• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کردار کے غازیوں کی گفتار

یہ تھریڈ جاری رہنا چاہیے؟

  • ہاں

    ووٹ: 4 100.0%
  • نہیں

    ووٹ: 0 0.0%
  • انداز مناسب نہیں

    ووٹ: 0 0.0%

  • Total voters
    4
  • Poll closed .

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,453
پوائنٹ
964
شروع سے ہی گزارش ہے کہ یہ تھریڈ بالکل جذباتی ہوگا ، کیونکہ آج ہمارے احساسات مردہ اور جذبات ماند ہوچکے ہیں ، کبھی کردار کی باتیں ہوتی تھیں ، آج ہماری گفتار اور سوچ بھی شکست خوردہ ہے ۔
دنیا کے سیم و زر سے والہانہ محبت ، جان سے اس قدر پیار کہ گویا ازل تا ابد یہاں رہنا ہے ۔ دینی دنیاوی کوئی بھی مرحلہ ہو ، سب سے پہلے جان کی پرواہ اور دنیاوی آسائشوں کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔
ہماری حالت یہ ہوچکی ہے کہ ’ فکر و دانش ‘ اور ’ مصلحت کیشی ‘ کے اس دور میں ہمیں یہ باتیں بالکل عجیب سے لگنا شروع ہوگئی ہیں کہ ہمارا تعلق اس قوم سے جن کی ٹھوکر سے درایا صحرا اور ہیبت سے پہاڑ کپکپاتے تھے ، ہماری پست ہمتی اور بزدلانہ ذہنیت نے ہمیں یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ ہمیں ان باتوں پر مومنانہ ایمان و یقین تو ہے کہ فرد واحد سے شروع ہونے والی اسلام کی اکائی ، جب دہائیوں اور چند سیکڑوں تک پہنچی ، تو اس نے ہزاروں کا مقابلہ کیا تھا ، مد مقابل لاکھوں میں بھی آگیا تو ہم ہزاروں میں ہی اس کے سامنے ڈٹ گئے ، جی ان باتوں کا ہمیں یقین تو ہے ، لیکن ساتھ ہماری دانش ہمیں یہ بھی باور کرواتی ہے کہ یہ اس دور کے قصے کہانیاں تھے ، جب فرشتے مدد کو اترا کرتے تھے آج کے دور میں اس طرح کی باتیں کرنا سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں ۔
ہمارے حالات یہی رہے تو کوئی بعید نہیں کہ ہماری غلامانہ ذہنیت اور بزدلانہ پستی کی ترقی ان جرات و بہادری کی داستانوں کے انکار پر منتج ہو ۔
تاریخ سے دوری ، سلف صالحین کے واقعات سے ناگواری ، اسلامی غزوات کے تابناک کرداروں سے لاشعوری زہد کو کم کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ ہم قرآن وسنت ، احکام و مسائل کےساتھ ساتھ سیرت نبوی ، سیرت صحابہ و تابعین ، اسلامی جنگوں کے واقعات کو باقاعدگی سے پڑھیں ، ایک دوسرے کو سنائیں ، ان پر غور و فکر کریں ، ان کی جرات و بہادری ، ان کی جنگجویانہ حکمت عملی سمجھیں ، پھر کبھی امید رکھی جاسکتی ہے کہ امت مسلمہ کو اس کی کھوئی ہوئی عزت و سطوت اور قدر ومنزلت مل سکتی ہے ۔
وہ امت جس کا کچھ ’ طاؤس و رباب ‘ میں مست ہے ، کچھ جو اس میں غرق ہوکر ہلاکت کے دھانے پر ہے ، کچھ جو ابھی اس رنگ رلیوں کی حسرت میں دن رات ایک کرر ہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے انہیں ’ شمشیر و سناں ‘ کی سمت سفر شروع کرنے پر آمادہ کیا جائے ۔
اس تھریڈ میں ہم نے نہ تو کسی جگہ حملہ پلان کرنا ہے ، نہ کسی حکمران کے کشتے کے پشتے لگانے ہیں ، کسی بندوق بردار کی حمایت کرنی ہے نہ اس کی سرکوبی کی دہائی دینے والے کو یہاں جگہ دینی ہے ۔
الغرض یہاں ’ عملی بات ‘ کوئی نہیں ہوگی ، یہاں صرف ’ جذبات ‘ گرمائے جائیں گے ، یہاں مجاہدین اسلام کی مختلف غزوات ، اور جنگوں میں ، معرکہ کے دوران ، یا معرکہ سے پہلے یا بعد کی تقریروں کے اقتباس نقل کیے جائیں گے ، تاکہ ہمیں ان کی سوچ و فکر کا انداز معلوم ہو ، اورایمان کا کم ترین درجہ یہ ہے کہ اگر کچھ کر نہیں سکتے تو سوچ تو درست رہنی چاہیے ۔
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,453
پوائنٹ
964
غزوہ موتہ (8ھ) کے موقعہ پر جب مسلمان کی تعداد تین ہزار تھی ، جبکہ مد مقابل رومی لشکر ایک لاکھ تھا ، تو حضرت عبد اللہ بن رواحۃ رضی اللہ عنہ نے اس وقت تقریر فرمائی :
وَاَللهِ مَا كُنّا نُقَاتِلُ النّاسَ بِكَثْرَةِ عَدَدٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ سِلَاحٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ خُيُولٍ، إلّا بِهَذَا الدّينِ الّذِي أَكْرَمْنَا اللهُ بِهِ. انْطَلِقُوا!وَاَللهِ لقد رأيتنا يوم بدر ما معنا إلّا فرسان، ويوم أحد فرس وَاحِدٌ، وَإِنّمَا هِيَ إحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إمّا ظُهُورٌ عَلَيْهِمْ فَذَلِكَ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَوَعَدَنَا نَبِيّنَا، وَلَيْسَ لِوَعْدِهِ خُلْفٌ، وَإِمّا الشّهَادَةُ فَنَلْحَقُ بِالْإِخْوَانِ نُرَافِقُهُمْ فِي الْجِنَانِ! مغازي الواقدي (2/ 760) ،إمتاع الأسماع للمقریزی (1/ 339)
اللہ کی قسم ہماری قتال کی بنیاد نہ کبھی کثرت تعداد رہی ، نہ اسلحہ اور گھوڑوں کی فراونی ، ہماری طاقت یہی دین رہا جس کی نعمت سے اللہ تعالی نے ہمیں نوازا ، آگے بڑھو ! بدر کے دن ہمارے پاس صرف دوگھوڑے تھے ، احد میں صرف ایک تھا ، ہمارے لیے دو میں سے ایک خوشخبری ہے ، یا دشمن پر غلبہ ، جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے وعدہ کیا ہے ، یا پھر شہادت کی موت پاکر ہم اللہ کی جنتوں میں اپنے بھائیوں کے رفیق جا بنیں گے ۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,111
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
غزوہ بدر کا پیغام

سلیم اللہ شیخ


غزوہ بدر کا پیغام : 17رمضان المبارک 2 ھجری وہ دن ہے جب کفر و اسلام کا پہلا معرکہ پیش آیا تھا۔ بدرکا میدان اس معرکہ میں اہل ایمان کی کامیابی اور اہل کفرکی شکست فاش کا گواہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اپنی ”عددی اکثریت“ ، ”اسلحہ کی فراوانی “ اور ”مادی وسائل سے مالامال“ ہونے کے غرور میں کفار نے یہ سوچا کہ وہ یثرب کی چھوٹی سی بستی جو کہ اب مدینة النبی بن گئی ہے اس پر چڑھائی کرکے اسلام کے چراغ کو گل کردیاجائے تاکہ جہالت کی تاریکی کبھی دورنہ ہو اور دنیاایمان کی روشنی سے منور نہ ہونے پائے۔ لیکن بقول شاعر

نورِ خدا ہے کفرکی حرکت پہ خندہ زن ۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا۔

معرکہ بدر تاریخی واقعہ ہے جس کو مورخ کسی بھی طور نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ایسا معرکہ جس میں اسلام نے کفر کو،اقلیت نے اکثریت کو ،اورایمان نے اسلحہ کو شکست دیدی تھی۔ غور کیجئے کہ ایک طرف 1000 کا طاقتور لشکر ہے۔ جس کے پاس مکمل اسلحہ ،مادی وسائل،تھے اور ساتھ ہی مختلف قبائل کااتحاد بھی تھا۔اس کے برعکس دوسری جانب اہل ایمان کے لشکر میں محض 313 جانثار تھے۔ یہ لشکر بے سروسامانی کی حالت میں تھا۔ فاقہ کشوں کے اس لشکرکے پاس مکمل سامان حرب بھی نہیں تھا۔ 313کے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے اور ستّراونٹ تھے جن پر تمام لشکری باری باری سواری کرتے تھے۔ لیکن اس لشکرکے پاس ایمان کی طاقت تھی اور سینوں میں سرفروشی کاجذبہ موجزن تھا۔

