• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کتابوں کے لکھنے کے بارے میں دو سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
سوال١:اکثر کتابوں کے مصنفین جب اپنی کتابوں میں قرآن مجید کی آیت لکھتے ہیں تو آیت کے جس حصے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے صرف وہی لکھتے ہیں پوری آیت نہیں لکھتے۔یہ بتائیے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

سوال٢:اور دوسرا سوال یہ کہ کیا اکثر مصنفین اپنی کتابوں میں مشرکین کے شرکیہ جملے لکھتے ہیں اور ان کا قرآن و حدیث سے رد کرتے ہیں؟کیا صرف اسی نیت سے اپنی کتابوں میں مشرکین کے شرکیہ نعرے اور شعر لکھنے سے گناہ تو نہیں ہوتا۔مقصد صرف ان کا رد کرنا ہے اور عوام الناس کو شرک کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنا ہے۔

نوٹ:یہ دو سوال ایک ہی مضمون کے متعلق تھے اس لیے میں نے ایک ہی پوسٹ میں کر دیے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
سوال١:اکثر کتابوں کے مصنفین جب اپنی کتابوں میں قرآن مجید کی آیت لکھتے ہیں تو آیت کے جس حصے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے صرف وہی لکھتے ہیں پوری آیت نہیں لکھتے۔یہ بتائیے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جی ہاں، جائز ہے بشرطیکہ معنی مکمل ہو رہا ہو۔ اگر معنی مکمل نہ ہو رہا ہو گا تو استدلال درست نہ ہو گا۔

سوال٢:اور دوسرا سوال یہ کہ کیا اکثر مصنفین اپنی کتابوں میں مشرکین کے شرکیہ جملے لکھتے ہیں اور ان کا قرآن و حدیث سے رد کرتے ہیں؟کیا صرف اسی نیت سے اپنی کتابوں میں مشرکین کے شرکیہ نعرے اور شعر لکھنے سے گناہ تو نہیں ہوتا۔مقصد صرف ان کا رد کرنا ہے اور عوام الناس کو شرک کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنا ہے۔
جی ہاں، تردید کی نیت سے ان شرکیہ جملوں کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن مجید نے بھی مشرکین اور اہل کتاب کے شرکیہ جملوں کو بیان کیا ہے۔
 
Top