الحمد للہ کہنے پر جواب دینا چاہیے۔شیخ صالح المنجد کے بیان کردہ ایک فتوی سے ایک اقتباس نقل کر رہا ہوں:
روى البخاري (6221) – واللفظ له - ومسلم (2991) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتْ الْآخَرَ ، فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ :
(هَذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَهَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ) .
امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو اشخاص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چھینک ماری تو آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا۔ پس آپ سے اس بارے سوال ہوا تو آپ نے کہا؛ اس نے الحمد للہ کہا تھا اور اس نے نہیں کہا تھا۔
وروى مسلم (2992) عَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ( إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ ، فَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ ) .
صحیح مسلم میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا؛ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب تم میں کوئی ایک چھینک مارے اور پھر الحمد للہ کہے تو اس کو جواب میں یرحمک اللہ کہو۔ پس اگر وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ نہ کہو۔
نوٹ ؛ اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ الحمد للہ سن کر جواب دے لیکن اگر کوئی شخص دور ہو اور اس کے بارے غالب گمان ہو کہ اس نے الحمد للہ کہا ہو گا تو اس کو جواب دیا جا سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب