• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اللہ میاں کہنا جائز ہے؟

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ: تذکرہ اولی البصائر ابن الجوزی کی تالیف ہے یا نہیں؟

يَـٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّـهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّـدِقِينَ(التوبۃ: 119)
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو."
ارشاد نبویﷺ:
"عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن الصدق یھدی إلی البر وإن البر یھدی إلی الجنۃ، وإن الرجل لیصدق حتی یکتب عند اللہ صدیقا، وإن الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار وإن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا" (متفق علیہ)
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا
النساء ۱۴۲
 

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
568
ری ایکشن اسکور
1,654
پوائنٹ
186
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کی حقیقت
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کے اس لنک پر سوال کیا گیا
اس سوال کا جواب میں ایک عرصہ سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ پوری تحقیق سے جواب درکار ہے۔
شیخ صدیق رضا کی کتاب "امت اور شرک کا خطرہ" کے مقدمہ میں ابن جوزی کے اقوال پیش کیے گئے کہ مردہ سے مدد مانگنا شرک ہے۔ جیسے کہ یہ قول صفحہ 10 پر نقل کیا۔

"شرک میں بعض لوگ وہ جاہل لوگ واقع ہوے ہیں جو دین اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہیں، اور یہ وقوع جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس میں بعض وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مشائخ کی طرف منسوب ہیں جیسے شیخ احمد بن رفائی، یا یونس الشیبانی اور عدی بن مسافر۔ اور اللہ کے سوا ان کی محبت میں دیوانے اور ان کی قبر پر اعتکاف کرتے ہیں" تذکرہ اولی البصائر صفحہ 20"

مگر جب میں نے تذکرہ اولی البصائر کا مذکورہ صفحہ دیکھا تو حاشیہ میں عبدالقادر الارناؤوط لکھتے ہیں۔

" شیخ یونس ھو یونس بن یوسف بن مساعد الشیبانی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"
" شیخ عدی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"

سوال یہ ہے کہ 597ھ میں وفات پانے والے ابن الجوزی 619 ھ میں وفات پانے والے شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں۔
اورجواب یہ آیا
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


