ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 799
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
پاکستان، امارت، ٹی ٹی پی اور موجودہ صورتحال - ایک جائزہ
از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ
(پہلی قسط)
پشتو میں کہتے ہیں کہ چالاک چڑیا نہیں پھستی لیکن جب پھنستی ہے تو دونوں ٹانگوں سے پھنستی ہے، یہ ضرب المثل پاکستان پر بلکل سو فیصد صادق آئی ہے کہ افغانستان اور انڈیا میں شدت ہسندی ایکسپورٹ کرتے کرتے یہ خود اسی شدت پسندی کے ہاتھوں ایسی صورتحال سے دوچار ہوگیا کہ حیران و پریشان ہے کہ اس سے نکلوں تو کیسے نکلوں اور اس کا حل نکالوں تو کیا حل نکالوں، اس کشمکش میں ہاتھ پاوں مارنے کے باوجود وہ بدامنی کی دلدل میں یہ ملک آہستہ آہستہ دھنستا چلا جارہا ہے۔
بی ایل اے، بی ایل ایف یا آئی ایم پی وغیرہ تو بعد کی بات ہے فی الحال صرف ٹی ٹی پی کی بات کریں جو افغانستان میں مستحکم ہوکر اب پاکستان کےلئے ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر رہی ہے۔
ٹی ٹی پی پاکستان کی ناک کے نیچے بلکہ خود پاکستان کی ہی مدد اور اجازت سے کیسے وجود میں آئی اور کیسے مضبوط ہوئی یہ الگ کہانی ہے جس کو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اصل موضوع اس کے زوال اور زوال کے بعد حالیہ عروج پر گفتگو کرتے ہیں کہ کیسے یہ دن توڑنے کی حالت تک پہنچ کر دوبارہ زندہ ہوئی۔
ٹی ٹی پی کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب اس کا بانی اور پہلا امیر بیت اللہ محسود مارا گیا بیت اللہ کے دور میں تنظیم انتہائی منظم طاقتور اور متحد تھی کسی کو اختلاف یا دھڑے بندی کی جرات نہیں تھی لیکن بیت اللہ کے مارے جانے کے ساتھ ہی قیادت پر اختلاف سامنے آگیا جو کہ دراصل دو نظریات (اعتدال پسند جمیعتی حیاتی دھڑا) اور (انتہا پسند سلفی و اشاعتی دھڑا) کا تصادم تھا، جمیعتی دھڑے کی قیادت ولی الرحمن کر رہا تھا اس کو امارت اور حقانی کی پشت پناہی میسر تھی جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت حکیم اللہ کر رہا تھا جس کو سعید خان اس کے ساتھیوں کرم اورکزئی اور خیبر وغیرہ سے حمایت حاصل تھی۔
بہرحال اختلاف اور اونچ نیچ ہوئی لیکن حکیم اللہ محسود بلآخر امیر بن تو گیا لیکن تحریک میں شامل جمیعت کے ٹولے (محسود ارکان) نے حکیم اللہ کو پنج پیری وہابی اور شدت پسند قاتل وغیرہ قرار دے کر اس کی قیادت قبول کرنے سے انکار کر دیا بظاہر وہ اس کا اعلان نہیں کرتے تھے لیکن در پردہ وہ مکمل طور پر الگ تھے اور اس کشمکش کی وجہ سے تنظیم 4 سال تک مفلوج رہی اوپر سے تنظیم کے خودکش یونٹ کے قائد اور سب سے خطرناک رہنما قاری حسین کے مارے جانے سے اس کے خودکش یونٹ اور قبائل سے باہر موجود نیٹ ورک کا بھی دھڑن تختہ ہوگیا اور وہ قبائل سے باہر حملوں کی صلاحیت مکمل طور پر کھو بیٹھے۔
