• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چہرے کا مساج

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
خود کر لے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر کسی اور سے کروانا ہے تو شرعی حدود و مقاصد کا خیال رکھے یعنی عورت، عورت ہی سے کروائے اور مرد، مرد ہی سے کروائے یا ایسا لڑکا جو نابالغ ہو یا اس کے ڈاڑھی مونچھ نہ آئی ہو تو اسے مردوں سے بھی نہیں کروانا چاہیے وغیرہ ذلک۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اس بارے دو باتیں قابل غور ہیں:
پہلی بات
جدید مسائل میں سے جس چیز کے بارے آپ شرعی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے اجزاء کا لیبارٹری تجزیہ کروائیں جسے ہم سائنس کی زبان میں chemical analysis کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ آپ کو جدید اشیاء میں حلال و حرام کا تعین کرنے کے بارے مارکیٹ میں ایسی کئی تھرڈ کلاس کتابیں اور تحقیقات ملیں گی کہ جن کی بنیاد سنی سنائی خبریں یا انٹرنیٹ سے استفادہ یا اخباری رپورٹیں ہیں۔

ایک شیئ کے اجزاء میں سور کی چربی ہے یا نہیں، اس کا تعین ایک اخباری رپورٹ سے کیسے ہو گا، وہ تو ایک خبر ہے، اس کا تعین مستند لیبارٹری رپورٹ سے ہو گا۔ ہمارے عام طور پر یہ رویہ پھیل رہا ہے کہ علماء جدید مسائل میں اخباری رپورٹس اور غیر سائنسی تحقیقات کو بنیاد بنا کر کسی شیئ کے حلال و حرام کے بارے فتوی جاری کر دیتے ہیں جو کہ مناسب امر نہیں ہے۔ یعنی جب تک کسی مستند لیبارٹری رپورٹ سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ فلاں کریم، لپ اسٹک، تیل یا اشیائے تجمل وغیرہ میں فلاں شیئ شامل ہے تو اس وقت تک اس کے اجزا کے بارے کسی قسم کا دعوی کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

مثلا ہمارے ہاں لیز چپس کے بارے بعض لوگوں نے دعوی کیا کہ اس میں سور کی چربی ہے تو بعض مدارس نے اس کے حرام ہونے کا فتوی جاری کر دیا۔ جناب جنید جمشید نے کہا کہ لیز چپس کھانا جائز ہے تو ان مدارس نے اسے خوب رگڑا لگایا کہ تم تو عالم دین ہی نہیں ہو تو تمہارے لیے یہ کہنا درست نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ خلط مبحث ہے۔ دیکھیں یہاں دو چیزیں اہم ہیں:
ایک فقہ الواقع یعنی مسئلہ کے بارے علم یعنی لیز چپس کے اجزا کیا ہیں اور وہ کن چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ فقہ الواقع شریعت کا موضوع نہیں ہے بلکہ یہ دنیا، یا علوم دنیوی کا موضوع ہے لہذا اس کے ماہرین علماء نہیں ہوتے ہیں بلکہ ماہرین فن ہوتے ہیں۔ پس فقہ الواقع کو سمجھنے کے لیے اہل فن کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
دوسری فقہ الاحکام یعنی شرعی مسئلہ کے بارے علم، اس کے ماہر علماء و فقہاء ہوتے ہیں۔
سور کی چربی حرام یا حلال ہے یہ فقہ الاحکام ہے یعنی شریعت کا موضوع ہے اور اس کے بارے علماء کا اتفاق ہے کہ سور کی چربی حرام ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے لیکن لیز چپس میں سور کی چربی ہے یا نہیں؟ یہ شریعت کا موضوع نہیں ہے یہ فقہ الواقع ہے یعنی اس بارے علماء سے زیادہ ایک کیمسٹ بہتر بتا سکتا ہے۔ پس جنید جمشید کا اختلاف اس میں نہیں تھا کہ سور کی چربی حلال ہے بلکہ ان کا اختلاف فقہ الواقع میں تھا کہ مولانا نے اپنی تحقیق پوری نہیں فرمائی اور لیز چپس میں سوری کی چربی کا دعوی کر دیا حالانکہ اس میں سور کی چربی نہیں ہے۔

