• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پسند کی شادی کے بارے میں سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
کیا اگر کسی کی وادہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی لڑکی پسند کرے لیکن لڑکے کو وہ لڑکی پسند نہ ہو تو کیا وہ اپنی ناپسندی کا اظہار کر دے یا اپنی والدہ کے احترام میں رضامندی سے رشتہ قبول کر لے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
دونوں طرح کا معاملہ جائز ہے۔ والدین کی رضا کا لحاظ رکھے گا تو اجر و ثواب بھی ہے اور اگر اس کا لحاظ اس وجہ سے نہ رکھے کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کا گزاراہ مشکل ہو جائے گا اور اس لڑکی کے حقوق بھی متاثر ہوں گے تو اس صورت میں اس لڑکی کے رشتہ سے انکار بہتر نظر آتا ہے۔ لجنہ دائمہ کا فتوی یہی ہے کہ کسی معین لڑکی کے ساتھ شادی کے مسئلہ میں والدین کی اطاعت واجب نہیں ہے۔

وقال علماء اللجنة :
" طاعتهما في الزواج من امرأة معينة والابن لا يريدها لا تجب ؛ لأنه إن أطاعهما فيخشى من تعثر الزواج ، وعدم الألفة وحصول الطلاق ، لكن يجب على الابن في جميع الأحوال مراعاة خاطرهما بالأساليب الحسنة ، التي تطمئن قلبيهما ، ويجتنب مصادمتهما برأيه ، ويحذر الأساليب الجافية ، مع مضى الابن فيما يراه من مصلحة راجحة ؛ لأنه أدرى بأمره وخاصة نفسه " انتهى .
"فتاوى اللجنة الدائمة"
(19 /135)
 
Top