• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پروفیسر محمد طاہر القادری کے متنازعہ افکار وکردار

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
پروفیسر محمد طاہر القادری کے متنازعہ افکار وکردار


ابو الحسن علوی​

انہی دنوں پروفیسر صاحب موصوف پانچ سال بعد کینیڈا سے پاکستانی سیاست میں وارد ہوکر متحرک ہوچکے ہیں۔ عام انتخابات سے عین قبل ان کی سیاسی سرگرمیوں، عوامی استقبال اورلانگ مارچ کے حوالے سے ہر ذہن میں نت نئے شبہات پائے جاتے ہیں۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر بھی ان کے بارے میں مضامین اور مباحثے سامنے آرہے ہیں۔ ان کا ماضی اور حال کیا رہا ہے؟ جس کی روشنی میں ان کے مستقبل کی تصویر ہرکوئی دیکھ سکتا ہے۔ ان کی شخصیت اور کارناموں کا ایک مختصر اور چشم کشا جائزہ ہدیۂ قارئین ہے۔ح م
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
پیدائش اور تعلیم
’محمد طاہر القادری‘ 19 فروری 1951ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کا کسی مکتبہ فکر سے تعلق نہیں ہے، لیکن اپنی تقریر وتحریر میں بریلوی مسلک کی صریح حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے والد محترم کا نام پروفیسر فرید الدین قادری ہے اور وہ ’سیال‘ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1975ء میں 24 سال کی عمر میں پروفیسر صاحب کی پہلی شادی ہوئی۔ اس کے بعد ان کی مزید دو شادیاں بتلائی جاتی ہیں۔ ان کی پہلی شادی جھنگ، دوسری ناروے اور تیسری کراچی سے بتلائی جاتی ہے۔ ان کے بڑے صاحبزادے کا نام حسن محی الدین قادری ہے جو تحریکِ منہاج القرآن کی مجلس شورٰی کے صدر ہیں اور اُنہوں نے منہاج یونیورسٹی سے ہی علومِ اسلامیہ وعربیہ میں ایم اے کیاہے اور مصر سے میثاقِ مدینہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں اُنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی بھی کیا ہے۔ چھوٹے صاحبزادے حسین محی الدین قادری نے فرانس میں سائنس ٹو یونیورسٹی ،پیرس سے ایم بی اے کیا ہے اور آج کل آسٹریلیا یونیورسٹی سے گلوبل اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔
پروفیسر صاحب نے 1966ء میں میڑک کا امتحان اور 1969ء میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔1970ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پرائیویٹ سٹوڈنٹ کے طور پر پاس کیا۔1973ء میں پنجاب یونیورسٹی ہی سے علومِ اسلامیہ میں ایم اے کیا۔علاوہ ازیں ان کے بقول اُنہوں نے جامعہ قطبیہ رضویہ، جھنگ سے 1963ء تا 1970ء کے دوران درسِ نظامی کی بھی تکمیل کی۔ 1975ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ 1986ء میں اُنہیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے اسلامی سزاوٴں کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔موضوع کا عنوان ''Punishment in Islam, Their Classification and Philosophy'' تھا۔
پروفیسر طاہرالقادری صاحب کے تعلیمی کیریئر میں ہمیں ایل ایل ایم کی کسی ڈگری کا تذکرہ نہیں ملا۔ ایل ایل بی کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی کی ڈگری کا تذکرہ ملتا ہے۔غالباً ڈاکٹریٹ کی یہ ڈگری شعبۂ اسلامیات کے تحت جاری ہوئی ہے لہٰذا یہ علومِ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے، لیکن موضوع کی مناسبت سے اسے اسلامک لاء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری قرار دیا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں فیکلٹی آف لاء کے تحت 1986ء میں پی ایچ ڈی کی کی پہلی دفعہ رجسٹریشن ہوئی اور پروفیسر طاہرالقادری صاحب 1986ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے تھے۔ پروفیسر طاہرالقادری صاحب کے لاء کالج میں اسلامک لاء یعنی فقہ اسلامی پڑھانے کے سبب سے ان کی علومِ اسلامیہ کی پی ایچ ڈی کے بارے یہ گمان عام ہو گیا کہ شاید وہ فیکلٹی آف لا ء کے پی ایچ ڈی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ علومِ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
مذہبی اور سیاسی کیریئر
پروفیسر محمد طاہر القادری نے 1974ء میں گورنمنٹ کالج، عیسیٰ خیل، میانوالی میں علومِ اسلامیہ کے لیکچرر کے طور پر اپنی سروس کا آغاز کیا۔ 1975ء میں اس عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ 1976ء میں بطور ایڈووکیٹ کے جھنگ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ 1976ء میں ’جھنگ محاذِ حریت‘ کے نام سے نوجوانوں کی ایک تنظیم بنائی۔ 1978ء میں جھنگ سے لاہور منتقل ہوئے اور اسی سال پنجاب یونیورسٹی میں لاء کالج میں اسلامک لاء یعنی فقہ اسلامی کے لیکچرار مقرر ہوئے اور 1983ء تک بطورِ لیکچرار ملازمت کی۔اسی سال اُنہیں حکومتِ پاکستان نے وفاقی شرعی عدالت کا مشیر فقہ نامزد کیا۔
1981ء میں ’قرآن کانفرنس‘ کے ذریعے ’منہاج القرآن‘ کے قیام کی دعوت شروع کی۔1982ء میں حکومتِ پاکستان نے اُنہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ’شریعت ایپلٹ بنچ‘ کا مشیر مقرر کیا۔ 1982ء میں ایران کا دورہ کیا اور آیت اللہ خمینی وغیرہ سے ملاقاتیں کیں۔1982ء میں میاں نواز شریف صاحب کی جامع مسجد اتفاق کالونی، ماڈل ٹاوٴن، لاہور میں خطابت شروع کی اور میاں فیملی سے ان کے یہ تعلقات اوائل 88ء تک جاری رہے اور اس کے بعد اُن میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔
1983ء میں پی ٹی وی پر فہم القرآن کے خطبات کا آغاز کیا۔ اسی سال ایم بلاک، ماڈل ٹاوٴن میں 20 کنال کی زمین ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور مسجد کے لیے خریدی گئی۔ 1984ء میں ادارہ منہاج القرآن کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔اسی سال ان کے بقول اُنہیں ادارہ منہاج القرآن کے قیام کے حوالہ سے خواب میں نبیﷺ کی طرف سے کچھ بشارتیں بھی حاصل ہوئیں۔ 1986ء میں منہاج القرآن یونیورسٹی کے قیام کے لیے ٹاوٴن شپ میں 200 کنال زمین حاصل کی گئی اور 1987ء میں اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔1986ء میں ادارہ منہاج القرآن کا دستور منظور ہوا، مرکزی مجلس شورٰی اور مجلس عاملہ کا انتخاب ہوا۔
1989ء میں ’پاکستان عوامی تحریک‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی اور اس کے تحت 1990ء کے عوامی انتخابات میں حصہ لیا۔ 1990ء میں ان کی رہائش گاہ پر مبیّنہ قاتلانہ حملہ ہو اور اسی سال ہائی کورٹ نے اس واقعہ کو غیر حقیقی اور ڈرامہ قرار دیا اور پروفیسر طاہر القادری صاحب کو غیر صحت مند ذہن کا حامل بتلایا۔
1995ء میں اُنہوں نے عوامی تعلیمی منصوبے کا آغاز کیا۔ منہاج انسائیکلوپیڈیا ویب سائیٹ کے مطابق اس تعلیمی منصوبے کے تحت 12 کالجز اور 872 سکولز کام کر رہے ہیں۔ 1998ء میں ’پاکستان عوامی اتحاد‘ کے صدر بنے جس میں پیپلز پارٹی سمیت 19 سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔2003ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے ادارہ منہاج القرآن کا وزٹ کیا اور اس کی تاحیات رکنیت حاصل کی۔اس رکنیت کی ویڈیو میں ایسے مناظر دکھائے گئے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں مثلاً پروفیسر صاحب محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایک مجلس میں ساتھ تشریف فرما اور محوِ گفتگو ہیں جبکہ محترمہ کے سر پر نہ تو دوپٹا ہے اور نہ ہی کھلے گریبان پر کوئی کپڑا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
کتب و رسائل
پروفیسر طاہر القادری صاحب کی طرف تقریباً 406 کتب اور کتابچوں کی نسبت کی جاتی ہے جن میں سے 19 عربی ، 39 انگریزی اور بقیہ اُردو زبان میں ہیں۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کی معروف کتابوں میں میلاد النبیﷺ،ترجمہ عرفان القرآن، المنهاج السوی من الحدیث النبوي، اسلام اور جدید سائنس، دہشت گردی اور فتنہ خوارج، شانِ اولیا، تخلیقاتِ کائنات، الفیوضات المحمدیة، فلسفہ معراج النبی ﷺ، القول المعتبر في الإمام المنتظر، العرفان في فضائل وآداب القرآن، أحسن الصناعة في إثبات الشفاعة، زیارتِ قبور، السیف الجلي على منکر ولایة على، برکاتِ مصطفی ﷺ، اسلام میں خواتین کے حقوق، شہر مدینہ اور زیارتِ رسول ﷺ، ذبح عظیم، ارکانِ اسلام، گستاخانِ رسول کی علامات، شہادتِ امام حسین حقائق وواقعات، شمائل مصطفی ﷺ، مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت، عقائد میں احتیاط کے تقاضے، درود شریف کے فضائل وبرکات، مناجاتِ امام زین العابدین، تبرک کی شرعی حیثیت، اسیرانِ جمالِ مصطفی ﷺ، اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول، مرج البحرین في مناقب الحسنین علیهما السلام، اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم کے فضائل ومناقب، حیاة النبی ﷺ، کتاب التوسل،میثاقِ مدینہ کا آئینی تجزیہ، بدعت ائمہ و محدثین کی نظر میں، معارف آیۃ الکرسی، عقیدہ توحید اور غیر اللہ کا تصور،القول الوثیق فی مناقب الصدیق،القول الصواب فی مناقبِ عمر بن الخطاب، روض الجنان فی مناقب عثمان بن عفان، کنز المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب، تذکرہ فریدِ ملّت، بدعت کا صحیح تصور،خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ، حقوق والدین، ربّ العالمین کی علمی اور سائنسی تحقیق، امام ابو حنیفہ امام الائمہ فی الحدیث، خصائص مصطفی ﷺ، اسماے مصطفی، اسلام کا تصورِ علم، وسائط شرعیہ،عقیدہ ختم نبوت، عقیدہ توحید کے سات ارکان، النجابة في مناقب الصحابة والقرابة، العقد الثمین في مناقب أمهات المؤمنین، اسلام میں بچوں کے حقوق، فلسفہ صوم، سیرة الرسول ﷺ، ایصالِ ثواب اور اس کی شرعی حیثیت، اسلام میں اقلیتوں کے حقوق، فسادِ قلب اور اس کا علاج، حیات ونزولِ مسیح اور ولادتِ امام مہدی وغیرہ۔علاوہ ازیں ماہنامہ ’منہاج القرآن‘ اور ’دخترانِ اسلام‘ کے نام سے مردو زن کے لیے دو دعوتی و تحریکی رسائل بھی شائع کیے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر وبیشتر کتب منہاج بک ویب سائیٹ پر ڈاوٴن لوڈ کرنے اور آن لائن مطالعہ کی سہولت کے ساتھ پی ڈی ایف اور یونی کوڈ فارمیٹ میں موجود ہیں۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
کتب ورسائل پر تبصرہ
بعض لوگوں کو اس پر حیرت ہوتی ہے کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اس قدر تنظیمی، انتظامی، تحریکی اور دعوتی مصروفیات کے باوجود اتنی کتابیں کیسے لکھ ڈالیں؟ہمارے خیال میں جس نے بھی پروفیسر صاحب کی کتب کا بغور مطالعہ کیا ہو، اس کے لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ اکثر وبیشتر یہ کتب کی بجائے کتابچے ہیں،
مثلاً: ’قرآن اور فلسفہ تبلیغ‘ 20 صفحات اور ’مذہبی اور غیر مذہبی علوم کے اصلاحِ طلب پہلو‘ 24 صفحات اور ’ تحریکِ منہاج القرآن کا تصور دین‘ 28 صفحات اور ’ خدمتِ دین کی توفیق‘ 32 صفحات اور ’سیرتِ نبوی کی عصری وبین الاقوامی اہمیت‘ 32 صفحات اور ’اقبال اور پیغامِ عشق رسول‘ 39 صفحات اور ’ہمارا اصل وطن‘ 48 صفحات اور ’اقبال کا مرد مؤمن‘ 48 صفحات اور ’فلسفہ تسمیہ ‘ 44 صفحات اور ’معارف اسم اللہ ‘ 42 صفحات اور ’عمر رسید ہ اور معذور افراد کے حقوق‘ 48 صفحات پر مشتمل ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ کتابچے بھی دراصل پروفیسر صاحب کی تقاریر کو صفحاتِ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کے ہاں1987ء میں ہی ’منہاج القرآن رائٹرز پینل‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا تھا جو اَب ’فریدِ ملّت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کے نام سے معروف ہے جس کے ریسرچ اسکالرز پروفیسر صاحب کی تقاریر کی صفحۂ قرطاس پر منتقلی، ان کی کمپوزنگ، تقدیم وترتیب،تخریج وتحقیق اور نشرواشاعت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب کی شائع شدہ کتب میں تکرار بہت ہے یعنی بعض اوقات یوں بھی دیکھنے میں آیا ہے، کہ ایک کتاب کے پورے پورے ابواب دوسری کتاب میں بھی موجود ہیں اور دو کتابوں کے ایک ہی جیسے مضامین اور مواد دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایک کتاب مستقل ہے اور دوسری کتاب اس پہلی کتاب سے ہی تیار کی گئی ہے، مثلاًپروفیسر صاحب نے سیرتِ رسول ﷺ پر ایک کتاب لکھی اور ایک جلد میں ’مقدمہ سیرة الرسول‘ کے نام سے اس کتاب کا مقدمہ لکھا۔