• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پریشانی کھائے جا رہی ہے۔

نجم

رکن
شمولیت
اپریل 18، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
480
پوائنٹ
79
بسم اللہ الرحمن الرحیم​
السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔​
سب سے پہلے تو میں حدیث کا مفہوم آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
کہ جو کوئی اپنے بھائی کی دنیا میں کوئی پریشانی کو حل کرتا ہے کل قیامت کے دن اللہ رب العزت اس کی پریشانی حل کر دے گا۔

میں اپنی پڑھائی کے متعلق مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے انٹرمیڈیٹ ان کمپیوٹر سائنس کا امتحان دیا اور والدین کے کہنے پر بی ایس سافٹ وئیر انجئنرینگ کر رہا ہوں۔ یو ایم ٹی لاہور سے۔
اس کورس میں داخلہ اچانک ہوا اور مجھے غور و فکر کرنے کا ذرا بھی موقع نہ مل سکا۔
یونیورسٹی میں داخلہ سے پہلے میں کئی مرتبہ اپنے والد صاحب سے اپنی مستقبل میں پڑھائی کے متعلق بات کرتا رہا مگر ہر دفع وہ اپنی کسی رائے کا اظہار کردیتے اور میں مایوس لوٹ آتا۔
اب جس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں اس کا ماحول اور پڑھائی مجھے موافق نہیں آ رہی۔
میں نے پہلے دن سے ہی پڑھنے کا خالص ارادہ کیا تھا مگر کیا کروں میرا دل و دماغ مطمئن نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر میں گھر والوں سے اپنی تعلیمی حالت کے بارے میں بات کروں تو وہ بات سمجھتے نہیں۔
والد صاحب جو مجھے پڑھانا چاہتے ہیں وہ مجھ سے پڑھا نہیں جاتا اگر میں اپنی کوئی رائے دوں تو اسے رد کر دیا جاتا ہے۔
ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیئے۔ وہ جو کہتے ہیں اسے میں پڑھ نہیں سکتا اور میں جانتا ہوں اس میں ان کا پیسہ اور میرا وقت دونوں ضائع ہوں گے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ آپ اپنے والد محترم کو اپنی مشکل بتلائیں اور انہیں بتلانے کے کئی ذرائع ہو سکتے ہیں:
١۔ ان سے براہ راست بات چیت کر کے انہیں یہ بات خوب اچھی طرح واضح کریں
آپ جو کہتے ہیں اسے میں پڑھ نہیں سکتا اور میں جانتا ہوں اس میں آپ کا پیسہ اور میرا وقت دونوں ضائع ہوں گے۔
اس کے بعد بھی اگر وہ آپ کو یہی کچھ پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں تو آپ بری الذمہ ہو جائیں گے اور ممکن حد تک ان کی خواہش پر عمل کرتے رہیں۔
٢۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اپنا یہ پیغام اور صورت حال اور مسائل اپنی والدہ یا اپنے کسی عزیز رشتہ دار چچا، ماموں یا دوست کے ذریعے اپنے والد تک کھل کر پہنچا دیں۔
٣۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی تحریر مرتب کر کے مثلا کوئی خط وغیرہ اپنے والد محترم کو بھیج دیں جس میں اپنے مسائل اور نتائج سے تفصیل سے آگاہ کر دیں۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ بری الذمہ ہو جائیں گے۔

اپنے والد محترم پر دو ٹوک انداز میں یہ بھی واضح کریں کہ آپ کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔ یہاں بھی سوال میں آپ نے واضح نہیں کیا کہ جب اس پڑھائی میں آپ کا دل نہیں لگتا ہے تو آپ کا دل کیا پڑھنے میں لگ جائے گا۔ اگر اس کی وضاحت ہو جاتی تو شاید بہتر تھا۔ اور اگر اس پڑھائی میں دیگر کوئی شرعی موانع ہیں تو ان کو اس جواب میں consider نہیں کیا گیا ہے۔
 
Top