جنگ شروع ہونے قبل رات کو اہل کفار کے لشکر میں ہنگامہ ہاﺅہوتھا،عیش ونشاط کی محفلیں تھیں، راگ رنگ ناچ گانا ہورہاتھا ۔اوردوسری جانب اللہ کے نبیﷺ اللہ کے دربار میں سرکو جھکائے ہوئے ہیں اورنہایت عاجزی سے دعائیں مانگ رہے ہیں اورآپﷺ کی چادرآپکے کندھوں سے ڈھلک ڈھلک جاتی تھی،یار غار اوررفیق سفر حضرت ابوبکرؓ باربار اس چادرکو درست کررہے ہیں۔ پیارے نبیﷺ نے اللہ تعالی کے دربارمیں دعاکی کہ

”اے اللہ! یہ قریش سامان ِغرورکے ساتھ آئے ہیں تا کہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں۔ اے اللہ اب تیری وہ مدد آجائے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا۔اے اللہ! اگرآج یہ مٹھی بھر جماعت بھی ہلاک ہو گئی تو پھر روئے زمین پرتیری عبادت کہیں نہیں ہوگی“

اور پھراللہ تعالیٰ نے اس جنگ میں اہل ایمان کی غیب سے مددکی قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کو مسلمانوں کی نصرت کے لئے بھیجا۔سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے۔

”اور وہ موقع جب تم اپنے رب سے فریادکررہے تھے جواب میں اس نے فرمایاکہ میں تمہاری مدد کے لئے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں،یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لئے بتادی کہ تمہیں خوشخبری ہواور تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں،ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔یقیناً اللہ زبردست اوردانا ہے( سورہ الانفال آیت 9-10 )

جب جنگ شروع ہوئی تو کفار کے سرغرور سے تنے ہوئے تھے اور اکڑتے ہوئے چلتے تھے انکا خیال تھا کہ محض ایک زورکا جھٹکا لگے گا اورمدینہ کی نوزائیدہ ریاست زمین بوس ہوجائے گی اور اسلام کا نام ونشان مٹ جائے گا (نعوذ باللہ ) لیکن جب جنگ کا اختتام ہوا تو غرور سے تنے ہوئے سرندامت سے جھکے ہوئے تھے،تکبر سے اٹھتے قدموں کے بجائے مرے مرے قدم تھے اورطاقتور جسم یا توخاک میں مل چکے تھے یا زخم خوردہ ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے غرور کو توڑ کر رکھ دیا،اس غزوہ میں 14 مسلمان شہید ہوئے جبکہ کفار کے 70 افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لئے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مکہ کے کئی سرداراور بااثرافراد بھی تھے جن میں سرفہرست ابوجہل ہے جو کہ دوکم عمرصحابہ کرام حضرت معاذؓ اور حضرت معوذ ؓ کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔اس کے علاوہ عتبہ بن ربیعہ،شیبہ،ولید بن عتبہ،امیہ بن خلف جیسے مشہور سرداران قریش بھی اس جنگ میںکام میںآئے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

غزوہ بدر میں اللہ اہل ایمان کو رہتی دنیا تک کے لئے ایک سبق دیدیا کہ اگر دلوں میں کامل ایمان ہو،دین پر مرمٹنے کا جذبہ ہو،اوراللہ پرتوکل ہو تو باطل کی بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ عددی اکثریت اور مادی وسائل کی کمی کے باوجود اہل ایمان ہی کامیاب ہونگے ۔اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

9ھجری میں ہونے والا غزوہ تبوک اس کی واضح مثال ہے جب رومیوں کے ایک لاکھ کے لشکر کے مقابلے پر تیس ہزار مسلمان تھے ،دیکھا جائے تو یہاں بھی غزوہ بدر کی طرح ایک اور سات کی نسبت تھی لیکن جب مسلمانوں نے اللہ پر توکل کیا،جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر اپنی دنیاوی مال ومتاع اور کھیتی و فصلوں کو اللہ کی راہ میں چھوڑ دیا اور دین پر جان لٹانے کا عزم کیا تو اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور وقت کی ”سپر پاور“روم کو مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔مسلمانوں کا لشکر مدینہ سے نکل کر تبوک کے میدان میں خیمہ زن ہوگیا اور دشمن کا انتظار کرتا رہا لیکن اللہ نے” سپر پاور“کے دل میں مسلمانوں کا ایسا خوف بٹھا دیا کہ لشکر کو مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔البتہ یہاں نام نہاد مسلمانوں درحقیقت منافقین کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔منافقین نے نہ صرف یہ کہ خود اس جہاد میں حصہ نہیں لیا بلکہ دیگر مسلمانوں کا حوصلہ بھی توڑنے کی کوشش کی ۔ان کو ڈرایا کہ روم جیسی طاقت سے ٹکرلینا کسی کے بس کی بات نہیں اس لئے جہاد پر جانے کے بجائے اپنے گھروالوں کی فکر کی جائے۔ کچھ کا خیال تھا کہ یہ وقت ایسا ہے کہ کھجوریں پک گئیں ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیا گیا تو نقصان ہوگا اور ہماری معیشت تباہ ہوجائے گی،ہم بھوکے مرجائیں گے۔وغیرہ وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح یاب کیا اور منافقین کی ساری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا۔لیکن دوستو کیا آج بھی یہی صورتحال نہیں ہے

