• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اللہ میاں کہنا جائز ہے؟

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کی حقیقت
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کے اس لنک پر سوال کیا گیا
اس سوال کا جواب میں ایک عرصہ سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ پوری تحقیق سے جواب درکار ہے۔

شیخ صدیق رضا کی کتاب "امت اور شرک کا خطرہ" کے مقدمہ میں ابن جوزی کے اقوال پیش کیے گئے کہ مردہ سے مدد مانگنا شرک ہے۔ جیسے کہ یہ قول صفحہ 10 پر نقل کیا۔

"شرک میں بعض لوگ وہ جاہل لوگ واقع ہوے ہیں جو دین اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہیں، اور یہ وقوع جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس میں بعض وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مشائخ کی طرف منسوب ہیں جیسے شیخ احمد بن رفائی، یا یونس الشیبانی اور عدی بن مسافر۔ اور اللہ کے سوا ان کی محبت میں دیوانے اور ان کی قبر پر اعتکاف کرتے ہیں" تذکرہ اولی البصائر صفحہ 20"

مگر جب میں نے تذکرہ اولی البصائر کا مذکورہ صفحہ دیکھا تو حاشیہ میں عبدالقادر الارناؤوط لکھتے ہیں۔

" شیخ یونس ھو یونس بن یوسف بن مساعد الشیبانی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"
" شیخ عدی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"

سوال یہ ہے کہ 597ھ میں وفات پانے والے ابن الجوزی 619 ھ میں وفات پانے والے شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں۔
اورجواب یہ آیا
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


یہ کتاب کسی بھی طور ابن جوزی سے ثابت نہیں ہے
اس کے دلائل میں سے کچھ باتیں آپ نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے متعلق کئی شکوک ہیں ۔
۱ ۔۔ محقق شیخ ارنؤوط کا کہنا ہے کہ ان کو کتاب کا صرف ایک مخطوط (نسخہ خطیہ یا Manuscript) ملا ہے ۔ صرف ایک نسخہ یتیمہ سے کی گئی تحقیق اور نسبت کتنی معتبر ہو سکتی ہے ؟ علم تحقیق مخطوط کے طلبہ و طالبات جانتے ہیں ۔
۲۔ یہ کہنا کہ ابن النحاس نے اس کو ابن الجوزی سے منسوب کیا ہے کافی نہیں ۔ کیوں کہ اس نام کی کتاب عبد القادر بن احمد حازم الهيتمي، الرفاعي، الشافعي (000 - 1100 ه) (000 - 1689 م) سے بھی منسوب کی گئی ہے ۔ (دیکھیے :ھدیۃ العارفین ۱: ۶۰۲، اور معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ ربط حوالہ )
۳۔۔ امام ابن الجوزی محدث ہیں ، موضوع احادیث پر ان کی کتاب الموضوعات معروف ہے ۔ اس میں ان کا اسلوب کیسا ہے محدثین کے ہاں معروف ہے ، بعض اوقات وہ کم ضعیف احادیث کو بھی موضوعات میں شامل کر دیتے ہیں ۔ جب کہ کتاب الکبائر کے مصنف کا اسلوب اس سے سے بالکل مختلف ہے ۔ کتاب الکبائر میں ضعیف ، موضوع اور واہی روایات ملتی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف محدث نہیں اور احادیث کے اندراج میں محتاط نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام اس کتاب سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ میں نے اپنی طالبات کے لیے اس کتاب میں موجود غیر مستند اور واہی روایات کی ایک فہرست تیار کی تھی ، جو بدقسمتی سے سافٹ کاپی میں ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ۔ لیکن کچھ مقامات مجھے یاد ہیں ۔ ان شاء اللہ کسی روز فرصت ملنے پر ان کو پیش کرنے کی کوشش کروں گی ۔
۴۔ اس میں کئی ایسی شخصیات کے اقوال اور ان کے متعلق خبریں درج ہیں جو زمانی اعتبار سے ابن الجوزی کے بعد ہیں مثلا : شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا احوال ( جو صاحب موضوع نے ذکر کیے) اور اس کے علاوہ ابن العدیم المتوفى سنة 660 ھ سمیت دوسروں کے اقوال ۔
یہ سب باتیں اس کی امام ابن الجوزیؒ کی جانب نسبت کو مشکوک بناتی ہیں ۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اگر کتاب ابن الجوزی کی ہے تو بھی تحریف و تبدیل سے نہیں بچ سکی ۔
یہاں کاپی پیسٹ کے چکر میں رفیق طاہر صاحب نے ام نور العين کی پوسٹ کو جوں کا توں پیسٹ کردیا اور اپنی صنف ہی بدل لی
یہ حال ہے فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ بقلم محمد رفیق طاہرکا کہ کچھ یہاں سے سرقہ کیا کچھ وہاں سے چوری کیا اور اپنے نام سے شائع کردیا
ام نورالعین کی اوریجنل پوسٹ کو دیکھنے کے لئے اس لنک پر جائیں
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
اردو زبان و ادب میں لفظ میاں کے معنی اور اس کا استعمال

