- شمولیت
- اپریل 14، 2011
- پیغامات
- 8,767
- ری ایکشن اسکور
- 8,514
- پوائنٹ
- 964
جانوروں کی قیمتوں کے چرچے، فیشن شوز اور پکوان
پاکستانی میڈیا کی بڑی عید
محمد عاصم حفیظ
پاکستانی قوم کو مبارک ہومیڈیا نے اس بڑی عید پر ایک نیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ لاہور کی مویشی منڈی میں ایک منفرد فیشن شو منعقد کیا گیا جس میں معروف ماڈلز نے اپنے ” مخصوص “ قسم کے ملبوسات کے ساتھ قربانی کے جانوروں کے ہمراہ کیٹ واک کی ۔اس فیشن شو کو اس قدر میڈیا کوریج ملی کہ آنے والے دنوں میں اس شعبے میں بے پناہ ترقی ہونے کا قوی امکان ہے رمضان المبارک میں جس طرح فلمی دنیا کے ستاروں سے مذہبی پروگرامز ، کوئز شوز اور ہلے گلے والے شوز کرائے جاتے ہیں اس کا نظارہ تو ہماری قوم کر ہی چکی ہے ۔ اب اس بڑی عید کو بھی ماڈرن کیا جارہا ہے ۔محمد عاصم حفیظ
پچھلے کئی سال سے تو بکروں کی قیمتوں ، خوبصورتی اور منڈیوں کی مہنگائی وغیرہ کی خبریں آیا کرتی تھیں لیکن اب میڈیا نے قوم کو اس حوالے سے بھی انٹرٹینمنٹ فراہم کرنے کابھرپور انتظام کر دیا ہے ۔ دراصل ہمارے ہاں کسی اور شعبے میں ترقی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو لیکن یہ تو سب تسلیم کرتے ہیں کہ میڈیا اور انٹرٹینمنٹ سیکٹر نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ کیا آپ نے دنیا میں کوئی ایسی قوم دیکھی ہے کہ جو اپنی مذہبی روایات ، دینی شعائر اور روحانی اقدار کو بھی طنز ومذاق ، فحاشی اورتفریح کی نظر کر دے ۔جی ہاں یہ سب ہوتا ہے ” اسلام کے قلعے“ اس پاکستان میں ۔
ایسا لگ رہا ہے کہ قربانی جو کہ سنت ابراہیمی ؑ اور نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک خاص دینی فریضہ کے طور پر ادا کی جاتی ہے اس کا واحدمقصد نمود و نمائش ، جانوروں کی سج دھج اور طرح طرح کے پکوان تیار کرنے کاہی نام ہے ۔اور اب تو باقاعدہ ماڈلز کے ساتھ کیٹ واک جو کہ بار بار نشر بھی کی جاتی ہے ۔ میڈیا پرآنے کے شوق میں لوگوں سے کیاکیا حرکتیں کروائی جاتی ہیں۔ ان جانوروں کے نام ” ڈان “ ، پپو اور فلمی اداکاروں کے نام پررکھے جاتے ہیں ۔ شہرت اور میڈیا پرآنے کے لالچ میں اور پھر اس سے ایک بڑی رقم کمانے کے لئے ۔
کبھی وہ وقت بھی ہوتا تھا کہ رمضان المبارک اور حج و قربانی قریب آتے ہی ان مقدس ایام کی فضیلت ، روحانیت، مقاصد اور فلسفہ پر بات کی جاتی تھی ۔ علمائے کرام اور سکالرز اس حوالے سے قرآن پاک اور سیرت النبیﷺ کی روشنی میں مسائل اورفضائل کا تذکرہ کرتے ۔ لیکن آج کا پاکستان بہت ماڈرن ہے جی ۔ یہ نیا پاکستان ہے جس میں اب ہر دینی تہوار کو بھی انٹرٹیمنٹ کا تڑکہ ضرور لگایا جاتا ہے بلکہ اس قدر لگایا جاتا ہے کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تہوار تو جیسے ہے ہی تفریح کے لئے ہے ۔ اگر آپ میڈیا کی نظر سے دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے پورے ملک میں ہر قربانی کے جانور کی قیمت لاکھوں میں ہے ۔ لوگ مویشی منڈیوں میں صرف ایسے جانور ڈھونڈتے نظر آتے ہیں کہ جو ماڈلز کے انداز میں کیٹ واک کا تجربہ رکھتے ہوں ۔ قربانی کو تو جیسے مقابلہ بازی کی ایک دوڑ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔اور اس کا مقصد تو جیسے صرف مہنگے جانور خریدنا ، ان کی کیٹ واک کرانا ، ان کے ساتھ سیلفیاں بناناہی ہے۔ اس سارے ہنگامے میں سنت ابراہیمی ؑ کی ادائیگی اور دینی جذبہ تو کہیں کھو سا ہی گیا ہے۔
اس کے بعد عید کا دن آئے گا تو قصائیوں ، جانوروں کو لیکر مزاحیہ خاکے بنائے جائیں گے ۔ سجے سجائے ٹی وی شوز میں ٹاپ ماڈلزعید کے دن اس دینی تہوار پر اپنی رائے اور اسکی اہمیت و فضیلت پر اظہار خیال کرتی نظر آئیں گی ۔ اس دوران ایک اور اہم ترین موضوع ہوگا پکوانوں کی تیاری کا ۔ ہر چینل پکڑپکڑ کر ماہر باورچی بلائے گا اور نئی نئی ڈشز بنانے کے تراکیب پیش کرے گا۔ گویا یہ درس بھی دیا جاتا ہے کہ ان ساری ڈشز کے اگر مزے اڑانا چاہتے ہیں تو بہت سارا گوشت گھر پر ہی رکھیں ۔ غریب اور معاشرے کے مستحق افراد کی فکر چھوڑیں ۔ باقی رہے قربانی کے دینی مسائل ، اس کے اجر و ثواب کے لئے کوشش اور اللہ کی رضا کے حصول کا جذبہ ۔۔اس بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں تاہم اتنا ضرور ہے اس بارے میں فکرمند لوگ نمودو نمائش پر توجہ نہیں دیا کرتے ۔ وہ دینی فریضہ کو طنز و تفریح کا شکار نہیں کرتے ۔
قربانی اور عید کے بارے میں ہمارے معاشرتی رویے کس قدر بدلے ہیں اس سے ہم اپنی قومی زوال کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شاید ہم دنیا کی واحد ایسی قوم ہوں کہ جس نے اپنی دینی روایات اور مذہبی شعائر کو مذاق ، فحاشی ،طنز و مزاح ، لالچ اور نمودونمائش کاشکار بنا دیا ہے ۔
Last edited: