بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔
سب سے پہلے تو میں حدیث کا مفہوم آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔کہ جو کوئی اپنے بھائی کی دنیا میں کوئی پریشانی کو حل کرتا ہے کل قیامت کے دن اللہ رب العزت اس کی پریشانی حل کر دے گا۔
میں اپنی پڑھائی کے متعلق مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے انٹرمیڈیٹ ان کمپیوٹر سائنس کا امتحان دیا اور والدین کے کہنے پر بی ایس سافٹ وئیر انجئنرینگ کر رہا ہوں۔ یو ایم ٹی لاہور سے۔
اس کورس میں داخلہ اچانک ہوا اور مجھے غور و فکر کرنے کا ذرا بھی موقع نہ مل سکا۔
یونیورسٹی میں داخلہ سے پہلے میں کئی مرتبہ اپنے والد صاحب سے اپنی مستقبل میں پڑھائی کے متعلق بات کرتا رہا مگر ہر دفع وہ اپنی کسی رائے کا اظہار کردیتے اور میں مایوس لوٹ آتا۔
اب جس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں اس کا ماحول اور پڑھائی مجھے موافق نہیں آ رہی۔
میں نے پہلے دن سے ہی پڑھنے کا خالص ارادہ کیا تھا مگر کیا کروں میرا دل و دماغ مطمئن نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر میں گھر والوں سے اپنی تعلیمی حالت کے بارے میں بات کروں تو وہ بات سمجھتے نہیں۔
والد صاحب جو مجھے پڑھانا چاہتے ہیں وہ مجھ سے پڑھا نہیں جاتا اگر میں اپنی کوئی رائے دوں تو اسے رد کر دیا جاتا ہے۔
ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیئے۔ وہ جو کہتے ہیں اسے میں پڑھ نہیں سکتا اور میں جانتا ہوں اس میں ان کا پیسہ اور میرا وقت دونوں ضائع ہوں گے۔