگر اس ولایت کو کاونٹر نہیں کیا گیا تو ایک اور گیارہ ستمبر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اور اس بار معاملہ اور بھی زیادہ بھیانک ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف امارت نے جس طرح اب تک دولہ کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی تھی اس نے امریکیوں کو اب اس بات پر قائل کر لیا کہ خراسان ولایت کے خلاف امارت کو میدان میں اتارے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اگر خراسان میں کوئی ان کا راستہ روک سکتا ہے تو وہ صرف امارت ہے۔

یہی سے امارت اور امریکہ کے مابین قطر میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا اور اس مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان بھی پوری طرح شامل تھا گویا اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودنے کا حصہ تھا۔

(جاری ہے)
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
(تیسری قسط)​

دوحہ میں امریکہ اور امارت کے مذاکرات کے بعد امریکی اس بات کے قائل ہوتے چلے گئے کہ افغانستان میں امارت کو اقتدار سونپ دیا جائے جس کی بنیادی وجہ ان کا داعش کے خلاف انتہائی سخت موقف اور کامیابی تھی
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکیوں کو اس بات کا خطرہ نہیں تھا کہ امارت کی حکومت مستقبل میں امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ بھی بن سکتی ہے تو اس کا جواب ہے کہ نہیں انہوں نے مکمل جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا اور انہوں نے ایسا کیوں سوچا تھا اس کو سمجھنا ہوگا۔

دراصل اسلامی دنیا میں ایک جھوٹا پروہیگنڈا بنایا گیا ہے کہ امریکہ ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرتا جو اسلامی قوانین نافذ کرے جو کہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ نے سعودی عرب کی حکومت کو کیسے برداشت کیا ہوا ہے جہاں 95 فیصد اسلامی قوانین نافذ ہیں حتی کے عورتوں کو ڈرائیونگ تک کی اجازت نہیں تھی۔

امریکیوں کو کسی شرعی حکومت سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ان کو اصل میں مسئلہ اس حکومت سے ہے جو اس کی عالمی اجارہ داری کو چیلنج کرے، سرحدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، عالمی برادری اقوام متحدہ عالمی معاشی نظام کو قبول کرنے سے انکار کرے عالمی جہاد یا خلافت کی بات کرے، یہ سب امریکہ کی ریڈ لائنز ہیں اور ان کو عبور کرنے والوں کو امریکہ کبھی نہیں بخشتا۔

لیکن اگر آپ ان میں سے کسی ریڈ لائن کو عبور نہیں کرتے تو آپ نے بیشک شریعت نافذ کر رکھی ہو خود کو مجاہدین کہلواتے ہوں اسلام کے نعرے لگاتے ہو بلکہ امریکہ کو آنکھیں بھی دکھاتے ہو گالیاں اور دھمکیاں بھی دیتے ہو امریکہ کو آپ سے کوئی سروکار نہیں اور وہ آپ کی حکومت کو اپنا درد سر نہیں سمجھتا۔

اسی لئے امریکہ کو امارت کی پچھلی حکومت یعنی ملا عمر کی حکومت سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا نہ ہی امریکہ اس کو گرانا چاہتا تھا بلکہ وہ تو ملا عمر سے تجارت وغیرہ پر مذاکرات بھی کر رہا تھا اور دونوں کے مابین مذاکرات کے کئی دور بھی ہوئے تھے، امریکہ کو اصل مسئلہ اسامہ بن لادن اور اس کے عرب ساتھیوں سے تھا جو مسلسل اس کی ریڈ لائنز کو نہ صرف روند رہے تھے بلکہ ایک ایسی کشمکش میں تھے جس سے صاف واضح ہو رہا تھا کہ وہ کچھ ایسا بڑا کرنے والے ہیں جس سے جنگوں کے دروازے کھل جائیں اور دنیا بھر میں ایک معرکہ برپا ہوجائے (بعد میں گیارہ ستمبر کا حملہ کر کے وہ اس میں کامیاب ہوگئے)۔

