• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چھوٹے کام مگر بڑے انعام

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم

چھوٹے کام مگر بڑے انعام​

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

محترم سامعین!

آج کے خطبۂ جمعہ کے لئے جس موضوع کا میں نے انتخاب کیا ہے وہ ہے ’’ چھوٹے کام مگربڑے انعام ‘‘ یہ ایک ایسا دل کو چھولینے والاموضوع ہے جس کے اندرمیں آپ کو وہ آسان اورچھوٹے چھوٹے اعمال بتاؤں گا جوکرنے میں تو بہت ہی زیادہ آسان ہیں مگر اس کا اجروثواب بہت ہی زیادہ ہے،بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ آپ ان باتوں کو سن کردنگ رہ جائیں گے کہ اعمال کتنے چھوٹے ہیں مگر ثواب کتنا زیادہ ہے،اور ان شاء اللہ میں ایسے ایسے اعمال بتاؤں گا کہ بس ادھر آپ عمل کریں گے اورآپ کے لئے اربوں اورکھربوں کی تعداد میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی،صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ایک چھوٹاعمل ایسابھی بتاؤں گا جس کااجروثواب تو دوبڑے پہاڑکے برابر ہے،سبحان اللہ۔اورایک چھوٹا اورآسان عمل ایسا بھی بتاؤں گا کہ اگر آپ وہ آسان کام کریں گے تو آپ کے لئے ایک لاکھ چالیس ہزار فرشتےرحمت ومغفرت کی دعائیں کریں گےمزید یہ کہ چھوٹے چھوٹے اعمال سے آپ کو اللہ کی رحمت ومغفرت،جنت کی ٹکٹ اورجہنم سے آزادی کا پروانہ بھی مل جائے گا،صرف یہی نہیں بلکہ ایک عمل تو ایسا بھی بتاؤں گا جس کی فضیلت میں آپﷺ نے یہ کہا ہے کہ جومسلمان بھی یہ کام کرے گا تواللہ رب العالمین اسے تمام مخلوق کے سامنے میں بلائے گا اور کہے گا کہ تم نے ایک فلاں چھوٹا عمل کیا تھا اب جتنی مرضی حوریں لے لو۔سبحان اللہ۔اس لئے میرے دوستو!آپ آج کے خطبۂ جمعہ میں بتائی جانے والی تمام باتوں اورتمام اعمال کو سن کراپنے دل ودماغ میں بیٹھالیں اورہمیشہ عمل کرتے رہاکریں کیونکہ عمل سے ہی یہ سارے انعام واکرم ملنے والے ہیں،صرف سن کر رہ جائیں گے تو پھر اس سے ہمارا کچھ بھی فائدہ ہونے والا نہیں ہے،تواب آئیے بلاتاخیر ’’ چھوٹے کام مگر بڑے انعام ‘‘ کے موضوع کی شروعات کرتے ہیں:

1۔ ایک آسان دعاپڑھیں اورآپﷺ کا ہاتھ پکڑکرجنت میں داخل ہوجائیں:

جی ہاں!میرے دوستو!آپ نے بالکل صحیح سنا کہ جو مسلمان بھی یہ دعاپڑھےگا تو اسے آپﷺ ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائیں گےجیسا کہ سیدنا منذرؓ جو کہ افریقہ ملک میں رہا کرتے تھے بیان کرتے ہیں کہ سیدالکونین جناب محمدعربیﷺ نےفرمایا كه جس مسلمان نے صبح میں یہ کہا ’’ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ‘‘کہ میں اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اورمحمدﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں،تو’’ فَأَنَا الزَّعِيمُ لَأَخُذَنَّ بِيَدِهِ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ‘‘میں اس بات کی گارنٹی اورضمانت دیتاہوں کہ اس کا ہاتھ پکڑے رکھوں گا یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کرادوں گا۔(الصحیحۃ:2686)اورایک دوسری روایت کے اندر ہے ،سیدناابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نےاس چھوٹی سی دعاکے بارے میں فرمایا کہ ’’ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ‘‘ جو اس دعاکو پڑھے گا تو جنت اس کے لئے واجب ہوجائے گی۔(ابوداؤد:1529،الصحیحۃ:334)اورایک تیسری روایت کے اندرہے، آپﷺ نے فرمایا کہ جومسلمان صبح وشام تین تین مرتبہ یہ دعاپڑھے گا تو ’’ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ضروربالضرور خوش اورراضی کردے گا۔(ابن ماجہ:3870، مسنداحمد:18967،اسنادہ حسن)سبحان اللہ اس چھوٹی سی دعا کی کتنی عظیم فضیلتیں ہیں مگر ہم اورآپ اس کا اہتمام نہیں کرتے ہیں،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے نبیﷺ ہمارا ہاتھ پکڑکر جنت میں داخل کروادیں تو پھر اس دعاکو صبح وشام لازم پکڑیں۔

2۔روزانہ 2500 نیکیاں کمائیں:

میرے دوستو!اب میں آپ کو ایک ایسا عمل بتانے جارہاہوں جوکرنے میں تو بہت ہی زیادہ آسان ہیں مگراس کوانجام دینے والے بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں اور اس بات کی جانکاری خود جناب محمدعربیﷺ نے دی ہے کہ شیطان انسان کو اس آسان نیکی سے غفلت میں مبتلاکردیتاہےجیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‘‘کہ دوباتوں پر جومسلمان بھی پابندی سے عمل کرے گا تو وہ جنت میں ضرور داخل ہوجائے گا،اور’’ هُمَا يَسِيرٌ ‘‘یہ دونوں عمل تو بہت ہی آسان ہیں ،مگر’’وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ ‘‘اس پرعمل کرنے والے لوگ بہت تھوڑے ہیں،پہلا عمل تو یہ ہے کہ ’’ يُسَبِّحُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا ‘‘ہرنماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ،دس مرتبہ الحمدللہ ،اوردس مرتبہ اللہ اکبر کہنا،پھرآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ ‘‘یہ زبان سے کہنے میں پانچوں نمازوں کے حساب سے تو صرف ایک سوپچاس مرتبہ ہوتے ہیں لیکن یہ نیکیوں کے ترازو ں میں 1500/ہوں گے،کیونکہ ایک نیکی کا اجروثواب دس گنا زیادہ ملتاہے،اوردوسرا عمل جس پرعمل کرنے والے لوگ بہت ہی کم ہیں ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ‘‘جب تم اپنے بسترپر آرام کرنے کے لئے جاؤ تو34/مرتبہ اللہ اکبر،33/مرتبہ الحمدللہ،اور33/مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لو،’’ فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ ‘‘یہ کلمات زبان سے کہنے میں تو صرف سو ہیں،لیکن نیکیوں کے ترازوں میں دس گنا کے حساب سے ایک ہزار ہیں،صحابۂ کرامؓ نے کہا کہ اے اللہ کے نبیﷺ’’ كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ ‘‘یہ دونوں اعمال آسان کیسے ہیں اورعمل کرنے والے بہت تھوڑے کیسے ہیں؟اورترمذی شریف کےالفاظ ہیں ،صحابۂ کرامؓ نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ ’’ فَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا ‘‘ یہ عمل تو بہت آسان ہے ، ہم پابندی سے یہ دونوں عمل کیوں نہیں کرسکتے،توآپ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو’’ يَأْتِي أَحَدَكُمْ - يَعْنِي الشَّيْطَانَ - فِي مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ ‘‘جب سونے کا ٹائم ہوتاہے تو شیطان ایک انسان کے پاس آجاتاہے اور اس سے پہلے کہ وہ یہ تسبیحات پڑھے اسے سلا دیتا ہے،اور اسی طرح سے ’’ وَيَأْتِيهِ فِي صَلَاتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا ‘‘نماز میں بھی ایک انسان کے پاس شیطان آ جاتاہے اور اسے کوئی کام یاد دلادیتاہے تو وہ انہیں پڑھے بغیر ہی اٹھ جاتاہے۔(ابوداؤد:5065،ترمذی:3410،ابن ماجہ:926 ،اسنادہ صحیح)میرے دوستو!ذراسوچئے کہ شیطان انسان کو نیکی سے روکنے کے لئے کیسے کیسے حیلے وبہانے کرتاہے ،افسو س صد افسوس آج ہم تو شیطان کے اس چال اور شیطان کے اس جال میں بری طرح سے پھنس چکے ہیں ، ہم تو موبائل دیکھتے دیکھتے کب سوجاتے ہیں ہمیں احساس ہی نہیں ہوتاہے اورتو اور ہے نماز کے بعد تو کچھ لوگوں کو اتنی جلدی رہتی ہے کہ جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا ،لوگ اٹھ کر بھاگنا شروع کردیتے ہیں ،اس لئے اے میرے بھائیو!اپنی اس حرکت سے باز آجاؤاور شیطان کو اس کے مقصد میں کامیاب نہ ہونے دو ،اوراس طرح کے چھوٹے چھوٹے اعمال جس کو انجام دینے سے مشکل سے ایک سے دومنٹ لگتے ہیں ،ضروربالضرورعمل کرلیا کرو ورنہ قیامت کے دن بہت پچھتاؤگے۔

3۔ ایک منٹ میں ایک ہزار نیکیاں کمائیں:

میرے دوستو!اب میں آپ کو چھوٹے اعمال مگربڑے انعام کے تحت ایک ایسا عمل بتانے جارہاہوں جس کےاندر تو آپ ایک منٹ میں ایک ہزارنیکی کماسکتے ہیں،آئیے اس بارے میں پیارے رسول ﷺ کی ایک پیاری سی حدیث سنتے ہیں ،سیدنا سعدبن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ ‘‘کہ کیاتم اس بات سے عاجز ہو کہ ہردن ایک ہزار1000 نیکی کرسکو،تو ایک صحابیٔ رسول نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ ’’ كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ‘‘ہم ایک ہزار نیکیاں کیسے کرسکتے ہیں؟توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ ‘‘100/سومرتبہ سبحان اللہ کہنے سے ایک ہزارنیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا ایک ہزار گناہ مٹادئیے جاتے ہیں۔(مسلم:2698)سبحان اللہ۔کتنا چھوٹا عمل ہے مگراس کا اجروثواب تو دیکھئے کہ کتنا عظیم ہے ،اس لئے ہم اورآپ اس آسان ذکر کو کبھی نہ بھولیں اورسوسومرتبہ کرکے باربارپڑھتے رہاکریں۔

4۔چندسکنڈ لگائیں،30 /لاکھ نیکیاں کمائیں اورجنت میں محل بھی بنالیں:

میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ چند سکنڈ میں ایک ہزارنیکیاں کمائیں ،اب میں آپ کو ایک ایسی حدیث سنانے جارہاہوں جس کے اندر تو اس بات کا تذکرہ ہے کہ بس کچھ سکنڈ میں آپ 30/تیس لاکھ نیکیاں کمالیں گے اورجنت میں اپنے نام کی ایک محل بھی بنوالیں گے۔سبحان اللہ۔کتنی عظیم فضیلت ہے،آئیے حدیثِ رسول سنتے ہیں،سیدناعمربن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ کہا کہ ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘اس دعا کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ اللہ کےعلاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے،وہ اکیلا ہے اس کاکوئی شریک وساجھی نہیں ہے،اسی کے لئےبادشاہت ہے،اوراسی کے لئے ہرقسم کی تعریف ہے، وہی زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے ،اوروہ زندہ رہنے والا ہے،اسے کبھی موت نہیں آئے گی،اسی کے ہاتھ میں ہرطرح کی بھلائی ہےاور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔تو’’ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ ‘‘اللہ تعالی اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتاہے،اوراس کے دس لاکھ برائیوں کو مٹادیتاہے،اوراس کے دس لاکھ درجات کو بلند کردیتاہے۔(ترمذی:3428،الصحیحۃ:3139)اورايك دوسري روايت كے اندرہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ‘‘ اوراس دعاکے پڑھنے والے کے لئے جنت میں ایک محل بھی بنادیا جاتاہے۔(ابن ماجہ:2235،اسنادہ حسن)میرے دوستو!اگر آپ کے لئے اس طرح سے پڑھنا مشکل ہورہاہو تو آپ اس الفاظ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘ سے بھی پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اس طرح پڑھنا بھی کئی احادیث سے ثابت ہے۔(الصحیحۃ:3139)

5۔چند سکنڈ میں اربوں اور کھربوں کی تعداد میں نیکیاں کمائیں:

میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ کچھ سکنڈ میں 1000/ہزار،2500/ اور30/تیس لاکھ نیکیاں کمائیں مگر اب جو حدیث میں آپ کوسنانے جارہاہوں ،اس میں تو اس بات کا ذکر ہے کہ آپ بس کچھ سکنڈ میں اربوں اورکھربوں کی تعداد میں نیکیاں کماسکتے ہیں،اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ اس عمل کوباربارانجام دے کراپنے نیکیوں کے ترازوں کو وزنی کرلیں،یاپھر اسے چھوڑکر اپنا نقصان کرلیں ،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایساکون سا عمل ہے جس کے کرنے پر اربوں اورکھربوں کی تعداد میں نیکیاں ملیں گی تو سنئے حدیث،سیدناعبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنِ اسْتَغْفَرَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ حَسَنَةً ‘‘کہ جومسلمان بھی تمام مومن مردوں اورعورتوں کے لئے مغفرت کی دعاکرتاہے تو اس کے لئے ہرمومن مردوعورت کے بدلے میں ایک ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔(صحیح الجامع الصغیرللألبانیؒ:6026،اسنادہ حسن)سبحان اللہ۔ کتنا آسان عمل ہے مگر اس پر کتنا اجروثواب ہے ،اب آپ ہی سوچئے کہ اس دنیا میں کتنے مومن مردوعورت ہوں گے،اس کا صحیح علم تو صرف اورصرف اللہ رب العالمین ہی کے پاس ہے،اسی لئے تومیں نے کہا کہ آپ چند سکنڈ میں اربوں اورکھربوں کی تعداد میں نیکیاں کماسکتے ہیں،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو! جب کبھی بھی دعاکروتو اپنے مسلمان بھائیو اوربہنو کے لئے مغفرت کی دعاضروربالضرورکیا کرو،بلکہ یہ اپنی عادت بنالو اوروقتاً فوقتاً سب کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہاکرو،اب آپ مجھ سے یہ پوچھیں گے کہ تمام مسلمانوں کی مغفرت کے لئے ہم کیسے دعائیں کریں تو بس آپ ایسا کہاکریں کہ اے اللہ!جتنے مسلمان مردوعورت اورجتنے مومن مردوعورت ہیں تو ان سب کی مغفرت فرمادے۔

6۔ایک آسان عمل کیجئے اورپہاڑوں کے برابراجروثواب حاصل کیجئے:

میرے دوستو!چھوٹے کام مگربڑے انعام کے تحت اب جو حدیث میں آپ کو سنانے جارہاہوں ،اگرآپ نیکیوں کے شوقین اورنیکیوں کے انجام دینے کے خواہشمند ہیں تو اس حدیث کو سن کر آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے،اورآپ خود یہ سوچنے پرمجبورہوجائیں گے کہ کتناآسان اورکتنا چھوٹاعمل ہے مگر اس کا اجروثواب کتنا عظیم ہے،سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى حَتَّى يُصَلِّيَ فَلَهُ قِيرَاطٌ ‘‘جوشخص بھی کسی مسلمان کے نمازجنازہ میں حاضرہوا تو اس کے لئے ایک قیراط کے برابراجروثواب ہے’’ وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ ‘‘ اورجو شخص نمازجنازہ اداکرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دفن ہونے تک شامل رہا تو اس کے لئے دوقیراط کے برابر اجروثواب ہے،صحابۂ کرام نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ ’’ وَمَا القِيرَاطَانِ ‘‘ یہ دوقیراط سے مراد کیا ہے؟توآپﷺ نے فرمایا ’’ مِثْلُ الجَبَلَيْنِ العَظِيمَيْنِ ‘‘کہ دوبہت بڑے پہاڑ کے برابر ۔ (بخاری:1325،مسلم:945)اورایک دوسری روایت کے اندر ہے کہ ایک قیراط یہ احد پہاڑ کے برابر ہے۔(مسلم:946)سبحان اللہ ۔میرے دوستو!سنا آپ نے کہ اس نماز جنازہ کے اداکرنے اورکفن دفن میں شامل ہونے پر کتنا عظیم اجروثواب ہے مگرافسوس صدافسوس آج ہم اس عمل سےبہت کتراتے اورجی چراتے ہیں،دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ غیروں کے جنازے میں کم اوراپنے رشتے داروں کے جنازے میں دوردراز کا سفر طے کرکےایک فرض کفایہ کو اداکرنے کے لئے شامل ہوجاتے ہیں،بلکہ لوگ تو 100/200/300 کیلومیٹر بلکہ اس سے کہیں زیادہ دور سعودی عرب اوریہاں وہاں سےہوائی جہاز کاسفرطے کرکےبھی جنازے میں شامل توہوتے ہیں مگر اپنے گھر کے چندفاصلے پر جومسجد ہوتی ہے اس میں فرض نماز پڑھنے کے لئے حاضرنہیں ہوتے ہیں تومیرے دوستو !آپ ایک بات سن لیں اور جان لیں کہ نماز جنازہ کا اہتمام کرنا بہت اچھی بات ہے اور ہم کو اس میں ضروربالضرور اپنے کام کاج کو چھوڑ کر شامل ہونی چاہئے مگر اس سے بھی کہیں زیادہ ہم کو فرض نمازوں کی پابندی کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ اللہ ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہم نے فلاں فلاں کی نمازجنازہ ادا کی تھی کی نہیں؟ مگر اللہ ہم سے یہ ضرورپوچھے گا کہ ہم نے فرض نمازیں ادا کی تھی یا نہیں!اس لئے میرے بھائیو!جس طرح سے ہم نماز جنازہ پڑھنے کااہتمام کرتے ہیں اس سے کہیں بڑھ کر فرض نمازوں کا اہتمام کیا کریں۔

7۔ایک آسان عمل سےایک ایک قدم پر سال بھر کے قیام وصیام کا ثواب کمائیں:

میرے دوستو!ہمارے دین میں نمازجمعہ کی جواہمیت ہے وہ ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہے،ہرمسلمان جانتاہے کہ جمعہ یہ کتنا عظیم دن ہے اور اس نماز جمعہ کی کیاکیا فضیلتیں ہے مگر افسوس صد افسوس آج ہم مسلمانوں نے اس جمعہ اورجمعہ میں ہونے والے خطبے وبیان کو ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھ لیا ہے،اورتو اور ہےآج کا مسلمان جان بوجھ کرجمعہ کی نماز کے لئےتاخیرسےآتاہے،لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس جمعہ کی دورکعت ہی تو اداکرنی ہے،ہم جلدی کیوں جائیں؟نہیں میرے بھائیو !نہیں!آپ اس خطبہ کو معمولی نہ سمجھیں،یہ خطبہ کتنی عظیم چیز ہے اگر آپ کو اس کا اندازہ لگانا ہے تو بس اس بات سے لگالیجئے کہ اس خطبے کو سننے کے لئے فرشتے بھی اپنی مصروفیت کو ترک کرکےمسجدکے دروازوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔(ابن ماجہ:1092،مسلم:850)سبحان اللہ۔معصوم عن الخطاء مخلوق کا یہ عالم ہے اورایک ہم پاپی مخلوق ہیں جو جمعہ کے خطبے میں جلدی آنا ہی نہیں چاہتے ہیں تو سن لیجئے جو مسلمان بھی نماز جمعہ کے لئے لیٹ (تاخیر )سے آتاہے تو وہ جنت میں بھی لیٹ (تاخیر) سے جائے گا، خواہ اس نے بڑے بڑے نیک اعمال ہی کیوں نہ کئے ہوں جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو!’’ احْضُرُوا الذِّكْرَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ ‘‘خطبۂ جمعہ میں ضرورجلدی آیاکرو اورامام صاحب کے قریب بیٹھاکرو،کیونکہ ’’ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا ‘‘ایک مسلمان جمعہ کے بیان وخطبے (اوردیگر خیروبھلائی کے کاموں سے)پیچھے رہنے کو اپنی عادت ومعمول بنالے تو جنت میں بھی پیچھے کردیا جائے گا اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو ہی جائے۔(ابوداؤد:1108،الصحیحۃ:365) سنا آپ نے جمعہ کے بیان کی کیا اہمیت ہےمگر ہائے رے ہماری بدبختی !ہم تو ہمیشہ پیچھے رہتے ہیں ،اس لئے اے میرے جماعتی بھائیو! ہمیشہ جمعہ کی نماز کے لئے اذان سے پہلے آجایاکرو،کیونکہ تمہارے لئے ایک عظیم اجروثواب رکھا ہوا ہے،ذراغورسے سنئے کہ کتنا آسان عمل ہے مگر اجروثواب کتنا زیادہ ہے ،سیدنا اوس بن اوسؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ‘‘ کہ جس نے جمعہ کے دن خوب اچھی طرح سے غسل کیا اورکرایا،’’ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ ‘‘اول وقت میں آیا،اورجمعہ کے خطبہ میں شروع سے حاضررہا،پیدل چل کر آیا،سوار ہوکرنہ آیا ’’ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ ‘‘ اورامام صاحب سے قریب ہوکر بیٹھا اورخوب توجہ سے کان لگا کر پورے بیان کو سنا،اورپھر اس نے دوران خطبہ کوئی بیہودہ وفضول حرکت نہ کی تو ’’ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا ‘‘ اسے ہرہرقدم کے بدلے ایک سال کے روزے اورایک سال کے قیام کرنے کے برابر اجروثواب ملے گا۔(ابن ماجہ:1087،ترمذی:496،ابوداؤد:345،اسنادہ صحیح)سبحان اللہ۔اس جمعہ کی کتنی عظیم فضیلت ہےمگر ہائے رے ہماری بدقسمتی! ہم تو اس اجروثواب سے اکثر وبیشتر محروم ہی رہ جاتے ہیں کیونکہ ہماری عادت جو ہے ہمیشہ لیٹ (تاخیر) سے آنے کی،اب حدیث سننے کے بعد فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم جمعہ کے لئے جلدی آ کر یا تو اپنے دامن کو اجروثواب سے بھر لیں یاپھر تاخیر سے آکر اجرکثیر سے اپنے آپ کو محروم کرلیں۔اللہ ہم سب کو ہمیشہ جمعہ کے لئے اول وقت میں آنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین





8۔ایک چھوٹی سی سورہ دس بار پڑھیں اور جنت میں محل بنائیں:

محترم سامعین وسامعات! اب میں آپ کو ایک ایسا آسان چھوٹا عمل بتانے جارہاہوں کہ یہ عمل کرنے میں بمشکل آپ کو دو منٹ لگیں گے مگر اس عمل سے آپ کے لئے جنت میں ایک عالیشان سونے وچاندےاورہیرے وجواہرات سے بناہوا ایک محل تیارکردیاجائے گا۔سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلت ہے ،اوروہ عمل ہے دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنا،جی ہاں میرے بھائیو اوربہنو!جومسلمان بھی دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا تو جنت میں اس کے لئے سونے وچاندے کے بنگلے بنادئیے جائیں گے جیسا کہ سیدنامُعاذ بن انس الجُھَنِی ؓبیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى يَخْتِمَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ ‘‘ کہ جومسلمان بھی مکمل سورہ اخلاص دس مرتبہ پڑھے گا تو ’’ بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ ‘‘ اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ایک محل بنادے گا،یہ سن کر سیدنا عمربن خطابؓ نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرم ﷺ ’’ إِذَنْ نَسْتَكْثِرَ قُصُوْراً يَا رَسُولَ اللَّهِ ‘‘ تب تو ہم دس دس مرتبہ یہ سورہ پڑھ کر بہت سے محلات اپنے لئے بنوا سکتے ہیں ؟توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ اللَّهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ ‘‘اللہ تعالی بھی بہت زیادہ اوربہت ہی عمدہ عطاکرنے والا ہے۔(الصحیحۃ:589،مسنداحمد:15610)

9۔ایک بار پڑھیں اور چاربڑے انعامات حاصل کرلیں:

میرے دوستو!چھوٹے کام مگربڑے انعام کے تحت ایک اورسب سے آسان عمل کوسنئے،اوریہ تو پڑھنے میں بہت ہی چھوٹا عمل ہے مگر اس کے بہت سارےعظیم فائدے ہیں،صرف عظیم فائدے ہی نہیں ہیں بلکہ اس عمل کو انجام دینے والوں کے بارے میں کئی خوشخبریاں خودجناب محمدعربیﷺ نے بیان کردیا ہے،سنئے حدیث،سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ محبوب خداوحبیب کائنات جناب محمدعربی ﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ‘‘ جوبھی شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود(وسلام)کا نذرانہ پیش کرے گا تو اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا،اور اس کے دس گناہ معاف کردئے جائیں گے اور مزید یہ کہ جنت میں اس کے لئے دس درجے بھی بلند کردئے جائیں گے۔(نسائی:1297،اسنادہ صحیح)اورایک دوسری روایت کے اندر ہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِنْ أُمَّتِي صَلَاةً مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ‘‘ میر اجوبھی امتی خلوص دل سے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اوراس کے دس درجے بلند کردے گا اورمزید یہ کہ اللہ اس کے لئے دس نیکیوں کو بھی لکھ دے گااور اس کی دس برائیوں کو بھی مٹادے گا۔(الصحیحۃ:3360)سبحان اللہ۔درودوسلام بھیجنے کا کتنا بڑا اجروثواب ہے اس لئے میرے بھائیو اوربہنو! اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا میزان نیکیوں سے بھرجائے تو پھر ہم اس درودوسلام کو ہمیشہ لازم پکڑیں اورکثرت سے اس کا اہتمام کرتے رہاکریں۔

10۔ایک آسان عمل سےاپنے نبیﷺ کی صحبت وشفاعت حاصل کیجئے:

جی ہاں میرےدوستو!بالکل آپ نے صحیح سنا کہ بس ایک آسان عمل سے آپ میدان محشر اورجنت میں اپنے نبیﷺ کی صحبت میں رہ سکتے ہیں اورمزید یہ کہ اس آسان عمل کوانجام دینےسےخودآپﷺ آپ کے لئے جنت میں لے جانے کی سفارش بھی کریں گے،وہ آسان عمل یہی ہے جوابھی ابھی آپ نے سنا کہ اپنے نبیﷺ پر درود وسلام پڑھنا،اورصرف ایک دوبار ہی اپنے نبیﷺ پر دورودوسلام نہیں بھیجنا ہے بلکہ کثرت سے درود وسلام بھیجنا ہے،جومسلمان بھی اپنے نبیﷺ پرکثرت سے درودوسلام کے نذرانے پیش کرے گاتو اس کے انعام کے بارے میں خود جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً ‘‘کہ قیامت کے دن میرے قریب سب سے زیادہ وہ لوگ ہوں گے جو کثرت سے میرے اوپر درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتے تھے۔(صحیح ابن حبان:911،الصحیحۃ:3382)سبحان اللہ۔اس درودوسلام کی کتنی عظیم فضیلت ہےاوریہ توکثرت سے درود وسلام پڑھنے کی بات ہوئی اب اس سےبھی زیادہ آسان عمل سنئے کہ اگر کوئی مسلمان اپنی زندگی کایہ حصہ بنالے کہ وہ ہردن صبح وشام دس دس مرتبہ اپنے نبیﷺ پردرودوسلام کا نذرانہ پیش کرے گاتو اسے کتنے بڑے انعام واکرام سے نوازا جائے گا،سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْراً وَحِيْنَ يُمْسِيْ عَشْراً أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ جوبھی مسلمان میرے اوپر صبح وشام دس دس مرتبہ درود بھیجے گا توکل بروزقیامت اسےمیری سفارش ضروربالضرورملے گی۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:6357،صحیح الترغیب للألبانی:232)تومیرے بھائیو اوربہنو!اس آسان اوربابرکت عمل کو کبھی نہ چھوڑنا ورنہ جنت کے راستے سے بھٹک جاؤگے۔

11۔دوآسان عمل سے رات بھر تہجد پڑھنے کا ثواب حاصل کیجئے:

میرے دوستو! اب جس عمل کا میں تذکرہ کرنے جارہاہوں وہ تو بہت ہی آسان ہے مگر اس کا اجروثواب اتنا زیادہ ہے کہ رات بھر تہجد پڑھنے کے برابر ثواب ملتاہے ۔سبحان اللہ۔وہ عمل ہے عشاء اورفجر کی نماز باجماعت اداکرنا جیسا کہ سیدناعثمان بن عفانؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ ‘‘ کہ جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا کہ وہ آدھی رات تک نفل نماز پڑھتارہا یعنی اس کے لئے آدھی رات تک قیام کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور ’’ وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ ‘‘ پھر جس نے عشاء کے ساتھ ساتھ فجر کی نماز جماعت کے ساتھ اداکرلی تو گویا کہ وہ ساری رات نفل نماز پڑھتارہا یعنی کہ اس نے ساری رات قیام کیا۔سبحان اللہ۔(مسلم:656)میرے دوستو!سوچئے کتنا آسان عمل ہے مگر اجروثواب کتنازیادہ ہے کہ رات بھر تہجد کی نماز پڑھنے کے برابراجروثواب ملتا ہے ،اسی میں ایک اور ایساعمل ہے جس سے آپ بس ایک سے دومنٹ کے اندراندر رات بھر تہجد کی نماز اداکرنے کے برابر اجروثواب کماسکتے ہیں ۔سبحان اللہ۔اگرآپ کو میری باتوں پر یقین نہ ہورہاہو تو پھر حدیث سن لیجئے،سيدناابن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ البَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ‘‘جوشخص سورہ بقرۃ کی آخری دوآیات یعنی کہ آمن الرسول رات کو پڑھ لے گا تو یہ دونوں آیتیں اس کے لئے کافی ہوجائیں گی۔(بخاری:5051،مسلم:808)اس حدیث میں جو کفتاہ مذکور ہے اس کے کئی معانی اہل علم نے بیان کئے ہیں،نمبرایک یہ کہ یہ دوآیتیں پڑھنے سے قیام اللیل کے برابرثواب ملتاہے،نمبر دو یہ کہ یہ دونوں آیتیں رات بھر پڑھنے والوں کو شیطان کے شروفساد سے حفاظت کریں گی،نمبر تین یہ کہ یہ دونوں آیتیں ہرقسم کی آفتوں اورمصیبتوں سے بچاتی ہیں،نمبر چار یہ کہ ان دونوں آیتوں کا اجروثواب انسان کے لئے کافی ہوگا۔(تحفۃ المسلم شرح مسلم:ص1878)اورنمبر پانچ یہ کہ یہ دونوں آیتیں دخول جنت کے لئے کافی ہوجاتی ہیں۔(ھدایۃ القاری شرح بخاری:4008)سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلتیں ہیں آمن الرسول کی،اس لئےمیرے بھائیو اوربہنو!اگر ہرغم وپریشانی،ہرطرح کی آفت ومصیبت،جادوجنات اورشیاطین کے اثرات وغیرہ سے محفوظ رہناچاہتے ہیں تو پھر اس آمن الرسول کو لازم پکڑ لیجئے کیونکہ یہ کوئی معمولی آیتیں نہیں ہیں بلکہ یہ ذات باری تعالی کے عرش کے نیچے کےخزانوں میں سے ایک ایسا خزانہ ہے جو صرف اورصرف اللہ نے آپﷺ کے ذریعےہمیں عطا کیا ہے جیسا کہ سیدنا ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ وَلَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ‘‘کہ آمن الرسول مجھے عرش کے نیچے کے خزانوں سے عطا کیا گیا ہے اورمجھ سے پہلے کسی بھی نبی کونہیں دی گئی۔(مسنداحمد:21345،الصحیحۃ:1482،صحیح الجامع:1060)

12۔ایک آسان عمل سے 1,40,000/ایک لاکھ چالیس ہزارفرشتوں کی دعائیں لیجئے:

جی ہاں!میرے دوستو!آپ نے بالکل ہی صحیح سنا کہ آپ ایک آسان عمل سے صبح سے شام تک 70000/یا پھر شام سے صبح تک 70000/سترہزارفرشتوں کی دعائیں لے سکتے ہیں،سبحان اللہ۔ یعنی کہ اگرہم چاہیں تو ایک دن میں 140000/ایک لاکھ چالیس ہزار فرشتوں کی دعائیں لے سکتے ہیں ،مگرافسوس !ہم تو یہ نیکی کرتے ہی نہیں ہیں ، اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایساکون سا عمل ہے جس کے کرنے پر 140000/ایک لاکھ چالیس ہزارفرشتے دعادیں گے توپھر حدیث سن ہی لیجئے،سیدناعلیؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ عَائِدًا ‘‘کہ جوشخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس عیادت کےلئے آتاہے تو وہ ’’ مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ ‘‘مریض کے پاس آ کر بیٹھنے تک جنت کے پھل چنتاآتاہے،پھر’’ فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ‘‘ جب وہ مریض کے پاس بیٹھ جاتاہے تو اس پر رحمت سایہ فگن ہوجاتی ہے،’’ فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ ‘‘اگرعیادت صبح کے وقت ہوتو شام تک 70000/سترہزار فرشتے اس کے لئے دعائیں رحمت کرتے ہیں اوراگر’’ وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ ‘‘عیادت شام کے وقت کی جائے تو صبح تک 70000/سترہزار فرشتے اس کے لئے دعائیں رحمت کرتے رہتے ہیں۔(ابن ماجہ:1442،ابوداؤد:3098،الصحیحۃ:1367) سبحان اللہ۔کتنی عظیم نیکی ہے مگر ہم اورآپ اس کو بالکل ہی بھول چکے ہیں،ہمارے رشتے داراورہمارے پڑوسی مہینوں سے بیمار ہوتےہیں مگر نہ تو ہمیں اس کی خبر ہوتی ہے اورنہ ہی ہم ان کی عیادت کو جاتے ہیں ،میرے دوستو!اپنے رشتے دارمریضوں اوراپنے بیمارپڑوسیوں کی عیادت ضروربالضرورکرلیاکرو،ورنہ کل قیامت کے دن پھنس جاؤگے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ کل بروزقیامت اللہ رب العالمین کسی انسان سے یہ کہے گا کہ ’’ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ‘‘ اے ابن آدم!میں بیمار تھا تو ،تونے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ وہ انسان کہے گا کہ ’’ يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ‘‘ اے میرے رب!میں تیری عیادت کیسے کرسکتاہوں ،تو تو سارے جہانوں کا رب ہے! تو اللہ کہے گا کہ ’’ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ‘‘ کیاتجھے یہ بات معلوم نہ تھی کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے ،پھر تو نے اس کی عیادت کیوں نہیں کی؟’’ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ‘‘کیاتو یہ نہیں جانتا کہ اگرتو اس کی عیادت کرتاتو مجھے اس کے پاس پاتا۔(مسلم:2569)یعنی کہ میری رحمت کو تو اس کے پاس پاتا ،ذرا غورکیجئے کہ اللہ رب العالمین نے مریضوں کی تیمارداری کواپنی طرف منسوب کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اللہ کی رضاوخوشنودی کو حاصل کرنے کے لئے یہ ایک بہت ہی بابرکت عمل ہے۔اللہ ہم سب کو اس پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔





13۔ایک چھوٹے جانور کو مارکر 100/سونیکی کمائیں:

میرے دوستو!اب میں آپ کو ایک ایساعمل بتانے جارہاہوں کہ جو دیکھنے اورسننے میں تو بہت ہی معمولی ہے مگر اس معمولی عمل کوانجام دینے پر 100 نیکی ملتی ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کون سا عمل ہے جس کے کرنے پر 100 نیکی ملتی ہے تو وہ عمل ہے چھپکلی کومارنا،جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ ‘‘کہ جوچھپکلی کو ایک ہی وار میں ماردے گا تو اس کے لئے 100/سونیکی لکھی جائے گی،اگر دوسری وار میں مارا تو اس سے کم اوراگر تیسری وار میں مارا تو اس سے کم اجروثواب ملتاہے۔(مسلم:2240)جی ہاں میرے دوستو! چھپکلی کے مارنے پر 100 نیکی ملتی ہے مگر ہماری بچیاں تو چھپکلی کو دیکھ کرہی چیخناوچلانااوررونا دھونا شروع کردیتی ہے،یہ آج کل کی مسلم قوم کی بیٹیاں ہیں اورایک اماں عائشہ تھیں جو چھپکلی کو مارنے کے لئے اپنے پاس ایک لاٹھی رکھاکرتی تھی،جیسا کہ سعید بن مسیبؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اماں عائشہؓ کے پاس گئی تو ان کے ہاتھ میں ایک بھالانما لاٹھی دیکھی تو اس عورت نے اماں عائشہؓ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟تو امی عائشہؓ نے کہاکہ اس سےمیں چھپکلیوں کو مارتی ہوں،اس لئے کہ آپﷺ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کوآگ میں ڈالا گیا تھا تواس وقت آگ کو اس چھپکلی کے علاوہ سبھی جانوربجھانے کی کوشش کررہے تھے ،اسی وجہ سے آپﷺ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔(نسائی:2834،اسنادہ صحیح)اورصحیح بخاری کے اندر ہے کہ ’’ أَمَرَ بِقَتْلِ الوَزَغِ ‘‘ آپﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیااور فرمایا کہ ’’ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‘‘یہ جانور ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے جلائی اورسلگائی ہوئی آگ میں پھونک ماررہاتھا۔(بخاری:3359)یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے اس جانور کو فاسق کہا ہے۔(مسلم:2238) اس لئے اے میری بہنو!اس چھپکلی سے ڈرومت بلکہ اس فاسق جانور کو اپنے گھروں میں تلاش تلاش کرمارا کرو کیونکہ اس کامارنا سنت بھی ہے اور100/سونیکی دلانے والا آسان عمل بھی ہے۔

14۔ایک آسان کام کرو اورجتنی مرضی حوریں پسند کرلو:

میرے دوستو!چھوٹے اعمال مگربڑے انعام کے تحت اب جو عمل میں بتانے جارہاہوں یہ تو ایک ایساعمل ہے جس کا کرنا تو بہت آسان ہے مگراس کا اجروثواب سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کون سا عمل ہے جس کی اتنی زیادہ فضیلت ہے تو وہ عمل ہے غصے کو پی جانا،کب؟اس وقت غصے کو پی جانا جب وہ اپنے غصے کو پوراکرنے پرقادر ہو،اس کی کتنی بڑی فضیلت ہے خود حدیث سن لیجئے،جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ ‘‘ جو شخص بھی اپنے غصےکواس وقت پی جائے جب کہ وہ اس کو نافذ کرنے پر قدرت رکھتا ہو تو اللہ تعالی ایسے شخص کو کل قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میں بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حور عین میں سے جسے چاہو اپنے لئے پسند کرلو اور لے لو۔(ابوداؤد:4777،ابن ماجہ:4186،صحیح الجامع للألبانیؒ:2231،اسنادہ حسن)سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلت ہے مگر ہم اورآپ ایساکرتے کہاں ہیں؟ہم تو اپنے غصے کو اپنے سے کمزورانسانوں کے اوپر فوراً نافذ کردیتے ہیں اوراپنے سے طاقتورانسانوں کے سامنے میں بھیگی بلی بن جاتے ہوئے فوراً یہ کہتے ہیں کہ جابھائی میں نے معاف کیا،تو ایساکہنے والوں کو یہ فضیلت نہیں ملے گی بلکہ یہ فضیلت صرف ان لوگوں کو ملے گی جو اپنے غصے کو اس وقت پی جائے جب وہ اس کو نافذکرسکتاہواوراسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو،میرے بھائیو اوربہنو !یہ تو آپ نے غصہ پی جانے کی ایک بہت بڑی فضیلت کو سنا ،اب ایک دوسری بہت بڑی فضیلت کوبھی سنئے،جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘اور جو شخص اپنے غصے کو روکے گا یعنی کہ پی جائے گا تو اللہ تعالی اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جوشخص اپنے غصے کو طاقت رکھنے کے باوجود بھی نافذ نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اللہ رب العالمین اس کے دل کو امیدوں اورخوشیوں سے بھردے گا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:906)سبحان اللہ اس غصے کو پی جانے والوں کے لئےآپﷺ نےکتنے عظیم اجروثواب کا وعدہ کیا ہے،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!ہمیشہ اپنے غصے کوقابومیں رکھوورنہ دنیا وآخرت ہرجگہ میں بہت نقصان اٹھاؤگے۔

15۔چل کر جائیں اور حج وعمرہ کا ثواب کمالیں:

میرے دوستو!اب میں ایک ایسا آسان عمل بتانے جارہاہوں جس کو انجام دے کرکے ہم حج وعمرے کا ثواب کما سکتے ہیں،اوریہ عمل نہ توکوئی بہت بڑا عمل ہے اورنہ ہی اس عمل کو انجام دینے کے لئے آپ کو ایک روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے ،بس ایک چھوٹے سے عمل سے آپ حج وعمرہ دونوں کا ثواب کما سکتے ہیں،سبحان اللہ۔ عمل تو بہت چھوٹا ہے مگر انعام بہت بڑا ہے، سنئے حدیث،سیدنا ابوامامہ الباہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي الْجَمَاعَةِ فَهِيَ كَحَجَّةٍ ‘‘کہ جومسلمان چل کر جماعت کے ساتھ فرض نماز اداکرنے لئے مسجد میں جاتاہے تو اسے ایک حج کرنے کے برابرثواب ملتاہے،’’ وَمَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ تَطَوُّعٍ فَهِيَ كَعُمْرَةٍ تَامَّةٍ ‘‘اورجومسلمان کوئی نفل نماز پڑھنے کے لئے چل کرمسجدجاتاہے تو اسے ایک مکمل عمرہ کرنے کے برابرثواب ملتاہے۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:6556، طبرانی:7578)سبحان اللہ ذرا غورکیجئے کہ کتنا آسان عمل ہے کہ بس مسجد چل کر آناہے اورآکر فرض یانفل نماز پڑھنا ہے اوراس پر حج وعمرہ کرنے کے برابر ثواب ہے،اسی سلسلے میں ابوداؤد کے اندر یہ حدیث بھی موجود ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ ‘‘کہ جومسلمان اپنے گھرسےباوضوہوکر فرض نماز کے لئے نکلتاہے تو اس کا اجروثواب ایسے ہی ہے جیسے کہ حاجی احرام باندھے ہوئے آئے ’’ وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ ‘‘ اورجو شخص صرف اورصرف چاشت کی نماز اداکرنے کی نیت سے اپنے گھرسے نکلے تو ایسے آدمی کوایک عمرہ کرنے والے کی طرح اجروثواب ملتاہے۔ (ابوداؤد:558،اسنادہ حسن)سبحان اللہ۔کتنا آسان عمل ہے توجوبھائی اوربہن حج وعمرہ نہیں کرسکتے ہیں تو وہ بس یہ کام کرے اورحج وعمرہ کا ثواب حاصل کرلیں۔

16۔ایک آسان عمل کو انجام دیجئےاورعرش الٰہی کا سایہ حاصل کیجئے:

میرے دوستو!میدان محشر کی گرمی اوردھوپ کی شدت کا یہ عالم ہوگا کہ لوگ پسینے سے شرابور اپنے اپنے اعمال کے بقدرپسینے میں غوطے کھارہے ہوں گے اورسورج صرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگا ،نفسا نفسی کا عالم ہوگا،سب کو بس اپنی فکرہوگی،اس وقت انبیاء ورسل بھی یہی کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ نَفْسِي نَفْسِي ‘‘ مجھے تو بس اپنی فکر ہے،مجھے تو بس اپنی فکر ہے،(مسلم:194،بخاری:4712)ذرا سوچئے کہ ایسی مشکل گھڑی میں اگر کسی کو اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے دے تو یہ کتنی بڑی خوش نصیبی ہوگی،تو اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے دے تو پھر ایک آسان کام کیجئے ، وہ آسان عمل یہ کہ اگر آپ نے کسی کو قرضہ دیا ہے تو اس کو مہلت دے دیا کیجئے یاپھر معاف ہی کردیجئےجیسا کہ سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ ‘‘کہ جوشخص تنگ دست مقروض کو مہلت دے گا یاپھر وہ قرضہ معاف ہی کردے گا تو کل بروزقیامت اللہ تعالی اسے اپنےعرش کےسائے میں جگہ دے گا جس دن صرف اسی کا سایہ ہوگا۔(ترمذی:1306، اسنادہ صحیح ،مسند احمد:8696،مسلم:3006)سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلت ہے مگر آج کل کے دور میں کون اپنا پیسہ چھوڑتاہے بھائی،لوگ تو جب اپنا قرضہ وصولتے ہیں تو مقروض کو گالی بھی دیتے ہیں،مارتے پیٹتے بھی ہیں اور مقروض کی بیٹی روٹی بھی کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو مقروض کے اوپر ظلم ڈھانے سے بھی باز نہیں آتے ہیں،جب کہ مقروض کو مہلت دینایہ کتنی بڑی فضیلت ہے یہ ابھی آپ نے سن لیا ہے،اور اس بارے میں ایک دوسری بہت بڑی فضیلت بھی سنئے،سیدنا ابوہریرہؓ ہی راویٔ حدیث ہیں ،کہتے ہیں کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا’’ كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ‘‘ کہ ایک تاجرلوگوں کو قرضے دیا کرتاتھا تو’’ فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ ‘‘ جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہتا کہ ’’ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ‘‘اس سے درگزر کرو،اسے ابھی اورمہلت دو،’’ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا ‘‘ شاید کہ اللہ تعالی بھی ہم سے آخرت میں درگزر فرمادے،پھر اس کے ساتھ کیا ہوا اس کی جانکاری دیتے ہوئے جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ ‘‘ اس کے مرنے کے بعداللہ نے اسے بخش دیا۔(بخاری:2078)سبحان اللہ۔ مقروض کوصرف مہلت دینے کی کتنی بڑی فضیلت ہے ،اس لئے میرے بھائیو اگر کسی کوقرضہ دو تو اسے مہلت دے دیا کرویاپھر معاف ہی کردیا کرو۔

17۔ایک آسان عمل سےجنت کے آٹھوں دروازوں سے داخل ہونے کا ٹکٹ لیجئے:

ميرے دوستو!اب جو عمل میں آپ کو بتانے جارہاہوں وہ تو کرنے میں بہت ہی زیادہ آسان ہے مگر اس کا اجروثواب اتنا زیادہ ہے کہ آپﷺ نے خود یہ اعلان کیا ہے کہ جو ایسا کرے گا تواسے جنت کے آٹھوں دروازوں سے پکاراجائے گا،صرف یہی نہیں بلکہ آپﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ ایسے انسان کو جنت کے دروازوں کے نگہبان فرشتے یہ آواز بھی دیں گے کہ ارے بھائی کدھرجارہے ہو اس دروزے سے جنت میں داخل ہوجاؤ،اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کون سا عمل ہے تو پھر حدیث سن ہی لیجئے،سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ - يَعْنِي الجَنَّةَ ‘‘کہ جس مسلمان نے اللہ کے راستے میں کسی بھی چیز میں سے ایک جوڑا خرچ کیا،جیسے کہ دوروپئے،دوروٹی اوردوکپڑے،سو،سو دوسوروپئے وغیرہ تو اسے جنت کے (آٹھوں)دروازوں سے بلایا جائے گا،اورہرجنت کے دروازوں کے فرشتے اسے پکاریں گے اورکہیں گے کہ ’’ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ‘‘اے اللہ کے بندے،اس دروازے سے جنت میں آئیے،یہ دروازہ بہتر ہے،پھر آپﷺ نےفرمایا کہ ’’ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ ‘‘اب جونمازی ہوگا تو اسے نماز کے دروازے سے جنت میں بلایاجائے گا،’’ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الجِهَادِ ‘‘ اورجو مجاہد ہوگا تو اسے جہاد کے دروازے سے جنت میں بلایاجائے گا،’’ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ‘‘اورجوشخص دنیامیں صدقہ وخیرات زیادہ دیاکرتاتھا تو اسے صدقہ کے دروازے سے جنت میں بلایاجائے گا،’’ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ وَبَابِ الرَّيَّانِ ‘‘اورجوشخص روزہ دارہوگا تو اسے روزے کےدروازے اورریان کے دروازے سے جنت میں بلایاجائے گا،یہ سن کر سیدناابوبکرصدیقؓ نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ جس مسلمان کو ان تمام دروازوں سے جنت میں بلایاجائے گا پھرتو اسے کسی بھی قسم کا کوئی ڈروخوف نہیں رہے گا ،یہ کہہ کرابوبکرؓ نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ’’ هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ ‘‘کیا کوئی ایسامسلمان بھی ہوگا جسے ان تمام آٹھوں دروازوں سے بلایاجائے گا ؟توآپﷺ نے فرمایا کہ’’ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ ‘‘ ہاں!ہاں!کیوں نہیں!اورمجھے امید ہے کہ اے ابوبکرؓ تم بھی انہیں میں سے ہوگے۔(بخاری:3666،2841)دیکھااورسناآپ نے کہ جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہونا کتنا آسان ہے توبس یادرکھ لیجئے جب کبھی اللہ کی راہ میں خرچ کیجئے تو جوڑاجوڑا کرکے صدقہ وخیرات کیاکیجئے۔

18۔ایک آسان ذکر سے فرشتوں کو اپنا باڈی گارڈ بنالیجئے:

میرے دوستو!چھوٹے کام مگربڑے انعام کے تحت اب میں آپ کو ایک ایسا آسان ذکربتانے جارہاہوں ،جس کوپڑھنے میں آپ کو بس ایک سے دومنٹ لگیں گے مگر اس پرآپ کو ایک نہیں بلکہ بہت سارے انعام واکرم سے نوازا جائے گا،نمبر ایک یہ کہ صبح سے شام تک اورشام سے صبح تک فرشتے آپ کی حفاظت کریں گے،نمبر دو آپ کے نامۂ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی،اور نمبر تین آپ کے خطرناک سے خطرناک دس گناہوں کو بھی مٹادیاجائے گا اوربھی بہت کچھ ملے گا،اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایساکون سا آسان ذکر ہے جس کی اتنی زیادہ فضیلت ہے تو پھر حدیث سن ہی لیجئے،ترمذی شریف کی بالکل ہی صحیح روایت ہے جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ جس مسلمان نے مغرب کی نماز کے بعد دس مرتبہ یہ کہا کہ ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘اس کامعنی ومفہوم یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلا ہے،اس کاکوئی شریک نہیں،اسی کی بادشاہت ہے،اسی کے لئے ہرقسم کی تعریف ہے،وہی زندہ کرتا اورمارتاہے اوروہ ہرچیز پرکامل قدرت رکھنے والا ہے۔تو ’’ بَعَثَ اللَّهُ لَهُ مَسْلَحَةً يَحْفَظُونَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُصْبِحَ ‘‘ اللہ رب العالمین اس کی حفاظت کے لئے اسلحہ سے لیس دس فرشتوں کو بھیج دیتاہے جوصبح تک شیطانوں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں،صرف یہی نہیں بلکہ’’ وَكَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ مُوجِبَاتٍ ‘‘اوراس کے لئے دس واجب کرنے دینے والی نیکیاں بھی اللہ لکھ دیتاہے،اور’’وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ مُوبِقَاتٍ ‘‘اس سے دس ہلاک کرنے والی برائیوں کو مٹادیتاہے،اور’’ وَكَانَتْ لَهُ بِعَدْلِ عَشْرِ رِقَابٍ مُؤْمِنَاتٍ ‘‘اس ذکر سے اسے دس ایمان والے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔(ترمذی:3534،اسنادہ حسن)میرے دوستو!اس حدیث میں تو صرف شام میں پڑھنے کا تذکرہ ہے مگر دوسری حدیث کے اندر صبح فجرکی نماز کے بعد 10/دس مرتبہ بھی پڑھنے کا تذکرہ موجود ہے،جیسا سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایاکہ جو مسلمان فجرکی نماز کے بعد دس مرتبہ یہی ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘کہہ لے تو ’’ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ‘‘ اللہ اس کے لئے دس نیکیوں کو لکھ دیتاہے،اور’’وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ‘‘ اس کے دس برائیوں کو مٹادیتاہے،اور’’ وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ ‘‘ اس کے دس درجے کو بلند کردیتاہے،اور ان کلمات کاثواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا،اوراگر شام کو بھی اسی طرح دس مرتبہ پڑھ لے تواسے یہی اجروثواب ملے گا،’’ وَكُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُصْبِحَ ‘‘ اورمزید یہ کہ یہ کلمات ذکر صبح تک شیطانوں سے اس کی حفاظت بھی کریں گی۔ (الصحیحۃ:113)اورميرے دوستو!اگر آپ اس آسان ذکر سے اس سے بھی زیادہ اجروثواب کماناچاہتے ہیں تو پھر اسی ذکرکوصبح وشام 100/سوسومرتبہ کہہ لیاکیجئے،اس بارے میں آپﷺ نے فرمایا کہ جومسلمان بھی ایک دن میں سومرتبہ یہ کہہ لیا تو’’ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ ‘‘ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابرثواب ملے گا،اور ’’ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ ‘‘اس کے لئے سونیکیاں لکھی جائیں گی،اور’’ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ ‘‘ اس کے سوگناہ مٹادئے جائیں گے،اور’’ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ ‘‘ یہ پڑھنے کی وجہ سے وہ سارا دن ،شام تک شیطانوں سے بھی محفوظ رہے گا،اور’’ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‘‘ کسی کاعمل اس کے عمل سے افضل نہیں ہوگا ،سوائے اس شخص کے جواس سےزیادہ پڑھ لے۔(بخاری:3293،مسلم:2691)

19۔ایک آسان ذکر سے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اجروثواب حاصل کیجئے:

میرے دوستو!اب میں آپ کو ایک ایسا آسان عمل بتانے جارہا ہوں کہ آپ اس آسان عمل سے ساری کائنات میں تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اجروثواب حاصل کرسکتے ہیں ،اب آپ کہیں گے کہ کیسے؟تو سنئے حدیث،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ ‘‘جو شخص صبح کے وقت 100/سومرتبہ اورپھر شام میں 100/سومرتبہ ’’ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ‘‘ کہہ لے تو ’’ لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى ‘‘مخلوقات میں کوئی ایسانہ ہوگا جس نے اس قدر ثواب حاصل کیا ہوگا۔(ابوداؤد:5091،اسنادہ صحیح)سبحان اللہ کتناعظیم اجروثواب ہے،اس کی ایک اورفضیلت بھی حدیثوں میں آئی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ‘‘ کہ جومسلمان بھی ’’ سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ‘‘ کہے گا تو ’’ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الجَنَّةِ ‘‘ اس کے لئے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگادیا جاتاہے۔(ترمذی:3464،الصحیحۃ:64)سبحان اللہ! اس ایک ذکر کے کلمے کی کتنی عظیم فضیلتیں ہیں ،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو! اس ذکرکوہمیشہ لازم پکڑو کیونکہ اس کے پڑھتے ہی جنت میں آپ کے نام کی ایک درخت بھی لگا دی جائے گی اور مزید یہ کہ آپ کو بےشمار نیکیوں سے بھی نوازا جائے گا۔

20۔دوکلمات پڑھیں اور اپنےنیکیوں کے ترازوں کو وزنی کرلیں:

میرے دوستو!اب آئیے آخر میں ایک ایساعمل میں آپ کو بتادیتاہوں جس کوکرنا تو بہت ہی زیادہ آسان ہے مگر ہم اورآپ اس عمل کو معمولی سمجھ کر یاتوانجام ہی نہیں دیتے ہیں یاپھر ہمیں یاد ہی نہیں رہتاہے کہ اس عمل کوانجام دینے پر کتنے بڑے اجروثواب کا وعدہ آپﷺ نے کیاہے،اوریہ خودآپﷺ نے کہا کہ اس عمل کو کرنا بہت ہی زیادہ آسان ہےمگر اس عمل کا اجروثواب بہت ہی زیادہ ہے،اتنا زیادہ ہے کہ اس عمل سے ایک انسان کے نیکیوں کا ترازوں اجروثواب سے بھرجائے گا ،جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ ‘‘كه دوکلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہی زیادہ آسان اورہلکے پھلکے ہیں،میزان میں تو یہ کلمے بہت ہی زیادہ وزنی ہیں اورتو اورہے یہ دوکلمے اللہ کو بہت ہی زیادہ پسند بھی ہیں،اور وہ دوکلمے ہیں۔’’ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ ‘‘۔ (بخاری:6682،مسلم:2694)اسی طرح سے ایک دوسری حدیث کے اندر ہے کہ دوچھوٹےکلمے ذکرالٰہی کے ایسے ہیں کہ اس کے کہنے سے نیکیوں کامیزان بھرجاتا ہے یاپھراس کا اجروثواب زمین وآسمان کے خلاکو بھردیتاہے ،جیسا کہ ابومالک اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ‘‘کہ الحمدللہ اجروثواب سے میزان کو بھردیتاہے اورسبحان اللہ اورالحمدللہ یہ دونوں یا اکیلا الحمدللہ تو آسمان وزمین کےدرمیان سارے خلا کونیکیوں سے بھردیتاہے۔(مسلم:223،ترمذی:3517)سبحان اللہ۔ اب اتنی زیادہ فضیلتوں کو سننے کے بعد اس ذکرالٰہی سے بدنصیب ہی محروم رہ سکتاہے،اس لئے میرے بھائیواوربہنو!اس ذکر کو ہمیشہ لازم پکڑو اورچلتے پھرتے،سوتے جاگتے،اٹھتے بیٹھتے ہرآن اورہرلمحہ اس کو پڑھتے رہا کرو۔

اب آخر میں اللہ رب العالمین سے دعاگوہوں کہ اے بارالٰہ توہم سب کو ہرطرح کی نیکیوں کو کثرت سے اداکرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 

اٹیچمنٹس

Top