• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کوئی دیکھے نہ دیکھے اللہ سب کو دیکھ رہا ہے !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,116
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
کیا گناہ اور معصیت کا اظہار کرنا کفر مخرج عن الملۃ ہے ؟
کیا اعلانیہ طور پر گناہ کرنا کفر ہے ، اورکیا معصیت کے فعل کی آپس میں بات چیت مثلا فلمیں دیکھنااور گانے سننا کے متعلق ؟
اور کیایہ فعل صغیرہ گناہ کے حکم میں ہے یا کہ کبیرہ کے حکم میں ؟
میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس سوال کو اہمیت دیں کیونکہ ہمارے بہت سے نۓ مسلمان بہن اوربھائ اس مشکل سے دوچار ہوتے ہيں ۔۔

الحمد للہ :

اس میں کوئ شک وشبہ نہیں کہ کبیرہ گناہ اور معاصی کا اعلان کرنا ایک ایسا گناہ ہے جو کہ ڈبل گناہ کا درجہ رکھتا ہے ، اور بعض اوقات اس کے کرنے والے کو کفر تک بھی لے جاتا ہے جب کہ اس کے فعل پر فخراور اس کی حرمت کو پامال کرتے ہوۓ اعلان کرے ، اور اس حکم میں صغیرہ اور کبیرہ کے درمیان کوئ فرق نہیں ۔

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوۓ سنا :
( میری ساری امت سے درگزر کر دیا گیا ہے سواۓ اعلانیہ اور ظاہرکرنے والوں کے ، اور یہ بھی اعلانیہ گناہ ہے کہ رات کو ایک شخص کوئ عمل کرے اور صبح کے وقت وہ یہ کہتا پھرے میں نے رات کو یہ یہ کام کیا حالانکہ اللہ تعالی نےرات بھراس کی پردہ پوشی کی تو صبح کو وہ اللہ تعالی کی اس پردہ پوشی کو ختم کرتا پھرے )
صحیح بخاری ( 5721 ) صحیح مسلم ( 2990 )

شیخ ابن عثیمن رحمہ اللہ تعالی کا کہناہے کہ :

ایک تیسری قسم سرکش اوربے حیا کی ہے ، جو کہ فخر کرتے ہوۓ ‌زنی کیا باتیں کرتا پھرتا ہے اللہ تعالی کی اس سے پناہ ، یہ کہتا ہے کہ اس نے اس ملک کا سفر کیا اور اس ملک کا سفر کیا اور فسق وفجور اور کئ عورتوں سے زنا کیا ، اور اس طرح کی باتیں اور ان پر فخر کرتا پھرتا ہے ۔

توایسے شخص کے متعلق یہ ہے کہ اسے توبہ کا کہا جاۓ گا اگروہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کردیا جاۓ ، کیونکہ جو زنا کرنے پر فخر کر تا ہے تو اس کی حالت اس بات کی متقاضي ہے کہ وہ زنا حلال سمجھتا ہے ۔ اور اللہ تعالی کی پناہ ۔ تو جو زنا کو حلال سمجھے وہ کافر ہے ۔ شرح ریاض الصالحین ( 1/ 116 )

اور اس میں کوئ شک نہیں کہ معاصی کے بھی درجے ہیں اور گناہ کرنے والے کی معصیت کے وقت اور معصیت کے بعد کی حالت کے اعتبار سے گناہ میں بھی کمی اوراضافہ ہوتا ہے ، تو چھپ کر معصیت کرنے والا اعلانیہ معصیت کرنے والے کی طرح نہیں ، اور اسی طرح معصیت کرنے کے بعد نادم ہونے والا معصیت پر فخر کرنے والے کی طرح نہیں ہے ۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

اجمالی طورپر فحاشی فساد کے اعتبارسے مختلف مراتب رکھتی ہے ، تو عورتوں کے ساتھ خفیہ دوستی لگانے والا مرد اورمرد کےساتھ خفیہ دوستی لگانے والی عورت کا شر زنا اور بدکاری کرنے والے مرد اور عورت سے کم ہے ، اور اسی طرح چوری چھپے معصیت کا ارتکاب کرنے والا اعلانیہ معصیت کرنے والے سے کم گناہ رکھتا ہے ، اور چھپا کرکرنے والا لوگوں کو معصیت کرکے خبریں بتانے سے کم گناہ رکھتا ہے ، اور یہ اللہ تعالی کے عفو درگزر سے دور ہے