میاں {مِیاں} (سنسکرت)

سنسکرت زبان سے ماخوذ کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی اور متداول ساخت کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے 1649ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)
معانی

1. آقا، مالک، حاکم، سردار، بزرگ، والی وارث۔

"آقا کے لفظ کی بجائے میاں کے لفظ کا استعمال اسی رجحان کی مثال ہے" [1]

2. شوہر، خاوند، خصم۔

"تمہارے میاں کا سنگھار پٹار ختم نہیں ہوا"، [2]

3. کلمۂ محبت و شفقت برائے اطفال، صاحبزادے، ننھے، مُنا، پیارے، بیٹا، جانی؛ جیسے میاں آوے دوروں سے گھوڑے باندھ کھجوروں سے۔

"میاں حلوہ لایا ہوں آپ کی بھابھی نے بنایا ہے" وہ بولے"، [3]

4. صاحب، جناب کی جگہ؛ ایک کلمہ ہے جس سے برابر والوں یا اپنے سے کم مرتبہ شخص کو خطاب کرتے ہیں۔

"ایک طرف ہو جاؤ میاں، ادھر عورتیں آ رہی ہیں"، [4]

5. شاعروں کے تخلص تعظیم کے لیے بڑھاتے ہیں؛ جیسے: میاں ناسخ، میاں مصحفی، میاں جرات، میاں عشق۔

؎ مجھے شمع کہتی ہے محفل میں اوس کی

میاں بحر آنسو بہانے سے حاصل، [5]

6. پیارے، محبوب، دلبر، دلربا، جاناں (عموماً قدیم شعرا معشوق کے لیے استعمال کرتے تھے)۔

؎ فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے، [6]

؎ دہن میں آپ کے البتہ ہم کو حجت ہے

کمر کا بھید جو پوچھوں میاں نہیں معلوم، [7]

7. استاد، معلم، مدرِس، پڑھانے والا، ملا۔

"ادھر انہوں نے کوئی غلط لفظ پڑھا میاں نے ٹوکا"، [8]

8. آقا زادہ، مخدوم زادہ، امیرزادہ، شہزادہ، صاحب عالم، کنور۔

"چوڑی دار باجامہ میں ملبوس وکی میاں شاداں و فرحاں برآمدے میں آئے"، [9]

9. پہاڑی راجپوت، راجاؤں کے خاندانی لوگ، ٹھاکر، شہزادے، شاہی خاندان کے لوگ۔

(فرہنگ آصفیہ)

10. { ہندو } بیوقوف مسلمان، مورکھ، دیوانہ، باؤلا (طنزاً) جیسے: ایک تو میاں ہی تھے دوحے کھاٹی بھنگ۔

(فرہنگ آصفیہ)

11. { بقال } عام مسلمان،ترک، ملا (جو سادات اور پیران طریقت میں سے نہیں لیکن معزز لقب سمجھ کر اختیار کرتے تھے، جیسے: میاں چراغ محمدصاحب وغیرہ)

"لفظ میاں مسلمانوں کے نام کے ساتھ بھی ایک اعزازی لقب کے مستعمل ہوتا ہے"، [10]

12. { لکھنؤ } ماہرفن موسیقی، پکا گویّا، کلانوت، مراثی، ڈوم۔

(فرہنگ آصفیہ؛ جامع اللغات)

13. بعض علاقوں میں بچے باپ کو بھی کہتے ہیں۔

"میاں جان کے پرانے دوست، میاں جان مرحوم ان کے لیے مقدمے لڑا کرتے تھے"، [11]

14. { طنزا } صاحب، جناب (خطاب کا کلمہ)

"تو میاں پرکاش" اب تم بھی کاٹھ کے اُلو بنائے جاؤ گے بس چپ چاپ بیٹھے رہنا کسی طاق میں"، [12]

15. { تعیظما } بزرگ ہستی؛ پیرانِ طریقت اور پیرزادوں کے نام سے پہلے۔

"صوبہ جات متحدہ میں، حضرت اچھے میاں صاحب مارہرہ شریف، حضرت میاں شاہ فضل غوث صاحب بریلی، حضرت مذاق میاں صاحب، حضرت مولای محمد دلدار علی صاحب قبلہ بدایوں"، [13]

16. { مجازا } مرشد، پیر۔

"کسی نے میرا نام مجذوب رکھا ہے، قربان اگر میاں اپنے اندر مجھے جذب کر لیں"، [14]

17. { غیرمسلم } (عموماً امرا) اپنے نام سے پہلے معزز گرداننے کے لیے لکھتے تھے۔

"میاں گودروسن سنگھ و میاں پرومن سنگھ روسائے انبالہ"، [15]

18. مراد: اللہ تعالٰی

"جلال ایسا کہ عام انسان تو کجا خود میاں کے اپنے چہیتے قدم رکھتے ہی مارے خوف کے رو دیا کرتے"، [16]

19. عام درویشوں فقیروں کے لیے مستعمل۔

"سلطان جی صاحب میں ایک نئے میاں صاحب ٹھہرے ہوئے ہیں"، [17]

20. معمولی گداگروں کے لیے مستعمل۔

"میاں صاحب اس وقت برکت ہے"، [18]

21. { تعظیما } سادات کے نام کے بعد۔

"سادات کے لیے.... مثلاً سید گلاب میاں انیس و مصاحب خاص حضور والئ ریاست پالن پور"، [19]
مترادفات

بالَم، شَوہَر، مَرْد،
مرکبات

مِیاں آدْمی، مِیاں بھائی، مِیاں پَن، مِیاں جی، مِیاں جی گَری، مِیاں صاحِب، مِیاں کا سا رَنْگ، مِیاں کی ٹوڈی، مِیاں گِیری، مِیاں مار، مِیاں مارْتے خان، مِیاں مِٹھُّو، مِیاں مودھُو، مِیاں نجّار، مِیاں والی

حوالہ جات

1۔ ( 1986ء، فورٹ ولیم کالج، تحریک اور تاریخ، 180۔ )
2۔ ( 1990ء، چاندنی بیگم، 403۔ )
3۔ ( 1989ء، دلی دور ہے۔ 276۔ )
4۔ ( 1987ء، روز کا قصہ، 220۔ )
5۔ ( 1836ء، ریاض البحر، 120۔ )
6۔ ( 1810ء، کلیات میر، 344۔ )
7۔ ( 1846ء، کلیات آتش، 97۔ )
8۔ ( 1987ء، گردشِ رنگ چمن، 542۔ )
9۔ ( 1990ء، چاندنی بیگم، 404۔ )
10۔ ( 1910ء، طنزیات و مقالات، 393۔ )
11۔ ( 1990ء، چاندنی بیگم، 62۔ )
12۔ ( 1987ء، روز کا قصہ، 220۔ )
13۔ ( 1910ء، طنزیات و مقالات، 397۔ )
14۔ ( 1970ء، غارِ کارواں،141۔ )
15۔ ( 1910ء، طنزیات مقالات۔ )
16۔ ( 1971ء، میاں کی اٹریا تلے، 17۔ )
17۔ ( 1910ء، طنزیات و مقالات، 397۔ )
18۔ ( 1910ء، طنزیات و مقالات، 398۔ )
19۔ ( 1910ء، طنزیات و مقالات، 397۔ )
لنک