تو اس لئے امریکہ نے جب بیس سال بعد امارت سے مذاکرات کئے اور ایک بار پھر ان کو اقتدار سونپنے پر غور کیا تو وہ اس سے پہلے ہی ڈرون کے ذریعے القاعدہ کی کمر توڑ چکے تھے اسامہ کے ساتھ ساتھ اس کی تمام اہم قیادت اور ماسٹر مائنڈز کا صفایا کرچکے تھے اور وہ نزع کی حالت میں اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی (بعد میں ظواہری کی ہلاکت سے اس نے دم توڑ دیا اور فوت ہوگئی)۔

تو امریکی جانتے تھے کہ اب اگر افغانستان میں امارت کی حکومت قائم ہو بھی گئی تو ایسی کوئی قوت موجود نہیں جو افغانستان کو استعمال کر کے امریکہ کے لئے خطرات پیدا کرے یا اس کی ریڈ لائنز کو کراس کرے۔

امریکہ کو نہ تو افغانستان سے کوئی دشمنی تھی نہ طالبان سے نہ ان کے نظام حکومت سے نہ ان کی داڑھی اور پگڑیوں سے بلکہ امریکہ کو مسئلہ یہ تھا کہ افغانستان کی سرزمین کو عالمی جہاد یا امریکہ پر حملوں کے لئے استعمال نہ کیا جائے اور یہاں ایسے لوگوں یا ایسی جماعت کو رہنے نہ دیا جائے جو عالمی نظام کو چیلنج کرنے یا امریکہ پر حملوں کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایسی صلاحیت یا تو داعش کے پاس تھی یا القاعدہ کے پاس، القاعدہ کی اس نے کمر توڑ دی تھی اور داعش کے ساتھ طالبان کی امریکہ سے بھی سخت دشمنی تھی اس لئے دونوں کا یہاں رہنے یا اس سرزمین کو استعمال کرنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکیوں کو یہ بھی احساس تھا کہ امارت نے بیس سال جو مشکلات برداشت کی ہیں اب دوبارہ کبھی کوئی غلطی نہیں کریں گے اور امارت نے بھی ان کو یقین دلایا کہ وہ اب زیادہ سیکولر، زیادہ اعتدال پسند، وطن پرستی پر مبنی سوچ کے حامل ہیں اور ایک ذمہ دار ملک کے طور پر عالمی برادری کا حصہ بننا چاہتے ہیں
اور آخری بات یہ کہ اگر امارت مستقبل میں اپنی بات سے پھر بھی جائے اور برا بچہ بن جائے تب بھی وہ زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں؟ ان کی اکثریت ان پڑھ دیہاتی افغانوں یا مدارس کے طلباء پر مشتمل ہے جو عالمی جہاد تو کیا افغانستان سے باہر جانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

تو امریکیوں نے ہر طرح کی تسلی کر کے بلآخر امارت کو اقتدار سونپنے کا اٹل فیصلہ کر لیا جس کی بنیادی وجوہات یہ تھی :

1- امارت کی داعش سے نظریاتی دشمنی اور ان کے خاتمے کا وعدہ۔

2- امارت کا امریکہ کے دوست کی حیثیت سے رہنا اور کوئی مشکل پیدا نہ کرنے اور افغان سرزمین کو عالمی جہاد یا امریکہ کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی۔

3- افغان حکومت کی کرپشن اور سخت نالائقی جس سے افغانستان مستقل عدم استحکام کی حالت سے دوچار تھا۔

4- امریکہ کے بہترین اتحادی پاکستان کا امارت کے لئے حمایت اور امریکہ کو امارت کی حکومت پر قائل کرنا۔

5- چائنہ سے معاشی جنگ اور مشرق وسطی کے معاملات وغیرہ کے لئے امریکہ کا غیر ضروری امور سے خود کو فارغ کرنا۔