بعد ازاں اس کتاب کے متفرق ابواب کو مختلف کتابچوں، مثلاً: ’سیرت رسول کی دینی اہمیت‘ اور ’سیرتِ رسول کی علمی وسائنسی اہمیت‘ اور ’سیرتِ رسول کی انتظامی اہمیت‘ اور ’سیرتِ رسول کی ریاستی اہمیت‘ وغیرہ کے عناوین سے شائع کر دیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر صاحب نے ’کتاب البدعۃ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور بعد ازاں اس کتاب کے دسویں باب کو ایک مستقل کتابچہ ’البدعۃ عند الأئمۃ والمحدثین‘ کے نا م سے شائع کر دیا گیا۔ اسی طرح اگر ہم ’اسلام اور جدید سائنس‘ اور ’تخلیق کائنات‘ اور ’ربّ العالمین کی علمی وسائنسی تحقیق‘کا تقابلی مطالعہ کریں تو ان تینوں کتب کے مواد کا ایک بڑا حصہ ایک ہی جیسا ہے۔ اسی طرح معاشیات پر اگر پروفیسر صاحب کی کتاب’اسلام کا معاشی نظام‘ اور ’اقتصادیاتِ اسلام‘ کا مطالعہ کریں تو ان کے مواد کا ایک بڑا حصہ بھی ایک ہی جیسا ہے۔علاوہ ازیں ’فلسفہ تسمیہ‘ اور ’تسمیۃ القرآن‘ کے مواد کا ایک بڑا حصہ ایک جیسا ہی ہے۔
مثلاًپروفیسر صاحب ’تفسیر منہاج القرآن‘ کے نام سے اب ایک تفسیر مرتب کر رہے ہیں اور اس کی پہلی جلد سورہ فاتحہ کی پہلی چار آیات پر مشتمل ہے اور تقریباً800 صفحات میں ہے۔ شاید اس تفسیر میں پروفیسر صاحب اپنی تمام کتابوں کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اس تفسیر کی پہلی جلد میں ہی اُنہوں نے اپنے کئی ایک کتابچوں مثلاً’فلسفہ تسمیہ‘اور ’ربّ العالمین کی علمی وسائنسی تحقیق‘ اور ’معارف اسم اللہ‘ اور ’تخلیق کائنات‘ اور ’تسمیۃ القرآن‘ وغیرہ کو جمع کر دیا ہے۔
چوتھی بات یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب کی کتب میں موضوع سے غیر متعلق اور غیر معیاری مواد کا ایک بڑا حصہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: ’سیرة الرسول کی علمی وسائنسی اہمیت‘ نامی کتابچے میں دو ابواب میں سے ایک باب کا عنوان ’قرآن حکیم اور علمی وسائنسی ترقی‘ ہے۔ پاکستان میں خود کش حملوں کے بارے ان کی کتاب ’دہشت گردی اور فتنہ خوارج ‘ کے 9 ابواب میں سے 3 ابواب غیر مسلم اور کفار کے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کے بیان میں ہیں جبکہ پاکستان میں غیر مسلم نہ ہونے کے برابر ہیں اور اصل مسئلہ مسلمان شہریوں کے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کا ہے۔
جہاں تک پروفیسر صاحب کی ضخیم کتب کی تیاری کا معاملہ ہے تو اس بارے ایک واقعہ نقل کیے دیتے ہیں ۔ کئی سال پہلے مولانا ڈاکٹرلقمان سلفی ﷾ ، انڈیا سے پاکستان میں’ مجلس التحقیق الاسلامی‘ لاہور میں تشریف لائے۔ وہ انڈیا میں غالباًمکتبہ ابن تیمیہ کے نام سے لائبریری بنانا چاہتے تھے لہٰذااُنہوں نے ادارہ کے بعض نوجوان ساتھیوں سے منہاج القرآن لائبریری کا وزٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہاں اُنہوں نے لائبریری کے ساتھ ان کے ریسرچ سنٹر کا بھی وزٹ کیا جس میں اس وقت تقریباً 40 ریسرچ اسکالرز اور متعلقہ معاونین موجود تھے۔ مولانا لقمان سلفی صاحب نے جب ان حضرات سے ان کے کام کے بارے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب ہمیں خطۃ البحث (synopsis) دیتے ہیں اور اس کے مطابق ہم ایک مکمل کتاب تیار کر دیتے ہیں۔
