- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
کثرت سجود
معدان ابن ابی طلحہ الیعمری فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کو ملا تو میں نے کہا:
أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ، يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوَ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَسَكَت، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " (أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب: فضل السجود والحث علیہ، رقم: ۱۰۹۳)
"مجھے ایسا عمل بتاؤ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دیں یا (ایسا عمل بتاؤ) جو اللہ کے ہاں سب سے عمدہ ہو، تو اس نے جواب نہ دیا۔ میں نے پھر یہی سوال کیا: پھر بھی خاموش رہے، تیسری مرتبہ سوال کیا تو جواباً کہا "میں نے بھی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ کے لیے سجود زیادہ کیا کرو، کیونکہ تو اللہ کے لیے ایک سجدہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تیرا ایک درجہ بلند کر دیں گے اور تیری ایک برائی مٹا دیں گے۔ ‘‘
سجدہ نماز کا ایک رکن ہے اور اس کی ادائیگی زمین پر ناک اور پیشانی رکھنے سے ہوتی ہے چنانچہ جب نمازی یہ فعل کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے ربّ کے قریب ترین ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ" (أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب: ما یقال في الرکوع والسجود، رقم: ۱۰۸۳)
"بندہ اپنے رب کے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے سجدہ میں دعا زیادہ کیا کرو۔"
قرآن مجید سے اس کی تائید اس طرح ہوتی ہے:
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (سورۃ العلق:۱۹)
"اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔"
کثرتِ سجود اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہاء درجہ کی عاجزی، انکساری اور بندگی کا اظہار ہوتا ہے اور انسانی اعضاء میں سے سب سے عزت والا عضو (چہرہ) اس مٹی میں رکھا جاتا ہے جو روندی جاتی، حقیر سمجھی جاتی ہے۔ تمام تر عزت اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ تو جیسے جیسے انسان اللہ تعالیٰ کی اس صفت (یعنی عزت والا ہونا) سے دور ہوتا جاتا ہے (اپنے آپ کو اس کے سامنے ذلیل کرتا جاتا ہے) ویسے ویسے اس کی جنت اور اس کے پڑوس میں قریب ہوتا جاتا ہے۔
سجدہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے ظاہر ہے کہ اس کے بدلہ میں اتنا بڑا اجر ملے گا جس کا کوئی آدمی اندازہ نہیں کرسکتا مثلاً کیا کوئی مسلمان جنت میں خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہونے کے برابر کسی چیز کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہی ہے۔
چنانچہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، میں آپ کے لیے پانی اور کوئی ضرورت کی چیز لاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
"فَقَالَ لِي: سَلْ، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ، بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " (أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب: فضل السجود والحث علیہ، رقم: ۱۰۹۴)
"سوال کر! میں نے کہا: میں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ مانگتا ہوں۔ فرمایا: کچھ اور؟ میں نے کہا: بس یہی کافی ہے۔ فرمایا: تو زیادہ سجدے (زیادہ نوافل پڑھا) کر، تاکہ میں تیری مدد کر سکوں۔"
سجدے کی ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بعض جہنمیوں کو معاف کرنے کا ارادہ کریں گے تو فرشتوں کو حکم فرمائیں گے: جو میری عبادت کرتا تھا اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ چنانچہ فرشتے ان کو نکالیں گے اور ان کی پہچان سجدوں کے نشانات کی وجہ سے کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدوں کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا تھا فرمایا:
"وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ (أخرجہ البخاري في کتاب الأذان، باب: فضل السجود، رقم: ۸۰۶)
"آگ ابن آدم کو تمام کا تمام ہڑپ کر جائے گی مگر سجدوں کے نشانات نہیں (ہڑپ نہ کر سکے گی)۔"
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ (سورۃ الفتح:۲۹)
"ان کی پہچان ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے اثر سے۔"
سجدے کی فضیلت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ با نسبت دوسری حالتوں کے اس حالت میں دعا قبول ہونے کے زیادہ مناسبات و امکانات ہوتے ہیں اس لیے سجدوں میں زیادہ سے زیادہ محنت سے دعا کرنی چاہیے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ۔۔۔۔ أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " (أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب النہي عن قراء ۃ القرآن في الرکوع والسجود، رقم: ۱۰۷۵)
"سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے گھر سے مسجد کی طرف کھلنے والے دروازے کا) پردہ ہٹایا۔ دیکھا تو لوگ جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں باندھے کھڑے ہیں۔ فرمایا لوگو!… جہاں تک رکوع کا تعلق ہے تو رکوع میں رب کی تعظیم بیان کرو (یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ پڑھا کرو) اور سجدوں میں دعا کرنے میں کوشش کیا کرو (کیونکہ) قریب ہے تمہاری دعا قبول کی جائے۔"
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (سورۃ الحجر:۹۸)
"اپنے رب کی حمد بیان کیجئے اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیے۔"