جب یہ تمام امور طے ہو رہے تھے تو امریکہ اور امارت نے تو اپنا ہوم ورک کیا ہوا تھا لیکن دو ایسے کھلاڑی تھے جو اپنا ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے سب کچھ ہارنے والے تھے جن میں سے ایک اشرف غنی کی حکومت تھی اور دوسرا پاکستان۔

اور وہ اس طرح کہ دوحہ میں جب امریکہ اور امارت میں خفیہ سرگوشیاں اور دوستی و محبت کی منزلیں طے ہونا شروع ہوئی تو دونوں نے اپنے اپنے سابقہ محبوب سے بے وفائی کر کے جان چھڑانے کا آغاز بھی کر دیا۔ امریکہ نے مستقبل میں اشرف غنی حکومت اور امارت نے اپنے محسن اور سرپرست پاکستان کو پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا فیصلہ کر لیا۔

بہرحال تمام معاملات طے ہوئے !! دوحہ کے معاہدے کا اعلان ہوا !! افغانستان میں امریکہ نے اشرف غنی حکومت کو لات مار کر امارت کو حکومت سونپی! اور پاکستان کا وہ دیرینہ خواب پورا ہوا جس کے لئے وہ مسلسل 20 سالوں سے امارت کو پال رہا تھا دنیا بھر سے ملامتیں اور الزامات برداشت کر رہا تھا اور افغانستان کی حکومتوں کے خلاف سازشیں کرتا آیا تھا۔

پاکستان اس خواب کی تکمیل پر پہلے تو بہت خوش ہوا اور ڈی جی آئی ایس آئی کو فاتحانہ انداز میں کابل کے سیرینا ہوٹل میں چائے کی چسکیاں لیتے دیکھا گیا اور جب صحافی نے پوچھا کہ "آگے کیا ہونے والا ہے" تو اس نے مسکراتے ہوئے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا "فکر نہ کرو سب ٹھیک ہوگا"۔

لیکن سب ٹھیک نہیں ہونے والا تھا اور اس کو آنے والے اس طوفان کا اندازہ نہیں تھا جو اس کے ملک کو نڈھال کر کے رکھ دے گا۔

(جاری ہے)
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
(چوتھی قسط)​

امارت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی امریکہ کی اس خطے میں کچھ دلچسپی باقی تھی کیونکہ دولہ کی ولایت خراسان کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا تھا لیکن امارت نے جس طرح دن رات ایک کر کے ان کے سیلز کو نشانہ بنایا ( امارت کی مہارت یا کمال نہیں کچھ دیگر وجوہات کی بنیاد پر ) تو اس ولایت کے حملے نہ ہونے کے قریب ہوگئے اور امریکیوں کو قدرے اطمینان حاصل ہوگیا کہ امارت نے ان کے کسی بڑے حملے کی صلاحیت یا منظم ہونے کی طاقت ختم کر دی ہے تو امریکہ نے اس خطے سے اپنی توجہ مکمل طور پر دیگر مسائل و علاقوں کی طرف موڑ دی، اور اب یہاں صرف پاکستان اور امارت ہی رہ گئے اور یہی سے پاکستان کے برے دنوں کا آغاز ہوا۔

پاکستان نے تو سوچا تھا کہ امارت کو 20 سال پناہ دی مدد فراہم کی اس کے لئے امریکہ اور مختلف ممالک کا دباو برداشت کیا افغان حکومت کے الزامات کا سامنا کیا اب یہ اقتدار میں آکر سب سے پہلے ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کرے گی پھر ڈیورنڈ لائن کا ایشو ختم کرے گی وغیرہ لیکن امارت نے کچھ ہی عرصے میں اپنے رنگ دکھانے شروع کر دئے اور سب سے پہلے تو اس نے یہ کہہ دیا کہ ڈیورنڈ لائن سرحد نہیں ہے اور یہ محض ایک لکیر ہے کیونکہ افغانستان کی سرحد اٹک تک ہے دوسرا مسئلہ یہ کہ ٹی ٹی پی کو وہ ختم تو کیا کرتے دم توڑتی ٹی ٹی پی کو ان کے اقتدار سے ایسا بونس ملا جیسے کوئی بستر مرگ سے اٹھ کھڑا ہوجائے اور صرف تحریک نہیں بلکہ گل بہادر گروپ نے بھی نئی نئی سانس لی اور تو اور نیست و نابود ہوئی لشکر اسلام نے بھی دوسرا جنم لے لیا۔