یہ کتاب کسی بھی طور ابن جوزی سے ثابت نہیں ہے
اس کے دلائل میں سے کچھ باتیں آپ نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے متعلق کئی شکوک ہیں ۔
۱ ۔۔ محقق شیخ ارنؤوط کا کہنا ہے کہ ان کو کتاب کا صرف ایک مخطوط (نسخہ خطیہ یا Manuscript) ملا ہے ۔ صرف ایک نسخہ یتیمہ سے کی گئی تحقیق اور نسبت کتنی معتبر ہو سکتی ہے ؟ علم تحقیق مخطوط کے طلبہ و طالبات جانتے ہیں ۔
۲۔ یہ کہنا کہ ابن النحاس نے اس کو ابن الجوزی سے منسوب کیا ہے کافی نہیں ۔ کیوں کہ اس نام کی کتاب عبد القادر بن احمد حازم الهيتمي، الرفاعي، الشافعي (000 - 1100 ه) (000 - 1689 م) سے بھی منسوب کی گئی ہے ۔ (دیکھیے :ھدیۃ العارفین ۱: ۶۰۲، اور معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ ربط حوالہ )
۳۔۔ امام ابن الجوزی محدث ہیں ، موضوع احادیث پر ان کی کتاب الموضوعات معروف ہے ۔ اس میں ان کا اسلوب کیسا ہے محدثین کے ہاں معروف ہے ، بعض اوقات وہ کم ضعیف احادیث کو بھی موضوعات میں شامل کر دیتے ہیں ۔ جب کہ کتاب الکبائر کے مصنف کا اسلوب اس سے سے بالکل مختلف ہے ۔ کتاب الکبائر میں ضعیف ، موضوع اور واہی روایات ملتی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف محدث نہیں اور احادیث کے اندراج میں محتاط نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام اس کتاب سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ میں نے اپنی طالبات کے لیے اس کتاب میں موجود غیر مستند اور واہی روایات کی ایک فہرست تیار کی تھی ، جو بدقسمتی سے سافٹ کاپی میں ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ۔ لیکن کچھ مقامات مجھے یاد ہیں ۔ ان شاء اللہ کسی روز فرصت ملنے پر ان کو پیش کرنے کی کوشش کروں گی ۔
۴۔ اس میں کئی ایسی شخصیات کے اقوال اور ان کے متعلق خبریں درج ہیں جو زمانی اعتبار سے ابن الجوزی کے بعد ہیں مثلا : شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا احوال ( جو صاحب موضوع نے ذکر کیے) اور اس کے علاوہ ابن العدیم المتوفى سنة 660 ھ سمیت دوسروں کے اقوال ۔
یہ سب باتیں اس کی امام ابن الجوزیؒ کی جانب نسبت کو مشکوک بناتی ہیں ۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اگر کتاب ابن الجوزی کی ہے تو بھی تحریف و تبدیل سے نہیں بچ سکی ۔
یہاں کاپی پیسٹ کے چکر میں رفیق طاہر صاحب نے ام نور العين کی پوسٹ کو جوں کا توں پیسٹ کردیا اور اپنی صنف ہی بدل لی
یہ حال ہے فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ بقلم محمد رفیق طاہرکا کہ کچھ یہاں سے سرقہ کیا کچھ وہاں سے چوری کیا اور اپنے نام سے شائع کردیا
ام نورالعین کی اوریجنل پوسٹ کو دیکھنے کے لئے اس لنک پر جائیں
آپ نے یہاں شیخ رفیق طاہر صاحب کی مکمل عبارت کاپی نہیں کی کیوں؟
جب کی فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ میں لکھا ہے ( محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں ) یہ جملہ آپ نے حذف کر لیا تاکہ آپ کو کزب بیانی کے لئے راست مل جائے !!!
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کی مکمل عبارت
یہ کتاب کسی بھی طور ابن جوزی سے ثابت نہیں ہے۔ محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں :
اس کے دلائل میں سے کچھ باتیں آپ نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے متعلق کئی شکوک ہیں ۔
۱ ۔۔ محقق شیخ ارنؤوط کا کہنا ہے کہ ان کو کتاب کا صرف ایک مخطوط (نسخہ خطیہ یا Manuscript) ملا ہے ۔ صرف ایک نسخہ یتیمہ سے کی گئی تحقیق اور نسبت کتنی معتبر ہو سکتی ہے ؟ علم تحقیق مخطوط کے طلبہ و طالبات جانتے ہیں ۔
۲۔ یہ کہنا کہ ابن النحاس نے اس کو ابن الجوزی سے منسوب کیا ہے کافی نہیں ۔ کیوں کہ اس نام کی کتاب عبد القادر بن احمد حازم الهيتمي، الرفاعي، الشافعي (000 - 1100 ه) (000 - 1689 م) سے بھی منسوب کی گئی ہے ۔ (دیکھیے :ھدیۃ العارفین ۱: ۶۰۲، اور معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ ربط حوالہ )
۳۔۔ امام ابن الجوزی محدث ہیں ، موضوع احادیث پر ان کی کتاب الموضوعات معروف ہے ۔ اس میں ان کا اسلوب کیسا ہے محدثین کے ہاں معروف ہے ، بعض اوقات وہ کم ضعیف احادیث کو بھی موضوعات میں شامل کر دیتے ہیں ۔ جب کہ کتاب الکبائر کے مصنف کا اسلوب اس سے سے بالکل مختلف ہے ۔ کتاب الکبائر میں ضعیف ، موضوع اور واہی روایات ملتی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف محدث نہیں اور احادیث کے اندراج میں محتاط نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام اس کتاب سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ میں نے اپنی طالبات کے لیے اس کتاب میں موجود غیر مستند اور واہی روایات کی ایک فہرست تیار کی تھی ، جو بدقسمتی سے سافٹ کاپی میں ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ۔ لیکن کچھ مقامات مجھے یاد ہیں ۔ ان شاء اللہ کسی روز فرصت ملنے پر ان کو پیش کرنے کی کوشش کروں گی ۔
۴۔ اس میں کئی ایسی شخصیات کے اقوال اور ان کے متعلق خبریں درج ہیں جو زمانی اعتبار سے ابن الجوزی کے بعد ہیں مثلا : شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا احوال ( جو صاحب موضوع نے ذکر کیے) اور اس کے علاوہ ابن العدیم المتوفى سنة 660 ھ سمیت دوسروں کے اقوال ۔
یہ سب باتیں اس کی امام ابن الجوزیؒ کی جانب نسبت کو مشکوک بناتی ہیں ۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اگر کتاب ابن الجوزی کی ہے تو بھی تحریف و تبدیل سے نہیں بچ سکی ۔
یہاں کاپی پیسٹ کے چکر میں رفیق طاہر صاحب نے ام نور العين کی پوسٹ کو جوں کا توں پیسٹ کردیا اور اپنی صنف ہی بدل لی
یہ حال ہے فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ بقلم محمد رفیق طاہرکا کہ کچھ یہاں سے سرقہ کیا کچھ وہاں سے چوری کیا اور اپنے نام سے شائع کردیا
ام نورالعین کی اوریجنل پوسٹ کو دیکھنے کے لئے اس لنک پر جائیں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:::
"یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔ لکھنے والے مقرر ہیں۔ جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں۔"
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :::
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔"
ارشاد نبوی :::
"حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یقیناً سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک اسے اللہ کے یہاں بہت سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ نافرمانی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نافرمانی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی یقینا ً جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں وہ بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔"متفق علیہ
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
آپ نے یہاں شیخ رفیق طاہر صاحب کی مکمل عبارت کاپی نہیں کی کیوں؟
جب کی فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ میں لکھا ہے ( محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں ) یہ جملہ آپ نے حذف کر لیا تاکہ آپ کو کزب بیانی کے لئے راست مل جائے !!!
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کی مکمل عبارت



اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:::
"یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔ لکھنے والے مقرر ہیں۔ جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں۔"
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :::
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔"
ارشاد نبوی :::
"حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یقیناً سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک اسے اللہ کے یہاں بہت سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ نافرمانی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نافرمانی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی یقینا ً جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں وہ بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔"متفق علیہ
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناه معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔"
محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں

یہ اضافہ میری پوسٹ کے بعد کیا گیا ہے اس کی تصدیق کے لئے آپ رفیق طاہر صاحب سے رجوع کریں
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
یہ اضافہ میری پوسٹ کے بعد کیا گیا ہے اس کی تصدیق کے لئے آپ رفیق طاہر صاحب سے رجوع کریں
اگر یہ تو اضافہ آپ کی پوسٹ میں انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے تو۔۔۔
غلط فعل ہے۔۔۔ اللہ تعالٰی ہدایت کے نور سے سینوں کو منور فرمائیں۔۔۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
اگر یہ تو اضافہ آپ کی پوسٹ میں انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے تو۔۔۔
غلط فعل ہے۔۔۔ اللہ تعالٰی ہدایت کے نور سے سینوں کو منور فرمائیں۔۔۔
بھائی، انتظامیہ ایسے کام نہیں کرتی۔ ہم اگر کسی پوسٹ میں سے کچھ ڈیلیٹ کرتے ہیں تو ساتھ وضاحت کر دیتے ہیں۔
اس دھاگے میں کسی اور پوسٹ کی بات چل رہی ہے۔ جو رفیق طاھر بھائی کی بلاگ اسپاٹ والی ویب سائٹ سے متعلق ہے۔ نہ کہ فورم کے متعلق۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
بھائی، انتظامیہ ایسے کام نہیں کرتی۔ ہم اگر کسی پوسٹ میں سے کچھ ڈیلیٹ کرتے ہیں تو ساتھ وضاحت کر دیتے ہیں۔
اس دھاگے میں کسی اور پوسٹ کی بات چل رہی ہے۔ جو رفیق طاھر بھائی کی بلاگ اسپاٹ والی ویب سائٹ سے متعلق ہے۔ نہ کہ فورم کے متعلق۔
ٹھیک فرمایا آپ نے یہ رفیق طاہر صاحب کے بلاگ ہی کی بات ہے جس میں یہ اضافہ کہ """محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں """میری پوسٹ کے بعد کیا گیا ہے
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,986
ری ایکشن اسکور
1,543
پوائنٹ
304
الله بہت بلند اورعظیم و شان ہستی ہے لہذا اس کا نام لیتے ہوے یا اس سے د عا کرتے وقت بہت ادب اور احتیاط سے کام لینا چاہیے - البتہ اگر کوئی جہالت کی بنا پر "الله میاں " یا اس سے ملتا جلتا لفظ کہ دے اور بعد میں حقیقت معلوم ہونے پر الله کے حضور توبہ کر لے تو الله بڑا بخشنے والا مہربان ہے - قرآن میں الله کا فرمان عا لی شان ہے -

إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَٰئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا سوره النسا ء ١٧
الله پر توبہ قبول کرنے کا حق انہیں لوگو ں کے لیے ہے جو جہالت کی وجہ سے برا کام کرتے ہیں اس کے بعد جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں پس ان لوگو ں کو الله معاف کر دیتا ہے اور الله سب کچھ جاننے والا دانا ہے-
 

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
568
ری ایکشن اسکور
1,654
پوائنٹ
186
یہ اضافہ میری پوسٹ کے بعد کیا گیا ہے اس کی تصدیق کے لئے آپ رفیق طاہر صاحب سے رجوع کریں
جب میں نے آپ کا دیا ہوا لنک دیکھا تو وہاں یہ الفاظ موجود تھے اب آپ کا یہ کہنا کہ آپ کے یہاں پوسٹ کرنے کے بعد اضافہ کیا گیا ہے تو اس بات کی سچائی بھی جلد سامنے آئے گی ان شاء اللہ
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
جب میں نے آپ کا دیا ہوا لنک دیکھا تو وہاں یہ الفاظ موجود تھے اب آپ کا یہ کہنا کہ آپ کے یہاں پوسٹ کرنے کے بعد اضافہ کیا گیا ہے تو اس بات کی سچائی بھی جلد سامنے آئے گی ان شاء اللہ
یہاں میں ایک بات آپ کے گوش گزار کردوں جس سے آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہے گی
بات یہ ہے کہ رفیق طاہر صاحب کے اس بلاگ کا حوالہ میں نے سب سے پہلے پاک نیٹ میں اپنے اس مراسلے دیا ہے لنک مراسلہ نمبر 52یہ مراسلہ 26 فروری 2013 4 بجکر 26 منٹ پر ارسال کیا گیا تھا
امید ہے ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ صحیح فیصلہ پر پہنچ جائیں گے
 
Top