پس ایک عالم دین یا سائل کے لیے یہ لازم ہے کہ پہلے وہ ایک مستند لیبارٹری کے ذریعے کسی شیئ کے اجزا کی تحقیق کروائے اور اپنے سوال یا اپنی شرعی رائے یا فتوی کی بنیاد اس لیبارٹری یا سائنسی تجزیہ کا بنائے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے جب تنازع عام ہوا تو سپریم کورٹ نے ایکشن لے کر فارمی مرغیوں کی خوراک کا ملک کی بہترین لیبارٹریوں سے تجزیہ کروایا اور ان لیباریٹریز کی رپورٹس کی بنیاد پر چیف جسٹس نے فرانس سے درآمدشدہ فیڈ پر پابندی لگا دی کہ اس میں سور کی چربی تھی۔
یہ تحقیق کا ایسا طریق کار ہے کہ جس پر ہر شخص کا دل مطمئن ہوتا ہے۔ بس شریعت کا عالم ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ مفتی صاحب اکنامکس، میڈیکل سائنس اور کیمسٹری وغیرہ کے بھی عالم ہو گئے ہیں اور اس میدان میں بھی ان کی رائے معتبر ہو گی۔ فقہ الواقع کا تعین جدید علوم کی روشنی میں ماہرین فن کریں اور اس پر شرعی حکم کا اطلاق علماء کریں گے۔ مثلا کلوننگ جائز ہے یا نہیں؟ تو اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ کلوننگ کیا ہے؟ بعد میں اس کے جواز اور عدم جواز کا مسئلہ بیان ہو گا؟ اب کلوننگ ہے کیا، یہ فقہ الواقع ہے کہ جس کے بارے بائیو کے ماہرین کی رائے معتبر ہو گی کیونکہ یہ اس فن کا ایک مسئلہ ہے۔ پس کسی شیئ میں کیا کیا اجزا شامل ہیں، اس کا تعین جدید سائنسی علم اور آلات یعنی کیمسٹری اور لیبارٹری وغیرہ کے ذریعے کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں کسی شیئ کی طرف حرمت کی نسبت ایک بہت ہی اہم دینی فریضہ ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَ‌امٌ لِّتَفْتَرُ‌وا عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ﴿١١٦
کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو، سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کسی شیئ کی طرف حرمت کی نسبت میں حد درجے احتیاط کرتے تھے اور عام طور پر اجتہاد سے معلوم شدہ حرام کو بھی مکروہ قرار دیتے تھے۔

پس پہلا سوال تو مساج میں استعمال ہونے والی ان اشیاء کے اجزا کے بارے میں ہے کہ ان کے اجزا کیا ہیں اور وہ ہر شیئ میں لکھے ہوتے ہیں۔ عام حالات میں ہم ان اجزا کو ہی اس شیئ کے اجزا ماننے کے مکلف ہیں اور شریعت نے ہم پر مزید تحقیق کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے۔ اگر تو کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اس شیئ پر لکھے ہوئے اجزا میں فلاں شیئ یعنی سور کی چربی وغیرہ بھی شامل ہے تو اس کا لیبارٹری تجزیہ کروا لیں اور صرف اخباری یا انٹرنیٹ تجزیات کی پر شرعی رائے کی بنیاد نہ رکھیں۔

دوسری بات
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حرام تین قسم کا ہے:
1۔ جو اصلا حلال ہو لیکن کسی خارجی سبب سے حرام ہو گیا ہو جیسا کہ حلال جانور اگر خود بخود مر جائے تو وہ حرام ہے مثلا بھیڑ بکری وغیرہ۔ ایسے جانور کے بارے ہمیں روایات میں ملتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے جانور کی کھال سے استفادہ کی اجازت دی ہے یعنی اس جانور کو کھانا حرام ہے جبکہ دیگر چیزوں سے استفادہ کی اجازت ہے الا یہ کہ کسی جانور کے بارے کھانے کے علاوہ کسی اور قسم کے استفادہ کی ممانعت کے بارے بھی کوئی خصوصی نص وارد ہوئی ہو۔
2۔ وہ جانور جو اصلا حرام ہے لیکن نجس العین نہیں ہے مثلا گدھا، شیر، چیتا وغیرہ۔ بلاشبہ ان کی حرمت بھی کھانے کے اعتبار صریح اور واضح ہے۔ کھانے کے علاوہ اگر ان کے کسی اور استعمال اور استفادہ کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو تو وہ حرام ہے اور اگر نہیں کیا ہے تو ان سے دیگر انتفاعات جائز ہوں گے جیسا کہ گدھے کی خرید وفروخت یا اس پر سواری کرنا یا سامان منتقل کرنا یا شیر و چیتے وغیرہ کا جھوٹا پانی پینا یا وضو و طہارت کے لیے استعمال کرنا وغیرہ شریعت کی نظر میں جائز ہیں۔
3۔ وہ حرام جو نجس العین ہیں اور یہ سور اور کتا ہیں۔ ان سے کسی قسم کا بھی انتفاع جائز نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