اب جبکہ یہ ثابت ہوگیا کہ لفظ میاں متعدد معنٰی میں استعمال ہوتا ہے اور ان میں سے اکثر معنٰی اس لائق نہیں کہ ان سے ذات باری تعالٰی کا قصد کیا جائے یعنی اللہ کو اس سے پکارا جائے تو لہذا اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک اس قسم کی صفات سے ہرگز پاک اور منزہ ارفٰی و اعلٰی ہے کہ جو لفظ میاں میں پائی جاتی ہیں اور جو یہ جواز کا فتویٰ دیا گیا ہے یہ اس لئے ہے کہ ان کے بڑے بڑے مولوی اپنی کتابوں میں اور ترجمہ قرآن میں اللہ کواس قسم کی صفت سے پکار چکے ہیں اس لئے یہ لوگ اپنے مولویوں کی عزت بچانے کے لئے اس میاں کی صفت کو اللہ تعالٰی کےلئے جائز بتاتے ہیں ویسے تو ہر بات میں کہتے ہیں کہ صرف قرآن اور حدیث سے جو چیز ثابت ہو وہ ہی جائز ہے لیکن اللہ تبارک تعالٰی کی ارفٰی و اعلٰی ذات کے لئے لفظ میاں کا استعمال کرتے ہیں جو قرآن حدیث سے ثابت نہیں اور اس کے پیچھے ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ہمارے مولوی کی عزت پر آنچ نہ آئے

انا للہ وانا الیہ راجعون
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,434
پوائنٹ
463
بہرام بھایئ مختلف دلائل سے بہت خوب وضاحت کی ہے آپ نے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کابہت اجر دے۔
اس میں تھوڑا اضافہ کروں گی کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے اچھے اچھے ناموں سے پکارا اور یاد کیا جائے جو کہ احادیث سے ثابت ہے اور یہ وہ وسیلہ ہے جو کہ جائز بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کو محبوب بھی۔اور لفظ "میاں" عربی زبان میں موجود نہیں۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,233
پوائنٹ
240
السلام علیکم
پہلی بات یہ عرض کردوں جہاں تک میرا علم ہے اگر کسی کو معلوم ہوتا ضرور شییر کرنا چاہئے
لفظ’’ میاں‘‘ جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ لفظ بطور تکریم کے بولا جاتا ،جیسے ،جناب، آنحضرت، آنجناب، حضور،آنحضور،جناب عالی،حضور والا،اسی طرح سے نام کے بعد دعائیہ کلمات اور صاحب وغیرہ لفظ کا استعمال کرنا کیا یہ جائز ہیں؟ اگر غور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کو خدا بھی نہیں کہنا چاہئے یا ’’گاڈ‘‘ بھی نہیں کہنا چاہئے،جیسے ’’گاڈ فادر‘‘کہاں استعمال ہوتا ہے۔ اور خدا اللہ تعالیٰ کا نام ہے ہی نہیں جب کہ شیعہ حضرات اللہ تعالیٰ کو خداوند متعال کہتے ہیں اس پر بھی کچھ روشنی ڈالنی چاہئے
 

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
568
ری ایکشن اسکور
1,654
پوائنٹ
186
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کی حقیقت
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ کے اس لنک پر سوال کیا گیا

