• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کفر بالطاغوت کا مفہوم اور اس کی اہمیت شیخ ترکی البنعلی رحمہ اللہ کے بیان کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
899
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
کفر بالطاغوت کا مفہوم اور اس کی اہمیت شیخ ترکی البنعلی رحمہ اللہ کے بیان کی روشنی میں
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على أشرف الأنبیاء والمرسلین، نبینا محمد، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد!

ایمان باللہ اور کفر بالطاغوت دونوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں، اور ان میں سے ایک کے بغیر دوسرا مکمل نہیں ہوتا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ کرے مگر طواغیت کی عبادت کو باطل نہ قرار دے، اور ان عبادت کرنے والوں کو کافر نہ سمجھے، وہ حقیقت میں مومن نہیں، بلکہ اس کا دعویٰ ایمان محض زبانی کلام ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

شیخ ابو سفیان ترکى بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ اس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«فإذا لو وجدتم شخصا يؤمن بالله ولا يتعرض للكفر بالطاغوت فهو في الحقيقة لم يؤمن بالله، لم ؟ لأن الكفر بالطاغوت شطر وشطر الإيمان»

یعنی اگر تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرے مگر کفر بالطاغوت کا اظہار نہ کرے، تو وہ حقیقت میں اللہ پر ایمان ہی نہیں لایا۔ کیوں؟ کیونکہ کفر بالطاغوت ایمان کا ایک شطر (نصف) ہے اور ایمان دوسرا شطر۔

پھر شیخ ترکى بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ نے مجدد اسلام امام محمد بن عبد الوهاب رحمہ اللہ کا وہ قول نقل کیا جو «الدرر السنية» میں موجود ہے، اور جو ہر موحد کے لیے حجت ہے:

«والكفر بالطاغوت بأن تُبطل كل عبادة لغير الله - سبحانه وتعالى - سواء كانت تلك العبادة تتعلق بالجن، أو بالبشر، أو بالحجر، أو بالشجر؛ وتشهد عليهم بالكفر والضلال»

یعنی کفر بالطاغوت یہ ہے کہ تم غیر اللہ کی ہر عبادت کو باطل قرار دو، خواہ وہ جنوں کی ہو، یا انسانوں کی، یا پتھر کی، یا درخت کی؛ اور ان عبادت کرنے والوں پر کفر اور ضلالت کی گواہی دو۔

اسی طرح امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے «الرسائل الشخصية» میں طاغوت کے انکار کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا: «أن تُبطل عبادة غير الله وتكفّر أهلها» یعنی غیر اللہ کی عبادت کو باطل قرار دو اور اس کے اہل (پیروکاروں) کو کافر قرار دو۔

یہ دین کا ایک اصل اصیل ہے۔ شیخ ترکى بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «تكفّر أهل تلك العبادة التي هي من دون الله - سبحانه وتعالى ، فهذا أصل أصيل من أصول الدين» یعنی جو لوگ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرتے ہیں ان کی تکفیر کرنا، دین کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔

[تفريغ شرح شروط وموانع التكفير للشيخ تركي البنعلي، ص : ٧]

12206.jpg

12202.jpg

پس معلوم ہوا کہ طواغیت کی عبادت سراسر باطل ہے اور اس عبادت کے مرتکبین کافر ہیں۔ جو شخص قبروں پر سجدہ کرتا ہے، اولیاء سے مدد مانگتا ہے، نذر و نیاز غیر اللہ کے نام پر چڑھاتا ہے، یا طاغوتی حکمرانوں کے احکام کو اللہ کے احکام کے برابر یا ان سے بالاتر مانتا ہے وہ کافر ہے، مشرک ہے، اور جہنمی ہے۔

اور جو شخص ان کو کافر نہ سمجھے، کفر بالطاغوت کا اظہار نہ کرے، ان کو معذور ٹھہرائے، یا ان کے ساتھ ولاء رکھے، وہ خود بھی انہی میں سے ہے، کیونکہ اس نے کفر بالطاغوت ترک کر دیا۔ ایسا شخص کلمہ پڑھنے کے باوجود مسلمان نہیں، کیونکہ اس نے ایمان کے لازمی شطر کو چھوڑ دیا۔

یہ وہی دین ہے جو اللہ نے نازل کیا، جس پر انبیاء علیہم السلام قائم رہے، اور جس کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جانیں قربان کیں۔ جو اس سے منحرف ہو وہ اپنے دین میں ناقص ہے، بلکہ حقیقت میں توحید سے محروم ہے۔ اس پر کوئی تاویل، کوئی عذر قبول نہیں۔

پس اے موحدین! اپنے دلوں کو صاف کرو، زبانوں سے کفر بالطاغوت کا اظہار کرو، اور طواغیت اور ان کے پیروکاروں سے براءت کا اعلان کرو۔ جو ایسا نہ کرے وہ اپنے دعویٰ ایمان میں جھوٹا ہے، اور اس کا انجام دوزخ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توحید کو صحیح طور پر سمجھنے، شرک و باطل عبادات سے اجتناب کرنے، کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور اہل حق علماء کی علمی کاوشوں سے استفادہ کرنے، ان کے اخلاص و استقامت سے سبق لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top