جہاں تک پروفیسر طاہر القادری صاحب کی کتب کے علمی معیار کی بات ہے تو ان پر دو اشکالات وارد ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جن کتب کا موضوع مذہبی اور دینی افکار ہیں تو ان میں ضعیف وموضوع روایات کی بھرمار ہے۔ پروفیسر صاحب ایک موضوع پر کلام کرتے وقت صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع سب روایات جمع کر دیتے ہیں جس اس کی جو مکمل تصویر سامنے آتی ہے، اس میں رطب ویابس سب جمع ہوتا ہے، مثلاً پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب’الدرة البیضاء فی مناقب فاطمۃ الزہرا‘ میں یہ روایت بیان کی ہے: إنما سمیت بنتي فاطمة لأن الله فطمها وفطم محبـیها عن النار” میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے۔“امام ابن جوزی ،امام ذہبی، ابن عراق الکنانی اور امام شوکانی﷭ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں مناقب و فضائل سے متعلق ایسی مبالغہ آمیز موضوع روایات اسلامی معاشروں میں بے عملی کو فروغ دینے کا بہت بڑا سبب ہیں کہ جن کے مطابق بعض شخصیات سے صرف محبت کرنا ہی اُخروی نجات کے لیے کافی ہے اور دین کے کسی تقاضے یا فریضے پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب ’وسائط شرعیہ‘ میں یہ روایت نقل کی ہے: لولاك لما خلقت الأفلاك ” اگر آپ ﷺ نے ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔“امام صنعانی، ملاعلی القاری، علامہ عجلونی اور علامہ البانی﷭نے اس روایت کو موضوع قراردیا ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے بریلوی مکتب فکر کے عقائد ونظریات کے حق ہونے پر اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ علیکم بالسواد الأعظم ”تم پر لازم ہے کہ تم سواد اعظم کو پکڑو۔“امام ابن حزم، امام عراقی، ابن عبد الہادی اور علامہ البانی﷭نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب ’زیارتِ رسول‘ میں یہ روایت نقل کی ہے: من زار قبري وجبت له شفاعتي ” جس نے میری قبر کی زیارت کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔“ امام نووی، ابن القطان، دمیاطی،امام ابن تیمیہ،ابن عبد الہادی،امام ذہبی، ابن حجر عسقلانی، امام سیوطی،محمد بن محمد الغزی اور الوداعی﷭نے اسے ضعیف یا منکر قرار دیا ہے جبکہ علامہ البانی اور شیخ بن باز﷭نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔
اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب ’الفوز الجلی فی التوسل بالنبی ﷺ‘ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم نے محمد ﷺ کے وسیلہ سے مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے سوال کیا کہ آپ کو محمد ﷺ کے بارے علم کہاں سے حاصل ہوا تو حضرت آدم نے کہا کہ میں نے آپ کے عرش پر کلمہ ’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ لکھا ہوا دیکھا تھا۔ اس روایت کو امام بیہقی، امام ابن کثیر، امام شوکانی، امام صنعانی ﷭نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ ابن حجر عسقلانینے کہا ہے کہ اس روایت کے ضعف پر اتفاق ہے۔شیخ ابن باز اور علامہ البانینے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔اس طرح اور بھی بیسیوں مثالیں ہیں، لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان روایات کے ضعف ووضع کا اجمالی حکم الدر ڈاٹ نیٹ نامی ویب سائٹ پر ملاحظہ کریں۔
جہاں تک غیر مذہبی عناوین پر کلام کی بات ہے تو ان کتب کا معیار بھی معاصر علمی معیار کے بالمقابل انتہائی سطحی ہے، مثلاً پروفیسر صاحب کی کتاب ’اسلام اورجدید سائنس‘ یا ’تخلیق کائنات‘ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ اُردو ڈائجسٹ میں سائنسی معلومات سے متعلق کسی مضمون کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
پروفیسر صاحب میں تقریر وخطابت کی صلاحیت ہے اور اُنہیں ہزاروں کے مجمع کو متاثر کرنے کا فن آتا ہے لیکن ان کی تحریر کی صلاحیت بالکل بھی متاثر کن نہیں ہے اور ان کی تحریر تکرار، سطحی معلومات، غیر مستند و غیر معیاری مواد پر مشتمل، غیر مرتب اور معاصر تحقیقی اسالیب کے مطابق نہیں ہوتی ہے۔ جہاں خطابت کی بات ہے تو پروفیسر صاحب میں جوشِ خطابت بہت زیادہ ہے اور بعض اوقات اس جوش میں غیرمعقول باتیں بھی کر جاتے ہیں، مثلاً ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی گلی کے کتوں کا گستاخ بھی کافر ہے۔(1)
