عامر عدنان
مشہور رکن
- شمولیت
- جون 22، 2015
- پیغامات
- 924
- ری ایکشن اسکور
- 267
- پوائنٹ
- 142
* چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز - امام وہب بن منبہ الیمانی رحمہ اللہ کا اثر، تحقیق کے میزان پر*
- - - پہلی قسط - - -
- - - پہلی قسط - - -
*
حافظ اکبر علی اختر علی سلفی عفا اللہ عنہ
ا================
* امام ابن حبان البستی (المتوفی : 354ھ) رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :*
*"حدثنی عمر بن حفص البزار بجندیسابور، قال : حدثنا إسحاق بن الضیف، قال : حدثنا إسماعیل بن عبد الکریم، قال : حدثنی عبد الصمد بن معقل قال : "مکث وهب بن منبه أربعين سنة يصلي الصبح بوضو العشاء الآخرة".*
حضرت عبد الصمد بن معقل بن منبہ الیمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
*"امام وہب بن منبہ الیمانی رحمہ اللہ نے چالیس سال اس طرح گزارا کہ عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے".*
(الثقات بتحقيق مجموعة من العلماء : 487/5، ت : 5863 وسندہ ضعيف)
* راقم کہتا ہے کہ :*
(1) مذکورہ سند ضعيف ہے کیونکہ اس سند میں امام ابن حبان البستی رحمہ اللہ کے شیخ *"عمر بن حفص البزار الجندیساپوری"* مجہول العين ہیں، مجھے جرح و تعدیل کی کسی بھی کتاب میں ان کا ترجمہ نہیں مل سکا.
(2) میں نے کافی تلاش کیا لیکن امام ابن حبان کی کتاب الثقات میں بھی ان کا ترجمہ نہیں مل سکا... پھر میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ جس بندے سے آپ نے کئی بار روایت کیا، اس بندے کا تذکرہ آپ نے اپنی کتاب میں کیوں نہیں کیا جبکہ اس بندے کی مذکورہ بات کو آپ نے اپنی دوسری کتاب میں بالجزم بیان کیا ہے؟ واللہ أعلم وعلمه أتم.
* امام محمد بن سعد البصری رحمہ اللہ (المتوفی : 230ھ) رقمطراز ہیں :*
*"أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الأَزْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: "لَبِثَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ يَسُبَّ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحَ، وَلَبِثَ عِشْرِينَ سَنَةً لَمْ يَجْعَلْ بين العشاء والصبح وضوءا".*
(الطبقات بتحقیق محمد عبد القادر : 71/6، ت : 1755)
* راقم کہتا ہے کہ :*
(1) مذکورہ سند بھی ناقابل احتجاج ہے کیونکہ اس میں *مثنی بن الصباح الیمانی ضعيف، مضطرب الحديث اور منکر احادیث بیان کرنے والے راوی ہیں، کئی ائمہ کرام نے آپ کو متروک الحدیث قرار دیا ہے، اس پر مزید یہ کہ آپ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے.*
ائمہ کرام کے اقوال کے لیے دیکھیں : (تهذيب الكمال للمزي بتحقيق بشار عواد : 203/27، ت : 5773)
(2) *مسلم بن خالد الزنجی کو جمہور ائمہ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے* جیسا کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا ہے. دیکھیں : (مجمع الزوائد بتحقيق حسام الدين : 45/5، رقم : 8043)
اس پر مزید یہ کہ امام علی بن المدینی، امام بخاری اور امام ابو حاتم الرازي رحمہم اللہ نے آپ کو منکر الحدیث قرار دیا ہے. دیکھیں : (تهذيب الكمال للمزي بتحقیق بشار : 508/27، ت : 5925)
(3) اس متن میں 20 سال کا ذکر ہے، چالیس سال کا نہیں.
* امام ابن عساکر الدمشقي رحمہ اللہ (المتوفی : 571ھ) فرماتے ہیں :*
*"أخبرنا أبو الحسن علي بن المسلم حدثنا أبو محمد الصوفي إملاء أخبرنا محمد بن محمد بن محمد بن إبراهيم بن مخلد، حدثنا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي، حدثنا جعفر بن أحمد بن عاصم، حدثنا أحمد بن أبي الحواري، حدثنا سالم الخواص (وهو خطأ والصحيح : سلم الخواص) ، حدثنا مسلم بن خالد قال : "لبث وهب بن منبه أربعين سنة لا يرقد على فراش، ولبث عشرين سنة لم يجعل بين العتمة والصبح وضوءا".*
(تاریخ دمشق بتحقيق عمرو العمروی : 378/63، ت : 8076)
* راقم کہتا ہے کہ :*
(1) مذکورہ سند بھی قابل احتجاج نہیں ہے کیونکہ مسلم بن خالد الزنجی ضعيف عند الجمهور اور منکر احادیث بیان کرنے والے راوی ہیں.
(2) *سلم بن ميمون الخواص،* آپ عبادت گزار شخص تھے، حدیث میں وہم کا شکار ہو جاتے تھے، سند اور متن کو الٹ پلٹ دیا کرتے تھے، منکر روایات بیان کرنے والے راوی ہیں لہذا آپ کی مرویات سے احتجاج نہیں کیا جائے گا.
ائمہ کرام کے اقوال کے لیے دیکھیں : (لسان المیزان لابن حجر بتحقیق عبد الفتاح : 112/4، ت : 3551 و سیر أعلام النبلاء للذهبی بتحقيق مجموعة من المحققين : 179/8، ت : 24وغیرہ)
(3) اس متن میں 40 سال اور 20 سال دونوں کا ذکر ہے لیکن مختلف الفاظ کے ساتھ.
* خلاصۃ التحقیق :*
امام وہب بن منبہ الیمانی رحمہ اللہ کی بابت جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے چالیس سال یا بیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی، وہ بلا شبہ ثابت نہیں ہے. واللہ اعلم.
اللہ میرے گناہوں کو بخش دے اور میری زبان و قلم میں برکت عطا فرما. آمین.
* ناشر : البلاغ اسلامک سینٹر*
09 - جولائی - 2026ء
23 - محرم - 1448ھ