زیادہ دور کیوں جائیں ابھی ماضی قریب میں بھی وقت کی ایک ”سپر پاور“ روس نے طاقت کے نشے میں افغانستان میں لشکر کشی کردی۔ اس وقت بھی اللہ پر توکل کرنے والے میدان عمل میں نکل آئے قرآن کی اس آیت کی تفسیر بن کر کہ ”نکلو اللہ کی راہ میں خواہ ہلکے ہو یا بوجھل “ اس لئے سچے اہل ایمان دستیاب وسائل کے ساتھ مقابلے پرکھڑے ہوگئے۔ اس وقت بھی نام نہاد مسلمانوں درحقیقت منافقین نے نہ صرف یہ کہ خود جہاد میں حصہ نہیں لیا بلکہ دیگر لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی بھی کوشش کی۔کہا گیا کہ کہاں سپر پاور روس اورکہاں یہ خستہ حال افغان، ان کا اور روس کا تو کوئی جوڑ ہی نہیں ہے۔ شکست ان کا مقدر ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مقابلے کے بجائے روس سے شکست مان لی جائے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سفید ریچھ (روس) جس ملک میں داخل ہوا وہاں سے کبھی نہیں نکلا بلاوجہ اپنی جان کو جوکھوں میںنہ ڈالو۔ لیکن میرے رب نے ایک بار پھر اقلیت کو اکثریت پر فتح دی۔ ایک بار بھر اہل کفار کو شکست اور اہل ایمان کو فتح نصیب ہوئی۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ان عقلیت پرستوں ،روشن خیالوں نے روس کی اس شکست کا ایک جواز تراش کر مجاہدین کے کارنامے کو دھندلانے کی کوشش کی۔ کہا گیا کہ آئی ایس آئی نے مجاہدین کو سپورٹ کیا اور امریکہ نے مجاہدین کا ساتھ دیا اس لئے روس کو شکست ہوئی وگرنہ مجاہدین کوکبھی کامیابی نہیں ملتی۔

اس کے محض گیارہ بارہ سال بعد ہی اللہ نے ایک بار پھر سچے اہل ایمان کی مدد کی ۔ ایک بار پھر افغانستان میدان جنگ بنا۔اوراس بار سپر پاور امریکہ اپنے 22 اتحادیوں سمیت مجاہدین کے مقابلے پر تھا۔ اس بار آئی ایس آئی یا پاکستانی فوج بھی مجاہدین کی پشت پر نہ تھی۔ اپنی خستہ حالی اور بے سروسامانی کے باوجود اہل ایمان مقابلے پر ڈٹ گئے ۔اس بار بھی روشن خیالوں ۔عقل پرستوں کا گروہ مجاہدین کو دیوانہ کہہ رہا تھا۔ اس بار بھی روشن خیال مفکرین دنیا کو یہ باور کرا رہے تھے کہ ”اگر امریکہ سے ٹکر لی تو وہ ہمیں پتھر کے دور میں بھیج دے گا“ امریکہ سپر پاور ہے،ایٹمی طاقت ہے،اس کے ساتھ اتحادی ہیں ہم اس سے ٹکر نہیں لے سکتے اس لئے بہتر یہی ہے کہ امریکہ سے جنگ کرنے کے بجائے شکست تسلیم کرلی جائے اور امریکہ کے آگے جھک جائیں “ لیکن !

لیکن میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ جو کیفیت غزوہ بدر و تبوک میں تھی وہی کیفیت یہاں بھی تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی امریکہ جس نے افغانستان میں فوج کشی کے وقت ”صلیبی جنگ “ کا نعرہ بلند کیا اور مجاہدین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا،جب غیر انسانی سلوک پر احتجاج کیا گیا تو امریکہ نے رعونت سے کہا تھا کہ ہ انسان ہی نہیں ہیں بلکہ وحشی درندے ہیں ان پر انسانی قوانین لاگو نہیں ہوتے “ وہی امریکہ آج مجاہدین سے مذاکرات کررہا ہے۔ آج اس کے اتحادی بددل ہیں۔فوج شکست خوردہ ہے،امریکہ مجاہدین سے باعزت واپسی کا راستہ مانگ رہا۔وہ لوگ جنہیں انسان ہی نہیں سمجھا گیا تھا آج ان کو حکومت میں شامل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

