محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,049
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِن (سنن ابن ماجه، إقامة الصلاة والسنة فيها: 1390)
’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام البانی رحمہ اللہ، عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ اور دیگر نے صحیح قراردیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: سلسلة الأحاديث الصحيحة: 1144، تحفة الأحوذي، ج3، ص 365)
اسی معنی کی ایک اور حدیث کو امام البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح الجامع میں ذکر کیا ہے ۔
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِذَا کَانَ لَیْلة النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِطَّلَعَ اللّه اِلٰی خَلْقِه فَیَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَیُمْلِیْ لِلْکَافِرِیْنَ وَیَدَعُ أهلَ الْحِقْدِ بِحِقْدهم حَتّٰی یَدَعُوه (صحیح الجامع: 771)
’’جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔‘‘
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (الأحزاب: 21)
’’بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔‘‘
إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِن (سنن ابن ماجه، إقامة الصلاة والسنة فيها: 1390)
’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام البانی رحمہ اللہ، عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ اور دیگر نے صحیح قراردیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: سلسلة الأحاديث الصحيحة: 1144، تحفة الأحوذي، ج3، ص 365)
اسی معنی کی ایک اور حدیث کو امام البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح الجامع میں ذکر کیا ہے ۔
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِذَا کَانَ لَیْلة النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِطَّلَعَ اللّه اِلٰی خَلْقِه فَیَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَیُمْلِیْ لِلْکَافِرِیْنَ وَیَدَعُ أهلَ الْحِقْدِ بِحِقْدهم حَتّٰی یَدَعُوه (صحیح الجامع: 771)
’’جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔‘‘
- واضح رہے کہ عبادت کے معاملے میں پندرہ شعبان عام دنوں کی طرح ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی رات کے قیام اور دن کے روزے کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (الأحزاب: 21)
’’بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔‘‘
- فضیلت کے بارے میں تمام احادیث ضعیف اور من گھڑت ہیں، اس لیے صرف اس رات کا قیام کرنا اور دن کا روزہ رکھنا، اور اس کی کوئی خاص فضیلت سمجھنا بدعت اور سراسر گمراہی ہے۔ عبادت وہی ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اپنی مرضی سے کسی دن کی خاص فضیلت سمجھ کر اسے عبادت بنا لینا بدعت اور گمراہی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں:لطائف المعارف از ابن رجب، ص 137، تحفۃ الاحوذی از عبد الرحمن مباركپوری، جلد 3، ص 368، مرعاۃ المفاتيح، جلد 4، ص 344)