• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیٹھ پیچھے ہاتھ باندھنا کیسا ہے ؟

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
499
پوائنٹ
209
پیٹھ پیچھے دونوں ہاتھ باندھنا لوگوں میں کافی عام ہے ، مسلمان طبقہ یہاں تک کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں ۔ اس طریقے کو شرع کی نظر سے دیکھا جائے تو بہت خطرناک نظر آتا ہے ۔ قرآن کی ایک آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح سے جہنمی اپنا نامہ اعمال حاصل کرے گا۔ اللہ کا فرمان ہے:
وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ (الانششاق: 10)
ترجمہ: ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا۔
اس وجہ سے یہ طریقہ اتنا منحوس قرار پایا کہ آج بھی مجرموں کو قیامت کے مجرموں کی طرح گرفتار کیا جاتا ہے ۔ پوری دنیا میں مجرم کی گرفتاری کی یہی صورت حال ہے ۔
احادیث کی روشنی میں پیٹھ پیچھے بایاں ہاتھ رکھنے اور اس پہ ٹیک لگانے کی ممانعت آئی ہے اور اسے کفار کا طریقہ بتلایا گیا ہے ۔
عن عمرو بنِ الشريدِ، عن أبيهِ، قال : مرَّ بي رسولُ اللهِ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ - وأنا جالسٌ هكذا ؛ وقد وضعتُ يدي اليسرى خلفَ ظهري ؛ واتَّكأْتُ على أَلْيةِ يديَّ، قال : أتقعدُ قِعدةَ المغضوبِ عليهِم ؟(مشكاة المصابيح)
ترجمہ : عمرو بن شرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں اس حالت میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے ہاتھ کے انگوٹھے کے نچلے حصے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ تو آپ نے فرمایا:کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھے ہو جن پر غضب نازل ہوا تھا ؟
٭شیخ البانی نے مشکوۃ کی تخریج میں اس کی سند کو بخاری کی شرط پہ بتلایا ہے ۔(تخريج مشكاة المصابيح:4658)
اس عمل کی جہاں عام حالات میں بیٹھنے کی ممانعت ہےوہاں نماز میں بھی سختی سے منع کیا گیا ہے ۔
عنِ ابنِ عمرَ أنَّهُ رأى رجلًا يتَّكئُ علَى يدِهِ اليُسرَى وَهوَ قاعدٌ في الصَّلاةِ،فقالَ لَه لا تجلِسْ هَكَذا فإنَّ هَكَذا يجلسُ الَّذينَ يعذَّبونَ(صحيح أبي داود:994)
ترجمہ: ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے ایک آدمی کو نماز میں بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے دیکھا توکہا کہ اس طرح مت بیٹھوکیونکہ اس طرح سے وہ لوگ بیٹھتے ہیں جنہیں عذاب دیاجاتا ہے ۔
جب یہ طریقہ غیض وغضب نازل ہونے والے اور عذاب دئے جانےوالوں کا ہے تو اس کی مشابہت سے ہمیں بچنا ہے جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من تشبَّهَ بقومٍ فهوَ منهم(صحيح أبي داود:4031)
ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اسی میں سے ہے ۔
عقلا بھی یہ طریقہ مروت کےخلاف لگتا ہے کہ کوئی کسی کے سامنے یا چلتے وقت دونوں ہاتھ پیٹھ پہ یا مقعد پہ رکھے رہے ۔ اس میں کبر کی علامت پائی جاتی ہے ۔ لہذا اس طریقہ سے مسلمانوں کو بچنا ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب

 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
435
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

چلتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے رکھنے کا حکم


سوال:

میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ جب کبھی باہر سیر و تفریح کے لیے یا خریداری کرنے کے لیے جاتا ہوں، تو میں چلتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے رکھ لیتا ہوں، اس پر میری اہلیہ مجھے کہتی ہے کہ: ایسے نہیں چلتے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے، لیکن میں نے اس حوالے سے کوئی حدیث نہیں سنی ، تاہم میں یہ کام کسی کی نقالی میں نہیں کرتا، ہاں میں ایسے ہاتھ رکھنے سے اپنے آپ کو قدرے راحت میں پاتا ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ چلتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پر اس طرح رکھنا کہ دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑا ہوا ہو اور انہیں کوکھ کے برابر کمر پر رکھا ہوا ہو، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس حوالے سے کوئی صحیح حدیث ہے؟ اللہ تعالی آپ کو ہم سب کی طرف سے بہترین صلہ عطا فرمائے۔



جواب :

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

ہمیں ایسی کوئی حدیث نہیں ملی جو کمر کے پیچھے ہاتھ اس طرح رکھنے سے منع کرتی ہو کہ ایک ہاتھ نے دوسرے کو پکڑا ہوا ہو۔

کچھ معاصر اہل علم سے ایسی ہی کچھ صورتوں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے ان سے منع کر دیا، اور اس کے لیے دلیل یہ دی کہ یہ کافروں کا انداز ہے، اور یہ طریقہ کار وہیں سے آیا ہے، اور کافروں کی مشابہت کرنے کی ممانعت ہے۔

ہمیں منع کرنے والے ان اہل علم کی دلیل کا بھی علم نہیں ہے، نہ ہی اس کی کوئی صحیح وجہ ہمارے علم میں ہے۔ ویسے سوال میں مذکور چلنے کا انداز پوری دنیا کے لوگوں میں مروج ہے، اس طریقے کو کسی خاص علاقے یا گروہ کے ساتھ مختص نہیں کر سکتے۔

جب معاملہ ایسا ہی ہے تو عادات کے متعلق جب تک اس کے حرام ہونے کی دلیل پیش نہ کی جائے تو وہ اپنے اصلی حکم یعنی اباحت پر ہو گی، اس لیے بغیر دلیل کے اس سے روکا نہیں جائے گا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عادات میں اصل حکم جواز ہے، اس لیے صرف کسی ایسی عادت سے ہی روکا جائے گا جو شریعت میں حرام ہو، وگرنہ ہم اللہ تعالی کے فرمان: قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا [ترجمہ: کہہ دیجیے! تم سب بتلاؤ کہ :اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو کچھ رزق نازل کیا ہے ، تم نے من مانی کرتے ہوئے اس میں کچھ کو حلال اور کچھ کو حرام قرار دے دیا ہے۔] میں شامل ہو جائیں گے۔ اسی لیے تو اللہ تعالی نے ایسے مشرکین کی مذمت کی ہے جو دین میں ایسی باتیں شامل کرتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے اجازت ہی نہیں دی، اور ایسی چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے حرام قرار نہیں دیا۔۔۔ یہ اصول بہت ہی عظیم الشان اور نہایت مفید ہے۔"
ختم شد
"مجموع الفتاوى" (29/ 16–18)

آپ رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں:
"سابقہ اہل علم میں سے کسی کا مجھے اس حوالے سے کوئی اختلافی تبصرہ معلوم نہیں ہے کہ: جس چیز کی حرمت کی دلیل شریعت میں نہیں ہے وہ مباح ہے، منع نہیں ہے۔ اس حوالے سے اصول فقہ اور فروعِ فقہ پر گفتگو کرنے والے بہت سے اہل علم نے صراحت کے ساتھ بات کی ہے، بلکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نے تو اس بات پر یقینی طور پر یا ایسے ظنی طور پر کہ وہ یقینی ہی ہو؛ اجماع نقل کیا ہے" ختم شد
"مجموع الفتاوى" (21/538)

اس لیے بنیادی طور پر اصول یہ ہے کہ: اس انداز سے چلنا جائز ہے، کیونکہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس میں اس انداز کو حرام قرار دیا گیا ہو۔

و اللہ اعلم

ماخذ:
الاسلام سوال و جواب


۔
 
Top