دنیا کو قرضے اور امداد دینے والے امریکہ کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔آج اس کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہوتی جارہی ہے ۔آج امریکہ کے آمدنی اور قرضوں کا حجم برابر ہوگیا ہے یعنی اس کی جتنی بھی آمدنی ہے وہ اس کے قرضوں کی ادائیگی میں ختم ہوجائےگی اور اس کو اپنی معیشت کو چلانے کے لئے مزید قرضے لینے ہونگے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار!یاد کیجئے ماضی قریب میں جب روس نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو گیارہ سال کی جنگ میںاس کی فوج کو بعد میں شکست ہوئی تھی اس کی معیشت پہلے تباہ ہوئی تھی،لوگ معاشی طور پر تباہ ہوگئے تھے،بیروزگاری بڑھ گئی تھی۔ بھوک کا یہ حال تھا کہ لوگ پھپوندی لگی ڈبل روٹی کے لئے بھی بیکری کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہوتے تھے۔آج امریکہ بھی اسی انجام سے دوچار ہونے والا ہے۔یہ وقت کس کی عونت پہ خاک ڈال گیا۔ یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔

ایسا کیوں ہوا؟ پہلے روس اور اب امریکہ کو شکست کیوں ہورہی ہے؟ وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ مجاہدین نے دنیا کے دھوکے میں آنے کے بجائے اللہ پر توکل کیا،جذبہ جہاد کو زندہ کیا اور دین پر مرمٹنے کا عزم کیا تو اللہ نے فتح ان کی جھولی میں ڈال دی۔دراصل غزوہ بدر میں ہمارے لئے یہی سبق ہے کہ مادی وسائل اور دشمن کی عددی برتری کے باوجود اگر مسلمان اللہ پر توکل کریں تو فتح ان کی ہی ہوگی

فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو —
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

لنک
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,111
پوائنٹ
412
یہاں مجاہدین اسلام کی مختلف غزوات ، اور جنگوں میں ، معرکہ کے دوران ، یا معرکہ سے پہلے یا بعد کی تقریروں کے اقتباس نقل کیے جائیں گے
محترم شیخ!
کیا اس سے مراد سلف صالحین ہیں؟
آج کل کے مراد تو نہیں؟
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,111
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069

ابوجہل کا قتل:

حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دائیں بائیں دو نو عمر جوان ہیں۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا :''چچاجان ! مجھے ابوجہل کو دکھلادیجیے۔'' میں نے کہا :بھتیجے !تم اسے کیا کروگے ؟ اس نے کہا:''مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔'' وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے شخص نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے چند ہی لمحوںبعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا :''ارے دیکھتے نہیں ! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔'' ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کردیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے ، آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے کس نے قتل کیا ہے ؟ دونوں نے کہا : میں نے قتل کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:اپنی اپنی تلواریں پوچھ چکے ہو ؟ بولے نہیں۔ آپﷺ نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا : تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ البتہ ابو جہل کا سامان معاذبن عَمرو بن جموح کو دیا۔ دونوں حملہ آوروں کا نام معاذبن عَمر و بن جموح اور معاذ بن عفراء ہے۔

ابن اسحاق کا بیان ہے کہ معاذ بن عمرو بن جموح نے بتلایا کہ میں نے مشرکین کو سنا وہ ابو جہل کے بارے میں جو گھنے درختوں جیسی - نیزوں اور تلواروں کی - باڑھ میں تھا کہہ رہے تھے: ابو الحکم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ معاذؓ بن عمرو کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے اپنے نشانے پر لے لیا اور اس کی سمت جمارہا۔ جب گنجائش ملی تومیں نے حملہ کر دیا اور ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے اڑ گیا۔ واللہ! جس وقت یہ پاؤں اڑا ہے تو میں اس کی تشبیہ صرف اس گٹھلی سے دے سکتا ہوں جو موسل کی مار پڑنے سے جھٹک کر اڑ جائے۔ ان کابیان ہے کہ ادھر میں نے ابو جہل کو مارا اور ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار چلا ئی جس سے میرا ہاتھ کٹ کر میرے بازو کے چمڑ ے سے لٹک گیا اور لڑائی میں مخل ہونے لگا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے سارا دن لڑا ، لیکن جب وہ مجھے اذیت پہنچانے لگا تو میں نے اس پر اپنا پاؤں رکھا اور اسے زور سے کھینچ کر الگ کردیا - اس کے بعد ابوجہل کے پاس معوذؓ بن عفراء پہنچے۔ وہ زخمی تھا۔ انہوں نے اسے ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا صرف سانس آتی جاتی رہی۔ اس کے بعد معوذ بن عفراء بھی لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔

جب معرکہ ختم ہوگیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :

''کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیاہو ا۔'' اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آجارہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے ڈاڑھی پکڑی اور فرمایا : او اللہ کے دشمن ! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا ؟ اس نے کہا : ''مجھے کاہے کو رسوا کیا ؟ کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے''؟''یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے ؟'' پھر بو لا : ''کاش ! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔'' اس کے بعد کہنے لگا : ''مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی ؟ '' حضرت عبد ا للہ بن مسعود نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودسے - جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے - کہنے لگا : او بکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔ واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ مکے میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔

اس گفتگو کے بعد عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں لاکر حاضر کر تے ہوئے عرض کیا :''یارسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ !یہ رہا اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر۔'' آپﷺ نے تین بار فرمایا: ''واقعی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔'' اس کے بعد فرمایا :

((اللہ أکبر، الحمد للہ الذی صدق وعدہ ونصر عبدہ وہزم الأحزاب وحدہ۔))

''اللہ اکبر ، تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھا یا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی ، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی۔''

پھر فرمایا : چلو مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ ہم نے آپﷺ کو لے جاکر لاش دکھائی۔ آپﷺ نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 صحیح بخاری ۱/۴۴۴ ، ۲/۵۶۸ مشکوٰۃ ۲/۳۵۲۔ دوسری روایات میں دوسرانام معوذ بن عَفراء بتایا گیا ہے۔ (ابن ہشام ۱/۶۳۵ ) نیز ابو جہل کا سامان صرف ایک ہی آدمی کو اس لیے دیا گیا کہ بعد میں حضرت معاذ (معوذ) بن عفراء اسی جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔ البتہ ابو جہل کی تلوار حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو دی گئی کیونکہ ان ہی نے اس (ابو جہل ) کا سر تن سے جدا کیا تھا۔ (دیکھئے :سنن ابی داؤد باب من اجاز علی جریح الخ ۲/۳۷۳ )

