ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
کیا اسلام معبودان باطلہ کی تعظیم و احترام کا حکم دیتا ہے؟ معراج ربانی کے ہنومان سے متعلق گمراہ کن نظریات کا تحقیقی جائزہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ الذی وحدہ لا شریک لہ، والصلاة والسلام علی رسولہ الذی بعث بالتوحید الخالص، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد:
عقیدہ توحید کا لازمی تقاضا ہے کہ بندہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کرے بلکہ ہر معبود باطل، ہر طاغوت اور ہر صورت شرک سے کھلی، صریح اور مکمل براءت کا اظہار بھی کرے۔ یہی انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی محور رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا﴾ پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط ترین سہارا تھام لیا، جس کا کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔ [البقرۃ: ٢٥٦]
بدقسمتی سے عصر حاضر میں بعض مداخلہ نے احترام ادیان اور سیکولر ہم آہنگی کے نعرے کے پیچھے چھپ کر اس بنیادی عقیدے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں معراج ربانی میر محمد اسماعیل المعروف معراج ہنومانی پیش پیش ہے۔
اس شخص نے اللہ تعالیٰ پر صریح جھوٹ باندھا اور دعویٰ کیا کہ اللہ تعالٰی نے معبودان باطلہ کی تعظیم و احترام کا حکم دیا ہے۔ یہ دعویٰ کتاب و سنت، فہم سلف صالحین اور اجماع امت کے سراسر مخالف ہے۔
معراج ہنومانی نے نہ صرف حد پار کی بلکہ توحید کے محکم اصول کو پامال کر کے اللہ پر افتراء کیا۔ کسی کو آمنے سامنے گالی دینا ایک الگ بات ہے، اور اس کی تعظیم، توقیر اور احترام کرنا بالکل الگ بات ہے۔ شیطان کو گالی نہ دینا اس کی تعظیم نہیں بن جاتا۔ اسی طرح لات، عزیٰ یا ہنومان کو گالی نہ دینا ان کی تعظیم کا جواز ہرگز نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عملی نمونہ اس بات کی واضح دلیل ہے۔
حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی توحید سنی، اسلام قبول کیا، پھر اپنی قوم کے پاس لوٹے تو سب سے پہلا جملہ یہ کہا: بِئْسَتِ اللاتُ وَالْعُزَّى یعنی لات اور عزیٰ کیا ہی برے ہیں!
[مسند الإمام أحمد بن حنبل، حدیث: ٢٣٨٠، حديث حسن]
ابو عبدالرحمن السلمی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ مَرَّ عَلَى اللَّاتِ فَقَالَ: «كُفْرَانَكَ لَا سُبْحَانَكَ إِنِّي رَأَيْتُ اللهَ قَدْ أَهَانَكَ» حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ لات کے بت کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تیری بڑھائی و پاکی نہیں، بلکہ تجھ سے تو کفر (براءت) ہے، اور بےشک میں نے دیکھا ہے کہ اللہ نے تیری اہانت کی (تجھے ذلیل و رسوا کر دیا) ہے۔
[المعجم الكبير للطبراني، حدیث: ٣٨١١، رجاله رجال الصحیح إلا أنه مرسل]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ أَنْ نَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنْ نَدَعَ اللَّاتَ وَالْعُزَّى؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَسْلَمَ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو اس لیے رسول بنا کر بھیجا ہے کہ ہم گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور ہم لات و عزیٰ کو چھوڑ دیں (ترک کر دیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص مسلمان ہو گیا۔
[فتح الباري لابن حجر، ج : ١٣، ص: ٣٥٣، أصله في الصحيحين]
کفار ایک خیالی شخص یعنی ہنومان، کی پوجا کرتے ہیں، اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں۔ وہ نہ نبی ہے، نہ ولی، اور نہ ہی اس کے بارے میں شریعت کی کسی معتبر خبر سے کوئی ثبوت موجود ہے۔ اس کے باوجود معراج ہنومانی یہ کہتا ہے کہ اس کی تعظیم اور احترام کرنا ضروری ہے۔
جس کا وجود ہی شرعا محال ہو، اور جس کی عبادت بھی کی جاتی ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ "اس نے رام جی کو بچایا، سیتا جی کو بچایا، ہنومان پکا مسلمان تھا"، آخر یہ کیسی بات ہوئی؟
اسلام نے تمام معبودان باطلہ، طاغوت اور شرک کی ہر صورت سے کھلی براءت کا حکم دیا ہے۔ معراج ہنومانی کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعظیم و احترام کا حکم دیا ہے، بے دلیل، باطل اور اللہ پر صریح جھوٹ ہے۔ اس جھوٹ سے براءت لازم ہے۔ جو شخص توحید کی قیمت پر رواداری بیچے، اس سے بھی براءت ضروری ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں توحید خالص پر ثابت قدم رکھے، ہر طاغوت اور ہر معبود باطل سے مکمل براءت کی توفیق عطا فرمائے، اور دین میں تحریف کرنے والوں سے حفاظت کرے۔ معراج ہنومانی کے پیروکاروں سے گزارش ہے کہ توحید کے محکم اصولوں کو مسخ کرنے والے اس جیسے مدخلیوں کو چھوڑ کر صرف کبار سلفی علماء سے ہی علم حاصل کریں۔ واللہ المستعان، وعلیہ التکلان۔
وصلى اللہ على نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