ایسے میں کچھ عرصے بعد حکیم اللہ بھی مارا گیا اور قیادت فضل اللہ جیسے نکمے نالائق آدمی کے ہاتھ آئی تو تنظیم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی
محسود (جمیعتی) دھڑے نے خالد محسود سجنا کی قیادت میں تحریک کو علماء کا دشمن غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار کہہ کر راستے جدا کئے اور کہا کہ ہم صرف امارت کو مانتے ہیں
اورکزئی اور کرم او بعض خیبر کے ارکان نے حافظ سعید خان کی قیادت میں دولہ کی بیعت کر لی
مھمند پہلے ہی جماعت الاحرار کے نام پر دھڑے بندی کئے ہوئے تھے اور محسود سے جمیعت گروپ کے باغی ایک بڑے دھڑے نے پاکستانی فوج کے آگے سرینڈر کرلیا تھا اوپر سے اس انتہائی سخت ماحول میں اپریشن ضرب عضب نے ان کو بھگا بھی دیا اور یہ اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوکر افغانستان بھاگ گئے۔
افغانستان میں یہ سب دھڑے الگ الگ طور پر رہ رہے تھے نہ مالیات کا کوئی سبب تھا نہ نئی بھرتی تھی اور اوپر سے امریکی ڈرون بھی سر پر منڈلا رہے تھے۔ صرف ٹی ٹی پی نہیں حافظ گل بہادر بھی اسی حالت کا شکار تھا اور وہ بھی انتہائی بدتر حالت میں پکتیکا اور خوست کی طرف فرار ہوئے تھے۔
اب یہ ایسا موقع تھا جس میں پاکستان ان پر حتمی ضرب لگا کر ہمیشہ کےلئے اس مسئلے کا خاتمہ کر سکتا تھا۔
کیوں اور کیسے ؟
قبائل اور افغانستان کی فضاوں میں دہشت کی علامت بنے اِنتہائی خطرناک امریکی ڈرونز نے ٹی ٹی پی گل بہادر اور دیگر گروپس کو مفلوج کیا ہوا تھا اور وہ ان کو چن چن کر نشانہ بنا رہا تھا جس سے ان تنظیموں میں قیادت کا بہت بڑا خلاء ہر وقت بنا رہتا۔
افغانستان کی حکومت نے اگرچہ لسانی یکجہتی اور پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے ان گروپس کو پناہ دی تھی اور این ڈی ایس کچھ مدد بھی کر رہی تھی لیکن مجموعی طور پر وہ شدت ہسندی کو پسند نہیں کرتے تھے وہ خود دہائیوں سے اسی سانپ کے ڈسے ہوئے تھے اس لئے وہ اس پر نہ زیادہ اعتبار کرتے تھے نہ زیادہ سر چڑھاتے تھے۔
اس وقت پاکستان کے پاس امارت والے کوئٹہ اور پشاور میں پناہ گزین کی حیثت سے رہ رہے تھے اگر پاکستان افغان حکومت سے کچھ لو اور دو کی بنیاد پر سودے بازی کر لیتا بیشک وہ امارت کے بڑوں کو ان کے حوالے نہ کرتا صرف ان کو امریکہ سے الگ براہ راست افغان حکومت سے مذاکرات پر ہی مجبور کرتا ( یہ افغان حکومت کا بہت مرکزی مطالبہ تھا ) تو افغان حکومت ٹی ٹی پی اور گل بہادر کو پاکستان سے مصالحت پر مجبور کرتی اور اگر اس سخت دور میں ان پر افغان حکومت کا ہلکا سا بھی دباو آتا تو وہ پاکستان کے اگے سرینڈر کو ترجیح دیتے اور سرینڈر کر کے کوئی معاہدہ قبول کر لیتے اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو افغان حکومت افغانستان میں ہی امریکی ڈرون یا کسی اور ذریعے سے کچل دیتی۔
یہ فیصلہ کن وقت تھا لیکن پاکستان نے یہ نازک موقع ضائع کر کے ایسی بھیانک غلطی کر دی جس نے اب اس کا مستقبل ہی داو پر لگا دیا ہے۔
(جاری ہے)