حضرت معاذؓ بن عمرو بن جموح حضرت عثمانؓ کے دور خلافت تک زندہ رہے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,453
پوائنٹ
964
محمد عامر یونس بھائی ! صرف تقریروں کے اقتباسات نقل کریں ، عمومی روئیدادیں نقل کرنا شروع کردیں تو اس تھریڈ کی خصوصیت نہیں رہے گی ۔
بطور مثال ، غزوہ موتہ سے میں نے ایک تقریر کا اقتباس نقل کیا ہے ، ورنہ تو پوری جنگ ہی جرأت و بہادری کی اعلی مثال تھی ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,453
پوائنٹ
964
حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ کی شاہ مقوقس کے دربار میں تقریر :
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عمرو بن العاص مصر فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، قلعہ کا محاصرہ کیا ، جب کئی مہینے اسی طرح گزر گئے ، شاہ مقوقس نے تنگ آگر مسلمانوں کو دھمکی اور لالچ دونوں طرح ٹالنا چاہا ، کہا ، تمہارے پیچھے دریائے نیل ہے ، آگے رومی اور قبطی لشکر جرار ، اور تم چند ہزار بدو عرب ، کیوں خودکشی بر مصر ہو ، میرے پاس ابنے بندے بھیج دو ، ہم مصالحت کرلیتے ہیں ، آپ کا بھی فائدہ ، ہم بھی زحمت سے بچ جائیں گے ، حضرت عمرو نے عبادۃ الصامت رضی اللہ عنہما کی سربراہی میں کچھ لوگ بھیجے ، اگلی کاروائی ملاحظہ کیجیے :
فأرسل المقوقس إلى عمرو... ثم رد عمرو إلى المقوقس رسله ...وأن لا يجيبهم إلى شىء دعوه إليه إلا إلى إحدى هذه الخصال الثلاث.
فتقدم إليه عبادة فقال: قد سمعت مقالتك، وإن فيمن خلفت من أصحابى ألف رجل كلهم أشد سوادا منى وأفظع منظرا، ولو رأيتهم لكنت أهيب لهم منك لى، وأنا قد وليت وأدبر شبابى، وإنى مع ذلك، بحمد الله، ما أهاب مائة رجل من عدوى ولو استقبلونى جميعا، وكذلك أصحابى، وذلك أنا إنما رغبتنا وهمتنا الجهاد فى الله واتباع رضوانه، وليس غزونا عدونا ممن حارب الله لرغبة فى دنيا، ولا طلبا للاستكثار منها، إلا أن الله، عز وجل، قد أحل لنا ذلك، وجعل ما غنمنا منه حلالا، وما يبالى أحدنا أكان له قنطار من الذهب أم كان لا يملك إلا درهما؛ لأن غاية أحدنا من الدنيا أكلة يأكلها يسد بها جوعته لليله ونهاره، وشملة يلتحفها، فإن كان أحدنا لا يملك إلا ذلك كفاه، وإن كان له قنطار من ذهب أنفقه فى طاعة الله تعالى واقتصر على هذا الذى يتبلغ به ما كان فى الدنيا؛ لأن نعيم الدنيا ليس بنعيم ورخاءها ليس برخاء، إنما النعيم والرخاء فى الآخرة، وبذلك أمرنا ربنا، وأمرنا به نبينا، وعهد إلينا أن لا تكون همة أحدنا من الدنيا إلا ما يمسك جوعته، ويستر عورته، وتكون همته وشغله فى رضى ربه وجهاده عدوه.
فقال عبادة بن الصامت: يا هذا لا تغرن نفسك ولا أصحابك، أما ما تخوفنا به من جمع الروم وعددهم وكثرتهم، وأنا لا نقوى عليهم، فلعمرى ما هذا بالذى يخوفنا، ولا بالذى يكسرنا عما نحن فيه، إن كان ما قلتم حقا فذلك والله أرغب ما يكون فى قتالكم، وأشد لحرصنا عليكم؛ لأن ذلك أعذر لنا عند ربنا إذا قدمنا عليه، وإن قتلنا من آخرنا كان أمكن لنا فى رضوانه وجنته، وما من شىء أقر لأعيننا ولا أحب إلينا من ذلك، وإنا منكم حينئذ على إحدى الحسنيين: إما أن تعظم لنا بذلك غنيمة الدنيا إن ظفرنا بكم، أو غنيمة الآخرة إن ظفرتم بنا، وإنها لأحب الخصلتين إلينا بعد الاجتهاد منا، وإن الله عز وجل قال لنا فى كتابه: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ [البقرة: 249] ، وما منا من رجل إلا وهو يدعو ربه صباحا ومساء أن يرزقه الله الشهادة وألا يرده إلى بلاده ولا إلى أرضه ولا إلى أهله وولده، وليس لأحد منا همّ فيما خلفه، وقد استودع كل واحد منا ربه فى أهله وولده، وإنما همنا ما أمامنا، وأما قولك: إنا فى ضيق وشدة من معاشنا وحالنا، فنحن فى أوسع السعة، لو كانت الدنيا كلها لنا ما أردنا منها لأنفسنا أكثر مما نحن عليه، فانظر الذى تريد فبينه لنا، فليس بيننا وبينك خصلة نقبلها منك ولا نجيبك إليها إلا خصلة من ثلاث، فاختر أيها شئت ولا تطمع نفسك بالباطل، بذلك أمرنى الأمير، وبه أمره أمير المؤمنين، وهو عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبل إلينا: إما أجبتم إلى الإسلام الذى هو الدين الذى لا يقبل الله غيره، وهو دين أنبيائه ورسله وملائكته، أمرنا أن نقاتل من خالفه ورغب عنه حتى يدخل فيه، فإن فعل كان له ما لنا وعليه ما علينا، وكان أخانا فى دين الله، فإن قبلت ذلك أنت وأصحابك فقد سعدتم فى الدنيا والآخرة، ورجعنا عن قتالكم، ولم نستحل أذاكم ولا التعرض لكم، وإن أبيتم إلا الجزية فأدوا إلينا الجزية عن يد وأنتم صاغرون، نعاملكم على شىء نرضى به نحن وأنتم فى كل عام أبدا ما بقينا وبقيتم، ونقاتل عنكم من ناوأكم وعرض لكم فى شىء من أرضكم ودمائكم وأموالكم، ونقوم بذلك عنكم إذ كنتم فى ذمتنا، وكان لكم به عهد علينا، وإن أبيتم فليس بيننا وبينكم إلا المحاكمة بالسيف حتى نموت من آخرنا أو نصيب ما نريد منكم. هذا ديننا الذى ندين الله تعالى به، ولا يجوز لنا فيما بيننا وبينكم غيره، فانظروا لأنفسكم.
فرفع عبادة يديه فقال: لا ورب هذه السماء، ورب هذه الأرض، وربنا، ورب كل شىء، ما لكم عندنا خصلة غيرها، فاختاروا لأنفسكم.

