- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
پہلی بیعت عقبہ
ہم بتا چکے ہیں کہ نبوت کے گیارہویں سال موسمِ حج میں یثرب کے چھ آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی قوم میں جا کر آپ ﷺ کی رسالت کی تبلیغ کریں گے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال موسمِ حج آیا (یعنی ذی الحجہ ۱۲ نبوی، مطابق جولائی ۶۲۱ء تو بارہ آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں حضرت جابر بن عبد اللہ بن رئاب کو چھوڑ کر باقی پانچ وہی تھے جو پچھلے سال بھی آ چکے تھے اور ان کے علاوہ سات آدمی نئے تھے۔ جن کے نام یہ ہیں:
* معاذ بن الحارث، ابن عفراء قبیلۂ بنی النجار
* ذکوان بن عبد القیس قبیلۂ بنی زریق
* عباد ہ بن صامت قبیلۂ بنی غنم
* یزید بن ثعلبہ قبیلۂ بنی غنم کے حلیف
* عباس بن عبادہ بن نضلہ قبیلۂ بنی سالم
* ابو الہیثم بن التیہان قبیلۂ بنی عبد الاشہل
* عویم بن ساعدہ قبیلۂ بنی عمرو بن عوف
ان میں صرف اخیر کے دو آدمی قبیلۂ اوس سے تھے۔ بقیہ سب کے سب قبیلۂ خزرج سے تھے۔ (ابن ہشام ۱/۴۳۱تا ۴۳۳)
نوٹ: [عقبہ (ع، ق، ب تینوں کو زبر) پہاڑ کی گھاٹی، یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ کو کہتے ہیں۔ مکہ سے منیٰ آتے جاتے ہوئے منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہی گزرگاہ عَقَبَہ کے نام سے مشہور ہے۔ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو جس ایک جمرہ کو کنکری ماری جاتی ہے وہ اسی گزرگاہ کے سرے پر واقع ہے اس لیے اِسے جمرہ عقبہ کہتے ہیں۔ اس جمرہ کا دوسرا نام جمرہ کبریٰ بھی ہے۔ باقی دو جمرے اس سے مشرق میں تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں۔ چونکہ منیٰ کا پورا میدان، جہاں حجاج قیام کرتے ہیں۔ ان تینوں جمرات کے مشرق میں ہے۔ اس لیے ساری چہل پہل ادھر ہی رہتی ہے اور کنکریاں مارنے کے بعد اس طرف لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے بیعت لینے کے لیے اس گھاٹی کو منتخب کیا اور اسی مناسبت سے اس کو بیعت عقبہ کہتے ہیں۔ اب پہاڑ کاٹ کر یہاں کشادہ سڑکیں نکال لی گئی ہیں۔]
ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے منیٰ میں عقبہ کے پاس ملاقات کی اور آپ ﷺ سے چند باتوں پر بیعت کی۔ یہ باتیں وہی تھیں جن پر آئندہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ کے وقت عورتوں سے بیعت لی گئی۔