امارت کے آنے سے ان کو جدید اسلحہ ( جو پاکستان کے پاس بھی نہیں ) بھی ملا ان کو افغانستان میں بہتر اور بغیر خوف و خطر کے رہائش بھی میسر ہوئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کو نئی بھرتی مل گئی وہ تحریک جس میں چند سالوں سے ایک بھی نیا بندہ شامل نہیں ہوا تھا اب وہاں سینکروں ہزاروں نئے جنگجووں کی لائن لگ گئی اور یہ سب امارت کے وہ جنگجو تھے جو ہمیشہ سے پاکستان سے دو دو ہاتھ کرنے کی خواہش اور خواب بھی دیکھا کرتے تھے اور اب ان کی دیرینہ خواہش پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔

پاکستان امارت کو اقتدار دلاتے ہوئے یہ بات بلکل بھول گیا تھا یا اپنی روایتی نالائقی کی وجہ سے کوئی بہتر حل اس کا تلاش نہیں کر سکا تھا کہ امارت کے اقتدار کے بعد تحریک کا مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟ اس کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ امارت اور تحریک ایک دوسرے میں ایسے پیوست ہیں کہ ان کو جدا کرنا مشکل ہی نہیں تقریبا ناممکن ہے۔

امارت کے اقتدار میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تحریک کی مزاحمت بڑھتی چلی گئی اور نہ صرف تحریک بلکہ خودکش فورس کی طاقت سے لیس گل بہادر نے بھی ایسا طوفان برپا کیا کہ پاکستان کے اوسان خطا کر دئے اور رفتہ رفتہ بات قبائلی علاقوں سے نکلنے لگی شمالی وزیرستان سے پھیل کر مزاحمت لکی مروت بنوں اور کرک تک جنوبی وزیرستان سے ٹانک ڈی آئی خان اور شیرانی و ژوب تک پھیل گئی جبکہ ساتھ ساتھ خیبر مالاکنڈ باجوڑ اور مھمند بھی سلگنے لگے اور دوسری طرف بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے بھی پاکستان کو جکڑ رکھا ہے اوپر سے عمران خان کی جماعت، بلوچ یکجہتی کمیٹی، انڈیا کے خطرناک تیور اور دیگر مسائل نے پہلے سے ہی اس کو آدھ موا کیا ہوا ہے۔

اب زمینی صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان پر تو پاکستان کی رٹ آہستہ آہستہ سکڑ کر پہلے چند شہروں تک محدود ہوئی اور اب وہاں بھی دم توڑ رہی ہے لیکن پختونخوا میں بھی صورتحال کچھ مخلتف نہیں وہ قبائلی علاقے جہاں امارت کی حکومت آنے سے قبل پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے کر امن بحال کیا تھا اور جہاں مکمل طور پر امن لوٹ آیا تھا اور کاروباری و سیاحتی سرگرمیاں بھی زور و شور سے پنپ رہی تھی وہاں اب دوبارہ بدامنی کے شعلے بلند ہونے لگے ہیں اور بلند ہوتے ہوتے آسمان تک پہنچ رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک امارت کے ہزاروں افغان جنگجو پہنچ چکے ہیں جو نہ صرف آزمودہ جنگجو ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف شدید نفرت سے بھی بھرے ہوئے ہیں ان جنگجووں کے آنے کے بعد مقامی قبائلی تحریکیوں کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اب وہ وزیرستان، باجوڑ اور خیبر میں نہ صرف کھلے عام پہاڑوں سے اتر کر آبادیوں میں اگئے ہیں بلکہ پھر سے لوگوں کے معاملات کے فیصلے بھی کرنے لگے ہیں اور لوگ بھی اب ریاست سے زیادہ ان کے فیصلوں پر اعتماد کر رہے ہیں کیونک وہ دیکھ رہے ہیں کہ ریاست اپنا کنٹرول کھو رہی ہے۔