الاكتفاء بما تضمنه من مغازي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والثلاثة الخلفاء (2/ 330۔335)
حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کی چکنی چپڑی سننے کے بعد کہا ، تمہاری بات میں نے سن لی ، ہمارے جیسے چند لوگوں کو دیکھ کر تمہاری ہیبت و بزدلی کا یہ حال ہے ، حالانکہ ہمارے لشکر میں ہزار کے قریب ایسے لوگ ہیں ، جو ہم سے بھی زیادہ خوفناک ہیں ، میں گو جوانی کی عمر گزار چکا ، لیکن اس کے باوجو اس سن کہولت میں بھی اللہ کے فضل سے دشمن کے سو آدمیوں کے مد مقابل نکلنے کا جگر رکھتا ہوں ، ہماری رغبت و ہمت جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی خوشنودی ہے ، ہم دشمنوں سے دنیاوی لالچ یا اس کی عیاشیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں لڑتے ، گو اللہ تعالی نے اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مال و زر کو ہمارے لیے حلال اور مال غنیمت قرار دیا ہے ، لیکن ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ہمارے پاس سونے کا پہاڑ ہو یا صرف چاندی کا ایک درہم ، ، کیونکہ دنیاوی مال سے ہمارے لیے ایک لقمہ کافی ہے ، جو بھوک مٹا سکے ، ایک چادر کافی ہے جو تن چھپا سکے ، اگر اس سے مزید کچھ حاصل ہوتا ہے تو اللہ کی راہ میں لٹا دیتے ہیں ، کیونکہ حقیقی نعمتیں اور کشادگی تو آخرت کی ہے ، اس دنیا میں کیا رکھا ہے ،
یہ باتیں سن کر مقوقس حیرت و استعجاب میں کبھی اپنی رعایا کی طرف ، کبھی عبادہ کی طرف دیکھتا ہے ، اور پھروہی پرانی دھمکی اور لالچ ، حضرت عبادت جوابا پھر گویا ہوتے ہیں :
اوئے ! تم اور تمہارے ساتھی کسی دھوکے میں نہ رہیں ، رومیوں کی کثرت ، ان کی جنگی صلاحیت سے خوف دلانا اگر درست ہے تو یہ کسی اور کو ڈرانا ، ہم پر یہ وار اثر نہیں کرتے ، اگر واقعتا رومی اسی طرح ہیں ، تو ہم اپنے مد مقابل ایسے لوگ ہی چاہتے ہیں ، یا تو کشتوں کے پشتے لگادیں ، یا پھر اللہ کی جنتوں کے مہمان بن جائیں گے ، جیت گئے تو دنیاوی غنیمتیں ہیں ، ہار گئے تو أخروی نعمتیں ہماری منتظر ہیں ، اللہ عزوجل فرماتے ہیں ، کتنی ہی چھوٹی ٹولیاں بڑے لشکروں کو فنا کرکے رکھ دیتی ہیں ۔
اور ہم میں سے ہر ایک کا تو حال یہ ہے کہ صبح و شام شہادت کی دعائیں مانگتے ہیں ، اللہ کےر ستے میں نکلے ہیں تو گھربار سے بے فکر ہو کر نکلے ہیں ، اہل و عیال کو الواداعی سلام کرکے اللہ کے حوالے کر آئے ہیں ، اب ہمیں کسی چیز کی فکر ہے تو یہاں کی ۔
اور سن ! ہمیں معاشی تنگی ، اور بد حالی کے طعنے دینے کی ضرورت نہیں ، ہمارے پاس ساری دنیا بھی آجائے تو ہم اس میں سے وہی کچھ لیں گے ، جو اب ہمیں میسر ہے ، لہذا ہماری فکر چھوڑ اور اپنی بات کر ، دھوکے سے باہر نکلو ، تمہارے لیے تین میں سے ایک آپشن ہے :
1۔ ایمان لے آؤ ، ہمارے بھائی بن جاؤ ، جو ہمارا وہ تمہارا ، تمہارا دفاع ہماری ذمہ داری ، اور دنیاوی و اخروی کامیابی تمہارا مقدر ۔
2۔ جزیہ دو ، اور صلح کر لو ، اپنے دین پر قائم رہو ، لیکن معاہدہ کی بنا بر تمہاری حفاظت ہم پر حق ہے ۔
3۔ یا پھر قتال کے لیے تیار ہو جاؤ ، ہمارے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی ، یا ہم مارے جائیں گے ، یا تمہیں مار ڈالیں گے ۔
یہی ہمارا دین ہے ، یہ اللہ کا حکم اس کے رسول کو ، رسول کا امیر المؤمنین کو ، امیر المومنین کا امیرلشکر کو ، اور اسی کے ہم پابند ہیں ۔ اس کے سوا کوئی چوتھا راستہ نہیں ۔ جو پسند ہے اختیار کرلو ۔
مقوقس نے پھر کہا ، اس کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں نکل سکتی ؟
اب کی بار حضرت عبادہ نے ہاتھ بلند کرکے فرمایا ، زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز، اور ہمارے رب کی قسم ، ہمارے پاس ان سے ہٹ کر کوئی آپشن نہیں ۔اسی میں سے ایک اختیار کرنا پڑے گا۔​
 
Top