پردہ كى شروط
تو آيت ميں اجنبى مرد كے سامنے سارى زينت چھپانے اور اس كے عدم اظہار كے وجوب كى تصريح بيان ہوئى ہے، ليكن جو بغير كسى قصد و ارادہ كے ظاہر ہو جائے اور وہ فورا اسے ڈھانپ ليں تو اس پر ان كا مؤاخذہ نہيں ہے.﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ﴾الاحزاب ( 59 ).
دوم:" يعنى: وہ اجنبى مردوہ كے اپنى زينت ظاہر نہ كريں، مگر وہ جس كا چھپانا ممكن نہيں، ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں: مثلا چادر اور كپڑے، يعنى عرب كى عورتوں كى اپنے اوپر چادر اوڑھنے كى جو عادت تھى اور جو كپڑے كے نچلے حصہ ظاہر ہوتا ہے اس ميں عورت پر كوئى حرج نہيں كيونكہ اس كا چھپانا ممكن نہيں.
يہ عام ہے اور عموم ظاہرى كپڑوں كو بھى شامل ہے، جب وہ كپڑے اور لباس كڑھائى شدہ ہو اور لوگوں كے ليے جاذب نظر ہو، اور مردوں كى نظريں اس كى طرف اٹھتى ہوں، اس كى گواہى درج ذيل فرمان بارى تعالى سے بھى ملتى ہے:﴿ اور وہ اپنى زينت ظاہر نہ كريں﴾.
اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:﴿ اور اپنے گھروں ميں ٹكى رہو، اور قديم جاہليت كے زمانے كى طرح اپنے بناؤ سنگھار كا اظہار نہ كرو، اور نماز قائم كرتى رہو، اور زكاۃ ديتى رہو اور اللہ تعالى اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى اطاعت و فرمانبردارى كرتى رہو، اللہ تعالى يہى چاہتا ہے كہ اے نبى كى گھر واليو! تم سے وہ ( ہر قسم ) كى گندگى دور كر دے، اورتمہيں خوب پاك كر دے ﴾الاحزاب ( 33 ).
اسے امام حاكم ( 1 / 119 ) اور امام احمد ( 6 / 19 ) نے فضالۃ بنت عبيد سے روايت كيا ہے، اور اس كى سند صحيح ہے، اور يہ ادب المفرد ميں موجود ہے." تين شخصوں كے متعلق تم سوال مت كرو: ايك وہ شخص جس نے جماعت سے علحدگى اختيار كرلى، اور اپنے امام كى نافرمانى كى، اور معصيت كى حالت ميں ہى مر گيا، اور وہ غلام يا لونڈى تو مالك سے بھاگ گيا اور اسى حالت ميں مر گيا، اور ايك وہ شخص جس كا خاوند گھر ميں نہ ہو اور اس نے بيوى كے سارے اخراجات اور دنياوى ضروريات پورى كى ہوں تو اس كے بعد پھر وہ بےپردگى كرے تو ان كے متعلق سوال مت كرو "
اور ايك دوسرى حديث ميں ہے كہ:" ميرى امت كے آخر ميں كچھ عورتيں ايسى ہونگى جو لباس پہننے والى ننگى عورتيں جو خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں كى طرح ہونگے يہ لعنى عورتيں ہيں "
اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے." وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگى اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو اتنى اتنى مسافت سے پائى جاتى ہے "
اسے امام سيوطى نے " تنوير الحوالك ( 3 / 103 ) ميں نقل كيا ہے." نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى مراد وہ عورتيں ہيں جو باريك اور خفيف لباس پہنتى ہيں، جس سے جسم كا وصف واضح ہوتا ہے، اور وہ جسم كو چھپاتا نہيں، يہ بےنام سا لباس پہنے ہوئے ہيں، ليكن حقيقت ميں ننگى ہيں "
تمہيں كيا ہے وہ قبطى چادر كيوں نہيں پہنتے ؟" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے ايك موٹى قبطى چادر دى جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو دحيہ كلبى رضى اللہ تعالى عنہ نے ہديہ ميں دى تھى، تو ميں نے وہ چادر اپنى بيوى كو دے دى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے فرمايا:
اسے ضياء المقدسى نے " الاحاديث المختارۃ ( 1 / 441 ) ميں اور امام احمد اور بيہقى نے حسن سند كے ساتھ روايت كيا ہے." اسے كہو كہ وہ اس كے نيچے بھى كچھ پہنے ( شميض ) كيونكہ مجھے خدشہ ہے كہ وہ اس كى ہڈيوں كا حجم واضح كريگى "
2 - زينب الثقفيۃ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" جو عورت بھى خوشبو لگا كر كسى قوم كے پاس سے گزرے اور وہ اس كى خوشبو كو سونگھيں تو وہ عورت زانيہ ہے "
3 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" جب تم ميں كوئى عورت مسجد جائے تو وہ خوشبو كے قريب بھى نہ ہو "
4 - موسى بن يسار بيان كرتے ہيں كہ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس سے ايك عورت گزرى جس سے خوشبو آ رہى تھى، تو ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى اسے كہنے لگے:" جو عورت بھى خوشبو كى دھونى لے وہ ہمارے ساتھ عشاء كى نماز ميں مت شامل ہو "
اس حديث سے وجہ استدلال عموم ہے جيسا ہم بيان كر چكے ہيں جس ميں عطر اور خوشبو لگانا شامل ہے، جس طرح بدن كو خوشبو لگائى جاتى ہے اسى طرح كپڑوں كے ليے بھى استعمال ہوتى ہے، اور خاص كر تيسرى حديث ميں بخور يعنى دھونى كا ذكر ہوا ہے جو اكثر اور خاص كر كپڑوں كے ليے استعمال ہوتى ہے." جو عورت بھى مسجد كى جانب جائے، اور اس كى خوشبو بكھر رہى ہو تو اللہ تعالى اس كى نماز اس وقت تك قبول نہيں فرماتا حتى كہ وہ واپس اپنے گھر آ كر غسل نہ كر لے "
ششم:اس ميں مسجد جانے كے ليے گھر سے نكلنے والى عورت كے ليے خوشبو لگانى حرام ہے، كيونكہ اس ميں مردوں كى شہوت انگيخت كے اسباب كو تحريك ملتى ہے، امام مناوى نے اسے " فيض القدير " ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى پہلى حديث كى شرح ميں نقل كيا ہے.
2 - عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں جيسا لباس پہننے والے مرد پر لعنت فرمائى، اور مردوں جيسا لباس پہننے والى عورت پر بھى لعنت فرمائى "
ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں: چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فلاں كو، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے فلاں كو نكالا "" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مردوں ميں ہيجڑوں پر لعنت فرمائى، اور عورتوں ميں سے مرد بننے كى كوشش كرنے والى عورتوں پر لعنت فرمائى، اور فرمايا: انہيں اپنے گھروں سے نكال دو "
5 - ابن ابى مليكہ ـ ان كا نام عبد اللہ بن عبيد اللہ ہے ـ كہتے ہيں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے كہا گيا:" تين قسم كے اشخاص نہ تو جنت ميں داخل ہونگے، اور نہ ہى اللہ تعالى روز قيامت ان كى جانب ديكھےگا بھى نہيں، والدين كى نافرمانى كرنے والا، اور مرد بننے اور مردوں سے مشابہت كرنے والى عورت، اور ديوث و بےغيرت شخص "
اگر وہ علم ركھتے ہوں.اللہ تعالى بھى اس قوم كى حالت كبھى نہيں بدلتا جب تك وہ اپنى حالت خود نہ بدلے "
ديكھيں: حجاب المراۃ المسلۃ ( 54 - 67 )." جس نے بھى دنيا ميں شہرت كا لباس پہنا اللہ تعالى اسے روز قيامت ذلت والا لباس پہنائيگا، اور پھر اس ميں آگ بھڑكا دى جائيگى "