خلاصہ کلام تو یہی ہے کہ نجس العین کے اجزا کی حرمت من کل الوجوہ ہے جبکہ عام حرام جانوروں کی کھانے کے علاوہ دیگر استفادے کے لیے حرمت کی کوئی نص یا دلیل چاہیے۔ اور کسی شیئ کے اجزا میں کتے یا سور کے اجزا شامل ہیں تو اس کے لیے اس کی لیبارٹری رپورٹ پراعتماد کیا جائے گا۔

تیسری بات
تیسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شیئ میں حرام عنصر شامل بھی ہے تو اس کی کیمسٹری کو دیکھیں گے۔ راقم کو یف، ایس، سی لیول تک کیمسٹری پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے تو کیمسٹری کے طالب علم یہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات متفرق اشیاء کے ملاپ یعنی آمیزے سے اشیاء کی اندرونی اور بنیادی ساخت بھی تبدیل ہو جاتی ہے اور ملاپ کے بعد وہ، وہ شیئ ہی نہیں رہتی ہے جو وہ ملاپ سے پہلے ہوتی ہے۔ پس جب کسی شیئ کی بنیادی ہیئت اور ساخت تبدیل ہو جائے تو پھر اس پر اس کا حکم لگانا درست نہیں ہے۔

سمجھانے کے لیے ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں کہ جب ہم ایک گلاس پانی میں ایک گھونٹ دودھ ملا دیتے ہیں تو ہم اس کو پانی نہیں کہتے ہیں بلکہ کچی لسی کہتے ہیں یا ہم ایک گلاس پانی میں اگر ایک چمچ نمک ملا دیں تو ہم اسے پانی نہیں کہتے بلکہ نمکول کہتے ہیں اور اگر ہم ایک گلاس پانی میں ایک چمچ چینی ملا دیں تو ہم اسے پانی نہیں کہتے بلکہ شربت کہتے ہیں اور اگر ہم ایک گلاس پانی میں ایک چمچ چائے ملا دیں تو ہم اسے پانی نہیں کہتے بلکہ قہوہ کہتے ہیں وغیرہ ذلک۔ تو کیا کچی لسی، نمکول، شربت، چائے یا پیپسی کہ جس کی اصل بھی پانی ہی ہے، کو پانی سمجھتے ہوئے اس سے وضو و طہارت یا غسل جائز ہو گا یا نہیں؟ یہ ایک اختلافی مبحث ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شیئ کا انفرادی حکم کچھ اور ہوتا ہے لیکن جب وہ کسی اور شیئ کے ساتھ مل جاتی ہے تو اب حکم اس آمیزے میں اس شیئ کی ہیئت و ساخت پر لگے گا نہ کہ اس کی انفرادی ہیئت و ساخت پر۔ اس کا بھی لیبارٹری تجزیہ کے ذریعہ رزلٹ حاصل کرنا چاہیے۔

پس مساج کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء کے اجزا دیکھ لیں کہ ان میں سور یا کتے وغیرہ کے اجزا یا چربی وغیرہ ہے یا نہیں؟

چوتھی بات
ایک عمومی بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ہمارے بعض بھائی جو کچھ دوسرے فورمز پر بھی موجود ہیں، وہاں اس فورم کے اہل علم سے سوال کرتے ہیں اور بعض اوقات وہی سوال یہاں بھی پوسٹ کر دیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ امر مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ دوسرے فورم پر موجود اہل علم حضرات کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یہاں ان پر کوئی نقد کی جا رہی ہے حالانکہ یہاں جواب دینے والوں کو معلوم بھی نہیں ہوتا ہے کہ اس بارے کوئی سوال کسی اور جگہ بھی پوچھا جا چکا ہے۔ اور چونکہ سوچنے اور تعبیر کے انداز میں فرق ہوتا ہے لہذا اہل علم میں مختلف مسائل میں اختلاف ہو جاتا ہے۔
ھذا عندی واللہ اعلم بالصواب
جزاکم اللہ خیرا
 
Top