اور صرف قبائلی علاقہ جات ہی نہیں لکی مروت ٹانک ڈی آئی خان بنوں کرک ڈومیل اور کوہاٹ تک یہی حالات بن رہے ہیں اور ایسے میں پاکستان کے پاس بے بسی سے سب کچھ دیکھنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، لیکن حل کا آپشن تو ہمیشہ موجود ہوتے ہی ہیں اور پاکستان اس مسئلے سے کیسے جان چھڑا سکتا ہے اور اس کے پاس کیا آپشن ہیں؟ اس کا جائزہ اگلی قسط میں ان شاء اللہ
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
(آخری قسط)​

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فوج ایک منظم فوج ہے اور اس نے اسی ڈسپلن کے بل بوتے پر قبائلی علاقوں میں مشکل حالات میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور ان پر پیچ علاقوں قبائلی ماحول اور تہہ در تہہ الجھی ہوئی جنگ میں جس طرح اس نے ضرب غضب اور راہ راست اور راہ نجات میں علاقوں سے ان گروپس کا صفایا کیا وہ عسکری تاریخ میں ایک نمایاں باب ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی کے نہ ہونے اور جدید خطوط پر تبدیل ہوتے جنگی حقائق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پاکستانی فوج تحریک یا کسی بھی گروپ کو وہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے میں بلکل صفر ہے جس سے کسی گروپ یا تحریک کی کمر ٹوٹ جائے۔

اس لئے پاکستان کا ان گروپس کی کمر توڑنے کے تمام دعوے جھوٹے ہیں کیونکہ نچلے درجے کے ارکان کو مارنے، انٹیلیجنس بنیادوں پر محدود اپریشنز کرنے، اوٹ پٹانگ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے یا کوئی علاقہ صاف کرانے سے کسی بھی گروپ یا تحریک کی کمر نہیں ٹوٹتی کمر تو کیا ایک ٹانگ بھی نہیں ٹوٹٹی اور یہ بات سو فیصد ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان کسی بھی تنظیم یا تحریک کی قیادت یا بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

قبائلی علاقوں میں تحریک، گل بہادر یا القاعدہ کی اگر کسی نے واقعی کمر توڑی ہے تو وہ امریکی ڈرون تھے جس نے ان تنظیموں کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور ان کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا تھا جہاں القاعدہ اپنی آخری سانسیں لے کر فوت ہوگئی جبکہ تحریک اور گل بہادر فوت ہونے ہی والے تھے کہ امارت کی حکومت آگئی اور ان کو ریسکیو کر لیا۔

آپ اگر اس خطے میں امریکی ڈرون کا ڈیٹا نکال کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ امریکہ نے کیسے ان تنظیموں کو گھسیٹا ہے اور کس قدر شدید نقصانات سے دوچار کیا ہے اور امریکہ نہ ہوتا تو یہ گروپس پاکستان کا کیا حشر نشر کر دیتے، تحریک کے پہلے قائد بیت اللہ سے لے کر حکیم اللہ، فضل اللہ، سجنا خالد محسود، قاری حسین احمد، مولانا ولی الرحمن تمام اہم کمانڈرز تمام اہم قائدین ماہرین علماء اور نظریاتی مبلغین کو امریکہ نے ہی نشانہ بنایا ہے اور ان کا صفایا کیا ہے اور اس سارے عرصے میں پاکستان کسی ایک صرف ایک اہم کمانڈر یا قائد کو بھی نشانہ نہیں بنا سکا نہ امریکہ کے جانے کے بعد اب تک بنا سکا ہے۔

اس لئے کسی پاکستانی کا یہ سوچنا کہ ہمارے ملک میں یہ صلاحیت ہے کہ سرحد پار جا کر تحریک، گل بہادر وغیرہ کی قیادت یا بنیادی ڈھانچے کا صفایا کر سکتی ہے تو وہ اس غلط فہمی سے باہر آجائے کیونکہ ایسا ممکن نہیں یعنی عسکری طور پر تو پاکستان کے ہاس ان تنظیموں کو ختم کرنے کا آپشن نہیں ہے تو پھر اس کے پاس کونسے آپشن بچتے ہیں

پاکستان کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے 2 راستے ہیں :

1- امریکی ڈرون واپس آجائیں۔
2- امارت پر دباو بڑھایا جائے کہ وہ اس مسئلے کو حل کردے۔

جہاں تک پہلا اوپشن ہے تو یہ سب سے مہلک اوپشن ہے اگر امریکی ڈرون کی یہاں واپسی ہوئی تو ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیموں کو ایک بار پھر اس حالت پر پہنچا دے گی جو چند سال قبل ان کی ہوئی تھی اور اس بار شاید یہ تنظیمیں اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکیں لیکن امریکی ڈرونز کی یہاں واپسی بہت مشکل دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایسی کوئی اہم شخصیات اب اس خطے میں موجود نہیں جن کو امریکہ خطرہ سمجھتا ہو لیکن اگر امریکہ واپس آتا ہے جیسا وہ بگرام ائیر بیس کے متعلق بار بار خواہش ظاہر کر رہا ہے تو یہ پاکستان کے لئے غیر متوقع ریلیف ہوگی لیکن چونکہ بگرام میں اس کا آنا مشکل ہے اس لئے اگر پاکستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو بگرام کے متبادل کے طور پر کوئی اڈا فراہم کردیا تو یہ نہ صرف پاکستان مخالف تنظیموں بلکہ امارت کے لئے بھی پاکستان کا ایک انتہائی مہلک سرپرائز ثابت ہوگا۔

لیکن فی الحال چونکہ نہ تو امریکہ کے یہاں آنے میں سنجیدہ ہونے کی گارنٹی ہے نہ اس کا تحریک کو نشانہ بنانے کی ضمانت ہے اس لئے اس کو چھوڑ کر اس آپشن کو دیکھتے ہیں جو خود پاکستان کے پاس موجود ہے اور اس کو صحیح استعمال کر کے وہ اس مسئلے کا حل نکال سکتا ہے اور وہ دوسری صورت ہے پراکسی جنگ اور دباو کے ہتھکنڈے۔

پراکسی جنگ سے مراد یہ کہ افغانستان کے اندر جا کر امارت کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے اور یہ انتہائی موثر عمل ہے کیونکہ یہ بات یاد رکھیں کہ پشتون اور عجمی تحریکیں چاہے وہ قوم پرست ہو، وطن پرست ہوں یا اسلامی و جہادی ہوں ہمیشہ سے شخصیت پرست ہوتی ہیں اور نظریات سے زیادہ شخصیات کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہیں یہ ہمیشہ قائدین کی ہلاکت سے نہ صرف کمزور ہوتی ہیں بلکہ ان میں اکثر لڑائی اختلاف اور تفریق بھی واقع ہوجاتی ہے مثال کے طور پر ٹی ٹی پی کے پہلے قائد بیت اللہ کی موت سے نہ صرف اس کی صلاحیت 50 فیصد کم ہوئی بلکہ قیادت کے معاملے پر حکیم اللہ اور ولی الرحمن کے مابین اندرونی اختلاف بھی پھوٹ پڑا اور حکیم اللہ اگرچہ قائد تو بن گیا لیکن ولی الرحمن گروپ نے 4 سال تک اس کو اختلاف کی وجہ سے جکڑ کر اور مفلوج بنائے رکھا۔

اسی طرح حکیم اللہ کے مارے جانے پر ایک بار پھر قیادت پر لڑائی چھڑ گئی اور تنظیم کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی اندرونی لڑائی میں سینکڑوں مارے گئے اور ہزاروں نے مجبور ہوکر پاکستان کے آگے سرینڈر کیا کیونکہ ان کو مخالف گروپ سے خطرہ تھا اسی طرح گروپ کے ایک کمانڈر قاری حسین محسود کے مارے جانے سے اس کے خودکش حملوں اور قبائلی علاقوں سے باہر حملوں کی صلاحیت صفر ہوگئی اور 12 سال سے اب تک دوبارہ وہ بحال نہیں ہوئی۔

ایک اور کمانڈر عمر خراسانی کی موت سے پیدا ہونے والا اختلاف بھی اب تک ختم نہیں ہوا، اسی طرح امارت نے اپنے قائد ملا عمر کی موت کو چھپائے رکھا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اس کے ظاہر ہونے سے سخت نقصان ہوگا اور جب ظاہر کیا تو قیادت پر اختلاف سامنے آگیا پھر دوسرے قائد اختر منصور کی موت پر بھی بہت سے مسائل ہوئے، حال ہی میں خلیل حقانی کی موت سے پورا حقانی نیٹ ورک مفلوج ہوکر رہ گیا ہے اور سراج الدین حقانی اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ اب بہت کم سرگرمیاں کرتا ہے اور تقریبا ریٹائر ہی ہوگیا ہے کیونکہ روایتی عجمی شخصیت پرستی کی وجہ سے اس کی دنیا خلیل حقانی کے گرد گھومتی تھی اور اس کی ہلاکت نے اس کا دل بھر دیا ہے۔

ایسی اور بھی بہت مثالیں ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ اگر امارت کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو نہ صرف اس کی صلاحیتیں مفلوج ہوں گی اندرونی اختلافات پھوٹ پڑیں گے بلکہ وہ سنجیدگی سے پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے پر بھی ضرور غور و فکر اور عمل کریں گے لیکن ایک بار پھر وہی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا پاکستان میں اتنی صلاحیت ہے کہ ایسا کر سکے؟ تو اس کا جواب ہے کہ شاید نہیں !

اگرچہ افغانستان جیسے ملک میں امارت کے ان پڑھ قائدین کو نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں اور ان کو اندرونی مخالفین کے ذریعے ریموٹ سے پیسے خرچ کرنے سے اور بہت سے راستوں سے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے پروفیشنل اور ماہر افراد اور جان ہتھیلی پر رکھ کر مشن کرنے والے ایجنٹوں کے ساتھ بھرپور مالی معاونت چاہئے، جس طرح موساد نے ایران جیسے ملک میں اس کے انتہائی خفیہ ایٹمی سائنسدانوں قائدین ماہرین کو چن چن کر قتل کیا اسی طرح یہاں بھی دہرایا جاسکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس نہ تو موساد جیسی شاندار انٹیلیجنس ایجنسی ہے نہ ہی موساد جیسے وسائل اور ایجنٹ ہیں۔

البتہ پاکستان کے پاس خوش قسمتی سے اس کام کے لئے ایک اور ایسا اثاثہ موجود ہے جو شاید کسی اور انٹیلیجنس کے پاس نہ ہو اور یہ اثاثہ ایسے کام کافی حد تک بخوبی انجام دے سکتا ہے اور وہ اثاثہ ہیں سرینڈر افراد یعنی گڈ طالبان جو کبھی ان ہی تنظیموں کا حصہ رہے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف ان تنظیموں کے اندرونی ساخت اندرونی تنازعات اندرونی لڑائیوں سے واقف ہوتے ہیں بلکہ ان کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ کون کس علاقے میں رہ رہا ہے، ان کی ذاتی انٹیلیجنس اکثر اوقات تنظیموں کے معاملے میں ملکی انٹیلیجنس سے کئی گناہ زیادہ ہوتی ہے اور اس سب کے ساتھ ساتھ یہ گراونڈ میں اترنے کی صلاحیت والے افراد سرحد پار رابطے اور کسی کو تلاش کر کے ٹھکانے لگانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو یہ بھی ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ اس کے پاس پیسہ موجود ہے اور افغانستان جیسے غربت کے مارے ملک میں پیسے پر ہر قسم کے کام کرنے والے وافر مقدار میں ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔

اگر پاکستان ان معاملات کو سمجھنے والے افسران سرینڈر گڈ طالبان افغانستان میں پیسے کے بل بوتے پر بنائے گئے اجرتی نیٹ ورک کا ایک تکون بنا دے تو امارت کو ایسا ٹف ٹائم دے سکتا ہے جو اس کی طبیعت کو درست کر کے معاملات کے حل کی طرف لانے پر مجبور کرے۔

جہاں تک پراکسی جنگ کے ساتھ ساتھ دباو کے ہتکھنڈوں کی بات ہے ہے تو وہ یہ ہے کہ پاکستان طورخم اور چمن کی سرحد مستقل بند کر دے افغانستان سے سفیر واپس بلوا کر امارت کے سفیر کو چلتا کرے اور پاکستان میں ہونے والے ٹی ٹی پی یا گل بہادر کے ہر بڑے حملے پر 12 گھنٹوں کے اندر اندر افغانستان میں فضائی حملے یا مزائیل حملے کرے اور کچھ عرصے بعد دارالحکومت کابل کو نشانہ بنائے تو امارت اس سب کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی اور بہت جلد گھٹنوں پر آکر تحریک کو مسئلے کے حل پر مجبور کر دے گی۔

کیونکہ ان واقعات سے ان کے نچلے طبقات میں سخت اشتعال پھیلے گا اور وہ قائدین پر دباو بڑھائیں گے کہ پاکستان کو جواب دیا جائے اور بے غیرتی و بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا جائے جس کے بعد ان کے پاس اس ذلت سے نکلنے کے دو راستے ہوں گے ایک یہ کہ پاکستان کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کیا جائے جو کہ وہ کبھی نہیں کریں گے امارت والے دنیا میں کچھ بھی برداشت کر لیں گے لیکن اس بار وہ اقتدار قربان کرنے پر کسی صورت تیار نہیں اور اس کے لئے وہ سب کچھ برداشت کرنے اور ہر ذلت کا جام پینے پر راضی ہیں اس لئے جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے وہ چیخنے لگتے کہ "نظام" ( اقتدار ) کو بچاو اور اس کو نقصان نہ پہنچے۔

دوسری صورت یہ کہ وہ تحریک کو مجبور کریں کہ بھئی آپ پاکستان کے ساتھ معاملات حل کر لو کیونکہ آپ کی وجہ سے اب "نظام" (امارت کے اقتدار) تک بات آگئی ہے اور امارت کی جانب سے ایسا دباو آنے کے بعد تحریک کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا اور تحریک و گل بہادر سمیت تمام گروپ معمولی مطالبات منوا کر صلح پر راضی ہوجائیں گے۔

یہ پاکستان کے پاس وہ ترپ کا پتہ ہے جس سے وہ اس دلدل سے نکل سکتا ہے یعنی طورخم چمن غلام خان انگور اڈہ کی مکمل بندش۔ عارضی نہیں مکمل بندش کہ بھائی ہمارے ملک میں جب تک دہشتگردی ہو رہی ہے تب تک یہ سرحدیں
ہمیشہ کے لئے بند ہوگئی ہیں۔

کابل سے سفیر اور سفارتخانہ اٹھا کر واپس لانا اور ان کے سفیر کو اسلام آباد سے چلتا کر دینا، سرینڈر افراد کو فری ہینڈ معاونت اور رقم دے کر امارت و تحریک کے قائدین کو نشانہ بنانے کے مشن سونپنا، ہر حملے کے بعد افغانستان پر فضائی حملے کرنا۔

اس کے ردعمل میں وہ چیخیں گے دھمکیاں دیں گے جھڑپیں کریں گے بہت غصہ کریں گے لیکن آخر کار وہ تحریک کو پاکستان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے ٹیبل پر ضرور لائیں گے۔
 
Top