اورجواب یہ آیا

یہاں کاپی پیسٹ کے چکر میں رفیق طاہر صاحب نے ام نور العين کی پوسٹ کو جوں کا توں پیسٹ کردیا اور اپنی صنف ہی بدل لی
یہ حال ہے فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ بقلم محمد رفیق طاہرکا کہ کچھ یہاں سے سرقہ کیا کچھ وہاں سے چوری کیا اور اپنے نام سے شائع کردیا
ام نورالعین کی اوریجنل پوسٹ کو دیکھنے کے لئے اس لنک پر جائیں
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ: تذکرہ اولی البصائر ابن الجوزی کی تالیف ہے یا نہیں؟
یہ کتاب کسی بھی طور ابن جوزی سے ثابت نہیں ہے۔ محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں :
اس کے دلائل میں سے کچھ باتیں آپ نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے متعلق کئی شکوک ہیں ۔
۱ ۔۔ محقق شیخ ارنؤوط کا کہنا ہے کہ ان کو کتاب کا صرف ایک مخطوط (نسخہ خطیہ یا Manuscript) ملا ہے ۔ صرف ایک نسخہ یتیمہ سے کی گئی تحقیق اور نسبت کتنی معتبر ہو سکتی ہے ؟ علم تحقیق مخطوط کے طلبہ و طالبات جانتے ہیں ۔
۲۔ یہ کہنا کہ ابن النحاس نے اس کو ابن الجوزی سے منسوب کیا ہے کافی نہیں ۔ کیوں کہ اس نام کی کتاب عبد القادر بن احمد حازم الهيتمي، الرفاعي، الشافعي (000 - 1100 ه) (000 - 1689 م) سے بھی منسوب کی گئی ہے ۔ (دیکھیے :ھدیۃ العارفین ۱: ۶۰۲، اور معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ ربط حوالہ )
۳۔۔ امام ابن الجوزی محدث ہیں ، موضوع احادیث پر ان کی کتاب الموضوعات معروف ہے ۔ اس میں ان کا اسلوب کیسا ہے محدثین کے ہاں معروف ہے ، بعض اوقات وہ کم ضعیف احادیث کو بھی موضوعات میں شامل کر دیتے ہیں ۔ جب کہ کتاب الکبائر کے مصنف کا اسلوب اس سے سے بالکل مختلف ہے ۔ کتاب الکبائر میں ضعیف ، موضوع اور واہی روایات ملتی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف محدث نہیں اور احادیث کے اندراج میں محتاط نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام اس کتاب سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ میں نے اپنی طالبات کے لیے اس کتاب میں موجود غیر مستند اور واہی روایات کی ایک فہرست تیار کی تھی ، جو بدقسمتی سے سافٹ کاپی میں ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ۔ لیکن کچھ مقامات مجھے یاد ہیں ۔ ان شاء اللہ کسی روز فرصت ملنے پر ان کو پیش کرنے کی کوشش کروں گی ۔
۴۔ اس میں کئی ایسی شخصیات کے اقوال اور ان کے متعلق خبریں درج ہیں جو زمانی اعتبار سے ابن الجوزی کے بعد ہیں مثلا : شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا احوال ( جو صاحب موضوع نے ذکر کیے) اور اس کے علاوہ ابن العدیم المتوفى سنة 660 ھ سمیت دوسروں کے اقوال ۔
یہ سب باتیں اس کی امام ابن الجوزیؒ کی جانب نسبت کو مشکوک بناتی ہیں ۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اگر کتاب ابن الجوزی کی ہے تو بھی تحریف و تبدیل سے نہیں بچ سکی ۔
يَـٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّـهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّـدِقِينَ(التوبۃ: 119)
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو."
ارشاد نبویﷺ:
"عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن الصدق یھدی إلی البر وإن البر یھدی إلی الجنۃ، وإن الرجل لیصدق حتی یکتب عند اللہ صدیقا، وإن الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار وإن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا" (متفق علیہ)
 

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
568
ری ایکشن اسکور
1,654
پوائنٹ
186
God ایک وصف ہے جو کہ مختار کل کے معنى میں ہے ۔ اور ایسا وصف یقینا اللہ رب العزت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
یاد رہے کہ مختار کل یا گاڈ اللہ کے ذاتی ناموں یا اسمائے حسنى میں سے نہیں ہیں , لیکن یہ صفت چونکہ اللہ تعالى میں بدرجہء اتم موجود ہے لہذا ان الفاظ سے ذاتی باری تعالى کو تعبیر کرنا درست ہے ۔
اور ویسے بھی اللہ تعالى کے جتنے نام یا صفات ہیں ان سب کا ترجمہ ہر زبان میں مختلف الفاظ سے کیا جاتا ہے ۔ اور کسی بھی صفت یا نام کا ترجمہ کرنے میں شرعا کوئی ممانعت وقباحت نہیں ہے ۔
فتاوى اہل الحدیث المعروف فتاوى طاہریہ: اللہ کو گاڈ (God) کہہ کر پکارا جاسکتا ہے ؟
 
Top