(1) : Dr. Tahir-ul-Qadri is against declaring Shia,Deobandies whole group as Kafir 7 - YouTube
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
متجددانہ افکار وآرا

ذیل میں ہم پروفیسر صاحب کے بعض متجددانہ افکار و نظریات بیان کر رہے ہیں:

خواتین کے بار ے لبرل خیالات کا اظہار
پروفیسر طاہر القادری صاحب خواتین کے حقوق کے بارے کافی لبرل سوچ کے حامل ہیں، مثلاً اُنہوں نے اپنی کتاب اسلام میں خواتین کے حقوق میں کہا ہے کہ عورت پارلیمنٹ کی ممبر بن سکتی ہے اور دلیل یہ بیان کی ہے کہ حضرت عمر کے دور میں بھی خواتین مجلس شورٰی کی ممبر تھی، یہی وجہ ہے کہ حق مہر کے متعین کرنے کے مسئلہ میں ایک خاتون نے حضرت عمر پر اعتراض کیا تھا اور اس اعتراض پر حضرت عمر نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں:
” اس واقعہ کی رو سے یہ بات ملحوظ رہے کہ سیدنا عمر کسی عوامی جگہ یعنی مارکیٹ ، بازار وغیرہ میں ریاستی معاملہ discussنہیں کر رہے تھے بلکہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں زیر غور تھا جس کا مطلب ہے کہ عامۃ الناس کی بجائے منتخب افراد ہی اس عمل مشاورت میں شریک تھے۔ لہٰذا ایک خاتون کا کھڑے ہو کر بل پر اعتراض کرنے سے یہ مفہوم نمایاں طورپر اخذ ہوتا ہے کہ اس دور میں خواتین کو ریاستی معاملات میں شرکت کرنے، حکومت میں شامل ہونے اور اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار حاصل تھا۔مزید برآں حضرت عمر کا بل واپس لے لینا اور اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام میں جنسی امتیاز کے لئے کوئی جگہ نہیں اور مردو زن کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔“
پروفیسر طاہرالقادری صاحب کے بقول عورت ایک سیاسی مشیر کے طور پر بھی کام کر سکتی ہے اور اس کی دلیل وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ اور دیگر اُمہات المومنین ؓ، اللہ کے رسولﷺ کی سیاسی مشیر تھیں۔ان کے بقول عورت کو انتظامی عہدوں پر بھی فائز کیا جا سکتا ہے اور حضرت عمر نے شفا بنت عبد اللہ عدویہ کو بازار کا نگران مقرر کیا تھا۔ان کے بقول عورت کو سفیرمقرر کیا جا سکتا ہے اور حضرت عثمان ؓ نے اُمّ کلثوم بنت علیؓ کو ملکہ روم کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا تھا۔
لہٰذا ان کے نزیک وراثت میں حصوں کی تعین کی بنیاد جنس نہیں ہے یعنی عورت کو عورت ہونے کی وجہ سے آدھا حصہ نہیں دیا گیا بلکہ مرد کو معاشی ذمہ داریوں کے سبب سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ لیکن اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت کسی گھر میں اپنی ملازمت کے ذریعے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہو تو کیا اس صورت میں اسے خاوند کے برابر حصہ ملے گا؟ اگر نہیں تو پھر عورت کے وراثت میں نصف حصہ ہونے کی یہ علت نکالنا بھی درست نہیں ہے۔
1978ء تک وہ عورت کی حکمرانی کے قائل نہ تھے، لیکن1998ء میں ان کا یہ موقف تبدیل ہو گیا اور اُنہوں نے علما سے بے نظیر کی حکمرانی قبول کرنے کی اپیل کی۔ اور 2،3نومبر1993ء کے روزنامہ جنگ کے مطابق طاہر القادری نے کہا کہ عورت کسی بھی اسلامی ملک کی سربراہ ہو سکتی ہے اور نام نہاد علما اپنی دوکان چمکانے کے لیے عورت کی حکمرانی کے بارے فتوٰی جاری کرتے ہیں۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
اسلامی اقتصادیات میں سوشلزم کا تاثر
پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اپنی کتاب ’اقتصادیاتِ اسلام‘ میں ایک مکمل باب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی ریاست یا مملکت کی طرف سے عام شہریوں پر تحدید ملکیت جائز امر ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی ثابت ہے کہ معاشی بحالی کی جدوجہد روحِ نمازہے۔بعض اہل علم نے اُن کے ان نظریات کو اشتراکیت کی طرف رجحان قرار دیا ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
