ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 903
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
کفار و مشرکین کے ساتھ اتحاد و ہم آہنگی کا رد شیخ عبد الرحمن بن قاسم النجدی رحمہ اللہ کے کلام کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین، نبینا محمد وعلى آله وصحبه اجمعین، اما بعد:
آج کل کچھ لوگ خواہ وہ اپنے آپ کو علماء کہلائیں یا مفکرین وہ قومیت، وطنیت، قومی مفاد، مشترک ثقافت، جغرافیائی سرحدیں اور اس جیسے دیگر کفریہ نظریات کی بنیاد پر کفار و مشرکین کے ساتھ اتحاد اور ہم آہنگی کا نعرہ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سب ایک قوم ہیں، وطن سب سے اوپر ہے، مذہب ذاتی معاملہ ہے، قومی اتحاد ضروری ہے، کافر ہو یا مشرک، وطن کا دشمن نہیں تو بھائی ہے۔
شیخ عبد الرحمن بن محمد بن قاسم النجدی رحمہ اللہ نے ایسے لوگوں پر سختی سے رد کیا ہے جو کفار و مشرکین سے اتحاد و ہم آہنگی کے دعوے کرتے ہیں۔
شیخ عبد الرحمن بن قاسم النجدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ومن المعلوم بالضرورة : أنه ليس يحصل الاتفاق ، والائتلاف ، على شتى المعبودات ، بل على عبادة الله وحده ، لا شريك له ، والبراءة من كل معبود سواه»
یعنی یہ بات عقل و نقل دونوں سے ضروری اور قطعی معلوم ہے کہ مختلف معبودوں پر اتفاق و اتحاد ممکن ہی نہیں۔ اتحاد صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب سب لوگ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت پر جمع ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن کی عبادت کی جاتی ہے، ان سب سے بیزاری اور براءت اختیار کی جائے۔
اتحاد صرف توحید پر ہوتا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اتفاق و ائتلاف «شتى المعبودات» پر نہیں بلکہ «عبادة الله وحده» اور «البراءة من كل معبود سواه» پر ہوتا ہے۔ جو لوگ قومیت یا وطنیت کو بنیاد بناتے ہیں وہ دراصل نئے معبود گھڑ رہے ہیں جوکہ قومیت، وطن، یا جھنڈا ہے۔ یہ عین شرک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو صرف اپنے لیے قرار دیا ہے، نہ کہ قوم یا وطن کے لیے۔
پھر شیخ عبد الرحمن النجدی رحمہ اللہ نے آیت کریمہ پیش کی:
﴿شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ﴾
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی، اور جس کی وصیت ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو کی تھی کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ مشرکین پر وہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف آپ انہیں دعوت دیتے ہیں۔
اتحاد ادیان، بین المذاہب ہم آہنگی یا کفار کے ساتھ اتحاد کا نعرہ لگانے والے لوگ انبیاء کے دین سے منحرف ہیں۔ آیت ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ بتاتی ہے کہ تمام انبیاء نے دین (توحید) کو قائم کرنے کا حکم دیا، نہ کہ قوم یا وطن کو۔
نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیہم السلام نے کبھی قومیت یا وطنیت کی بنیاد پر مشرکین سے اتحاد نہیں کیا۔ بلکہ وہ ہمیشہ براءت کا اعلان کرتے رہے۔ جو لوگ آج قومیت و وطنیت کے نام پر اتحاد کی دعوت دیتے ہیں وہ انبیاء کے طریقے سے ہٹ کر جاہلیت کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
اس کے بعد شیخ رحمہ اللہ نے بہت واضح اور سخت بات کہی:
«بل : وأكبر أسباب التفرق ، التفرق في المعبودات ، والآلهة ؛ فلا يتفق من يعبد الله وحده ، ومن يعبد النبي ﷺ وعيسى ، وأمه ، والعزير ، والملائكة ، وعبد القادر ، وأحمد البدوي ، والرفاعي ، والدسوقي ، وفلاناً وفلاناً ، ويكونون يداً واحدة ؛ حاشا وكلا»
یعنی تفرقہ کا سب سے بڑا سبب ہی معبودوں کا اختلاف ہے۔ جو شخص صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ کبھی اس شخص کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی قائم نہیں کر سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم، عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ، عزیر، فرشتوں، یا عبدالقادر، احمد بدوی، رفاعی، دسوقی وغیرہ کی عبادت کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے صاف فرمایا: «حاشا وکلا» ہرگز نہیں، بالکل ناممکن۔ پھر دلیل کے طور پر آیت پیش کی: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ اور ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔
شیخ عبد الرحمن بن قاسم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تفرقہ کا سب سے بڑا سبب «التفرق في المعبودات والآلهة» ہے۔ قوم پرست اور وطن پرست لوگ دراصل ایک نئی الٰہیت گھڑتے ہیں۔ یہ لوگ مشرکین اور کفار کے ساتھ اس لیے متحد ہوتے ہیں کہ ان کے معبود ایک جیسے ہیں یعنی قومیت اور وطن، جبکہ اہل توحید کا معبود اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اس لیے جو شخص قومیت یا وطنیت کی بنیاد پر کفار کے ساتھ ہم آہنگی، یکجہتی اور اتحاد کرتا ہے وہ اہل توحید سے الگ ہو جاتا ہے۔
قومیت اور وطنیت ایسے کفریہ نظریات ہیں جو اللہ کی الوہیت کے مقابلے میں قوم یا وطن کو تقدیس دیتے ہیں۔ جو شخص کہتا ہے وطن سب سے اوپر وہ درحقیقت اللہ کے حکم ﴿وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ کے خلاف چل رہا ہے۔ ایسے لوگوں کا کفار و مشرکین کے ساتھ اتحاد دراصل شرک و کفر پر اتحاد ہے لہٰذا اہل توحید کو چاہئے ﴿قَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ ان کے خلاف قتال کرتے رہیں یہاں تک کہ فتنہ یعنی شرک و کفر باقی نہ رہے۔
پس جو لوگ قومیت، وطنیت یا اس جیسے دیگر کفریہ نظریات کی بنیاد پر کفار و مشرکین سے اتحاد و ہم آہنگی کے دعوے کرتے ہیں، وہ قرآن، سنت اور سلف کے اجماع کے بھی خلاف ہیں۔ توحید والوں کا اتحاد صرف اللہ کی عبادت اور شرک سے براءت پر ہوتا ہے، نہ کہ قوم، وطن یا کسی اور جاہلی شعار پر۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر ثابت قدم رکھے، شرک اور اس کے تمام ظاہری و باطنی اقسام سے محفوظ رکھے، اور ان لوگوں کے فتنے سے بچائے جو قومیت، وطنیت اور دیگر کفریہ نظریات کے نام پر مسلمانوں کو کفار و مشرکین کے ساتھ ملا کر دین کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