جیسا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :
( میری ساری امت سے درگزر کیا گیا ہے لیکن اعلانیہ طورپر معصیت کرنے والوں کو نہیں ) اغاثۃ اللہفان ( 2 / 147 )

اور خدن اور خدنۃ کا معنی عاشق اور عشق کرنے والی عورت ہے ۔

اور اصل بات تو یہ ہے کہ مسلمان گناہ کے بعد اپنے گناہ سے تو بہ واستغفار اور ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ اس کا عزم کرے کہ وہ یہ کام دوبارہ نہیں کرے گا ، اور نہ ہی اس کے بعد اس گناہ اور معصیت پر فخر کرے گااور نہ ہی اس کی لوگوں میں بات اور اعلان ہی کرے گا ۔

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( مومن شخص جب کوئ گناہ اور معصیت کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ، اگر تو وہ اس معصیت سے توبہ کرتا اور اسے چھوڑ دیتا اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے ، اور اگروہ معصیت اورزیادہ کرتا ہے تو یہ نکتے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں حتی کہ سارہ دل بھر جاتا ہے ، اوریہی وہ ران ( زنگ ) ہے جس کا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے { یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے } ) ۔
مسند احمد ( 8792 ) سنن ترمذی ( 3334 ) شیخ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح ترمذی میں حسن کہا ہے ( 2654 )
۔

اب ایک مسئلہ باقی ہے جو کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے وہ یہ کہ یہ اعلانیہ معصیت ان سے ہوتی ہے جو کہ ابھی نۓ نۓ مسلمان ہوۓ ہیں ، اور یہ لوگ ابھی تک اسلام کے قوانین سے ناواقف اور جاھل ہیں ، تو اگر واقعتا وہ احکام شریعت سے ناواقف اور جاھل ہیں تو انہيں معذور جانا جاۓ گا ، لیکن یہ احکام ان علم میں لاۓ جانے چاہئيں ۔

تو آپ ان کے سامنے یہ جواب پیش کریں اور ان کی راہنمائ کرتے رہیں ، اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو بھی اس بات کی توفیق دے جس پر وہ راضی ہو اسے پسند ہو ۔

واللہ تعالی اعلم .
الاسلام سوال وجواب
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,116
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
مومن کا اپنے گناہ پر پردہ ڈالنا !!!

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری تمام امت کے گناہ معاف ہوں گے مگر وہ شخص جو اعلانیہ گناہ کرتا ہو اور یہ تو جنون کی بات ہے کہ رات کو ایک آدمی کوئی کام کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈالے پھر صبح ہونے پر وہ آدمی کہے کہ اے فلاں میں نے گزشتہ رات فلاں فلاں کام کیے رات کو اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا اور یہ کہ صبح کو اس نے اللہ کے ڈالے ہوئے پردہ کو کھول دیا۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1026 ادب کا بیان :
مومن کا اپنے گناہ پر پردہ ڈالنا:


تشریح :

اللہ کا ایک نام ستیر بھی ہے،یعنی گناہوں کو چھپا لینے والا،دنیا اور آخرت میں وہ بندوں کے بہت سے گناہوں کو چھپا لیتا ہے ۔

بعون اللہ منھم آمین ۔

اس سے معلوم ہوا کہ بتقضائے بشریت کسی گناہ کا ہوجانا،جس پر انسان کو ندامت بھی ہو اور اس کا وہ اظہار بھی نہ کرے اور بات ہے ، اللہ کے ہاں اس کی معافی کی امید ہے اور بصورت توبہ معافی یقینی ہے۔

لیکن اعلانیہ گناہ کرنا اور بات ہے ،اس کے مرتکب کا دل ایک تو اللہ کے خوف سے، دوسرے اللہ کے احکام کی توقیر اور وقعت سے خالی ہے۔ تیسرے، ایسا شخص بالعموم توبہ کی توفیق سے محروم ہی رہتا ہے۔ چوتھے، اللہ کی نافرمانی کا فخریہ طور پر اظہار،اللہ کے غضب و انتقام کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ایسا شخص پھر اللہ کے ہاں کیونکرقابل معافی ہو سکتا ہے

اور اس کے برعکس:

صفوان بن محرز روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے پوچھا کہ تم نے سرگوشی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح سنا ہے انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک شخص اپنے رب سے قریب ہوگا یہاں تک کہ اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر فرمائے گا کہ تو نے فلاں فلاں کام کئے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اس سے اقرار کرائے گا پھر فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہ پر پردہ ڈالا آج میں تم کو بخش دیتا ہوں۔
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1027
 
Top