محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
نماز میں قبلہ رخ ہونا شرط ہے، لیکن چند حالتوں میں یہ شرط ساقط ہو جاتی ہے:
مریض جو قبلہ رخ ہونے سے عاجز ہو۔
اگر قبلہ کی جہت نہ معلوم ہو رہی ہو تو انسان پر واجب ہے کہ کسی سے قبلہ کی جہت پتہ لگانے کی کوشش کرے اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود نہ پتہ چلے تو وہ اپنے اجتہاد سے اس کی جہت کا تعین کر کے نماز پڑھ لے گا اگر نماز کے دوران ہی اسے صحیح جہت کا علم ہو جائے تو اپنا رخ اس طرف موڑ لے گااور اگر نماز کے بعد علم ہو کہ اس نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی ہے تو اس پر نماز کو لوٹانا ضروری نہیں ہے۔
جب جنگی حالات میں خوف کی شدت ہو اور قبلہ رخ ہونا ممکن نہ ہو تو غیر قبلہ کی طرف نما ز پڑھی جا سکتی ہے۔
سفر کےدوران سواری پر نوافل ادا کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے، اگر انسان کے لیےممکن ہو کہ وہ نوافل کی ابتدا قبلہ رخ ہو کر کرے پھر چاہے جس طرف مرضی رخ پھیر لے تو یہ افضل ہے۔
مریض جو قبلہ رخ ہونے سے عاجز ہو۔
اگر قبلہ کی جہت نہ معلوم ہو رہی ہو تو انسان پر واجب ہے کہ کسی سے قبلہ کی جہت پتہ لگانے کی کوشش کرے اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود نہ پتہ چلے تو وہ اپنے اجتہاد سے اس کی جہت کا تعین کر کے نماز پڑھ لے گا اگر نماز کے دوران ہی اسے صحیح جہت کا علم ہو جائے تو اپنا رخ اس طرف موڑ لے گااور اگر نماز کے بعد علم ہو کہ اس نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی ہے تو اس پر نماز کو لوٹانا ضروری نہیں ہے۔
جب جنگی حالات میں خوف کی شدت ہو اور قبلہ رخ ہونا ممکن نہ ہو تو غیر قبلہ کی طرف نما ز پڑھی جا سکتی ہے۔
سفر کےدوران سواری پر نوافل ادا کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے، اگر انسان کے لیےممکن ہو کہ وہ نوافل کی ابتدا قبلہ رخ ہو کر کرے پھر چاہے جس طرف مرضی رخ پھیر لے تو یہ افضل ہے۔