اسلامی معاشرت میں مغرب کا تاثر
ننگے سر اور کھلے گریبان والی مغرب زدہ خواتین کے جھرمٹ میں تصاویر کھنچوانا یا ان کے ساتھ مل بیٹھ کر گفتگو کرنے پروفیسر صاحب کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں اور اس بارے ان کی تصاویر اور ویڈیوز عام ہیں۔ اسی طرح پروفیسر صاحب 4 ،5 دسمبر1999ء کے اخبارات میں رومانیہ کی فرسٹ سیکرٹری سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ پروفیسر صاحب اپنے لیے’ مولانا‘ کے لقب کو پسند نہیں کرتے ہیں۔
پروفیسر صاحب نے فلم، سٹیج اور ڈرامہ کے اداکاروں پر مشتمل کلچرل ونگ تشکیل دیا ہے جس کے سیکرٹری جنرل معروف اداکار فردوس جمال، صدر فلمی اداکار ندیم، نائب صدر افضال احمد اور چیف آرگنائزر سید نور کو بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک منہاج القرآن کی ویب سائیٹ پر مشاہیر کے تبصرے کے عنوان کے تحت فلم وڈرامہ کے اداکاروں: ندیم، محمد علی، محمدافضل ریمبو، فردوس جمال،عثمان پیرزادہ،مسرت شاہین، شجاعت ہاشمی، افتخار ٹھاکر اور نسیم وکی وغیرہ کے بھی تبصرہ جات فخریہ انداز میں بیان کیے ہیں مثلاً اداکارہ مسرت شاہین کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاف وشفاف کردار کے مالک، امن کے سفیر، علمی کی روشنی، تنگ نظر نہیں اور ماڈریٹ ہیں۔ اس کلچرل ونگ کے بارے معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی کا نوائے وقت، 23مئی 2000ء کے ایڈیشن میں ایک مزاحیہ کالم بھی موجود ہے۔
عورتوں کے چہرے کے پردے یا نقاب کے بارے ان کا موقف یہ ہے کہ ماحول، عورت کی ضرورت، اس کی عمر اور اس کے ایمان کی مضبوطی کے مطابق عورت کے لیے چہرے کا پردہ کیس ٹو کیس مختلف ہے لہٰذا کسی خاتون کے لیے یہ واجب، کسی کے لیے مستحب اور کسی کے لیے مباح ہے۔(1)
عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کرنے کے بارے ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں محرم کی پابندی اس لیے لگائی گئی تھی کہ سیکورٹی کے مسائل بہت زیادہ تھے جبکہ آج سٹیٹ، پولیس، سسٹم اور سوسائٹی کی طرف سے جو سیکورٹی حاصل ہے، وہ محرم کے حکم میں ہے لہٰذا آج عورت کے سفر کے لیے محرم کی ضرورت نہیں ہے۔ (2)
مسلمانوں کے لباس کے بارے ان کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں کا لباس باحیا ہونا چاہیے ۔ باقی اس میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر مسلمان انگریزی ہیٹ پہن لیں یا ٹائی باندھ لیں یا دھوتی پہن لیں یاشلوار قمیص پہن لیں یا افریقن یا انڈین یا یورپین لباس پہن لیں تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ (3)
ننگے سر، کھلے گریبان، ہاف سلیوز کپڑوں میں ملبوس خواتین کے ساتھ بیٹھنااور گفتگو کرنا اُن کے ہاں معمول کی بات ہے۔ ایک جگہ اے آر وائے ٹیلی ویژن چینل پر ایک ایسی ہی خاتون کو ’خواتین کے حقوق‘ کے عنوان سے انٹرویو دے رہے ہیں۔ (4)

(1) : NIQAB on Woman&[URL=http://www.kitabosunnat.com/forum/usertag.php?do=list&action=hash&hash=39]#39s Face!!What is Islamic point of View ?( حکم اور حکمت ) By Shaykh-ul-Islam - YouTube[/url]
(2) : Can Women Travel without Mahram ? What about Hijab & Niqab ? 4/4 - YouTube
(3) : The Permissibility Of Western Clothing. Prof. Tahir ul qadri shaykh ul islam - YouTube
(4) : Dr. Tahir ul Qadri Interview - Legal Rights of Women in Islam - YouTube
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
پروفیسر صاحب اور فنونِ لطیفہ
پروفیسر طاہر القادری صاحب فنون لطیفہ کے بارے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ان کے مداحین نے ان کی ایسی تصاویر بھی بنا کر شائع کی ہیں جو ہاتھ سے بنائی گئی ہیں جیسا کہ ’ڈاکٹر محمد طاہر القادری ؛ میدانِ کارزار میں‘ نامی کتاب میں سرورق کی تصویر ہے۔
پروفیسر طاہر القادری صاحب میوزک کے ساتھ قوالی اور صوفیانہ کلام سننے کے قائل اور عادی ہیں اور اسی طرح صوفیانہ رقص وسرود کو بھی جائز اور روحانی ترفع کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کی کئی ایک ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ قوالی اور صوفیانہ کلام کو فل میوزک اور آلاتِ موسیقی کے ساتھ محظوظ ہو رہے ہیں اور ان کے سامنے رقص وسرود پیش کیا جا رہا ہے۔ بعض ویڈیوز میں قوالی کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ اُنہیں سجدہ کرتے بھی نظر آ رہے ہیں جس کی تاویل ان کے معتقدین یہ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ پروفیسر صاحب کو سجدہ نہیں بلکہ ان کی قدم بوسی تھی۔تحریک منہاج القرآن کی طرف سے اس ویڈیو کی یہ توجیہ بیان کی گئی ہے کہ دراصل پروفیسر صاحب کی قدم بوسی تھی اور قدم بوسی شریعتِ اسلامیہ میں جائز ہے۔
میوزک کے بارے اپنے ایک فتوٰی میں پروفیسر طاہر القادری نے اسے صحیح بخاری کی ایک روایت سے ثابت کیا ہے کہ عید و خوشی کے موقع پر میوزک اور رقص جائز ہے اور سلسلہ چشتیہ کا طریق ہے۔(1)
میوزک کے بارے اپنے ایک فتوی میں پروفیسر طاہر القادری نے اسے صحیح بخاری کی ایک روایت سے ثابت کیا ہے کہ عید و خوشی کے موقع پر میوزک اور رقص جائز ہے اور سلسلہ چشتیہ کا طریق ہے۔ (2)
اسی طرح اپنے ایک اور فتوٰی میں اُنہوں نے کہا ہے کہ عشق نبی میں رقص ووجد جائز ہے۔ (3)
اسی طرح ایک اور ویڈیو میں جناب پروفیسر صاحب کے سامنے قوالی’ پکارو شاہ جیلانی‘ فل میوزک اور آلاتِ موسیقی کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے اور پروفیسر صاحب اسے سنتے ہوئے تشریف لاتے ہیں اور بھانڈ میراثیوں کیلیے روپوں کی ویلیں لیتے اور دیتے ہیں اور شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے ہیں۔ (4)

(1) : http://www.youtube.com/watch?v=aO_RD7MFM4Q
(2) : Music in Islam Fatwa (urdu)- Dr. Tahir ul Qadri - BUKHARI SHARIF HADITH. - YouTube
(3) : Raqs in Islam - YouTube
(4) : Barelvi Tahir ul Qadri RELIGION EXPOSED reply-Pukaro Shah e Jelaan Ko Pukaro Qawwali - YouTube
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
وحدتِ ادیان اور اتحاد بین المذاہب کا نقطہ نظر
پروفیسر طاہر القادری صاحب غیر مسلموں اور اُن سے اتحاد کے بارے بھی بہت نرم جذبات رکھتے ہیں ۔ غیر مسلموں کے حقوق پراُن کی ایک کتاب بھی ہے۔ اُنہوں نے مسلم کرسچین ڈائیلاگ فورم بھی بنایا ہوا ہے جس کے وہ چیئرمین ہیں۔ اس فورم کے تحت کرسمس تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں قرآن کے ساتھ بائبل کی بھی تلاوت ہوئی۔ عیسائی پادری اور پروفیسر طاہر القادری نے کرسمس کا کیک کاٹا۔ دونوں کی طرف سے امن کی شمع روشن کی گئی۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب نے عیسائیوں کو یہ دعوت دی کہ ان کے ادارہ منہاج القرآن کی مسجد عیسائیوں کی عبادت کے لیے کھلی رہے گی۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنے والوں کو مؤمنین (Believers) میں شمار کیا جاتا ہے اور بقیہ کو نہ ماننے والوں(Non Believers) میں، اور مسیحی بھائی ماننے والوں میں شامل ہیں۔یہ خبر 3 جنوری 2006ء کے روزنامہ اخبارات ایکسپریس، نوائے وقت، دن،انصاف، پاکستان اورجناح وغیرہ میں شائع ہوئی ہے۔
پروفیسر صاحب کی بین المذاہب ’رواداری‘ اور یگانگت کی اس تحریک کے نتائج پاکستان عوامی تحریک کی ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں جس کے مطابق ’منہاج القرآن انٹرفیتھ ریلیشنز‘کے تحت چرچ میں عید میلاد النبی کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور ہندوں کے مقدس تہوار’ہولی‘ میں شرکت کی جا رہی ہے۔ صلیب کے سائے میں عیسائیوں کے مقدس شہرویٹی کن سٹی میں پروفیسر صاحب کی 60 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وغیرہ
 
Top